Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
شکار کی جزا کا بیان
باب۔ اگر بغیر احرام کے آدمی شکار کرے اور احرام والے کو ہدیتاً دے تو احرام والے کے لیے اس کا کھانا جائز ہے
(۸۸۴)۔ سیدنا ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ ہم حدیبیہ کے سال نبیﷺ کے ہمراہ چلے تو آپﷺ کے صحابہ نے (جلدی سے) احرام باندھ لیا اور میں نے (اس وقت تک) احرام نہیں باندھا تھا پھر ہمیں خبر دی گئی کہ (مقام) غیقہ میں دشمن ہے جو کہ لڑنا چاہتا ہے۔ نبیﷺ چلے اور میں (ابو قتادہ) بھی آپﷺ کے اصحاب کے ساتھ تھا۔ پھر میرے ساتھیوں نے ایک گورخر (جنگلی گدھا) دیکھا تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے (میں سمجھ گیا کہ کسی شکار کو دیکھ کر ہنس رہے ہیں) پھر میں نے بھی نظر اٹھائی تو گورخر کو دیکھ لیا، میں نے گھوڑا اس کے پیچھے دوڑا دیا۔ اسے تیر مار کر گرا دیا پھر میں نے ان لوگوں سے مدد چاہی تو انھوں نے میری مدد کر نے سے انکار دیا (بالآخر میں نے ہی اس کو ذبح کیا) پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا اس کے بعد میں اپنا گھوڑا سرپٹ دوڑا کر نبیﷺ کو ڈھونڈنے لگا۔ ہمیں یہ خوف ہو گیا تھا کہ ہم نبیﷺ سے چھوٹ جائیں گے پھر (راستہ میں) بنی غفار کے ایک شخص سے ملاقات ہوئی، میں نے پوچھا کہ تم نے رسول اللہﷺ کو کہاں چھوڑا ہے؟ تو اس نے کہا کہ میں نے نبیﷺ کو تَعْھَنُ نامی چشمہ پر چھوڑا تھا اور آپﷺ کا ارادہ تھا کہ مقام سُقیا میں قیلولہ کریں (یہ پوچھ کر میں چل دیا) اور رسول اللہﷺ سے جا ملا، جب میں آپﷺ کے پاس پہنچا تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! صحابہ نے مجھے بھیجا ہے، انھوں نے آپﷺ پر سلام اور اللہ کی رحمت عرض کی ہے اور انھیں یہ خوف ہے کہ دشمن انھیں آپ سے جدا کر دے گا پس آپ ان کا انتظار کیجئیے۔ چنانچہ آپﷺ نے (ایسا ہی) کیا پھر میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم نے ایک گور خر کو شکار کیا ہے اور ہمارے پاس اس کا کچھ بچا ہوا گوشت ہے تو رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ (ﷺ) سے فرمایا :'' کھاؤ۔ '' حالانکہ وہ سب احرام میں تھے۔