ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
اے دوست ذرا اور قریب رگ جاں ہو
کیا جانے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو
میں ایک زمانے سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں
تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو
میں اس کو ترے نام سے منسوب کرونگا
وہ پھول جسے قربت شبنم بھی گراں ہو
شاید یہ میری آنکھ سے گرتا ہوا آنسو
احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو
کیا جانے کہاں تک شب ہجراں کا دھواں ہو
میں ایک زمانے سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں
تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو
میں اس کو ترے نام سے منسوب کرونگا
وہ پھول جسے قربت شبنم بھی گراں ہو
شاید یہ میری آنکھ سے گرتا ہوا آنسو
احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو