اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
سبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری تو
دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے
اب اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا
یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے
نفس نفس پہ پڑے آبلوں سے لگتا ہے
نجانے روح میں کب سے ابال درد کا ہے