• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

متفرق اشعار

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی راز داں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اپنا سو وہ مہرباں نہیں ہے
مصطفٰی زیدی
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
غالب ::
کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِ نیمِ کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بےوفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی
یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا
احمد ندیم قاسمی
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا
اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا
میر تقی میر
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
اقبال
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں
نا صبوری ہے زندگی دل کی
آہ وہ دل کہ نا صبور نہیں
اقبال
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
شرینئیِ لب،خشبوِ دہن،اب شوق کا عنواں‌کوئی نہیں

شادابئیِ دل،تفریحِ نظر، اب زیست کا درماں کوئی نہیں۔۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہے
مری بجلی، مرا حاصل کہاں ہے
مقام اس کا ہے دل کی خلوتوں میں
خد ا جانے مقامِ دل کہاں ہے

اقبال
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604

دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھی
روح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا زنگ

انہی کے صدقے یا رب میری مشکل کر آسان
میرے جیسے اور بھی ہیں جو دل کے ہاتھوں تنگ

سب کچھ دے کر ہنس دی اور پھر کہنے لگی تقدیر
کبھی نہ ہوگی پوری تیرے دل کی ایک امنگ
شبنم شکیل
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
ناکامِ تمنا دل اس سوچ میں ریتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا
چراغ حسن حسرت
 
Top