• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

متفرق اشعار

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
میری پلکوں کا نیند سے کوئی تعلق نہیں رہا دوست
میرا کون ہے اس سوچ میں میری رات گزر جاتی ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
ہر مسکرانے والے کو خوش نصیب نہ سمجھا کرو دوست
کچھ لوگ مسکراتے ہیں‌غم چھپانے کے لیے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے عالم میں کبھی رو بھی لیا کر
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
ممکن جو اگر ہوتا
ہم تم کو بھلا دیتے
یادوں کو کفن دے کے
بے وقت سلا دیتے
کٹ گرتی زباں اپنی تم کو جو صدا دیتے
اس دل سے ترے دل تک دیوار اٹھا دیتے
ترے ساتھ جو گزری تھیں شامیں وہ بھلا دیتے
اور ممکن جو اگر ہوتا ہم تم کو بھلا دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر اب ایسا بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ یہ بات سچ ہے کہ تم اب
میرے پاس تو نہیں رہے مگر دل میں بستے ہو کسی حسین ادھوری حسرت کی مانند۔۔۔۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
ڈھونڈا کرو گے اک روز ہماری پاگل سی دوستی کو
سو جائیں گے جب کسی روز ہم زمین اوڑھ کر
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اک جرم ہوا ہم سے
اک یار بنا بیٹھےہیں
کچھ اپنا سا اس کو سمجھ کر
سب راز بتا بیٹھے ہیں
وہ یاد بہت آتے ہیں
جو ہم کو بھلا بیٹھے ہیں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
وہ یاروں کی محفل وہ مسکراتے ہوئے پل
دل سے جدا نہیں اپنا بیتا ہوا کل
کبھی گزرتی تھی زندگی خوشیاں پانے میں
اب وقت گزر جاتا ہےکاغذ کے ٹکڑے کمانے میں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
حقیقت خرافات میں كھو گئی
یہ امت روایات میں كھو گئی
لبھاتا ہے دل كو كلامِ خطیب
مگر لذتِ شوق سے بے نصیب
بیاں اس كا منطق سے سلجھا ہوا
لغت كے بكھیڑوں میں الجھا ہوا
وہ صوفی كہ تھا خدمتِ حق میں مرد
محبت میں یكتا حمیت میں فرد
عجم كے خیالات میں كھو گیا
یہ سالك مقامات میں كھو گیا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
لگتی ہے چوٹ دل پر آتا یاد جس دم
شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا
وہ پیاری پیاری صورت وہ کامنی سی مورت
آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانہ
 
Top