• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ اسلامی از ابوہشام (کینیڈا)

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
۷۔گروہ بندیاں:
ان کی تعداد تو اللہ کوہی معلوم ہے کہ مسلمانوں میں اب کتنے گروہ ہیں مگر صرف اہل سنت میں اہل حدیث اور حنفی حضرات کے تفرقے کو ہی اگر دیکھا جائے تو بناؤ کی جگہ بگاڑ آخر تک پھیلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اہل حدیث مختلف جماعتوں میں بٹ گئے۔ حنفی حضرات دیوبندی، بریلوی اور حنفی میں تقسیم ہوگئے۔ اس لئے کہ کچھ حنفی ایسے ہیں جو اپنے آپ کو دیوبندی اور بریلوی کہلوانا پسند نہیں کرتے۔ جن میں نامور مذہبی جماعتیں اور ان کے امراء شامل ہیں۔ پھر دیوبندی حضرات حیاتی اور مماتی کے عقیدے میں ایسے الجھے کہ ان میں واضح طور پر تقسیم ہوگئی۔عقائد ہی بدل گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو قبر میں زندہ ثابت کرنے کے لئے یہ تک مبالغہ کیا گیا کہ آپ ﷺ نے قبر مبارک سے ہاتھ نکال کر فلاںسے مصافحہ کیا۔اہرام مصر میں فرعونیوں۔۔۔ کے لئے رکھے گئے ساز وسامان اور سونا وغیرہ اور پھر ان کی قبر میں ہی شادی اور خوشی کے لمحات تاکہ اسے تنہائی محسوس نہ ہو وغیرہ۔۔۔ کے تصورات سے مختلف یہ عقیدہ نہیں ہے۔ بریلوی حضرات تصوف کے ہی گرویدہ ٹھہرے، انہیں ذکر ووظائف کا ہر نیا طریقہ ایک نئے سلسلے کی طرف لے گیا جو بالآخر مفاخرت سلاسل پر جاکر نقشبندی، قادری، چشتی، سہروردی وغیرہ پر منتج ہوا۔ ان گروہ بندیوں میں ہر ایک کے الگ الگ امیر بنے، اپنی اپنی مساجدقائم ہوئیں اور مدارس بنے۔ اس تفریق کے ہوتے ہوئے یہ کہنا بھی بڑی عجیب بات ہوگی کہ چونکہ ہم مسلمانوں میں اکثریتی ہیں لہٰذا ہمارا ہی مذہب یا فقہ بہت بہتر ہے۔پھر کون سا فرقہ برحق ہے؟ اس کا جواب یہ حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا:

یہود ونصاری میں بہتر فرقے بنے میری امت میں تہتر بن جائیں گے۔ سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک کے ۔ صحابہ نے عرض کی : من ہم یا رسول اللہ! اللہ کے رسول وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ماأنا علیہ وأصحابی۔ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
یہ سوچنا ہمارا کام ہے کہ کیا صحابہ کرام اس طرح فرقوں میں بٹے ہوئے اور مختلف ناموں وجماعتوں پر ریجھتے تھے؟ایسی صورت میں تو جماعت کے ساتھ کام کرنے میں رحمت نہیں بلکہ زحمت ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
۸۔جماعت ساز ی اور امارت:

اسی طرح جب بھی کوئی نئی جماعت بنتی ہے اس کی کوئی نہ کوئی ایسی توجیہ پیش کی جاتی ہے جس سے نئی لیڈر شپ یا نئی جماعت کاجواز فراہم کیا جا سکے۔ اور رکن سازی وبیعت ذاتی کے بھنور میں ہی سنجیدہ مسلمان کو گھمایا جائے۔اسلام میں کہیںبھی اور کسی بھی حیثیت سے یہ پسند نہیںکیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت پر جماعت بنتی جائے اور یوں وہ افتراق در افتراق کا شکار ہوتے چلے جائیں۔اگر حدیث میں یہ آیا ہے : لاَ جَمَاعَۃَإِلاَّ بِإِمَارَۃٍ… جماعت امیر کے بغیر نہیں ہوتی۔ یعنی امراء نہیں ہوتے بلکہ ایک امیر ہوتا ہے۔تو آپ ﷺنے یہ بھی فرمایا ہے: إِذَا بُویِعَ لِخَلِیفَتَینِ فَاقْتُلُوا الآخِرَ مِنْہُمَا(مسلم:۱۸۵۳)… جب ایک امیر منتخب کر لیا جائے تو بعد والے کو قتل کر دو۔ خواہ وہ کتنا ہی نیک اور پارسا کیوں نہ ہو۔ کیونکہ وہ افتراق کا سبب بن رہا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کا پہلا امیر جب منتخب ہوگا تو بعد والے امیر اس حدیث کے بارے میں کیا کہیں گے؟

اس ضمن میں آپ کا یہ ارشاد بھی یاد رکھنے کے قابل ہے۔ الأَمِیرُ الضَّعِیفُ مَلْعُونٌ۔(سنن بیہقی) …کمزور امیر ملعون ہے۔ کچھ کر نہیں سکتا نہ ہی اس کا کوئی کہنا مانتا ہے تو کیوں وہ امارت کی کرسی سے چمٹ کر بیٹھا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ کرسی چھوڑدے تاکہ اہل لوگ آئیں اور دینی کام کو آگے بڑھائیں۔اور یوں ان کی صلاحیتیں کام آئیں۔ یااپنی جماعت کے جواز کے لئے ایک دلیل یہ بھی فراہم کی جاتی ہے: یَدُ اللہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ…کہ اللہ کا جماعت پر ہاتھ ہوتا ہے۔ مگر اس کا مطلب تویہ ہے کہ اﷲ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے ، جماعتوں پر نہیں۔

ہمیں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام فرقہ بندیوں اور امارتوںسے توبہ کرکے ، قرآن وسنت کی بنیاد پر ایک ہو جانا چاہئے۔ حکومت تمام مکتب فکر کے علماء پر مشتمل ایک اعلی اختیاراتی بورڈ بنائے ،جس کے ارکان غیر متعصب، دین دار اور معتدل مزاج ہوں، روادار ہوں ، صحیح معنوں میں عالم ہوں اور قدیم وجدید پر گہری نظر رکھتے ہوں۔یہ سب ہر فقہ سے فائدہ ضرور اٹھائیں مگر قرآن وسنت کو زندہ کریں۔ یہ نہ اجتہاد کی دعوت ہے اور نہ مذاہب خمسہ کے خلاف علم بغاوت۔قرآن مجید میں ہی ہے:

{من الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعا لست منہم فی شیئ}۔ جن لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور مختلف گروہوں میں وہ بٹ گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ آیت ہمارے پیش نظر رہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
۹۔ فروعی مسائل:


فقہ میں فروعات پر مباحث بے شمار ہیں۔ جو ہر فقیہ کے دینی فہم کی عکاس ہیں۔ ان فروعات کے بارے میں نہ مجتہد کوئی حتمی رائے دے پاتا ہے اور نہ ہی کوئی اور۔ مگر یہ ایک واضح بات ہے کہ فروعات پر مجتہد کے کام نے اور استدلالی طریقہ کار نے سوچنے سمجھنے اور دلائل کو جاننے کا ذوق فقہ کے طالب علم میں ضرور پیدا کردیا ہے۔ فروعات وہ مخفی مگرزیادہ تر معمولی مسائل ہوتے ہیں جو آیات واحادیث کو سامنے رکھ کر مستنبط کئے جاتے ہیں۔ فقہی کتب کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کی تدوین تین انداز سے ہوئی۔

۱۔ مسئلہ اٹھنے کے بعد: مثلاً کسی نے نماز شروع کی ۔ اور نماز میں کسی بات پر قہقہہ آگیا۔ ایسی نماز کا کیا ہوگا کیا یہ نماز ٹوٹ گئی یا اسے اپنی نماز جاری رکھنی چاہئے؟ قرآن مجید کی آیات کی طرف دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ نماز میں خشوع وخضوع کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا گیا ہے۔ تو کسی فقیہ نے کہا کہ نماز جاتی رہی۔ دوسرے فقیہ کی نظر حدیث پر پڑی تو اس نے کہا کہ نماز نہیں بلکہ وضو بھی جاتا رہا۔ دلائل کو دیکھا گیا تو عقلی طور پر پہلے کی بات درست نظر آئی کیونکہ قہقہہ خشوع کی کیفیت سے مکمل متضاد کیفیت ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ اس کی نماز ہی ٹوٹ گئی۔ دوسرے فقیہ کی دلیل یہ نظر آئی کہ کوئی نابینا جماعت میں شامل ہونے کے لئے صف کی طرف آرہے تھے کہ اچانک ہی ایک کھڈ جو راستہ میں تھا اس میں جا گرے۔ صحابہ کرام جو آپﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے جب یہ منظر دیکھا تو نہ صرف ہنسی آئی بلکہ ان کے قہقہے نکل گئے۔ آپﷺ نے نماز کے بعد انہیں فرمایا: جاؤ تم لوگ دوبارہ اپنا وضو کرو۔ محدثین نے اس حدیث کو دیکھا تو درایت کے اعتبار سے یہ حدیث جہاںگئی گذری انہیں محسوس ہوئی وہاں نقلی اعتبار سے بھی انہوں نے اسے موضوع قرار دیا۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
۲۔ مسئلہ اٹھنے سے پہلے:
ایسے فروعی مسائل میں یہ فرض کرلیا گیا کہ مستقبل میں اگر ایسا ہو جائے تو؟ مثال کے طور پر شادی شدہ خاتون کا شوہر لاپتہ ہوگیا۔ تلاش بسیار کے باوجود کچھ علم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں ہے؟ یا آیا وہ زندہ ہے یا مرگیا ہے؟ سوال یہ اٹھایا گیا کہ ایسی عورت اب کیا کرے؟ آیا وہ انتظار کرے یا دوسری شادی کرلے؟ اگر وہ انتظار بھی کرتی ہے تو کب تک؟ کسی فقیہ نے کہا: گم شدہ خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی۔ ہاں جب اس پر ایک سو بیس سال گذر جائیں گے تو اس کی موت کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ اس کی تائید میں انہوں نے یہ دلیل پیش کی: وَلَنَا قَولُہُﷺ: امُرَأۃُ الْمَفْقُودِ امْرَأَتُہُ حَتّٰی یَأتِیَہَا الْبَیَانُ۔آپﷺ کا ارشاد ہے: مفقود کی بیوی اسی کی بیوی ہے جب تک کہ اس کی موت کا پروانہ نہیں آتا۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ انسان کی طبعی عمر اتنی ہی ہو سکتی ہے اس دوران اگر وہ آگیا توخیر ورنہ وہ عورت عدت گذارے گی بعد از عدت جہاں چاہے وہ شادی کر سکتی ہے۔ اس فرعی مسئلے کی دلیل کو دیکھا گیا تو محدثانہ اعتبار سے نہ صرف ضعیف منکر وباطل نظر آئی بلکہ امام العینیؒ نے العنایہ میں اس حدیث کودلیل بنانے پر سر پکڑا ہے۔ اور شیخ عبد الحی لکھنوی ؒنے اس حدیث کو بطور دلیل پیش کرنے پر کہا ہے کہ ایسے لوگوں کا جب یہ میدان ہی نہیں تو اتنی خامہ فرسائی کیوں؟

اس فتوے کے بارے میں ہمارا حسنِ ظن یہی ہے جس فقیہ نے بھی یہ فتوی دیااس کا علم وفضل، زہدوتقوی، دقت نظر، وسعت ادراک، اسلام اور اس کے مصالح کے متعلق اس کے گہرے احساسات، امت اسلامیہ کے نزدیک ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ لیکن معلوم نہیں کیا حالات تھے؟ یا کیا اصل صورتِ حال تھی جو اس عظیم فقیہ نے اس وقت اپنی صواب دید کے مطابق فتوے کی شکل میں اپنی رائے دی۔ بہر حال وہ اپنے اجتہاد میں مخلص تھے۔ درست اور صحیح تھے۔ ان کا اجتہاد اگر صحیح بھی نہیں تو بھی اﷲ تعالیٰ انہیں اجروثواب سے از روئے حدیث محروم نہیں فرمائے گا ۔

دوسرے فقیہ نے اس مسئلہ میں اپنی اجتہادی رائے یہ دی کہ آیات واحادیث میں تو ایسے مسئلے کی چونکہ وضاحت نہیں ملتی ہاں جناب امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ اجتہادی فیصلہ ہے کہ عورت کے صبر اور خاوند کے بیوی سے دوری پر صبر کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال ہوسکتی ہے اس لئے وہ چار سال تک انتظار کر لے بصورت دیگر وہ عدت گزار کر شادی کرلے۔ اس رائے سے نہ صرف ام المومنین جنابہ حفصہؓ کا اتفاق ہے بلکہ جناب عثمان، ابن مسعود، ابن عمر، ابن عباس کا بھی اتفاق ہے۔ پھر امام مالکؒ نے نہ صرف موطأ میں اس کی تائید کی بلکہ دیگر ائمہ امام شافعی وامام اوزاعی نے بھی اسی مسئلہ کو قبول کرنے کی نصیحت کی ہے۔

لیکن یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ اگر جوان عورت کے لئے چار سال کا عرصہ ناقابل برداشت ہے تو وہ کیا کرے؟ اُس زمانہ میں تو دینی بیداری تھی۔ خدا خوفی تھی۔ آج کا دور تو فتنوں کا دور ہے۔ خدا نخواستہ کسی غلط رجحان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ جج اپنی صواب دید پر خاتون کے حالات اور عمر کے تقاضوں کا صحیح اندازہ کرکے جلدی فیصلہ کردے؟ آخر مجاہدین کو بھی سیدنا فاروق اعظمؓ نے چار ماہ بعد چھٹی کرکے گھر آنے کی اجازت بھی تو مرحمت فرمائی تھی۔

یہ سوال بھی ہے کہ کیامستقبل کی ایک مفروضہ صورت پر فتوی دیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ اصل صورت حال میں تو کئی اور عوامل بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت فقیہ کے ذہن میں نہ ہوں۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
۳۔ ذاتی رائے اور فرعی مسئلہ:
بعض فروعی مسائل محض اپنے خیال وتجربہ کی بناء پر حکمت سمجھ کر بیان کئے گئے کہ شاید لوگ اس طرح نیکی کی طرف مائل ہوں اور برائیوں سے اجتناب کرنے لگ جائیں۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان عمر بھر نماز نہیں پڑھتا۔ آخری عمر میں اسے خیال آتا ہے کہ نماز پڑھنی چاہئے۔ اب وہ اپنی گذشتہ ترک کی ہوئی نمازوں کا کیا کرے؟ کسی عالم یا فقیہ نے کہا کہ وہ توبہ کرے اس لئے کہ نماز کا عمداً ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے اور کبیرہ گناہ سوائے توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ اس لئے قضاء عمری کا کہنا شریعت سازی ہے جو اسلام کے اس اصول سے انحراف ہے۔ کسی عالم یا مفتی نے کہا کہ وہ قضاء عمری دے یعنی وہ اپنی چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضاء دے اور طریقہ یہ بتایا کہ اپنی ہر نماز کے ساتھ وہ ایک گذشتہ نماز پڑھتا جائے۔ اور اگر مر گیا ہے تو اپنی ان نمازوں کا فدیہ دے جو فی نمازتقریباً پچیس روپے ہیں۔ کسی اور فقیہ نے کہاکہ قضائے عمری کا کتب فقہ میں ذکر ہی نہیں ہاں سونے، بے ہوش ہونے یا غفلت کی وجہ سے فوت شدہ نمازوں کی قضاء کا تو ذکر ہے مگر جان بوجھ کر چھوڑنے والے کی نماز کا ذکر نہیں نیز ان کابھی قلت وکثرت کو سامنے رکھ کرقضاء وعدم قضاء کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مثلا:

مَنْ أُغْمِیَ عَلَیہِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَمَا دُونَہَا قَضَاہَا إِذَا صَحَّ، فَإِنْ فَاتَتْہُ بِالإِغْمَائِ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ لَمْ یَقْضِ… یعنی بے ہوش کی پانچ نمازیں یا کم رہ جائیں تو وہ ہوش میں آنے کے بعد ان کی قضاء دے دے گا اور اگر زیادہ رہ گئیں تو ان کی قضاء نہیں۔

اس کی وجہ فقیہ نے یہ بتائی : ایک اصول ہے کہ جب مدت مختصر ہو تو اس کی قضاء میں حرج یعنی تکلیف نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جیسے سوئے ہوئے کے لئے نماز قضاء پڑھنا اس لئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایک دن سو لے گا مگر جب مدت طویل ہو تو پھر ایسی قضاء باعث حرج ہوتی ہے۔ جیسے حائضہ عورت کی نماز ، اگر وہ حیض سے فراغت کے بعد اپنی نمازوں کی قضاء دینے لگ جائے تو اس کے لئے باعث حرج ہوگا اس لئے وہاں قضاء کی بات ہی نہیں کی۔ ( دیکھئے: اللباب فی شرح الکتاب، آخر باب صلاۃ المریض، ج۱، ص ۱۰۱، مؤلف شیخ عبد الغنی المیدانی)
فقیہ نے یہ بھی کہا: فقہاء ومحدثین کے ہاں ایسے نام نہیں پائے جاتے اور نہ ہی ان کا یہ طرز عمل ہے کہ بات ہو فوت شدہ نمازوں کی اور قیاس کرتے ہوئے اسے وہ قضاء عمری کا نام دے دیں۔ محدثین کرام نے بے شمار مسائل احادیث سے مستنبط(Deduce) کرکے ابواب سازی (Headings)کی ہے۔ مگر کسی محدث نے قضاء المتروکات کا باب(Heading) نہیں باندھا۔ ہاں ایک موضوع حدیث ضرور ملتی ہے جس میں یہ نام مستعمل ہے۔ مگر محدثین میں یاچاروں فقہاء میں سے کسی نے کسی کتاب میں اس نام کی نماز کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ المُخْتَصَرقدوری جو فقہ حنفی کی اہم کتاب ہے اس میں باب قَضَائِ الفَوَائِتِ کے حاشیہ نمبرتین میں قضاء الفوائت اور دوسری نمازوں کے درمیان ایک اور باریک فرق بتایا گیا ہے جو اہل علم کیلئے قابل غور ہے:

’’إِنَّمَا قَالَ قَضَائُ الْفَوَائِتِ وَلَمْ یَقُلْ قَضَائُ الْمَتْرُوکَاتِ لِأنَّ الظَّاہِرَ مِنْ حَالِ الْمُسْلِمِ أَنَّہُ لاَ یَتْرُکُ الصَّلاۃَعَمَدًا بَلْ تَفُوتًہُ بِاعْتِبَارِ غَفْلَۃٍ وَنَومٍ وَنِسْیَانٍ‘‘مؤلف نے قضاء الفوائت کہا ہے نہ کہ: قضاء المتروکات یعنی چھوڑی ہوئی نمازیں۔ کیونکہ مسلمان بظاہر نماز کو جان بوجھ کر ترک نہیں کیا کرتا بلکہ اس سے غفلت، نیند یا بھول کی وجہ سے نماز چھوٹ جایا کرتی ہے۔

رہا قضاء عمری کا فدیہ تو اولاً کسی حدیث سے یہ ثابت ہی نہیں بلکہ لَا کَفَّارَۃَ إِلاَّ ذَلِکَ میں بھی آپﷺ نے فوت شدہ نماز کے بارے میں یہی فرمایا کہ جب اسے یاد آجائے وہ اسی وقت فوت شدہ نماز کو پڑھ لے اس کا کفارہ ہی یہی ہے۔ دیگر یہ کہ کسی قابل ذکر فقیہ یا امام نے اس کی تائید ہی نہیں کی جو شذوذ ہے۔ مزید یہ کہ فدیہ کے تعین پر بھی اتفاق نہیں کہ وہ کتنا ہو؟ نماز کی قضاء پر تو ہمارا اتنا اصرار ہو آخر ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ ایک مسلمان مال دار ہوتے ہوئے زکوۃ ادا نہیں کرتا۔ کیا اس کی بھی کوئی قضاء عمری ہے؟ وغیرہ۔

فقہاء کی ان ساری محنتوں پر ان کے خلوص وتقوی پر شک کئے بغیر ہمیں ہمیشہ یہ حدیث پاک سامنے رکھنی چاہئے کہ المُجْتَہِدُ قَدْ یُخْٰطِیئُ وَیُصِیْبُ فَإنْ أَصَابَ فَلَہُ أَجْرَانِ وَإنْ أَخْطَأَ فَلَہُ أَجْرٌوَاحِدٌ۔ مجتہد خواہ وہ امام ہو یا فقیہ، اپنے اجتہاد میں کبھی خطا بھی کر سکتا ہے اور کبھی نہیں کرتا ۔ اگر اس کا اجتہاد درست ہو تواس کے لئے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے اور اگر خدا نخواستہ اس کے اجتہاد میں خطا ہوئی ہے تو پھر بھی اس کے لئے ایک اجر ضرور ہے۔ ان فروعی مسائل میں صحابہ و تابعین اور ائمہ فقہاء کے بھی مختلف اقوال وفتاوی ہوسکتے ہیں اور ہیں۔ ظاہر ہے سب پر بیک وقت عمل ناممکن ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
اس لئے ان پر عمل کے لئے چندجانچنے کے اصول ہیں جو ہمارے پیش نظر رہیں:

فروعی مسائل جانچنے کے اصول

۱ ۔ قرآن مجید اور صحیح وحسن احادیث کے مخالف وہ فتویٰ یا اجتہاد نہ ہو۔

۲۔ وہ فرعی مسئلہ قرآن مجید اور صحیح وحسن حدیث میں نہ ہو۔

۳۔ اکثر صحابہ وتابعین اور ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہو۔

۴۔ اقوال ائمہ وفقہاء میں سے عادل فقیہ کا صحیح ترین قول لے لیا جائے۔

فروعات کا صحیح منہج اور معیار دیکھنا ہو تو کتب حدیث کی وہ فہارس ملاحظہ فرمائیے جو ابواب میں مزین کردی گئی ہیں۔ یہ وہ فروعات ہیں جو ہر مؤلف کے دور میں اٹھے جن کا حل واضح اور صحیح نصوص سے پیش کیا گیا۔ شاہ صاحبؒ تفہیمات۲؍۲۴۰ میں لکھتے ہیں:

در فرع پیروی علماء محدثین کہ جامع باشند میان فقہ وحدیث کردن۔ ودائماًتفریعات فقہیہ را بر کتاب وسنت عرض نمودن وآنچہ موافق باشد در حیز قول آوردن والا کالائے بد یرش خاوند دادن۔ امت را ہیچ وقت از عرض مجتہدات بر کتاب وسنت استغناء حاصل نیست وسخن متقشفہ فقہاء کہ تقلید عالمے را دستاویز ساختہ تتبع سنت را ترک کردہ اند۔ نہ شنیدن وبدیشان التفات نہ کردن وقربت خدا جستن بدوری ایناں۔فروع میں علماء محدثین جن کی فقہ حدیث دونوں پر نظر ہو۔ کی پیروی کرنا ۔ فقہ کے فروعی مسائل کو ہمیشہ کتاب وسنت پر پیش کرنا، جو ان کے موافق ہو اسے قبول کرنا اور جو مخالف ہو اسے رد کردینا چاہئے۔ امت کو اپنے اجتہادی مسائل کتاب وسنت پر پیش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں متقشف فقہاء کی بات قطعًا نہ سنے۔ جنہوں نے اہل علم کی تقلید کرکے کتاب وسنت کو ترک کردیا ہے ان کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھے۔ ان سے دور رہ کر اللہ تعالی کا قرب حاصل کرے۔

نتائج: درجہ بالا تجزیہ سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ سب خودساختہ، واقعات وحوادث ہیں۔ جنہیں علمائے احناف نے بھی قطعاً پسند نہیں فرمایا ۔ اس غلو نے جوانتہائی رنگ دکھایا اور جسے لغزش ہی کہا جا سکتا ہے کہ ائمہ کی محبت نے اور اپنے اساتذہ اور بزرگوں کی عقیدت نے مخالفین پر تنقید کی راہیں کھول دیں۔ اور ایک دوسرے کے علم و فہم پر حملے ہونے لگے۔ احناف نے امام شافعیؒ کے علم و فضل سے متعلق ایسے الفاظ استعمال کئے جو حضرت امام شافعیؒ کے مقام کے لحاظ سے قطعاً نامناسب تھے۔ اسی طرح امام ابوحنیفہؒ کے علم و فضل پر دوسری جانب سے حرف گیری کی گئی۔ جس سے امام ابو حنیفہؒ کا مقام کہیں بلند تھا۔ مالکیوں اور حنبلیوں میں بھی بعض اہل علم اس حرف گیری سے نہ بچ سکے۔ انہی جھگڑوں میں اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لئے احادیث تک گھڑ لی گئیں اور کچھ پختہ اصول ایسے بنادیے گئے جن میں یہ کہہ دیا گیا کہ اگر قرآن کی کوئی آیت یا حدیث رسول ہمارے امام محترم کے قول کے مخالف ہو تو اس کی کچھ نہ کچھ تاویل ہوگی۔ اسلام کی واضح صورت ان اختلافات کی نذر ہوگئی اور ہمارے یہاں یہ پنپ نہ سکا۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
تدوین نو کی ضرورت

ہمارے اس دور میں علوم کے ہر فن میں تدوین نو بھی ہوئی ہے جس سے وہ علم مزید نکھرا ہے۔فقہ کا علم بھی دور جدید میں تدوین نو کا متقاضی ہے تاکہ یہ علم بھی نکھرے اور عوام کو اس میں تکلف وشدت کی بجائے سادگی اور آسانی نظر آئے ۔اوریہ تدوین نو قرآن وسنت کی روشنی میں از سرنو ہو۔اس کے چند ایک فوائد یہ ہیں:

٭…تمام مذاہب کے ماہرین اور مقلدین قریب آئیں گے اور نفرت کم کی جا سکے گی۔

٭… قرآن وسنت کے مقابلے میں قدیم فقہی کتب خود بہت دقیق، مشکل اور انتہائی مختصر ہیں۔انہیں سلیس انداز میں پیش کرنا بہت بڑی خدمت ہوگی۔

٭… مسلکی غلبے کی وجہ سے ان کتب کا علمی معیار بھی محدود ہے۔ انہیں سمجھنا ایک عام طالب علم تو کیا فارغ التحصیل عالم کے لئے بھی خاصا دشوار ہے۔یہ تدوین نو فقہ کی آسانی کا بڑا سبب بنے گی۔

٭… ان کتب میں ایسے احکام بکثرت ہیں جن کی علت ہی بیان نہیں کی گئی۔ اس خدمت کے ذریعے علت واسباب پیش کرکے ہر ایک کو قائل کیا جاسکے گا۔

٭…ان کتب کا اسلوب ایک جیسا نہیں۔ معمولی مسائل میںغیر ضروری طوالت ہے۔ پانی کا استعمال، چاہے وہ کنویں کا ہو یا بہتا پانی یا کھڑا، اس پر مسائل وضو میں لمبی مفروضہ بحثیں ہیں۔

ایک طالب علم ان قدیم فقہی کتب سے کتنا مستفید ہوتا ہے؟ ایک مصری عالم کا حال دل سنئے:

جامعہ ازہر میں ہم نے باب وضوء تین ماہ میں پڑھا۔ مگر وضوء کی حقیقت و سہولت سمجھ نہ آئی۔ یہاں تک کہ فقہ السنہ نے آنکھوں پر سے پردہ اٹھایا۔ ہم میں بہتیرے جامعہ ازہر میں بارہ بارہ اور پندرہ پندرہ برس رہتے ہیں۔ اور مذاہب اربعہ میں کسی ایک مذہب کی اکثرو بیشتر کتابیں پڑھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ فضیلت کی سند بھی مل جاتی ہے۔ لیکن جب آخر میں غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اتنی کتابیں رٹ جانے کے خود اس مذہب کی بھی تحقیق حاصل نہیں ہوپائی۔ دوسرے مذاہب کی تحقیق اور تفسیر و حدیث کا علم تو بہت دور رہا۔ چنانچہ ہم ہمیشہ حیرت و اضطراب میں پڑے رہتے ہیں کہ اختلافی مسائل میں طریق ترجیح تک نہیں جانتے" (مقدمہ ھدی الرسول ص ۴)
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
عجیب رویے


…مسلکی فقہ کی سچائی اوربرتری ثابت کرنے کے لئے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ حدیث میں تو بڑا اختلاف ہے اس لئے اسے سمجھنا ہر فرد کا کام نہیں ۔ بلکہ اس کے لئے فقہاء کرام نے فقہی مسائل کو ترتیب دے دیا ہے اسے سمجھنا ہی اب زیادہ بہتر ہے۔

…اسی طرح کچھ فقہی اصول وضابطے بھی ایسے مہیا کردئے گئے جن میں آیات واحادیث کو متعارض اور مختلف ثابت کیا گیا اور آیات کو علم قطعی قرار دے کر نتیجۃً احادیث کو علم ظنی بنا دیا گیا جن سے صحیح حدیث کی تخفیف ہوئی۔

…احادیث کی اہمیت مزید کم کرنے کے لئے یہ بھی باور کرایا گیا کہ ان احادیث سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جاسکتا بلکہ آیات سے عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔

٭…ان رویوں کا جواب دینا مقصود نہیں بلکہ صرف اتنا ضرور عرض کرنا فرض سمجھتے ہیں کہ یہ سب رویے تقلید کے کرشمے ہیں جو اس کی بقا کے لئے اپنائے گئے ہیں۔جن میں تضاد ہے۔ اس لئے کہ جہاں یہ ضابطہ لاگو ہوتا نظر نہ آیا وہاں نہ صرف حدیث کو سرآنکھوں پہ رکھا گیا بلکہ اس کی ایسی تاویل کی گئی جہاں اصول بھی اپنا سر پکڑ بیٹھے۔

٭…ہم یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم جس دل میں ہو وہ ایسے رویوں کی ضرور نفی کرے گا۔ وہ ضرور یہ باور کرے گا کہ ان مصادر میں اختلاف کی بجائے اپنی لا علمی یا اس صلاحیت کا فقدان ہے جو قرآن وسنت کو سمجھنے میں معاون ہوتا ہے کیونکہ قرآن وسنت کے بظاہر اختلاف کو سمجھنا صلاحیت نہیں بلکہ اس کے مدلل حل کو سمجھنا ہی اصل صلاحیت و اہلیت ہے۔ ہم اگر شخصیت پرست نہ بنیں ۔غلو سے اجتناب کریں اور رسالت کی عقیدت میں آجائیں تو سارا دین ایک خوب صورت گلدستہ نظر آئے۔

٭…اس کے برعکس موجودہ فقہی سرمایہ میں ذکر شدہ فتاوی واستنباطات یا اجتہادات میں بظاہر یہ اختلاف قرآن وسنت کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔جو نہ صرف فروعی ہے بلکہ اصولی بھی ہے۔ کہیں سہو ہے تو کہیں غلطی اور کہیں بالکل لاعلمی۔مگر ہماری عقیدت یہاں ان کے لئے اعذار تلاش کرتی ہے اور عجیب وغریب تاویلات بھی!!!

٭…ہمیں ماننا چاہئے کہ یہ سب فقہاء کرام کی مثبت کاوشیں تھیں اور مسائل کے ادراک میں ان کایہ توسع تھاجسے اپنے دور کے جدید تقاضوں کے مطابق انہوں نے پیش کیا۔ یہ ائمہ ہدی ہمیشہ حق کی طلب میں رہتے۔ان کے یہ اجتہادات نہ عصبیت و عناد پر مبنی تھے اور نہ ہی شہرت وجدال کی خاطرتھے۔بلکہ ان کی یہ ساری محنت ، خدمت دین کے لئے ہی تھی۔یہی وہ سچائی ہے جسے ہم اگر سمجھ لیں تو شاید ہمارا تعصب وتصلب ماند پڑجائے اورمسلکی مسائل کی شدت میں بھی کمی آئے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
٭…یہ بھی درست نہیںکہ کسی ایک فقیہ کے اقوال و فتاوٰی کو ہی دین کی حقیقی اور صحیح تعبیر سمجھ لیا جائے۔ ایسا کرنے سے ہم جہاں قرآن و سنت کے معانی کوایک ہی فقیہ کے فہم تک محدود کردیں گے وہاں دیگر فقہاء کرام کے علم سے بھی محروم ہوں گے۔ یہی تو نتائج ہیں اس عقیدت کے کہ بغیر سند کے بیان شدہ ایک قول، صحیح حدیث سے بھی زیادہ درجہ پاجاتا ہے۔ اورحدیث کے ابلاغ، اس پر کی گئی صحابہ وتابعین اور تبع تابعین کی تحقیق ومحنت کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی۔بلکہ منفرد مسلکی امتیازی مسائل کی اہمیت، سنت رسول سے اور اپنی فقہی کتب کی اہمیت کتب حدیث سے بھی برتر ہوجاتی ہے۔

٭…یہ بھی ایک عام خیال ہے کہ کوئی اگر مروجہ مسلکی فقہ پڑھ لے تو اسے فقہ آجاتی ہے ۔ وہ نہ صرف فقیہ ہوتا ہے بلکہ فتاوے لکھنے کا بھی اہل ہوجاتا ہے۔ مگر کیا فتوی لکھنا اور فقاہت کے منصب عالی پر فائز ہونا اتنا آسان ہے؟ ہمارے خیال میں یہ فقہ کی توہین ہے ۔اگر فقیہ بننا اتنا آسان ہوتا تو ہمارے ائمہ اسلاف اس دشت میں صحرا نوردی نہ کرتے اور علم وتجربہ اور عمر رسیدگی کے باجود افتاء میں بھی انتہائی محتاط نہ رہتے۔ فقاہت تو ایساملکہ ہے جو طویل مگر مسلسل گہرے مطالعے کا متقاضی ہے اور تمام ائمہ فقہاء کے تجربہ وعلم سے مستفاد فہم کا نام ہے جو محدود علم اور محدود تجربہ سے حاصل نہیں ہوتا۔ مردجہ فقہ ایک تو محدود علم کا نام ہے اور دیگر فقہاء کرام کی فقاہت وبصیرت سے لاعلمی کا بھی۔ اس لئے اس فقہ میں زیادہ سے زیادہ مسلکی نمائندگی تو ہو سکتی ہے مگر اسلامی فقہ کی نہیں۔ کیونکہ اسلامی فقہ میں وسعت ہے جہاں آپ کو نہ صرف چاروں فقہاء کرام کی فقاہت نظر آئے گی بلکہ آج تک فقاہت کے جتنے بھی مثبت مظاہر دیکھنے یا سننے میں آئے ہیں وہ بھی اس میں ملیں گے۔

٭…اسی طرح یہ خیال بھی درست نہیں کہ اگر کوئی حدیث پڑھنا شروع کردے تو فقاہت اس سے رخصت ہو جائے گی۔ کیونکہ حدیث رسول، فقاہت کی پہلی اینٹ ہے۔ صحیح کی کتب ہوں یا کتب سنن وموطایہ سب فقہ وحدیث کے مجموعے کا نام ہے اور اسی فقاہت کے مظاہر ہیں جو ان کے مؤلفین نے ابواب لکھ کر پیش کئے ہیں۔ فقہاء ومحدثین کی وہ جماعت جو فقہ اور حدیث کی ماہر تھی انہیں امام وفقیہ دونوں کا خطاب دیا گیا اور بعض فقہاء ومحدثین صرف ایک خصوصیت رکھتے تھے تو انہیں ان کے اپنے اپنے میدان میں مہارت کی بناء پر امام کے لقب سے ملقب کیا گیا۔بعض محدثین صرف احادیث کو جمع کرنے والے تھے جنہیں مُسنِد کا لقب دیا گیا۔

٭…قرآن وسنت میں مکمل مہارت کے بغیر اجتہاد یا تفقہ ممکن نہیں۔ اسی کا تقاضا ہے کہ فقیہ کے اجتہادات یا فقہی مسائل کو اس علمی مہارت کی روشنی میں پرکھا جائے جس طرح دوسرے علوم کے ماہرین کو پرکھا جاتا ہے۔ علماء حدیث نے بعض کتب فقہ کا مطالعہ کیا تو وہ اپنے محسوسات قلم بند کئے بغیر نہ رہ سکے: ملا علی القاریؒ لکھتے ہیں:

لاَ عِبْـرَۃَ بِنَقْلِ النِّہَایَۃِ وَلاَ بِبَقیَّۃِ شُرَّاحِ الْہِدَایَۃِ ، فَإِنَّہُم لَیْسُوا مِنَ الْمُحَدِّثِینَ، وَلاَ أَسْنَدُوا الْحَدِیثَ إِلٰی أَحَدٍ مِنَ الْمُخَرَّجِینَ۔ ( الأسرار المرفوعۃ: ۳۵۶بیروت) نہایۃشرح ہدایۃ اور دیگر شارحین ہدایہ کی نقل کردہ روایات حدیث کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ ایک تو وہ محدث نہیں دوسرے وہ روایات کا (source) ماخذبھی بیان نہیں کرتے کہ کس محدث نے اس روایت کی تخریج کی ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ مصنف ہدایہ کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں:

اگر حدیثے آوردہ نزد محدثین خالی از ضعفے نہ، غالبا اشتغال وقت آں استاذ در علم حدیث کم تر بودہ است۔ (شرح سفر السعادۃ ص۲۳، طبع لکھنو)
یعنی صاحب ہدایہ ایسی احادیث نقل کرتے ہیں جو محدثین کے نزدیک خالی از ضعف نہیں غالبا انہیں علم حدیث سے کم دلچسپی تھی۔

مولانا عبد الحی لکھنویؒ فرماتے ہیں:

إنَّ الْکُتُبَ الْفِقْہِیَّۃَ وَإِنْ کَانَتْ مُعْتَبَرَۃً فِی نَفْسِہَا بِحَسْبِ الْمَسَائِلِ الْفَرْعِیَّۃِ، وَکَانَ مُصَنِّفُوہَا أَیْضًا مِنَ الْمُعْتَبَرِینَ وَالْفُقَہَائِ الْکَامِلِینَ لٰکِنْ لاَ یُعْتَمَدُ عَلَی الأحادیثِ الْمَنقولَۃِ فِیہَا اعْتِمَادًا کُلِّیًّا، وَلاَ یُجْزَمُ بِوُرُودِہَا وَثُبُوتِہَا قَطْعًا بِمُجَرَّدِ وُقُوعِہَا فِیْہَا، فَکَمْ مِنْ أحادیثَ ذُکِرَتْ فِی الْکُتُبِ الْمُعْتَبَرَۃِ وَہِیَ مَوضُوعَۃٌ مُخْتَلِقَۃٌ۔۔الخ۔ مقدمۃ عمدۃ الرعایۃص۱۳ تحت الدراسۃ الرابعۃ۔۔۔وَمِنَ الْفُقَہَائِ مَنْ لَیْسَ لَہُ حَظٌّ إِلاَّ ضَبْطُ الْمَسَائِلِ الْفِقْہِیَّۃِ مِنْ دُونِِِ الْمَہَارَۃِ فِی الرِّوَایاتِ الْحَدِیثِیَّۃِ۔
کتب فقہ اگرچہ فی نفسہ فروعی مسائل میں قابل اعتبار ہیں اور ان کے مصنفین بھی بلاشبہ معتبر اور اجلہ فقہاء میں سے ہیں مگر ان کی کتب میں منقول احادیث پر کلی اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔اور نہ ہی ان کتابوںمیں کسی حدیث کا وجود اس کے ورود وثبوت کے لئے کافی ہے کیوں کہ بے شمار ایسی احادیث ہیں جو فقہ کی معتبرکتب میں درج ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ موضوع اور گھڑی ہوئی ہیں۔ مولانا لکھنویؒ کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں: یعنی فقہاء کرام فقہی مسائل کے ضبط وتحریر سے تو بہرہ ور ہیں لیکن روایات حدیث میںبعض کو کو ئی مہارت حاصل نہیں ہے۔
یعنی فقہی مسائل کو دیگر کتب یا فقہاء سے نقل کرنے میں تو ماہر ہیں مگر احادیث جو بطور دلیل بیان کرتے ہیں ان کی صحت وضعف سے لاعلم۔مزید امام بدر الدین العینی نے البِنایَۃ میں اور عبد القادر قرشی نے اپنی شرح العنِاَیۃ فِی مَعْرِفَۃِ أَحادیثِ الْہِدَایَۃِ میں اور امام زیلعی نے نَصْبُ الَّرایَۃِ میں اورامام ابن حجر نے الدِّرَایَۃ میں ان کا پایہ بتادیا ہے کہ کونسی قابل استدلال ہیں اور کونسی ناقابل استدلال۔

سوال یہ ہے کہ جب فقہی مسائل ہی ضعیف وموضوع احادیث سے بیان کئے اور لکھے جائیں تو ان کا وزن کیا ہوگا؟ کیا انہیں فقہ یا فقہی مسائل کہنا درست ہوگا؟فقہ کے بارے میں اس قسم کے ریمارکس کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ جس فقیہ نے حفظ مسائل ومتون یا ان کی شروح پر اکتفاء ہی کافی سمجھا ہو یا اپنے مسلک کے مسائل اور علم الخلاف میں مہارت پیدا کرنا ہی اہم سمجھا ہو تو وہ فقیہ تو ہوگا مگر اس فرق کے ساتھ کہ وہ اپنے مسلک کا فقیہ ٹھہرے گا۔جب کہ فقاہت کی منصبی شرائط کچھ اور ہیں جو اوپر کے اقتباسات میں علماء نے ضمناً بیان کردی ہیں۔ شخصی استنباطات واجتہادات اگر موافق حدیث ہیں تو قابل قبول ہوسکتے ہیں ورنہ نہیں۔اسی طرح نص اور اس کے فہم صحیح میں بھی ملاوٹ فقہ نہیں ۔ انہیں رد توکیا جاسکتا ہے مگرصحیح حدیث کو نہیں۔کیونکہ وہ فقہ کی روح ہے۔

٭٭٭٭٭​
 
Top