• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآنی اور حدیثی تعویذ لٹکانا شرک ہے؟

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
بھائی اس مسئلے پر تحقیق کرنی چاہئے، میں نے کسی سلفی عالم کو بغیر شرکیہ امور کا مرتکب ہوئے مشرک نہیں کہا۔
میرے محترم بھائی آپ ان کا موقف واضح کریں اور ان کے دلائل بھی سامنے لائیں تاکہ بات واضح ہو جاے ،یہاں کتنے لوگ ہیں جو یہ موقف رکھتے ہیں کہ قرآنی تعویذ شرک ہے،
آپ سے یہ گزارش ہے کہ قرآنی تعویز کے شرک ہونے کے بارے فورم پر موجود علما کا موقف سامنے لائیں
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,090
پوائنٹ
1,155
یہ تو ٹھیک ہے ہماری یہی کوشش ہے کہ لوگ قرآن کو سمجھیں اور اس کی طرف رغبت بھی کریں لیکن بات یہ ہے کہ کیا کوئی توحید پرست بھائی قرآنی تعویز کی وجہ سے مشرک کیسے قرار پاتا ہے، ہمارے ان بھائیوں کو اللہ سے ڈر جانا چاہیے جو بغیر غور وفکر کے یہ موقف رکھتے ہیں کہ قرآنی تعویذ شرک ہے
بھائی میں نے کہا تو ہے کہ جو ایسا کہتا ہے اس سے دلائل پوچھیں۔ اس کا موقف دیکھیں کہ کن دلائل پر ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,090
پوائنٹ
1,155
میرے محترم بھائی آپ ان کا موقف واضح کریں اور ان کے دلائل بھی سامنے لائیں تاکہ بات واضح ہو جاے ،یہاں کتنے لوگ ہیں جو یہ موقف رکھتے ہیں کہ قرآنی تعویذ شرک ہے،
آپ سے یہ گزارش ہے کہ قرآنی تعویز کے شرک ہونے کے بارے فورم پر موجود علما کا موقف سامنے لائیں
بھائی میں ایسے لوگ کہاں سے لاؤں مجھے تو نہیں معلوم کہ کون کون قرآنی تعویذ کے شرکیہ ہونے کا موقف رکھتا ہے؟
اور علماء بھی خود ہی یہاں آئیں میں زیادہ سے زیادہ ٹیگ کر سکتا ہوں۔
انس
خضر حیات
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
بھائی میں نے کہا تو ہے کہ جو ایسا کہتا ہے اس سے دلائل پوچھیں۔ اس کا موقف دیکھیں کہ کن دلائل پر ہے۔
کیا آپ کے نزدیک قرآنی تعویذ لٹکانا شرک نہیں ہے؟
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,084
ری ایکشن اسکور
6,749
پوائنٹ
1,069
قرآنی تعویذ پہن کربیت الخلاء میں جانا

میری بیوی کے پاس قرآنی آیات پر مشتمل تعویذ ہے کیاوہ اسے پہن کر بیت الخلاء میں داخل ہو سکتی ہے ؟

الحمد للہ:

کسی بھی ایسی چیز کو جس میں قرآنی آیات ہوں بیت الخلاء میں لے جانا جائز نہيں کیونکہ اس میں اللہ تعالی کے کلام کی توھین ہے ، لھذا آپ کی بیوی کے لۓ یہ جا‏ئز نہیں کہ وہ اسے لے کر بیت الخلاء میں جاۓ بلکہ جانے سے پہلے اتار لینا چاہیے ۔

ہماری نصیحت ہے کہ کسی مرد عورت اوربچے کی گردن وغیرہ میں کوئ ایسی چیز نہیں پہننی چاہيے جس میں قرآنی آیات ہوں اور نہ ہی تعویذات پہننے صحیح ہیں اگرچہ بیت الخلاء میں نہ بھی جايا جاۓ‌ کیونکہ یہ پہننے جائز نہیں ۔

واللہ تعالی اعلم .
الشیخ محمد صالح المنجد

http://islamqa.info/ur/2255
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,090
پوائنٹ
1,155
کیا آپ کے نزدیک قرآنی تعویذ لٹکانا شرک نہیں ہے؟
ابھی کچھ تحقیق نہیں ہے، سنا تو یہی ہے کہ بعض علماء کے نزدیک قرآنی تعویذ شرک نہیں ہیں اور پہننے والا اور اس کے جواز کا فتویٰ دینے والا مشرک بھی نہیں ہوتا۔ میری اس بارے میں ابھی تک کوئی تحقیق نہیں ہے۔

ہاں البتہ میں قرآن کو تعویذ بنا کر پہننے کو بالکل اچھا نہیں سمجھتا، میرے اپنے فہم کے مطابق آدمی ایسا کرنے سے شرک کی طرف جا سکتا ہے، کیونکہ اگر وہ آج قرآنی تعویذ پہنے گا تو کل کو دیگر شرکیہ اذکار والے تعویذ بھی پہننا شروع کر سکتا ہے۔

میں خود اگر کسی کو تعویذ پہنے دیکھ لوں تو اتنی خار آتی ہے کہ دل کرتا ہے دوبارہ اس پر نظر نہ پڑے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رکھے آمین
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,084
ری ایکشن اسکور
6,749
پوائنٹ
1,069
ایسا دھاگہ باندھنا جس پر قرآنی آیات پڑھی ‎گئیں ہوں۔


کیا یہ جائز ہے کا ہم دھاگہ وغیرہ پر قرآن پڑھ کر بچے کی کلائی پر باندھیں تاکہ وہ نظر بد اور بیماریوں سے بچا رہے؟

یا اس کے بدلہ میں قرآنی آیات لکھ کر اسے کسی معدنیاتی تعویذ میں بند کرکے مسلمان کی کلائی کے گرد باندھنا جائز ہے تاکہ نظر بد اور مصائب سے بچا جاسکے؟

یہ دونوں کام ہمارے رہائشی محلہ میں لوگ کثرت سے کرتے ہیں۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ کام انکے محلہ کی مسجد کا امام سر انجام دے۔ اور میں اپنے بچے کے لئے یہ کام اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک کہ اسکا کوئی شرعی اور قابل قبول سبب نہ ہو۔ امید ہے کہ آپ حقیقت تک پہنچنے کے لئے میری مدد کریں گے۔

الحمدللہ :

یہ دھاگے اور پٹے وغیرہ باندھنے جائز نہیں ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

(جس نے تعویذ لٹکایا اللہ تعالی اسکے کام کو پورا نہ کرے)
اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کردیا گیا۔)
اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹنے کا حکم دیا جیسا کہ حدیث میں ہے عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا تھا تو اسے کہا کہ یہ کڑا کیسا ہے؟ تو اس نے کہا کہ یہ کمزوری کی وجہ سے ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اتار دے کیونکہ یہ تیری بیماری اور کمزوری میں اور اضافہ کرے گا۔

اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ .

الشیخ ولید الفریان۔

http://islamqa.info/ur/11788
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,084
ری ایکشن اسکور
6,749
پوائنٹ
1,069
ابھی کچھ تحقیق نہیں ہے، سنا تو یہی ہے کہ بعض علماء کے نزدیک قرآنی تعویذ شرک نہیں ہیں اور پہننے والا اور اس کے جواز کا فتویٰ دینے والا مشرک بھی نہیں ہوتا۔ میری اس بارے میں ابھی تک کوئی تحقیق نہیں ہے۔

ہاں البتہ میں قرآن کو تعویذ بنا کر پہننے کو بالکل اچھا نہیں سمجھتا، میرے اپنے فہم کے مطابق آدمی ایسا کرنے سے شرک کی طرف جا سکتا ہے، کیونکہ اگر وہ آج قرآنی تعویذ پہنے گا تو کل کو دیگر شرکیہ اذکار والے تعویذ بھی پہننا شروع کر سکتا ہے۔

میں خود اگر کسی کو تعویذ پہنے دیکھ لوں تو اتنی خار آتی ہے کہ دل کرتا ہے دوبارہ اس پر نظر نہ پڑے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رکھے آمین

صحیح کہا آپ نے میں نہ کتنے ہی اہلحدیث گھرانے دیکھیں جو قرآنی تعویذ کے بات شرک کی طرف گئے -
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,084
ری ایکشن اسکور
6,749
پوائنٹ
1,069
تعویذ کی شرعی حیثیت

سوال :

۱۔ تعویذ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
۲۔قرآنی آیات کے تعویذ کا جواز شریعت میں کیونکر ہے؟
۳۔ اہلحدیث کہلوانے والے امام جو کہ قرآنی آیات کے تعویذ کرتے ہوں ، کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
۴۔ کیا تعویذ کرنا شرک ہے اور اگر شرک ہے تو اس کا لکھنے والا اور لینے والا مشرک ہے یا نہیں؟

جواب:

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''یعنی دم اور تمائم اور محبت کے ٹونے ٹوٹکے شرک ہیں۔'' (رواہ احمد و ابو دائود)

اس حدیث میں دم سے مراد شرکیہ دم ہیں کیونکہ شرک سے پاک دم کرنے کی اجازت بلکہ ترغیب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''مجھے اپنے دم سنائو دَم میں کوئی حرج نہیں جب تک شرک نہ ہو۔''

اور صحیح مسلم میں ہی دَم کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

''جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو پہنچائے۔''

تمام تمیمہ کی جمع ہے اس کا ترجمہ عام طور پر تعویذ کیا جاتا ہے ۔

مگر یہ ترجمہ درست نہیں کیونکہ تمیمہ کے متعلق لغت کی تمام کتابوں میں لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ منکے وغیرہ ہیں جنہیں اس مقصد کے لئے لٹکایا جاتا تھا کہ ان کے لٹکانے سے بیماری دور رہتی ہے۔

قاموس میں لکھا ہے:

''یعنی سیاہ و سفید نکتوں والا منکا ہے جو چمڑے میں پرو کر گلے میں ڈالا جاتا ہے۔''

کتاب التوحید کی شرح فتح المجید میں ہے:

یعنی تمیمہ وہ منکے یا ہڈیاں ہیں جو نظر بد سے دور رکھنے کے لئے بچوں کے گلے میں لٹکائی جاتی ہیں۔ بیماری سے بچائو کے لئے ڈالے جانے والے کڑے ، دھاگے ، درختوں کے پتے ، ہاتھوں یا گلے میں پہنے جاتے ہیں یا لوہے کے اوزار جو چارپائی پر رکھ دیئے جاتے ہیں ۔ سب اسی میں آتے ہیں اور شرک ہیں کیونکہ یہ چیزیں نہ نفع پہنچا سکتی ہیں ، نہ نقصان دور کر سکتی ہیں۔

رہاتعویذ یعنی کاغذ پر کچھ لکھ کر گلے میں ڈالنا تو اس کا وجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے معلوم نہیں۔ یہ چیز بعد میں شروع ہوئی ہے۔ اس لئے قرآن و سنت کی روشنی میں اس پر غور کر نا ہو گا۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ اگر تعویذ میں اللہ کے علاوہ کسی اور سے مدد مانگی گئی ہو یا غیر کا نام یا ہندسے لکھ کر گلے میں ڈالے جائیں تو یہ صریح شرک ہے اور ایسا کرنے والا مشرک ہے۔ اسے امام بنانا جائز نہیں اللہ تعالیی نے فرمایا ہے:

''اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو اللہ کے علاوہ ایسے لوگوں کو پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس بات کا جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔''(احقاف : ۵)

البتہ اگر کوئی شخص اللہ کا نام یا قرآن مجید کی آیت لکھ کر گلے میں لٹکائے تو اسے شرک کہنا درست نہیں۔ کیونکہ اس میں اس نے کسی غیر سے مدد نہیں مانگی۔ اگر کوئی کہے کہ اُ سنے کاغذ گلے میں لٹکایا ہے تو یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ تعویذ لکھنے والا یا گلے میں ڈالنے والا کوئی موحد کاغذ میں نفع نقصان کی کوئی تاثیر نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس کاغذ میں لکھے ہوئے اللہ کے نام یا اس کے کلام کی برکت سے شفا کا عقیدہ رکھتا ہے۔ اللہ کا کلام دَم کی صورت میں انسانی آواز میں ادا ہو تب بھی اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہے اور غیر مخلوق ہے اور انسانی قلم و دوات سے کاغذ پر لکھا شرک قرار دیتے ہیں، ان کی بات بالکل بے دلیل ہے اور وہ غلو کاارتکاب کر رہے ہیں۔ البتہ یہ طریقہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھا اس لئے سلف صالحین میں اس کے جواز کے متعلق اختلاف ہے (دیکھئے المجید باب ماجاء فی الرقی والتمائم)

جواز کے قائلین اسے علاج کی ایک صورت قرار دیتے ہیں جس میں کوئی شرک نہیں اور شرک سے پاک دَم کی طرح اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ منع کرنے والے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید لکھواتے تھے، بعض اوقات احادیث بھی لکھواتے تھے۔ لوگوں کے علاج اور شفا کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعویذ لکھوا کر دور دراز بھیج سکتے تھے اور اس کی ضرورت بھی تھی۔ مگر ضرورت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ اس لئے جائز نہیں۔

ہمیں صرف دَم پر اکتفا کرنا چاہیے۔ اگر غور کیاجائے تو یہی بات درست معلوم ہوتی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دَم پر اکتفا کیا ہے تو ہمیں بھی اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ لیکن کوئی توحید والا شخص اگر قرآنی تعویذ اللہ کے اسماء و صفات پر مشتمل تعویذ لکھتا ہے۔ تو بے شک اس کا ہمارے ساتھ سوچ میں اختلاف ہے ، مگر اسے نہ مشرک کہہ سکتے ہیں ، نہ اس کے پیچھے نماز چھوڑی جا سکتی ہے۔ اختلاف سلف صالحین رحمة اللہ علیہم میں بھی ہوتا تھا مگر ان میں سے کسی نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں چھوڑی۔ ہم اپنے بھائیوں کو دلائل سے قائل کرنے کی پوری کوشش کریں گے ، مگر اجتہادی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں کا اتفاق پارہ پارہ ہو، اس کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

http://www.islamicmsg.org/index.php/app-key-masail-aur-un-ka-hal/kitab-ul-tib/156-2013-02-02-06-54-02#
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
ایسا دھاگہ باندھنا جس پر قرآنی آیات پڑھی ‎گئیں ہوں۔


کیا یہ جائز ہے کا ہم دھاگہ وغیرہ پر قرآن پڑھ کر بچے کی کلائی پر باندھیں تاکہ وہ نظر بد اور بیماریوں سے بچا رہے؟

یا اس کے بدلہ میں قرآنی آیات لکھ کر اسے کسی معدنیاتی تعویذ میں بند کرکے مسلمان کی کلائی کے گرد باندھنا جائز ہے تاکہ نظر بد اور مصائب سے بچا جاسکے؟

یہ دونوں کام ہمارے رہائشی محلہ میں لوگ کثرت سے کرتے ہیں۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ کام انکے محلہ کی مسجد کا امام سر انجام دے۔ اور میں اپنے بچے کے لئے یہ کام اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک کہ اسکا کوئی شرعی اور قابل قبول سبب نہ ہو۔ امید ہے کہ آپ حقیقت تک پہنچنے کے لئے میری مدد کریں گے۔

الحمدللہ :

یہ دھاگے اور پٹے وغیرہ باندھنے جائز نہیں ہیں۔







اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹنے کا حکم دیا جیسا کہ حدیث میں ہے عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا تھا تو اسے کہا کہ یہ کڑا کیسا ہے؟ تو اس نے کہا کہ یہ کمزوری کی وجہ سے ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اتار دے کیونکہ یہ تیری بیماری اور کمزوری میں اور اضافہ کرے گا۔

اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ .

الشیخ ولید الفریان۔

hتttp:ہہ//islamqa.info/ur/11788
ہم یہاں پر صرف یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ کیا قرآنی تعویذ پننے اور اس کے جواز کا فتوی دنیے والے کو مشرک کیسے کہہ سکتے ہیں آپ کے دلائل میں کوئی بھی ایسی بات نہین ہے کہ جس سے اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ قرآنی تعویذ شرک ہے ،تمیمہ کا معنی قرآنی تعویذ نہیں ہے، کیا اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس نے قرآن اپنے گلے میں لٹکایا اس نے شرک کیا؟
 
Top