• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ اُحد

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رسول اللہ ﷺ مدینے میں:
اسی روز، شنبہ ۷ شوال ۳ھ کو سرِ شام رسول اللہ ﷺ مدینہ پہنچے۔ گھر پہنچ کر اپنی تلوار حضرت فاطمہ ؓ کو دی۔ اور فرمایا: بیٹی! اس کا خون دھو دو۔ اللہ کی قسم! یہ آج میرے لیے بہت صحیح ثابت ہوئی۔ پھر حضرت علیؓ نے بھی تلوار لپکائی۔ اور فرمایا: اس کا بھی خون دھو دو۔ واللہ! یہ بھی آج بہت صحیح ثابت ہوئی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم نے بے لاگ جنگ کی ہے تو تمہارے ساتھ سہل بن حُنیف اور ابو دجانہ نے بھی بے لاگ جنگ کی ہے۔ (ابن ہشام ۲/۱۰۰)
بیشتر روایتیں متفق ہیں کہ مسلمان شہداء کی تعداد ستر تھی۔ جن میں بھاری اکثریت انصار کی تھی، یعنی ان کے ۶۵ آدمی شہید ہوئے تھے۔ ۴۱ خزرج سے اور ۲۴ اوس سے۔ ایک آدمی یہود سے قتل ہوا تھا۔ اور مہاجرین شہداء کی تعداد صرف چار تھی۔
باقی رہے قریش کے مقتولین تو ابن اسحاق کے بیان کے مطابق ان کی تعداد ۲۲ تھی، لیکن اصحاب مغازی اور اہل سِیَر نے اس معرکے کی جو تفصیلات ذکر کی ہیں اور جن میں ضمناً جنگ کے مختلف مرحلوں میں قتل ہونے والے مشرکین کا تذکرہ آیا ہے ان پر گہری نظر رکھتے ہوئے دقت پسندی کے ساتھ حساب لگایا جائے تو یہ تعداد ۲۲ نہیں بلکہ ۳۷ ہوتی ہے۔ واللہ اعلم (دیکھئے: ابن ہشام ۲/۱۲۲تا ۱۲۹ فتح الباری ۷/۳۵۱ اور غزوہ احد تصنیف محمد احمد باشمیل ص ۲۷۸، ۲۷۹،۲۸۰)
مدینے میں ہنگامی حالت:
مسلمانوں نے معرکۂ اُحد سے واپس آ کر (۸ شوال ۳ھ شنبہ و یک شنبہ کی درمیانی) رات ہنگامی حالت میں گزاری۔ جنگ نے انہیں چوُر چوُر کر رکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ رات بھر مدینے کے راستوں اور گزرگاہوں پر پہرہ دیتے رہے۔ اور اپنے سپہ سالارِ اعظم رسول اللہ ﷺ کی خصوصی حفاظت پر تعینات رہے کیونکہ انہیں ہر طرف سے خدشات لاحق تھے۔
غزوۂ حمراء الاسد:
ادھر رسول اللہ ﷺ نے پوری رات جنگ سے پیدا شدہ صورت حال پر غور کرتے ہوئے گزاری۔ آپ ﷺ کو اندیشہ تھا کہ اگر مشرکین نے سوچا کہ میدانِ جنگ میں اپنا پلہ بھاری رہتے ہوئے بھی ہم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تو انہیں یقینا ندامت ہو گی۔ اور وہ راستے سے پلٹ کر مدینے پر دوبارہ حملہ کریں گے۔ اس لیے آپ نے فیصلہ کیا کہ بہر حال مکی لشکر کا تعاقب کیا جانا چاہیے۔
چنانچہ اہل سیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معرکہ احد کے دوسرے دن، یعنی یک شنبہ ۸ شوال ۳ھ کو
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
علی الصباح اعلان فرمایا کہ دشمن کے مقابلے کے لیے چلنا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان فرمایا کہ ہمارے ساتھ صرف وہی آدمی چل سکتا ہے جو معرکۂ احد میں موجود تھا۔ تاہم عبد اللہ بن اُبی نے اجازت چاہی کہ آپ کا ہمرکاب ہو۔ مگر آپ نے اجازت نہ دی۔ ادھر جتنے مسلمان تھے اگرچہ زخموں سے چور، غم سے نڈھال، اور اندیشہ و خوف سے دوچار تھے، لیکن سب نے بلا تردد سرِ اطاعت خم کر دیا۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے بھی اجازت چاہی جو جنگ اُحد میں شریک نہ تھے۔ حاضر خدمت ہو کر عرض پرداز ہوئے۔ یا رسول اللہ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ آپ جس کسی جنگ میں تشریف لے جائیں میں بھی حاضر خدمت رہوں۔ اور چونکہ (اس جنگ میں) میرے والد نے مجھے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر پر روک دیا تھا، لہٰذا آپ مجھے اجازت دے دیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں اس پر آپ نے انہیں اجازت دے دی۔
پروگرام کے مطابق رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو ہمراہ لے کر روانہ ہوئے۔ اور مدینے سے آٹھ میل دور حمراء الاسد پہنچ کر خیمہ زن ہوئے۔
اثناء قیام میں معبد بن ابی معبد خزاعی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوا - اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے شرک ہی پر قائم تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کا خیر خواہ تھا - کیونکہ خزاعہ اور بنو ہاشم کے درمیان حلف (یعنی دوستی و تعاون کا عہد) تھا۔ بہر کیف اس نے کہا: اے محمد! آپ کو اور آپ کے رفقاء کو جو زک پہنچی ہے وہ واللہ ہم پر سخت گراں گزری ہے۔ ہماری آرزو تھی کہ اللہ آپ کو بعافیت رکھتا - اس اظہارِ ہمدردی پر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ابو سفیان کے پاس جائے اور اس کی حوصلہ شکنی کرے۔
ادھر رسول اللہ ﷺ نے جو اندیشہ محسوس کیا تھا کہ مشرکین مدینے کی طرف پلٹنے کی بات سوچیں گے وہ بالکل برحق تھا۔ چنانچہ مشرکین نے مدینے سے ۳۶ میل دور مقام رَوحاء پر پہنچ کر جب پڑاؤ ڈالا تو آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی۔ کہنے لگے: تم لوگوں نے کچھ نہیں کیا۔ ان کی شوکت و قوت توڑ کر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، حالانکہ ابھی ان کے اتنے سر باقی ہیں کہ وہ تمہارے لیے پھر درد سر بن سکتے ہیں۔ لہٰذا واپس چلو اور انہیں جڑ سے صاف کر دو۔
لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سطحی رائے تھی جو ان لوگوں کی طرف سے پیش کی گئی تھی جنہیں فریقین کی قوت اور ان کے حوصلوں کا صحیح اندازہ نہ تھا۔ اسی لیے ایک ذمہ دار افسر صفوان بن امیہ نے اس رائے کی مخالفت کی۔ اور کہا: لوگو! ایسا نہ کرو۔ مجھے خطرہ ہے کہ جو (مسلمان غزوۂ احد میں) نہیں آئے تھے۔ وہ بھی اب تمہارے خلاف جمع ہو جائیں گے۔ لہٰذا اس حالت میں واپس چلے چلو کہ فتح تمہاری ہے۔ ورنہ مجھے خطرہ ہے کہ مدینے پر پھر چڑھائی کرو گے تو گردش میں پڑ جاؤ گے، لیکن بھاری اکثریت نے یہ رائے قبول نہ کی اور فیصلہ کیا کہ مدینے واپس چلیں گے۔ لیکن ابھی پڑاؤ چھوڑ کر ابو سفیان اور اس کے فوجی ہلے بھی نہ تھے کہ معبد بن ابی معبد خزاعی پہنچ گیا۔ ابو سفیان کو معلوم نہ تھا کہ یہ مسلمان ہو گیا ہے اس نے پوچھا کہ معبد! پیچھے کی کیا خبر ہے؟ معبد نے ...پروپیگنڈے کا سخت اعصابی حملہ کرتے ہوئے ... کہا: محمد اپنے ساتھیوں کو لے کر تمہارے تعاقب میں نکل چکے ہیں۔ ان کی جمعیت اتنی بڑی ہے کہ میں نے ویسی جمعیت کبھی دیکھی ہی نہیں۔ سارے لوگ تمہارے خلاف غصے سے کباب ہوئے جا رہے ہیں۔ اُحد میں پیچھے رہ جانے والے بھی آ گئے ہیں، وہ جو کچھ ضائع کر چکے ہیں اس پر سخت نادم ہیں۔ اور تمہارے خلاف اس قدر بھڑکے ہوئے ہیں کہ میں نے اس کی مثال دیکھی ہی نہیں۔
ابو سفیان نے کہا: ارے بھائی یہ کیا کہہ رہے ہو؟
معبد نے کہا: واللہ! میرا خیال ہے کہ تم کوچ کرنے سے پہلے پہلے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھ لو گے یا لشکر کا ہراول دستہ اس ٹیلے کے پیچھے نمودار ہو جائے گا۔
ابو سفیان نے کہا: واللہ! ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پر پلٹ کر پھر حملہ کریں اور ان کی جڑ کا ٹ کر رکھ دیں۔
معبد نے کہا: ایسا نہ کرنا۔ میں تمہاری خیر خواہی کی بات کر رہا ہوں۔
یہ باتیں سن کر مکی لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ان پر گھبراہٹ اور رعب طاری ہو گیا۔ اور انہیں اسی میں عافیت نظر آئی کہ مکے کی جانب اپنی واپسی جاری رکھیں۔ البتہ ابو سفیان نے اسلامی لشکر کو تعاقب سے باز رکھنے اور اس طرح دوبارہ مسلح ٹکراؤ سے بچنے کے لیے پروپیگنڈے کا ایک جوابی اعصابی حملہ کیا۔ جس کی صورت یہ ہوئی کہ ابو سفیان کے پاس سے قبیلہ عبد القیس کا ایک قافلہ گزرا، ابو سفیان نے کہا: کیا آپ لوگ میرا ایک پیغام محمد کو پہنچادیں گے؟ میرا وعدہ ہے کہ اس کے بدلے جب آپ لوگ مکہ آئیں گے تو عُکاظ کے بازار میں آپ لوگوں کو اتنی کشمش دوں گا جتنی آپ کی یہ اونٹنی اٹھا سکے گی۔
ان لوگوں نے کہا: جی ہاں!
ابو سفیان نے کہا: محمد کو یہ خبر پہنچا دیں کہ ہم نے ان کی اور ان کے رفقاء کی جڑ ختم کر دینے کے لیے دوبارہ پلٹ کر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے بعد جب یہ قافلہ حَمراء الاسد میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا تو ان سے ابو سفیان کا پیغام کہہ سنایا۔ اور کہا کہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہیں۔ ان سے ڈرو، مگر ان کی باتیں سن کر مسلمانوں کے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا۔ اور انہوں نے کہا: حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔ (اس ایمانی قوت کی بدولت) وہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹے۔ انہیں کسی بُرائی نے نہ چھوا۔ اور انہوں نے اللہ کی رضا مندی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اتوار کے دن حمراء الاسد تشریف لے گئے تھے۔ دو شنبہ، منگل اور بدھ یعنی ۹/۱۰/۱۱/ شوال ۳ھ کو وہیں مقیم رہے اس کے بعد مدینہ واپس آئے۔ مدینہ واپسی سے پہلے ابو عَزہ جمحی آپ ﷺ کی گرفت میں آ گیا۔ یہ وہی شخص ہے جسے بدر میں گرفتار کیے جانے کے بعد اس کے فقر اور لڑکیوں کی کثرت کے سبب اس شرط پر بلا عوض چھوڑ دیا گیا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی کا تعاون نہیں کرے گا۔ لیکن اس شخص نے وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی۔ اور اپنے اشعار کے ذریعہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف لوگوں کے جذبات کو برانگیختہ کیا - جس کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے- پھر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے خود بھی جنگ اُحد میں آیا۔ جب یہ گرفتار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو کہنے لگا: محمد ﷺ! میری لغزش سے درگزر کر دو۔ مجھ پر احسان کر دو اور میری بچیوں کی خاطر مجھے چھوڑ دو۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اب دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تم مکے جا کر اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرو، اور کہو کہ میں نے محمد کو دو مرتبہ دھوکا دیا۔ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت زبیر یا حضرت عاصم بن ثابت کو حکم دیا اور انہوں نے اس کی گردن مار دی۔
اسی طرح مکے کا ایک جاسوس بھی مارا گیا۔ اس کا نام معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص تھا اور یہ عبد الملک بن مروان کا نانا تھا۔ یہ شخص اس طرح زد میں آیا کہ جب احد کے روز مشرکین واپس چلے گئے تو یہ اپنے چچیرے بھائی عثمان بن عفانؓ سے ملنے آیا۔ حضرت عثمان نے اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے امان طلب کی۔ آپ نے اس شرط پر امان د ے دی کہ اگر وہ تین روز کے بعد پایا گیا تو قتل کر دیا جائے گا لیکن جب مدینہ اسلامی لشکر سے خالی ہو گیا تو یہ شخص قریش کی جاسوسی کے لیے تین دن سے زیادہ ٹھہر گیا۔ اور جب لشکر واپس آیا تو بھاگنے کی کوشش کی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا اور انہوں نے اس شخص کا تعاقب کر کے اسے تہ تیغ کر دیا۔ (غزوہ احد اور غزوہ حمراء الاسد کی تفصیلات ابن ہشام ۲/۶۰ تا ۱۲۹، زاد المعاد ۲/۹۱ تا ۱۰۸ فتح الباری مع صحیح البخاری ۷/۳۴۵ تا ۳۷۷ مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص ۲۴۲ تا ۲۵۷ سے جمع کی گئی ہیں اور دوسرے مصادر کے حوالے متعلقہ مقامات ہی پر دے دیے گئے ہیں)
غزوہ حمراء الاسد کا ذکر اگرچہ ایک مستقل نام سے کیا جاتا ہے مگر یہ درحقیقت کوئی مستقل غزوہ نہ تھا بلکہ غزوہ احد ہی کا جزو و تتمہ اور اسی کے صفحات میں سے ایک صفحہ تھا۔

****​
 
Top