ہوا کا رخ کہیں تھا، سفر کہیں اور کا تھا
سوکھ گیا جیسے، شجر کہیں اور کا تھا
منزل سے بھٹک گیا، راستہ نہ مل سکا
نشان تو ساتھ تھا، مگر کہیں اور کا تھا
کیا طلسم ان، حسین نظاروں کا دیکھا
آنکھ کھلی جب، سحر کہیں اور کا تھا
غلط فہمی تھی، مستی کا عالم تھا
موج کا زندگی پر، اثر کہیں اور کا تھا
ملتےہی لگا کہ، طلاطم برپا ہوجائےگا
سکوت طاری رہا، بحر کہیں اور کا تھا
ساتھ تھا وہ میرے، ارمان تھا جب تک
آنکھ کھلی جب، دلبر کہیں اور کا تھا