• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

متفرق اشعار

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
وفا کیا ہے اور کون کسی سے کرتا ہے
بھول جایا کرتے ہیں لوگ مطلب نکال کے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
یہ بولتے ہوئے لمحے یہ ڈولتی ہُوئی شام
ترے جمال كے صدقے، ترے وصال كے نام
خُدا كرے سَدا كِھلتے رہیں، چلیں یوں ہی
ترے لبوں كے ستارے، تری نظر كے جام
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اِك نام كی اُڑتی خُوشبو میں اِك خواب سفر میں رہتا ہے
اِك بستی آنكھیں ملتی ہے، اِك شہر نظر میں رہتا ہے
كیا اہلِ ہُنر، كیا اہلِ شَرف، سب ٹكڑے، ردّی كاغذ كے
اِس دَور میں ہے وہ شخص بڑا جو روز خبر میں رہا ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
عجیب لوگ ہیں یہ اہلِ انتظار كہ جو
خُود اپنی آگ میں جل كر سنورتے جاتے ہیں
نجانے كون سی بستی كے ہیں یہ باشندے
نظر اُٹھاتے نہیں اور گزرتے جاتے ہیں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
تجھے كیا خبر ہے كہ رات بھر، تجھے دیكھ پانے كو اِك نظر
رہا ساتھ چاند كے منتظر، تری كھڑكیوں سے اُدھر كوئی
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
كبھی یوں بھی ہو ترے رُو برو، میں نظر مِلا كے یہ كہہ سكوں
''مری حسرتوں كو شمار كر، مری خواہشوں كا حساب دے ''
تری اِك نگاہ كے فیض سے، مری كشتِ حرف چمك اُٹھے
مِرا لفظ لفظ ہو كہكشاں، مجھے ایك ایسی كتاب دے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
مُجھے رات اپنی نگاہ پہ بھی یقین نہ تھا
كوئی معجزوں سا كمال تھا مِرے سامنے
سرِ بزم جب كِسی آئنے پہ نظر پڑی
وہی ایك عكسِ جمال تھا مِرے سامنے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
كِس رات كی آنكھوں میں پیمانِ سحر ہو گا
یہ خواب جو كونپل ہے، كِس رُت میں شجر ہو گا
جب رات كے پردے سے پھر رات نِكل آئے
اُس وقت كِدھر جائے، جو اہلِ نظر ہو گا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
ہزاروں شہر ہیں ہمراہ اس كے
مسافر دشت میں تنہا نہیں ہے
یہ كیسے خواب سے جاگی ہیں آنكھیں
كسی منظر پہ دل جمتا نہیں ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
ایك نظر دیكھا تھا اُس نے، آگے یاد نہیں
كُھل جاتی ہے دریا كی اوقات سمندر میں
 
Top