• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآنی اور حدیثی تعویذ لٹکانا شرک ہے؟

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
محترم بھائی یہ روایت موقوفاً ابن عباس سے (مصنف ابن ابی شیبہ ) میں موجود ہے ،
23508 - حدثنا علي بن مسهر، عن ابن أبي ليلى، عن الحكم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: إذا عسر على المرأة ولدها، فيكتب هاتين الآيتين والكلمات في صحفة ثم تغسل فتسقى منها: «بسم الله لا إله إلا هو الحليم الكريم، سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم» {كأنهم يوم يرونها لم يلبثوا إلا عشية أو ضحاها} [النازعات: 46] {كأنهم يوم يرون ما يوعدون لم يلبثوا إلا ساعة من نهار، بلاغ فهل يهلك إلا القوم الفاسقون} [الأحقاف: 35]
اس روایت کا ایک راوی ۔ابن ابی لیلی ۔ اپنے خراب حافظہ کی وجہ سےضعیف ہے،
محمد بن عبد الرحمن بن أبى ليلى الأنصارى ، أبو عبد الرحمن الكوفى القاضى الفقيه
الطبقة : 7 : من كبار أتباع التابعين
الوفاة : 148 هـ
روى له : د ت س ق ( أبو داود - الترمذي - النسائي - ابن ماجه )
قال ابن حجر : صدوق سىء الحفظ جدا
قال عنہ الذهبي : قال أحمد : سيىء الحفظ ،
سیر اعلام میں ذہبی لکھتے ہیں :
قَالَ أَحْمَدُ: كَانَ يَحْيَى بنُ سَعِيْدٍ يُضَعِّفُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى.
قَالَ أَحْمَدُ: كَانَ سَيِّئَ الحِفظِ، مُضْطَرِبَ الحَدِيْثِ، وَكَانَ فِقهُهُ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ حَدِيْثِهِ.
وَقَالَ أَيْضاً: هُوَ فِي عَطَاءٍ أَكْثَرُ خَطَأً.
وَرَوَى: أَحْمَدُ بنُ زُهَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بنِ مَعِيْنٍ، قَالَ: لَيْسَ بِذَاكَ.
أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يَقُوْلُ: مَا رَأَيْتُ أَحَداً أَسوأَ حِفْظاً مِنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
تعويذ :-
جمع تعاويذُ ( لغير المصدر ):
1 - مصدر عوَّذَ .
2 - اسم بمعنى الرُّقية تُقرأ أو تُكتب وتُعلَّق لتقي من الشَّرِّ
عوَّذَ:
عوَّذَ يعوِّذ ، تعويذًا ، فهو مُعوِّذ ، والمفعول مُعوَّذ :-
• عوَّذه بالله أعاذه به ، حصَّنه ودعا له بالحِفْظ ، رقاه :- عوَّذ ولدَه بأسماء الله الحُسنى ، - عوَّذ بيتَه بالرُّقية الشَّرعيَّة .
یعنی (عوَّذَ) کا معنی ہے ’‘پناہ لینا ’‘اسی سے ’‘ تعویذ ’‘ بنا ہے ،یہ خواہ کچھ پڑھ کر کیا جائے ۔یا ۔کچھ لکھ کر،اسے تعویذ ہی کہیں گے ۔
محمد عامر یونس بھائی اسی تھریڈ کی
پوسٹ ۲۹۔۔میں لکھا ہے :
اگر کوئی شخص اللہ کا نام یا قرآن مجید کی آیت لکھ کر گلے میں لٹکائے تو اسے شرک کہنا درست نہیں۔
کیونکہ اس میں اس نے کسی غیر سے مدد نہیں مانگی۔ اگر کوئی کہے کہ اُ سنے کاغذ گلے میں لٹکایا ہے تو یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ تعویذ لکھنے والا یا گلے میں ڈالنے والا کوئی موحد کاغذ میں نفع نقصان کی کوئی تاثیر نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس کاغذ میں لکھے ہوئے اللہ کے نام یا اس کے کلام کی برکت سے شفا کا عقیدہ رکھتا ہے۔
اللہ کا کلام دَم کی صورت میں انسانی آواز میں ادا ہو تب بھی اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہے اور غیر مخلوق ہے اور انسانی قلم و دوات سے کاغذ پر لکھا شرک قرار دیتے ہیں، ان کی بات بالکل بے دلیل ہے اور وہ غلو کاارتکاب کر رہے ہیں۔ البتہ یہ طریقہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھا اس لئے سلف صالحین میں اس کے جواز کے متعلق اختلاف ہے (دیکھئے المجید باب ماجاء فی الرقی والتمائم)

جواز کے قائلین اسے علاج کی ایک صورت قرار دیتے ہیں جس میں کوئی شرک نہیں اور شرک سے پاک دَم کی طرح اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ منع کرنے والے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید لکھواتے تھے، بعض اوقات احادیث بھی لکھواتے تھے۔ لوگوں کے علاج اور شفا کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعویذ لکھوا کر دور دراز بھیج سکتے تھے اور اس کی ضرورت بھی تھی۔ مگر ضرورت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ اس لئے جائز نہیں۔

ہمیں صرف دَم پر اکتفا کرنا چاہیے۔ اگر غور کیاجائے تو یہی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دَم پر اکتفا کیا ہے تو ہمیں بھی اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ لیکن کوئی توحید والا شخص اگر قرآنی تعویذ اللہ کے اسماء و صفات پر مشتمل تعویذ لکھتا ہے۔ تو بے شک اس کا ہمارے ساتھ سوچ میں اختلاف ہے ، مگر اسے نہ مشرک کہہ سکتے ہیں ، نہ اس کے پیچھے نماز چھوڑی جا سکتی ہے۔ اختلاف سلف صالحین رحمة اللہ علیہم میں بھی ہوتا تھا مگر ان میں سے کسی نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں چھوڑی۔ ہم اپنے بھائیوں کو دلائل سے قائل کرنے کی پوری کوشش کریں گے ، مگر اجتہادی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کا اتفاق پارہ پارہ ہو، اس کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پوسٹ 36 میں ہے
وقال علماء اللجنة الدائمة :

اتفق العلماء على تحريم لبس التمائم إذا كانت من غير القرآن ، واختلفوا إذا كانت من القرآن ، فمنهم من أجاز لبسها ومنهم من منعها ، والقول بالنهي أرجح لعموم الأحاديث ولسدِّ الذريعة .

الشيخ عبد العزيز بن باز ، الشيخ عبد الله بن غديان ، الشيخ عبد الله بن قعود .
" فتاوى اللجنة الدائمة " ( 1 / 212 ) .

قرآن کے علاوہ ’‘تمائم ’‘ پہننے ،لٹکانے کے حرام ہونے پر تو علماء کا اتفاق ہے
لیکن قرآنی آیات پر مشتمل تعاویذ لٹکانے میں علماء کا اختلاف ہے ،کچھ اس کو جائز کہتے ہیں ،اور بعض کے نزدیک یہ تعویذ بھی منع ہیں ۔
اور منع کا قول احادیث کے عموم کے مطابق اور سد ذرائع کے پہلو سےراجح ہے ۔’‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان دو پوسٹوں میں جو بتایا گیا ، میرے نزدیک وہی اعتدال پر مبنی ہے۔۔واللہ اعلم
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
تعویذ یا دم کیا ہوا دھاگا باندھنا جائز ہے؟

سوال :

کیا کسی حدیث یا اثر میں یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی نے تعویذ یا دم کیا ہوا دھاگا پہنا تھا اور ان کے شوہر نے اس دھاگے یا تعویذ کو شرک قرار دے کر کاٹ دیا ہو نیز کیاایسا کرنا جائز ہے؟ دلیل سے وضاحت فرما دیں۔ (ع ۔ ظ حافظ آباد )

جواب

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

زمانۂ جاہلیت میں یہ رسم بد جار ی تھی کہ لوگ جانوروں کو نظر بد سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کے گلے میں پرانی تانت ڈال دیتے تھے۔ آفات وبلیات سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے مختلف اقسام کے ہار، رسیاں اور تانتیں استعمال کرتے اور خود بھی آفات و مصائب سے بچائو کی خاطر دھاگے اور گھونگے وغیرہ لٹکاتے تھے۔

ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

(( أَنَّہٗ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بَعْضِ أَسْفَارِہٖ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ حَسِبْتُ أَنَّہٗ قَالَ وَالنَّاسُ فِیْ مَبِیْتِہِمْ فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَسُوْلاً لاَ تَبْقَیَنَّ فِیْ رَقَبَۃِ بَعِیْرٍ قِلاَدَۃٌ مِنْ وَتَرٍ اَوْ قَلاَدَۃٌ إِلاَّ قُطِعَتْ )) [بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ما قیل فی الجرس ... الخ (۳۰۰۵)، صحیح مسلم (۲۱۱۵)]

''وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ عبداللہ (بن ابو بکر بن حزم راوی حدیث) نے کہا میرا خیال ہے کہ ابو بشیر نے کہا لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیجا کہ اگر کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا پٹا (گنڈا) ہو، یا یوں فرمایا کہ جو گنڈا (ہار، پٹا) ہو، اسے کاٹ دیاجائے۔''

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

'' أَرَی ذٰلِکَ مِنَ الْعَیْنِ '' میں سمجھتا ہوں کہ لوگ نظر بد سے بچنے کے لیے جانوروں کے گلے میں تانت کا قلادہ لٹکاتے تھے۔ [الموطأ (ص ۷۱۳)]

امام ابن الجوزی نے بخاری کی شرح ''کشف المشکل (۴/۱۴۳)'' میں، علامہ طیبی نے ''الکاشف عن حقائق السنن (۸/۲۶۷۹)'' شرح مشکوٰۃ میں، ملا علی قاری نے ''مرقاۃ المفاتیح (۷/۴۴۷)'' میں شرح السنۃ کے حوالے سے، ابن الاثیر نے ''اسد الغابۃ'' میں، ابودائود نے ''السنن (۲۵۵۲)'' میں، امام مسلم نے صحیح مسلم (۲۱۱۵) میں اور ''الغریبین فی القرآن والحدیث (۶/۱۹۶۹)'' میں ابوعبیدہ الھروی نے امام مالک کا مذکورہ بالا قول نقل کیا ہے۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

'' تَأَوَّلَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ اَمَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ الْقَلاَئِدِ عَلٰی أَنَّہٗ مِنْ اَجْلِ الْعَیْنِ وَ ذٰلِکَ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَشُدُّوْنَ بِتِلْکَ الْأَوْتَارِ وَ الْقَلاَئِدِ وَ التَّمَائِمِ وَ یُعَلِّقُوْنَ عَلَیْہَا الْعَوْذَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہَا تَعْصِیْمٌ مِنَ الْآفَاتِ فَنَہَاہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اَعْلَمَہُمْ أَنَّہَا لاَ تَرُدُّ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ شَیْئًا '' [شرح السنۃ (۱۱/۲۷)]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قلادے کاٹنے کا حکم دیا امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے اس کا مفہوم نظر بد سے بچائو کے لیے لٹکانا لیا ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ یہ تانتیں، قلادے اور تمیمے باندھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ یہ آفات و مصائب سے بچائو کے لیے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان سے منع کر دیا اور انھیں بتایا کہ یہ اللہ کے کسی بھی حکم کو ٹال نہیں سکتے۔''

لہٰذا نظر بد سے بچائو کے لیے جو دھاگے، گھونگے، تانت اور تعویذ وغیرہ لٹکائے جاتے ہیں انھیں کاٹ دینا چاہیے، کیونکہ اللہ کی تقدیر اور حکم سے کسی بھی چیز کو لٹانے اور رد کرنے کی ان میں ہمت نہیں ہے۔ تمیمہ وہی ہوتا ہے جو بلاء و مصیبت کے نزول سے پہلے لٹکایا جائے، تاکہ یہ تمیمے اور گھونگے ان کو ٹال سکیں اور بلاء و مصیبت کے بعد لٹکائے جانے والے تمیمہ شمار نہیں ہوتے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

(( لَیْسَتِ التَّمِیْمَۃُ مَا تَعَلَّقَ بِہٖ بَعْدَ الْبَلاَئِ اِنَّمَا التَّمِیْمَۃُ مَا تَعَلَّقَ بِہٖ قَبْلَ الْبَلاَئِ )) [المستدرک للحاکم (۴/۲۱۷) و صححہ علی شرط الشیخین ]

''تمیمہ وہ نہیں جو بلاء کے بعد لٹکایا جائے، تمیمہ تو وہ ہے جو بلاء سے پہلے لٹکایا جائے۔''

رہا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی بیوی کا قصہ، اسے قیس بن المسکن الاسدی یوں بیان کرتے ہیں:

(( دَخَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی امْرَأَۃٍ فَرَاٰی عَلَیْہَا حِرْزًا مِنَ الْحُمْرَۃِ فَقَطَعَہٗ قَطْعًا عَنِیْفًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ آلَ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ الشِّرْکِ اَغْنِیَائُ وَ قَالَ کَانَ مِمَّا حَفِظْنَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرُّقٰی وَ التَّمَائِمَ وَالتَّوْلِیَۃَ مِنَ الشِّرْکِ ))

[المستدرک علی الصحیحین (۴/۲۱۷،ح : ۷۵۸۰) اس حدیث کو امام حاکم اور امام ذھبی نے صحیح کہا ہے، علامہ البانی نے دونوں کی موافقت کی ہے۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ (۱/۶۴۹) القسم الثانی]

''عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس پر خسرہ سے بچائو کا تعویذ دیکھا تو اسے سختی سے کاٹ دیا، پھر فرمایا:

''یقینا عبداللہ کا خاندان شرک سے مستغنی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو باتیں ہم نے یاد کی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ بے شک شرکیہ دم، گھونگے اور منکے وغیرہ اور محبت کے تعویذ شرک ہیں۔''


اس حدیث میں ''الرقی'' سے مراد شرکیہ دم یا ہروہ چیز ہے جس میں جنات سے پناہ مانگی جائے، یا ان الفاظ کا مفہوم سمجھ میں نہ آئے، یا غیر عربی زبان میں لکھے ہوئے تعویذ، جیسے ''یاکبیکج'' وغیرہ ہیں۔ [السلسلۃ الصحیحۃ (۱/۶۴۹، ۶۵۰)]

امام بغوی فرماتے ہیں:

'' وَالْمَنْہِیُ مِنَ الرُّقٰی مَا کَانَ فِیْہِ الشِّرْکُ اَوْ کَانَ یُذْکَرُ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنَ اَوْ مَا کَانَ مِنْہَا بِغَیْرِ لِسَانِ الْعَرَبِ وَلاَ یَدْرِیْ مَا ہُوَ وَ لَعَلَّہٗ یَدْخُلُہٗ سِحْرٌ اَوْ کُفْرٌ '' [شرح السنۃ (۱۲/۱۵۹)]

''ممنوع دم وہ ہے جس میں شرک ہو، یا جس میں سرکش جنات کا ذکر کیا گیا ہو، یا وہ عربی زبان کے علاوہ ہو اور اس کا مفہوم معلوم نہ ہو۔ شاید کہ اس میں جادو یا کفر داخل کیا گیا ہو "


تمائم سے مراد وہ گھونگے اور موتی ہیں جنھیں عرب بچے کے سر پر نظر بد سے بچنے کے لیے لٹکاتے تھے، شریعت نے انھیں باطل قرار دیا ہے۔

امام بغوی فرماتے ہیں :

'' اَلتَّمَائِمُ جَمْعُ تَمِیْمَۃٍ وَ ہِیَ خَرَزَاتٌ کَانَتِ الْعَرَبُ تُعَلِّقُہَا عَلٰی اَوْلاَدِہِمْ یَتَّقُوْنَ بِہَا الْعَیْنَ بِزَعْمِہِمْ فَاَبْطَلَہَا الشَّرْعُ '' [شرح السنۃ (۱۲/۱۵۸)]

''تمائم، تمیمہ کی جمع ہے، اور یہ گھونگے ہیں جنھیں عرب اپنے گمان میں اپنی اولاد کو نظربد وغیرہ سے بچانے کے لیے پہناتے تھے، شریعت نے انھیں باطل قرار دیا ہے۔''

علامہ البانی فرماتے ہیں :

''اور اسی قسم سے بعض لوگوں کا گھر کے دروازے پر جوتا لٹکانا، یا مکان کے اگلے حصے پر، یا بعض ڈرائیوروں کا گاڑی کے آگے، یا پیچھے جوتے لٹکانا، یا گاڑی کے اگلے شیشے پر ڈرائیور کے سامنے نیلے رنگ کے منکے لٹکانا بھی ہے، یہ سب ان کے زعم باطل کے مطابق نظر بد سے بچائو کی وجہ سے ہے۔'' [السلسلۃ الصحیحۃ (۱/۶۵۰)]

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امور کو شرک قرار دیا ہے، اس لیے کہ ان کا مشرکانہ عقیدہ تھا کہ یہ اللہ کی تقدیر کے خلاف مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض لوگ تعویذ لٹکانے کے جواز پر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں جس میں ہے کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سمجھدار لڑکوں کو دعا

(( اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَۃِ مِنْ غَضَبِہٖ وَ شَرِّ عِبَادِہٖ وَ مِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنَ وَ أَنْ یَحْضُرُوْنَ ))

سکھاتے تھے اور جو سمجھ نہیں رکھتے تھے ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔

[أبوداوٗد، کتاب الطب، باب کیف الرقی (۳۸۹۳)، ترمذی(۳۵۲۸)، ابن أبی شیبۃ (۸/۳۹، ۶۳۔۱۰/۳۶۴)، خلق أفعال العباد (۳۴۷)، الرد علی الجھمیۃ لعثمان بن سعید الدارمی (۳۱۴، ۳۱۵)، عمل الیوم واللیلۃ للنسائی (۷۶۵)، الأسماء والصفات للبیھقی (ص ۱۸۵، ۱۸۶)، الدعاء للطبرانی (۱۰۸۶)، عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی (۷۵۳)، الآداب للبیھقی (۸۹۳،ص۲۷۰)، المسند الجامع (۱۱/۲۲۸) المستدرک للحاکم (۱/۵۴۸،ح : ۲۰۱۰)، العیال لابن أبی الدنیا (۲/۸۶۱، رقم ۶۵۶)، الدعوات الکبیر للبیھقی (۲/۳۱۶، رقم ۵۳۰)، معرفۃ الصحابۃ لأبی نعیم الأصبہانی (۴/۳۶۸) (۶۵۴۹) الغیلانیات (۶۰۱) (۲/۱۶۶)]
اس روایت کو امام ترمذی نے اپنی جامع میں اور ابن حجر نے ''نتائج الأفکار فی تخریج أحادیث الأذکار (۳/۱۱۸)'' میں حسن قرار دیا ہے۔ لیکن اس کی سند میں موجود محمد بن اسحاق گو ثقہ و صدوق ہے لیکن مدلس ہے اور روایت معنعن ہے اور مدلس کا عنعنہ مردود ہے، جب تک تصریح بالسماع یا کوئی صحیح و حسن متابعت نہ ملے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

'' لٰکِنِ ابْنُ اِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَ قَدْ عَنْعَنَہ فِیْ جَمِیْعِ الطُّرُقِ عَنْہُ، وَ ہٰذِہِ الزِّیَادَۃُ مُنْکَرَۃٌ عِنْدِیْ، لِتَفَرُّدِہٖ بِہَا، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ '' [السلسلۃ الصحیحۃ (۱/۵۲۹)]

''لیکن ابن اسحاق مدلس ہے اور اس کے تمام طرق میں اس کا عنعنہ ہے اور میرے نزدیک یہ زیادت منکر ہے، اس لیے کہ ابن اسحاق اس کے بیان کرنے میں متفرد ہے۔''

یہ روایت اصل میں ابن عمرو کی موقوف کے علاوہ حسن ہے یعنی دعائیہ جملہ مرفوعہ حسن درجے تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔ علامہ البانی ایک اور مقام پر اس روایت کی سند کو ابن اسحاق کے عنعنہ کی وجہ سے غیر صحیح قرار دے کرلکھتے ہیں:

'' فَلاَ یَجُوْزُ الْاِحْتِجَاجُ بِہٖ عَلٰی جَوَازِ تَعْلِیْقِ التَّمَائِمِ مِنَ الْقُرْآنِ لِعَدْمِ ثُبُوْتِ ذٰلِکَ عَنِ ابْنِ عَمْرٍو لاَسِیَمَا وَہُوَ مَوْقُوْفٌ عَلَیْہِ فَلاَ حُجَّۃَ فِیْہِ '' [تعلیق علی کلم الطیب (ص ۴۵، رقم ۳۴)]

''اس سے قرآنی تعویذات لٹکانے کے جواز پر حجت پکڑنا جائز نہیں، اس لیے کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہ بات ثابت نہیں، خصوصاً جب یہ ان پر موقوف ہے، لہٰذا اس میں کوئی حجت نہیں ہے۔''

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

'' کَانُوْا یَکْرَہُوْنَ التَّمَائِمَ کُلَّہَا مِنَ الْقُرْآنِ وَ غَیْرِہِ قَالَ وَ سَأَلْتُ اِبْرَاہِیْمَ فَقُلْتُ أُعَلِّقُ فِیْ عَضُدِیْ ہٰذِہِ الْآیَۃَ : {قلنا ينار كوني برداوسلما على ابراهيم} [الأنبیاء : 69] مِنْ حُمّٰی کَانَتْ بِیْ فَکَرِہَ ذٰلِکَ ''

[ فضائل القرآن لأبی عبید القاسم بن سلام الھروی (ص ۳۸۲)، ابن أبی شیبۃ (۵/۳۶) ط دارالتاج، بیروت ]

''صحابہ کرام تمام قرآنی و غیر قرآنی تعویذوں کو مکروہ سمجھتے تھے۔ مغیرہ بن مقسم الضبی کہتے ہیں میں نے ابراہیم نخعی سے سوال کیا کہ میں اپنے بازو میں بخار کی وجہ سے {قلنا ينار كوني برداوسلما على ابراهيم} آیت کا تعویذ باندھتا ہوں تو انھوں نے اسے ناپسند کیا۔''

حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے :

'' أَنَّہٗ کَانَ یَکْرَہُ اَنْ یُغْسَلَ الْقُرْآنُ وَ یُسْقَاہُ الْمَرِیْضَ اَوْ یُتَعَلَّقَ الْقُرْآنُ '' [فضائل القرآن للھروی (ص ۳۸۲)]

''وہ قرآن کو دھونا اور اسے مریض کو پلانا یالٹکانا مکروہ سمجھتے تھے۔''

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن پاک کا تعویذ لٹکانا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور دیگر شرکیہ تعویذات پہننا، دھاگے، گھونگے، منکے، سیپ وغیرہ لٹکانا شرک ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح انھیں اتار پھینکنا چاہیے اور اپنے اہل و عیال اور دوست احباب کو ان کاموں سے بچانا چاہیے، جو لوگ تعویذوں کے اتوار بازار لگاتے اور انھیں کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں انھیں اس پر تدبر و تفکر کرنا چاہیے اور صرف دم اور اذکار پر اکتفا کرنا چاہیے۔
 
Top