• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محترم حافظ زبیر صاحب کی ایک فکر

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
نہیں خضر حیات بھایی ایسا نہیں ہے اگر تو یہ تحریر مجھ جیسے محدود دایرے میں کام کرنے والے کی ہوتی جسے صرف چند افراد جانتے ہیں تو میں آپ کی بات مان لیتا لیکن بقول آپ کے ان کی جہود مبذولہ فی نشر العقیدہ الصحیحہ و کذلک فی مجال الردود ای الردود علی الافکار الباطلہ فی صورۃ المطبوعات کا ذکر کر چکے ہیں اور ایک بڑ حلقہ تک ان کا تعارف ہے لہذا ان کی رایے کے بارے میں یہ کہنا کہ اس سے مسلک کو کویی نقصان نہیں یہ آپ کا حسن ظن کا بھی حسن ظن ہے
آج جب ہم مختلف موضوعات پر متقدمین کی ایک ہی موضوع پر اختلافات سے بھرپور آرا پڑھتے ہیں جس میں کچھ درست ہوتی ہیں اور کچھ غلط اور اغیار انہی غلط آرا کو بنیاد بنا کر اسلام پر حملے شروع کر دیتے ہیں اور آپ کلیۃ الحدیث کے طالب علم ہیں آپ سے بڑھ کر اس بات کو کون جانتا ہو گا کہ علم جرح و تعدیل میں بسا اوقات کسی ثقہ راوی کے لیے کسی کبیر کی جرح کو رد کرنا مشکل ہو جاتا ہے یا بالعکس
تو آنے والے کل میں یہی تحریریں مسلک حقہ کے خلاف استعمال کی جاییں گی
سابقہ ادوار کے اختلافات کی ایک بہت بڑی تعداد ضبط نہیں کی جا سکی لیکن اب تو ایک ایک لفظ ضبط الکتابہ سے محفوظ ہو رہا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک سکہ بند اہل حدیث کی رایے مسلک اہل حدیث کے خلاف کیا مبتدعین و فساق استعمال نہیں کریں گے ؟
شیخ آپ کی سوچ بہترین ہے ۔ لیکن میں اس معاملے کو اس نظر سے نہیں دیکھتا ۔
جس فکر پر ہزاروں صفحات بیسیوں علماء لکھ چکے ہیں . اس پر کسی ایک لکھاری کی ایک سطری تحریر کچھ نہیں بگاڑ سکتی ... إن شاءاللہ ۔
اگر منہج و مسلک اہل حدیث کی روح کو سمجھ لیا جائے ، تو ایسی چیزیں اپنی حیثیت سے زیادہ خطر ناک نظر نہیں آتیں ، کسی ایک عالم دین کی تحریر سے وہی غلط فہمی میں مبتلا ہوں گے ، جو مسلک کا انحصار کسی ایک پر سمجھتے ہیں ، جو دیگر علماء کو پڑھتے ہیں ، وہ حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں ۔
اہل بدعت استعمال کرکے دیکھ لیں ، جس طرح ہم پہلے بہت سی باتوں کا اصولی جواب دے لیتے ہیں ، اس کا بھی دے سکتے ہیں ۔
 
شمولیت
نومبر 27، 2014
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
60
پوائنٹ
49
اس خود ساختہ تقسیم کی بنیاد؟
محترم شیخ ۔ مضمون میں سب کچھ موجود ہے ۔
آپ کچھ جملوں کا اثر لے کر ایک ہی طرف میں سوچ رہے ہیں۔ ورنہ آپ خود پہلی قسم سے ہیں ۔اور آپ نے اختلاف کے باوجود خود عملاََ اس کا اظہار کیا ہے ۔دوسری قسم کے حضرات کے بارے میں۔
یہ سب تو انتہایی غیر مناسب اور غیر معقول اور غیر شرعی رویے ہیں
دوسری قسم کی مثال میں کچھ اس سے ملتی جلتی بات ہی موجود ہے ۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,219
پوائنٹ
402
میں تنظیم اسلامی سے بخوبی واقف ہوں کہ ڈاکٹر اسرار رحمہ اللہ سے میری ذاتی ملاقاتیں ہیں اور مزید اس حلقے میں بہت سے ساتھیوں کو جانتا ہوں مشاہدات بھی اور تجربات بھی ہیں اس لیے یہ ایک حنفی الفکر تنظیم ہے تمام تر قرآن فہمی کے باوجود کتاب و سنت کے حقیقی منھج سے انحراف ہے
باقی رہی مفتی تقی عثمانی حفطہ اللہ کی بات تو شاید آپ نے صرف سنا ہوا ہے میری ان سے ملاقات بھی ہے اور ایک ملاقات میں ان کے صاحبزادے بھی تھے وہ الگ قصہ ہے پھر سہی لیکن سر دست اس تقسیم کی بنیاد اس مضمون میں موجود نہیں ہے
میں وسعت قلبی اور وسعت ظرفی دونوں کا قولی و عملی قایل ہوں لیکن اس صورت میں قطعی نہیں
اپنی اصل نہیں ترک کرنی
اپنی اصل کے تعارف کو تبدیل نہیں کرنا
اپنی اصل کے ساتھ قولی و عملی ربط رکھنا
میرے اس تبصرے سے یہ نہ سمجھا جایے کہ میں حافظ زبیر صاحب کا احترام نہیں کرتا
ایسا نہیں میرے حلقہ احباب میں ہندو ، قادیانی ، یہودی، شیعہ وغیرہ بھی ہیں اور ان سے ملاقات کے اصول و ضوابط ہیں لیکن وہ سب جانتے ہیں کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں اور میں حافظ زبیر صاحب کے بارے میں یہی حسن ظن رکھتا ہوں الحمدللہ
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,219
پوائنٹ
402
دوسری قسم کی مثال میں کچھ اس سے ملتی جلتی بات ہی موجود ہے ۔
ابن عثمان بھایی افراد میں عیب کو مسلک کے ساتھ نہ جوڑیں
میں مانتا ہوں کہ ایسا ہے لیکن مسلک وہی ہے جو قرون اولی میں تھا وہی آج بھی ہے جس رویہ کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں وہ رویہ تو قرون اولی میں بھی تھا تو پھر آپ کیا کہیں گے ؟
 
شمولیت
نومبر 27، 2014
پیغامات
221
ری ایکشن اسکور
60
پوائنٹ
49
مجھے تو جو نظر آتا ہے ۔۔۔وہ یہی ہے کہ۔۔۔۔۔ انہوں نے بس تشدد یا سختی اور وہ بھی تدریجاََ ہونا ۔۔۔ذکر کیا ہے ۔
فکری اہل حدیث کوئی اٹل قرآن و حدیث کی اصطلاح نہیں ہے۔۔اقسام میں بیشک نہ تقسیم کریں ۔ بس ان کے نزدیک جو متشدد یا سخت ہے ۔وہ فکری نہیں ہے ۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,219
پوائنٹ
402
جی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہود سے تعلقات تھے جو دعوت دین اور دینی خیر خواہی کی بنیاد پر تھے تو اب کویی کیوں نہیں رکھ سکتا
 

رحمانی

رکن
شمولیت
اکتوبر 13، 2015
پیغامات
382
ری ایکشن اسکور
103
پوائنٹ
77
میرا یہ مطلب نہیں تھا،میں تو صرف یہ جانناچاہتاتھاکہ پاکستان میں کوئی یہودی بھی موجود ہےاپنی یہودیت کی شناخت کے ساتھ،نیٹ پر تو کسی کے بھی کسی بھی فرقے سے تعلق ہوسکتے ہیں، میں توصرف یہی جانناچاہتاہوں کہ کیاپاکستان میں کوئی یہودی اپنی یہودی شناخت کے ساتھ موجود ہے؟
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,219
پوائنٹ
402
حافظ زبیر صاحب نے فیس بک پر یہ جواب دیا ہے جو کاپی کر رہا ہوں
کیا اہل الحدیث، حنفیہ سے نکلے ہیں؟
------------------------------------
علمائے دیوبند کے بارے میں ہماری ایک سابقہ تعریفی پوسٹ پر بہت سے اہل حدیث علماء نے سوشل میڈیا پر بہت سے گروپس میں شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ کی یہ بات بالکل لغو اور بے کار ہے کہ اہل الحدیث، حنفیہ سے نکلے ہیں۔ یہ بات تاریخی طور ثابت نہیں ہے۔ بعض نے اس بات کو اہل حدیث کے لیے گالی قرار دیا۔ بعض نے کہ جنہیں علماء بھی کہا جا رہا تھا، کہا کہ حافظ زبیر مرتد ہو گیا ہے کہ جو اہل حدیثیت سے نکل جائے، وہ ہمارے نزدیک مرتد ہو جاتا ہے۔
قزاق، اسراری غنڈہ اور بہت کچھ کہا گیا۔ بد دعائیں کی گئیں کہ اس کے ہاتھ پاوں شل ہو جائیں۔ اور شاید میرے اہل حدیث نہ ہونے کے بارے جلد ہی ایک کتاب بھی مارکیٹ میں آ جائے۔ اور یہ اعزاز میرے لیے نیا نہیں ہے، مجھے پہلی مرتبہ مقامی اہل حدیثوں نے غالبا 98ء میں حنفیوں کی مسجد میں نماز پڑھنے کے سبب سے بدعتی قرار دیا تھا۔ اور اس جیسے القابات مجھے دیوبندیوں سے بھی حاصل ہوتے رہے ہیں۔ میں ان سب کے بارے یہی سمجھتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مجھ پر تنقید کرتے ہیں، اور میرے پاس ان کے جواب میں دعاوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے اپنی ذات کا دفاع ہر گز نہیں کرنا، مجھے تو اپنی اصلاح کرنی ہے البتہ علمی مسئلہ میں واضح کرتا رہوں گا۔
علمی بات یہ ہے کہ اہل الحدیث کی اصطلاح دو طرح سے استعمال ہوتی ہے۔ ایک تو اہل الرائے کے بالمقابل، اور اس اعتبار سے اہل الحدیث وہ مکتب فکر ہے کہ جس کے بانی امام مالک رحمہ اللہ ہے اور پھر اس مکتب فکر کو ان کے شاگرد امام شافعی رحمہ اللہ نے آگے بڑھایا۔ پھر ان کے شاگرد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ لے کر چلے۔ ۔پھر ان کے شاگرد امام بخاری رحمہ اللہ نے اس میں اضافے فرمایے۔ اس اعتبار سے اہل الحدیث ایک بہت قدیم سوچ اور فکر ہے جیسا کہ اہل الرائے یا حنفی ایک قدیم مکتب فکر ہے۔ اہل الحدیث اور اہل الرائے کے ان دو اجتہادی مکاتب فکر کے اختلافات پر میری مستقل تحریریں شائع ہو چکی ہیں جیسا کہ ماہنامہ الاحیاء وغیرہ میں۔
میں اپنی تحریروں میں امام مالک رحمہ اللہ کے زمانے سے مدینہ سے شروع ہونے والے اس قدیم مکتب فکر کو "فکری اہل حدیث" کا نام دیتا رہا ہوں۔ مجھ سے جب بھی کوئی پوچھتا ہے تو میں یہی کہتا ہوں کہ میں "فکری اہل حدیث" ہوں یعنی ان ائمہ دین کی فکر پر ہوں اور وہ فکر یہ ہے کہ ائمہ کے اقوال کو کتاب وسنت پر پیش کرتے رہو نہ کہ کتاب وسنت کو ائمہ کے اقوال پر پیش کرو۔ یہ فکری اہل حدیث آج بھی پائے جاتے ہیں لیکن تعداد میں بہت کم ہیں۔ یہ ائمہ دین پر طعن نہیں کرتے، یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے استفادہ کے بھی قائل ہیں اور ان سے اختلاف بھی کرتے ہیں۔ اشارتا عرض کرتا چلوں کہ "فکری حنفی" بھی موجود ہیں جو اختلافی مسائل میں سخت نہیں ہیں یعنی رفع الیدین سے بھی نماز پڑھ لیں گے لیکن فکری وابستگی اہل الرائے/حنفیہ سے ہے۔
دوسرا اہل الحدیث سے مراد برصغیر کے اہل حدیث ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک خاص دور میں وجود میں آئے اور شیخ الکل نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کو ان کا نقطہ آغاز کہا جا سکتا ہے۔ برصغیر میں تقلیدی جمود کی اس اصلاحی تحریک کا آغاز "فکر اہل حدیث" سے ہوا تھا لیکن اب بدقسمتی سے یہ "فرقہ اہل حدیث" بن چکا ہے۔ اور ان کے شاگرد مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نے قادیانیت، نیچریت اور تقلید کے رد میں بہت کام کیا اور 1877ء میں "اشاعۃ السنۃ" کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ انہوں نے ہی سرکاری کاغذات میں اپنے ہم فکر ساتھیوں کے لیے "وہابی" کی جگہ "اہل حدیث" کا نام پسند کیا۔ البتہ یہ بات تاریخِی طور درست ہے کہ برصغیر میں حنفیت جو تین مسالک میں تقسیم ہوَئی ہے تو اس میں اہل حدیث پہلے وجود میں آئے۔ دار العلوم دیوبند کے قیام سے تقریبا بیس سال پہلے شیخ نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ نے شاہ محمد اسحاق رحمہ اللہ مسند پر بیٹھ کر برصغیر میں اہل حدیث کی پہلی درسگاہ کی بنیاد رکھ دی تھی۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہی مولانا محمد حسین بٹالوی صاحب رحمہ اللہ اپنے آپ کو "حنفی اہل حدیث" لکھتے تھے۔ وہ اجتہادی مسائل میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر فتوی دینے کے قائل تھے کہ عرف میں فقہ حنفی تھی لہذا مناسب یہی تھا کہ جن مسائل میں صریح احادیث موجود نہ ہوں تو امام صاحب کے قول پر فتوی دیا جائے۔ پھر اس کے بعد برصغیر کے اہل حدیث میں سختی آتی چلی گئی اور ان کی اکثریت میں امام صاحب سے چڑ پیدا ہو گئی بلکہ اہل حدیثیت نام ہی حنفیت کے رد کا پڑ گیا۔ امام صاحب کو گالیاں دینے والے بھی موجود ہیں۔ آج کل یہی لوگ جماعت میں غالب ہیں۔ معاشرے میں انہی کو اہل حدیث کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے لیکن میں انہیں اہل حدیث کا حقیقی نمائندہ نہیں سمجھتا بلکہ "فکری اہل حدیث" کو اہل حدیث کا حقیقی نمائندہ سمجھتا ہوں اور انہی کی طرف نسبت رکھتا ہوں۔ ساتھ میں اپنی کتاب "صالح اور مصلح" سے اہل الحدیث کی اقسام کے موضوع پر اپنی ایک پرانی تحریر کا امیج لگا رہا ہوں، اسے سب اہلحدیث ضرور پڑھیں۔
ویسے تو آپ کو پاس حق ہے کسی بھی بات کو پسند کرنے اور نہ کرنے کا لیکن کیا یہ پوچھ سکتا ہوں کہ اس میں ایسی کیا بات ہے جو درست نہیں ہے ؟
 
Top