عکرمہ
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 27، 2012
- پیغامات
- 658
- ری ایکشن اسکور
- 1,871
- پوائنٹ
- 157
محمدﷺاللہ کے رسول ہیں
اقرار توحید کے بعد رسالت محمدی کی شہادت بھی ضروری ہے۔دلیل رسالت:
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ(سورۃ التوبہ:۱۲۸)
’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول ﷺ آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے ، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے‘‘
نیز اللہ عز وجل نے فرمایا:
وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ(سورۃ المنافقون:۱)
’’اوہ اللہ جانتا ہے کہ تم بے شک اس کے رسول ہو‘‘
شہادت رسالت سے مراد:
ارکان:رسالت کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اقرار کرتے ہوئے تہ دل سےاس امر کی قطعی و یقینی تصدیق کی جائے کہ محمدﷺاللہ کے بندے ہیں اوراس کی جانب سے تمام انسانوں اور جنوں کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
رسالت محمدی کی شہادت کے دو ارکان ہیں:
1:
آپﷺکی رسالت کا اعتراف
اس کی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ(سورۃ الفتح:۲۹)’’محمدﷺاللہ کے رسول ہیں‘‘
2:
اللہ کے لیے آپﷺکی عبودیت کا اظہار
اس کی دلیل یہ ہے کہ باری تعالیٰ نے اعلیٰ واشرف مقامات کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی مکرمﷺکو عبودیت کے لقب سے نوازا ہے۔انہی میں سے ایک مقام وہ ہےجہاں آپﷺکے اپنے رب کو پکارنے کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا(سورۃ الجن:۱۹)
’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔‘‘
پس آپﷺرسول ہیں۔آپﷺکو جھٹلایا نہیں جا سکتا اور اللہ کے عبد ہیں۔جن کی پرستش نہیں کی جاسکتی۔
شہادت رسالت کی شرائط اور تقاضے:
نبی مکرمﷺکی رسالت کی گواہی کےتقاضے اور شرائط چار ہیں:
1:آپﷺنے جو خبر دی ہےاس میں آپﷺکی تصدیق کی جائے۔
2:آپﷺکے حکم کی اطاعت کی جائے۔
3:جن امور میں آپﷺنے منع فرمایا اور سختی سے روکا ہےان سے اجتناب کیا جائے۔
4:اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف آپﷺہی کے مقرر کردہ طریقے پر کی جائے یعنی عبادت رب میں شریعت محمدﷺکی پابندی کی جائے