• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

متفرق اشعار

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
كہنے كو میرا اُس سے كوئی واسطہ نہیں
امجد مگر وہ شخص مجھے بُھولتا نہیں
ڈرتا ہُوں آنكھ كھولوں تو منظر بدل نہ جائے
مَیں جاگ تو رہا ہُوں مگر جاگتا نہیں
صاحبِ نظر سے كرتا ہے پتّھر بھی گُفتگو
ناجنس كے حضور زباں كھولتا نہیں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
جو دوست ہی نہ رہا، اُس سے اب گِلہ كیا ہے
مِرے خُدا یہ محبت كا سِلسلہ كیا ہے
چلو تو سیل كی صُورت نظر جُھكا كے چلو
بلند و پست جو دیكھے وہ حوصلہ كیا ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اذیتوں کے تمام نشتر
میری رگوں میں اُتار کر وہ
بڑی محبت سے پوچھتی ہے
تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
نا ملا دل کا قدر دا ن اس زمانے میں
یہ شیشہ ٹوٹ گیا دیکھنے اور دکھانے میں
جی میں آ تا ہے اک روز شمع سے پوچھوں
مزہ کس میں ہے جلنے میں یا جلانے میں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
تمھيں چاہا تھا اس دل نے اور چاہتا ھے يہ آج بھی
چھپايا تھا يہ راز پہلے بھی اور چھپا ہوا ھے يہ آج بھی
کچھ مجبوريوں کے واسطے تمھيں بے خبر رکھا
اور مجبوريوں کی ذنجير سے بندھے ھے آج بھی
چاھا تو نہيں تھا کہ تم بن ذندگی گزرے
پر تمھارے مسکراتے چہرے نے قدم روکے ميرے آج بھی
يہ سچ سہی کہ بنے تھے تم جينے کی وجہ
مگر ديکھو قسمت کا فيصلہ نکلا الگ آج بھی
بھوليں گۓ شائد تمھيں دھيرے دھيرے صديوں ميں ھم
مگر سچ پوچھو تو لگتی ھے تمھاری ضرورت اس ذندگی کو آج بھی
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اب ہے خوشی خوشی میں نہ غم ہے ملال میں
دُنیا سے کھو گیا ہوں تمہارے خیال میں
مُجھ کو نہ اپنا ہوش، نہ دُنیا کا ہوش ہے
بیٹھا ہوں مست ہو کے تُمہارے خیال میں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے
اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھر جاتی ہے
جیسے پانا ہی اسے، اصل میں مر جانا ہے
بول اے شامِ سفر، رنگِ رہائی کیا ہے؟
دل کو رکنا ہے کہ تاروں کو ٹھہر جانا ہے
کون اُبھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ روکے
اس کو ہر طور سوئے دشتِ سحر جانا ہے
میں کِھلا ہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے، اسے اگلے نگر جانا ہے
وہ ترے حُسن کا جادو ہو کہ میرا غمِ دل
ہر مسافر کو کسی گھاٹ اُتر جانا ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
موجوں سے یہ کہتا ہے سمندر کا سکوت
ساحل پہ جو رک جائے وہ طوفان نہیں ہوتا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
کتابِ ماضی کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرا
نہ جانے کون سا صفحہ مڑآ ہوا نکلے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اپنی تو وہ مثال ھے جیسے کوئی درخت
دنیا کو چھاؤں بخش کر خود دھوپ میں جلے
 
Top