باب۔ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
(۹۱۲)۔ سیدنا ابو بکرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا :'' مدینہ میں مسیح دجال کا رعب داخل نہ ہو گا اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے (پہرہ دیتے) ہوں گے۔ ''
(۹۱۳)۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :'' مدینہ کے دروازوں پر فرشتے پہرہ دیں گے وہاں نہ طاعون کی بیماری آئے گی اور نہ ہی دجال مدینہ میں داخل ہو سکے گا۔ ''
(۹۱۴)۔ سیدنا انس بن مالکؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا :'' دجال دنیا کے ہر شہر کو ضرور روندے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے۔ ان دونوں کے ہر راستے پر فرشتے صف بستہ پہرہ دیں گے پھر مدینہ اپنے لوگوں کو تین بار خوب زور سے ہلا دے گا پس اللہ ہر کافر و منافق کو (جو اس وقت مدینہ میں موجود ہو گا) نکال دے گا۔ ''
(۹۱۵)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے دجال کا ایک بہت طویل قصہ بیان فرمایا تھا تو منجملہ اس کے جو آپﷺ نے ہم سے بیان فرمایا کچھ یہ تھا :'' دجال مدینہ کی کھاری زمین پر آ کر اترے گا لیکن اس پر مدینہ کے اندر آنا حرام کر دیا گیا ہے۔ تو اس وقت ایک شخص جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر اور نیک ہو گا، دجال کے پاس جائے گا اور کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے حدیث بیان فرما دی تھی تو دجال لوگوں سے کہے گا کہ بتاؤ! اگر میں اس شخص کو قتل کر کے پھر زندہ کر دوں گا تو کیا تم لوگ پھر بھی (میرے) معاملہ میں شک کرو گے؟ تو لوگ جواب دیں گے کہ نہیں۔ چنانچہ دجال پہلے تو اس نیک شخص کو قتل کر ے گا پھر زندہ کر دے گا۔ وہ نیک شخص زندہ ہو کر کہے گا کہ اللہ کی قسم ! اب تو مجھے پورا یقین ہو گیا ہے کہ تو وہی دجال ہے تو دجال پھر اس نیک شخص کو قتل کر نا چاہے گا مگر نہ کر سکے گا۔ ''