• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قیامت کی نشانیاں :

شمولیت
ستمبر 08، 2015
پیغامات
45
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
53
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شیخ میں نے کچھ دن پہلے ایک ویب سائٹ میں قیامت کی نشانیوں کے متعلق ایک حدیث پڑھی جس کا حوالہ کچھ واضح نہیں تھا کہ دجال کے خروج سے قبل 3 سال بارشیں بکثرت ہوں گی لیکن 4 سال قحط سالی ہوگی اور دجال کا خروج بہت قریب ہوگا؟؟؟

کیا ایسی کوئی حدیث ہے اور اس حدیث کی سند کے متعلق ںھی رہنمائی فرمائیں۔۔۔۔
جزاک اللہ خیرا
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,461
پوائنٹ
791
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شیخ میں نے کچھ دن پہلے ایک ویب سائٹ میں قیامت کی نشانیوں کے متعلق ایک حدیث پڑھی جس کا حوالہ کچھ واضح نہیں تھا کہ دجال کے خروج سے قبل 3 سال بارشیں بکثرت ہوں گی لیکن 4 سال قحط سالی ہوگی اور دجال کا خروج بہت قریب ہوگا؟؟؟

کیا ایسی کوئی حدیث ہے اور اس حدیث کی سند کے متعلق ںھی رہنمائی فرمائیں۔۔۔۔
جزاک اللہ خیرا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے جن الفاظ سے حدیث پوچھی ہے ان الفاظ اور اس معنی سے تو مجھے کوئی روایت نہ مل سکی ،
تاہم دجال کی آمد کے تعلق سے درج ذیل تین روایات پیش ہیں ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی حدیث سنن ابن ماجہ کی ایک طویل حدیث (جو اسناد کے لحاظ سے ضعیف ہے ) اس کا ایک ٹکڑا ہے :

وإن قبل خروج الدجال ثلاث سنوات شداد،‏‏‏‏ يصيب الناس فيها جوع شديد،‏‏‏‏ يامر الله السماء في السنة الاولى ان تحبس ثلث مطرها،‏‏‏‏ ويامر الارض فتحبس ثلث نباتها،‏‏‏‏ ثم يامر السماء في الثانية فتحبس ثلثي مطرها،‏‏‏‏ ويامر الارض فتحبس ثلثي نباتها،‏‏‏‏ ثم يامر الله السماء في السنة الثالثة فتحبس مطرها كله،‏‏‏‏ فلا تقطر قطرة،‏‏‏‏ ويامر الارض فتحبس نباتها كله،‏‏‏‏ فلا تنبت خضراء،‏‏‏‏ فلا تبقى ذات ظلف إلا هلكت إلا ما شاء الله،‏‏‏‏ قيل:‏‏‏‏ فما يعيش الناس في ذلك الزمان؟ قال:‏‏‏‏ "التهليل والتكبير،‏‏‏‏ والتسبيح والتحميد،‏‏‏‏ ويجرى ذلك عليهم مجرى الطعام"،‏‏‏
ترجمہ :
دجال کے ظہور سے پہلے تین سال تک سخت قحط ہو گا، ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے، پہلے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو تہائی بارش روکنے اور زمین کو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، پھر دوسرے سال آسمان کو دو تہائی بارش روکنے اور زمین کو دو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، اور تیسرے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم دے گا کہ بارش بالکل روک لے پس ایک قطرہ بھی بارش نہ ہو گی، اور زمین کو یہ حکم دے گا کہ وہ اپنے سارے پودے روک لے تو وہ اپنی تمام پیداوار روک لے گی، نہ کوئی گھاس اگے گی، نہ کوئی سبزی، بالآخر کھر والے جانور (گائے بکری وغیرہ چوپائے) سب ہلاک ہو جائیں گے، کوئی باقی نہ بچے گا مگر جسے اللہ بچا لے“، عرض کیا گیا: پھر اس وقت لوگ کس طرح زندہ رہیں گے؟ آپ نے فرمایا: تہلیل ( «لا إله إلا الله») تکبیر ( «الله أكبر») تسبیح ( «سبحان الله») اور تحمید ( «الحمد لله») کا کہنا، ان کے لیے غذا کا کام دے گا۔
(سنن ابن ماجہ 4077)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے ،کیونکہ (سند میں اسماعیل بن رافع ضعیف راوی ہیں، اور عبد الرحمن محاربی مدلس، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، بعض ٹکڑے صحیح مسلم میں ہیں)
مشہور محقق علامہ زبیر علی زئیؒ لکھتے ہیں :
قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن رافع : ضعيف (تقدم:779) والمحاربي عنعن (تقدم:649) وحديث أبي سعيد أيضًا ضعيف فيه عطية العوفي وعبيدالله بن الوليد الوصافي : ضعيفان (عطية تقدم:576 وعبيدالله بن الوليد : ضعيف / ضعيف سنن الترمذي : 2460) والحديث في سنن أبي داود (4322) ولكنه مختصر جدًا وسنده حسن ۔"

ــــــــــــــــــــــــــ
اور دوسری حدیث مسند احمد میں مروی ہے :
دجال اور قحط سالی
حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن أسماء بنت يزيد الأنصارية، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فذكر الدجال فقال: " إن بين يديه ثلاث سنين، سنة تمسك السماء ثلث قطرها، والأرض ثلث نباتها، والثانية تمسك السماء ثلثي قطرها، والأرض ثلثي نباتها، والثالثة تمسك السماء قطرها كله، والأرض نباتها كله، فلا يبقى ذات ضرس، ولا ذات ظلف من البهائم، إلا هلكت وإن أشد (2) فتنة، يأتي الأعرابي فيقول: أرأيت إن أحييت لك إبلك ألست تعلم أني ربك قال: فيقول: بلى فتمثل الشياطين له نحو إبله كأحسن ما تكون ضروعها، وأعظمه أسنمة قال: ويأتي الرجل قد مات أخوه، ومات أبوه فيقول: أرأيت إن أحييت لك أباك، وأحييت لك أخاك ألست تعلم أني ربك فيقول: بلى فتمثل له الشياطين نحو أبيه، ونحو أخيه " قالت: ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة له ثم رجع قالت: والقوم في اهتمام وغم مما حدثهم به قالت: فأخذ بلحمتي الباب وقال: " مهيم أسماء؟ " قالت: قلت: يا رسول الله، لقد خلعت أفئدتنا بذكر الدجال قال: " وإن يخرج وأنا حي فأنا حجيجه، وإلا فإن ربي خليفتي على كل مؤمن " قالت أسماء: يا رسول الله، إنا والله لنعجن عجينتنا (3) فما نختبزها حتى نجوع، فكيف بالمؤمنين يومئذ؟ قال: " يجزيهم ما يجزي أهل السماء من التسبيح والتقديس ".
رواه أحمد27579 .(مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الفتن)
لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے ،بعض شواہد کی بنا پر اسے صحیح لغیرہ کہا جاسکتا ہے ؛
شیخ شعیب الارناؤط لکھتے ہیں :
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شَهْر بن حوشب، وبقية رجاله ثقات.
وهو عند عبد الرزاق في "مصنفه " (20821) ، وأخرجه من طريقه الطبراني في "الكبير" 24/ (404) ، والبغوي في "شرح السنة" (4263)

ترجمہ :
" حضرت اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ ( ایک دن ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا ۔ " دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے تین سال ایسے ہوں گے کہ ( ان میں برکت جاتی رہے گی اور لوگوں کے معاشی حالات میں ابتری پیدا کرنے والے مختلف حالات رونما ہوں گے چنانچہ ) پہلے سال تو آسمان تہائی بارش کو اور زمین تہائی پیداوار کو روک لے کی ( یعنی اور سالوں کے معمول کے خلاف اس سال بارش ایک تہائی کم ہوگی اسی طرح زمین کی پیداوار میں بھی ایک تہائی کمی ہو جائے گی اگرچہ بارش کے پانی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے زمین کی آبپاشی کی جائے گی ) پھر دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش کو اور زمین دو تہائی پیداوار کو روک لے گی اور پھر تیسرے سال آسمان تمام بارش کو اور زمین اپنی تمام پیداوار کو روک لے گی " یہاں تک کہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا تو تمام روئے زمین پر قحط پھیل چکا ہوگا صرف انسان سخت ترین معاشی وغذائی بحران میں مبتلا ہونگے بلکہ مویشوں اور چوپایوں میں بھی بھکری پھیل چکی ہوگی ) چنانچہ نہ تو کوئی گھر والا جانور باقی رہے گا اور نہ وحشی جانوروں میں سے کوئی دانت والا بلکہ سب ہلاک ہو جائیں گے اور اس کے برعکس اور وقت خزینے اور دفینے دجال کے تسلط میں ہوں گے اور غذائی ضروریات کی تکمیل اور آسائش وخوشحالی کے دوسرے ذرائع اس کے پاس ہوں گے، اس طرح لوگوں میں اپنی خدائی کا سکہ جمانے اور گمراہی کا سخت ترین فتنہ پھیلانے کے لئے وہ ان چیزوں کو استعمال کرے گا ) چنانچہ اس کا سخت ترین فتنہ یہ ہوگا کہ وہ علم ودانائی سے بے بہرہ ایک دیہاتی کے پاس آئے گا اور اس سے کہے گا کہ مجھے بتا ، اگر میں تیرے ان اونٹوں کو زندہ کر دوں (جو قحط کی وجہ سے مرگئے ہیں ) تو کیا تو یہ تسلیم کرے گا کہ میں تیرا پروردگار ہوں " دیہاتی جواب دے گا کہ ہاں میں تجھے اپنا پروردگار مان لوں گا ) تب دجال اس دیہاتی کے اونٹوں کی مانند شکل وصورت بنا کر لائے گا ( یعنی اپنے تابعدار جنات اور شیاطین کو حکم دے گا کہ وہ اونٹوں کی شکل وصورت میں اس دیہاتی کے سامنے آجائیں ، چنانچہ شیاطین اونٹ بن کر سامنے آ جائیں گے ) اور وہ اونٹ تھنوں کی درازی اور کوہانوں کی بلندی کے اعتبار سے اس کے اونٹوں سے بہتر معلوم ہوں گے " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ " ( دجال کا اسی طرح کا ایک سخت ترین فتنہ یہ ہوگا کہ ) پھر وہ ایک شخص کے پاس آئے کا جس کا باپ اور بھائی مر گئے ہوں گے ۔ اور اس سے کہے گا کہ مجھے بتا ، اگر میں تیرے ( مرے ہوئے ) بھائی اور باپ کو زند کر دوں تو کیا تو تسلیم کرے گا کہ میں تیرا پروردگار ہوں ؟ وہ شخص جواب دے گا کہ ہاں ! ( میں تجھے اپنا پرودگار مان لوں گا ) تب دجال ( شیاطین کو ) اس شخص کے بھائی اور باپ کی شکل وصورت میں پیش کر دے گا ۔ " حضرت اسماء کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما کر کسی ضرورت سے باہر تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد مجلس میں تشریف لے آئے اس وقت حاضرین مجلس ( دجال کے یہ حالات سن کر ) فکر وغم کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت اسماء کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ( دجال کا ذکر کر کے ) ہمارے دل نکال لئے ہیں ( یعنی اس کا یہ حال سن کر ہمارے دل سخت مرعوب زدہ ہوگئے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ( دجال نکلے اور فرض کرو ) میں زندہ رہوں تو دلائل وحجت سے اس کو رفع کردوں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں دنیا میں موجود نہ ہونگا تو یقینا میرا پروردگار ہر مؤمن کے لئے مرا وکیل وخلیفہ ہوگا ( یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان کا حامی ومددگار ہوگا اور اس کے فتنہ وفساد سے محفوظ رکھے گا ) " پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، بھوک کے وقت انسان کی بے صبری کا عالم تو یہ ہوتا ہے کہ ہم آٹا گوندھتے ہیں اور اس کی روٹی پکا کر فارغ بھی نہیں ہوتے ہیں کہ بھوک سے ہم بے چین ہو جاتے ہیں ، تو ( ایسی صورت میں اس وقت جب کہ قحط سالی پھیلی ہوئی ہوگی ، غذائی اشیاء دجال کے تسلط میں ہوں گی اور کھانے پنیے کی چیزیں صرف وہی شخص پا سکے گا جو دجال کی ابتاع کرے گا ) آخر مؤمنین کا کیا حال ہوگا ( یعنی وہ اپنی بھوک پر کسی طرح قابو پائیں گے اور انہیں صبرو اقرار کس طرح ملے گا ؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ " ان کے لئے وہی چیز کافی ہوگی جو آسمان والوں یعنی فرشتوں کو کافی ہوتی ہے یعنی حق تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس ۔ "
ــــــــــــــــــــــــــ
3 اور تیسری حدیث جسے
امام أبو العباس شهاب الدين أحمد البوصيري الكناني الشافعي (المتوفى: 840هـ)
نے نقل کیا ہے کہ :
عن عوف بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يكون أمام الدجال سنون خوادع، يكثر فيها المطر، ويقل فيها النبت، ويكذب فيها الصادق، ويصدق فيها الكاذب أو يؤتمن فيها الخائن، ويخون فيها الأمين، وينطق فيها الرويبضة. قيل: يا رسول الله، وما الرويبضة؟ قال: من لا يؤبه له".
وقال البزار: الامرؤالتافه يتكلم في أمر العامة.
رواه أبو يعلى الموصلي 3715 والبزار 7/145 (2740) بسند واحد رواته ثقات،

(إتحاف الخيرة المهرة ،للبوصیری المجلد10/ 286) طبع مکتبہ الرشد الریاض
https://archive.org/stream/waq37755/10_37764#page/n286/mode/2up
ترجمہ :
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی آمد سے پہلے کچھ سال مکر و فریب والے آئیں گے، ان سالوں میں بارشیں تو کثرت سے ہونگی لیکن پیداوار کم ہی ہوگی ،ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» یعنی گھٹیا ،ناکارہ قسم کا آدمی (بھی اہم امور کے متعلق )بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس روایت کیلئے امام بوصیریؒ نے "مسند ابی یعلی اور مسند البزار کا حوالہ دیا ہے ،لیکن جن الفاظ سے یہ روایت نقل فرمائی ہے وہ متن المعجم الکبیر للطبرانیؒ (125 ) مسند الشامیین (48 ) کا ہے ،جسے امام ابن حجر عسقلانیؒ نے "المطالب العالیہ " نے بھی میں ذکر کیا ہے ۔
اورسعودی عرب کے مشہور عالم حمود بن عبداللہ التویجریؒ نے اپنی کتاب " إتحاف الجماعة بما جاء في الفتن " جلد 2 ص36 میں نقل کیا ہے ، اور ساتھ ہی اس کے متعلق لکھا ہے کہ : رواه الطبراني بأسانيد. قال الهيثمي: "وفي أحسنها ابن إسحاق، وهو مدلس، وبقية رجاله ثقات "

http://shamela.ws/browse.php/book-8573/page-441
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:
شمولیت
ستمبر 08، 2015
پیغامات
45
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
53
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے جن الفاظ سے حدیث پوچھی ہے ان الفاظ اور اس معنی سے تو مجھے کوئی روایت نہ مل سکی ،
تاہم دجال کی آمد کے تعلق سے درج ذیل تین روایات پیش ہیں ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی حدیث سنن ابن ماجہ کی ایک طویل حدیث (جو اسناد کے لحاظ سے ضعیف ہے ) اس کا ایک ٹکڑا ہے :

وإن قبل خروج الدجال ثلاث سنوات شداد،‏‏‏‏ يصيب الناس فيها جوع شديد،‏‏‏‏ يامر الله السماء في السنة الاولى ان تحبس ثلث مطرها،‏‏‏‏ ويامر الارض فتحبس ثلث نباتها،‏‏‏‏ ثم يامر السماء في الثانية فتحبس ثلثي مطرها،‏‏‏‏ ويامر الارض فتحبس ثلثي نباتها،‏‏‏‏ ثم يامر الله السماء في السنة الثالثة فتحبس مطرها كله،‏‏‏‏ فلا تقطر قطرة،‏‏‏‏ ويامر الارض فتحبس نباتها كله،‏‏‏‏ فلا تنبت خضراء،‏‏‏‏ فلا تبقى ذات ظلف إلا هلكت إلا ما شاء الله،‏‏‏‏ قيل:‏‏‏‏ فما يعيش الناس في ذلك الزمان؟ قال:‏‏‏‏ "التهليل والتكبير،‏‏‏‏ والتسبيح والتحميد،‏‏‏‏ ويجرى ذلك عليهم مجرى الطعام"،‏‏‏
ترجمہ :
دجال کے ظہور سے پہلے تین سال تک سخت قحط ہو گا، ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے، پہلے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو تہائی بارش روکنے اور زمین کو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، پھر دوسرے سال آسمان کو دو تہائی بارش روکنے اور زمین کو دو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، اور تیسرے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم دے گا کہ بارش بالکل روک لے پس ایک قطرہ بھی بارش نہ ہو گی، اور زمین کو یہ حکم دے گا کہ وہ اپنے سارے پودے روک لے تو وہ اپنی تمام پیداوار روک لے گی، نہ کوئی گھاس اگے گی، نہ کوئی سبزی، بالآخر کھر والے جانور (گائے بکری وغیرہ چوپائے) سب ہلاک ہو جائیں گے، کوئی باقی نہ بچے گا مگر جسے اللہ بچا لے“، عرض کیا گیا: پھر اس وقت لوگ کس طرح زندہ رہیں گے؟ آپ نے فرمایا: تہلیل ( «لا إله إلا الله») تکبیر ( «الله أكبر») تسبیح ( «سبحان الله») اور تحمید ( «الحمد لله») کا کہنا، ان کے لیے غذا کا کام دے گا۔
(سنن ابن ماجہ 4077)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے ،کیونکہ (سند میں اسماعیل بن رافع ضعیف راوی ہیں، اور عبد الرحمن محاربی مدلس، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، بعض ٹکڑے صحیح مسلم میں ہیں)
مشہور محقق علامہ زبیر علی زئیؒ لکھتے ہیں :
قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن رافع : ضعيف (تقدم:779) والمحاربي عنعن (تقدم:649) وحديث أبي سعيد أيضًا ضعيف فيه عطية العوفي وعبيدالله بن الوليد الوصافي : ضعيفان (عطية تقدم:576 وعبيدالله بن الوليد : ضعيف / ضعيف سنن الترمذي : 2460) والحديث في سنن أبي داود (4322) ولكنه مختصر جدًا وسنده حسن ۔"

ــــــــــــــــــــــــــ
اور دوسری حدیث مسند احمد میں مروی ہے :
دجال اور قحط سالی
حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن أسماء بنت يزيد الأنصارية، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فذكر الدجال فقال: " إن بين يديه ثلاث سنين، سنة تمسك السماء ثلث قطرها، والأرض ثلث نباتها، والثانية تمسك السماء ثلثي قطرها، والأرض ثلثي نباتها، والثالثة تمسك السماء قطرها كله، والأرض نباتها كله، فلا يبقى ذات ضرس، ولا ذات ظلف من البهائم، إلا هلكت وإن أشد (2) فتنة، يأتي الأعرابي فيقول: أرأيت إن أحييت لك إبلك ألست تعلم أني ربك قال: فيقول: بلى فتمثل الشياطين له نحو إبله كأحسن ما تكون ضروعها، وأعظمه أسنمة قال: ويأتي الرجل قد مات أخوه، ومات أبوه فيقول: أرأيت إن أحييت لك أباك، وأحييت لك أخاك ألست تعلم أني ربك فيقول: بلى فتمثل له الشياطين نحو أبيه، ونحو أخيه " قالت: ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة له ثم رجع قالت: والقوم في اهتمام وغم مما حدثهم به قالت: فأخذ بلحمتي الباب وقال: " مهيم أسماء؟ " قالت: قلت: يا رسول الله، لقد خلعت أفئدتنا بذكر الدجال قال: " وإن يخرج وأنا حي فأنا حجيجه، وإلا فإن ربي خليفتي على كل مؤمن " قالت أسماء: يا رسول الله، إنا والله لنعجن عجينتنا (3) فما نختبزها حتى نجوع، فكيف بالمؤمنين يومئذ؟ قال: " يجزيهم ما يجزي أهل السماء من التسبيح والتقديس ".
رواه أحمد27579 .(مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الفتن)
لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے ،بعض شواہد کی بنا پر اسے صحیح لغیرہ کہا جاسکتا ہے ؛
شیخ شعیب الارناؤط لکھتے ہیں :
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شَهْر بن حوشب، وبقية رجاله ثقات.
وهو عند عبد الرزاق في "مصنفه " (20821) ، وأخرجه من طريقه الطبراني في "الكبير" 24/ (404) ، والبغوي في "شرح السنة" (4263)

ترجمہ :
" حضرت اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ ( ایک دن ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا ۔ " دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے تین سال ایسے ہوں گے کہ ( ان میں برکت جاتی رہے گی اور لوگوں کے معاشی حالات میں ابتری پیدا کرنے والے مختلف حالات رونما ہوں گے چنانچہ ) پہلے سال تو آسمان تہائی بارش کو اور زمین تہائی پیداوار کو روک لے کی ( یعنی اور سالوں کے معمول کے خلاف اس سال بارش ایک تہائی کم ہوگی اسی طرح زمین کی پیداوار میں بھی ایک تہائی کمی ہو جائے گی اگرچہ بارش کے پانی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے زمین کی آبپاشی کی جائے گی ) پھر دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش کو اور زمین دو تہائی پیداوار کو روک لے گی اور پھر تیسرے سال آسمان تمام بارش کو اور زمین اپنی تمام پیداوار کو روک لے گی " یہاں تک کہ جس وقت دجال ظاہر ہوگا تو تمام روئے زمین پر قحط پھیل چکا ہوگا صرف انسان سخت ترین معاشی وغذائی بحران میں مبتلا ہونگے بلکہ مویشوں اور چوپایوں میں بھی بھکری پھیل چکی ہوگی ) چنانچہ نہ تو کوئی گھر والا جانور باقی رہے گا اور نہ وحشی جانوروں میں سے کوئی دانت والا بلکہ سب ہلاک ہو جائیں گے اور اس کے برعکس اور وقت خزینے اور دفینے دجال کے تسلط میں ہوں گے اور غذائی ضروریات کی تکمیل اور آسائش وخوشحالی کے دوسرے ذرائع اس کے پاس ہوں گے، اس طرح لوگوں میں اپنی خدائی کا سکہ جمانے اور گمراہی کا سخت ترین فتنہ پھیلانے کے لئے وہ ان چیزوں کو استعمال کرے گا ) چنانچہ اس کا سخت ترین فتنہ یہ ہوگا کہ وہ علم ودانائی سے بے بہرہ ایک دیہاتی کے پاس آئے گا اور اس سے کہے گا کہ مجھے بتا ، اگر میں تیرے ان اونٹوں کو زندہ کر دوں (جو قحط کی وجہ سے مرگئے ہیں ) تو کیا تو یہ تسلیم کرے گا کہ میں تیرا پروردگار ہوں " دیہاتی جواب دے گا کہ ہاں میں تجھے اپنا پروردگار مان لوں گا ) تب دجال اس دیہاتی کے اونٹوں کی مانند شکل وصورت بنا کر لائے گا ( یعنی اپنے تابعدار جنات اور شیاطین کو حکم دے گا کہ وہ اونٹوں کی شکل وصورت میں اس دیہاتی کے سامنے آجائیں ، چنانچہ شیاطین اونٹ بن کر سامنے آ جائیں گے ) اور وہ اونٹ تھنوں کی درازی اور کوہانوں کی بلندی کے اعتبار سے اس کے اونٹوں سے بہتر معلوم ہوں گے " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ " ( دجال کا اسی طرح کا ایک سخت ترین فتنہ یہ ہوگا کہ ) پھر وہ ایک شخص کے پاس آئے کا جس کا باپ اور بھائی مر گئے ہوں گے ۔ اور اس سے کہے گا کہ مجھے بتا ، اگر میں تیرے ( مرے ہوئے ) بھائی اور باپ کو زند کر دوں تو کیا تو تسلیم کرے گا کہ میں تیرا پروردگار ہوں ؟ وہ شخص جواب دے گا کہ ہاں ! ( میں تجھے اپنا پرودگار مان لوں گا ) تب دجال ( شیاطین کو ) اس شخص کے بھائی اور باپ کی شکل وصورت میں پیش کر دے گا ۔ " حضرت اسماء کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما کر کسی ضرورت سے باہر تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد مجلس میں تشریف لے آئے اس وقت حاضرین مجلس ( دجال کے یہ حالات سن کر ) فکر وغم کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت اسماء کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ( دجال کا ذکر کر کے ) ہمارے دل نکال لئے ہیں ( یعنی اس کا یہ حال سن کر ہمارے دل سخت مرعوب زدہ ہوگئے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ( دجال نکلے اور فرض کرو ) میں زندہ رہوں تو دلائل وحجت سے اس کو رفع کردوں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں دنیا میں موجود نہ ہونگا تو یقینا میرا پروردگار ہر مؤمن کے لئے مرا وکیل وخلیفہ ہوگا ( یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان کا حامی ومددگار ہوگا اور اس کے فتنہ وفساد سے محفوظ رکھے گا ) " پھر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، بھوک کے وقت انسان کی بے صبری کا عالم تو یہ ہوتا ہے کہ ہم آٹا گوندھتے ہیں اور اس کی روٹی پکا کر فارغ بھی نہیں ہوتے ہیں کہ بھوک سے ہم بے چین ہو جاتے ہیں ، تو ( ایسی صورت میں اس وقت جب کہ قحط سالی پھیلی ہوئی ہوگی ، غذائی اشیاء دجال کے تسلط میں ہوں گی اور کھانے پنیے کی چیزیں صرف وہی شخص پا سکے گا جو دجال کی ابتاع کرے گا ) آخر مؤمنین کا کیا حال ہوگا ( یعنی وہ اپنی بھوک پر کسی طرح قابو پائیں گے اور انہیں صبرو اقرار کس طرح ملے گا ؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ " ان کے لئے وہی چیز کافی ہوگی جو آسمان والوں یعنی فرشتوں کو کافی ہوتی ہے یعنی حق تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس ۔ "
ــــــــــــــــــــــــــ
3 اور تیسری حدیث جسے
امام أبو العباس شهاب الدين أحمد البوصيري الكناني الشافعي (المتوفى: 840هـ)
نے نقل کیا ہے کہ :
عن عوف بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يكون أمام الدجال سنون خوادع، يكثر فيها المطر، ويقل فيها النبت، ويكذب فيها الصادق، ويصدق فيها الكاذب أو يؤتمن فيها الخائن، ويخون فيها الأمين، وينطق فيها الرويبضة. قيل: يا رسول الله، وما الرويبضة؟ قال: من لا يؤبه له".
وقال البزار: الامرؤالتافه يتكلم في أمر العامة.
رواه أبو يعلى الموصلي 3715 والبزار 7/145 (2740) بسند واحد رواته ثقات،

(إتحاف الخيرة المهرة ،للبوصیری المجلد10/ 286) طبع مکتبہ الرشد الریاض
https://archive.org/stream/waq37755/10_37764#page/n286/mode/2up
ترجمہ :
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی آمد سے پہلے کچھ سال مکر و فریب والے آئیں گے، ان سالوں میں بارشیں تو کثرت سے ہونگی لیکن پیداوار کم ہی ہوگی ،ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» یعنی گھٹیا ،ناکارہ قسم کا آدمی (بھی اہم امور کے متعلق )بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس روایت کیلئے امام بوصیریؒ نے "مسند ابی یعلی اور مسند البزار کا حوالہ دیا ہے ،لیکن جن الفاظ سے یہ روایت نقل فرمائی ہے وہ متن المعجم الکبیر للطبرانیؒ (125 ) مسند الشامیین (48 ) کا ہے ،جسے امام ابن حجر عسقلانیؒ نے "المطالب العالیہ " نے بھی میں ذکر کیا ہے ۔
اورسعودی عرب کے مشہور عالم حمود بن عبداللہ التویجریؒ نے اپنی کتاب " إتحاف الجماعة بما جاء في الفتن " جلد 2 ص36 میں نقل کیا ہے ، اور ساتھ ہی اس کے متعلق لکھا ہے کہ : رواه الطبراني بأسانيد. قال الهيثمي: "وفي أحسنها ابن إسحاق، وهو مدلس، وبقية رجاله ثقات "

http://shamela.ws/browse.php/book-8573/page-441
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جزاك الله خيرا
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
120
پوائنٹ
90
آج کل سے زیادہ تو مغلیہ دور میں یہ سب کچھ ہوتا تھا۔
 
Top