• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ دوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مدینہ کے ٹیلوں کا بیان
(۹۱۱)۔ سیدنا اسامہؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) نبیﷺ مدینہ کے ٹیلوں میں سے کسی ٹیلے پر چڑھے تو فرمایا :'' کیا تم وہ کچھ دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ بے شک میں تمہارے گھروں کے درمیان فتنوں کے نازل ہونے کی جگہ دیکھ رہا ہوں (وہ اس کثرت سے ہوں گے) جیسے زور دار بارش کے قطرات۔''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
(۹۱۲)۔ سیدنا ابو بکرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا :'' مدینہ میں مسیح دجال کا رعب داخل نہ ہو گا اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے (پہرہ دیتے) ہوں گے۔ ''

(۹۱۳)۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :'' مدینہ کے دروازوں پر فرشتے پہرہ دیں گے وہاں نہ طاعون کی بیماری آئے گی اور نہ ہی دجال مدینہ میں داخل ہو سکے گا۔ ''

(۹۱۴)۔ سیدنا انس بن مالکؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا :'' دجال دنیا کے ہر شہر کو ضرور روندے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے۔ ان دونوں کے ہر راستے پر فرشتے صف بستہ پہرہ دیں گے پھر مدینہ اپنے لوگوں کو تین بار خوب زور سے ہلا دے گا پس اللہ ہر کافر و منافق کو (جو اس وقت مدینہ میں موجود ہو گا) نکال دے گا۔ ''

(۹۱۵)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے دجال کا ایک بہت طویل قصہ بیان فرمایا تھا تو منجملہ اس کے جو آپﷺ نے ہم سے بیان فرمایا کچھ یہ تھا :'' دجال مدینہ کی کھاری زمین پر آ کر اترے گا لیکن اس پر مدینہ کے اندر آنا حرام کر دیا گیا ہے۔ تو اس وقت ایک شخص جو تمام انسانوں میں سب سے بہتر اور نیک ہو گا، دجال کے پاس جائے گا اور کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے حدیث بیان فرما دی تھی تو دجال لوگوں سے کہے گا کہ بتاؤ! اگر میں اس شخص کو قتل کر کے پھر زندہ کر دوں گا تو کیا تم لوگ پھر بھی (میرے) معاملہ میں شک کرو گے؟ تو لوگ جواب دیں گے کہ نہیں۔ چنانچہ دجال پہلے تو اس نیک شخص کو قتل کر ے گا پھر زندہ کر دے گا۔ وہ نیک شخص زندہ ہو کر کہے گا کہ اللہ کی قسم ! اب تو مجھے پورا یقین ہو گیا ہے کہ تو وہی دجال ہے تو دجال پھر اس نیک شخص کو قتل کر نا چاہے گا مگر نہ کر سکے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مدینہ برے آدمی کو نکال دیتا ہے
(۹۱۶)۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبیﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپﷺ سے اسلام پر بیعت کی پھر وہ دوسرے دن بخار میں مبتلا ہو کر آیا اور کہنے لگا کہ آپ اپنی بیعت واپس لے لیجیے نبیﷺ نے تین مرتبہ انکار فرمایا اس کے بعد فرمایا :'' مدینہ مثل بھٹی کے ہے جو میل کچیل کو نکال دیتی ہے اور عمدہ اور خالص رکھ لیتی ہے۔ ''

(۹۱۷)۔ سیدنا انسؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اے اللہ ! جس قدر برکت تو نے مکہ میں رکھی ہے اس سے دگنی مدینہ میں کر دے۔ ''

(۹۱۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ (ہجرت کر کے) مدینہ تشریف لے گئے تو سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلالؓ کو بخار ہو گیا تو سیدنا ابو بکرؓ کی یہ حالت تھی کہ جب ان کو بخار چڑھتا تھا تو وہ یہ کہتے تھے کہ :'' ہر شخص اپنے گھر میں صبح کو اٹھتا ہے اور (وہ نہیں جانتا کہ) موت اس کی جوتی کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ '' اور سیدنابلالؓ کی یہ حالت تھی کہ جب ان کو بخار چڑھتا تھا تو وہ اپنی آواز بلند کر تے تھے کہ : '' اے کاش مجھے معلوم ہو جاتا کہ کیا پھر میں کبھی ایسے میدان میں شب بسر کروں گا کہ میرے گرد اذخر اور جلیل (نامی گھاس) ہو گی اور کیا میں اب کبھی مجنہ کے چشموں پر پہنچوں گا اور کیا اب کبھی مجھے شامہ اور طفیل (نامی پہاڑ) دکھائی دیں گے؟ ''
(پھر یہ دعا بھی مانگتے) :'' اے اللہ ! لعنت فرما شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر جیسا کہ انھوں نے ہم کو ہمارے وطن (مکہ) سے ایک وبائی زمین (مدینہ) کی طرف نکال دیا۔ '' یہ سن کر رسول اللہﷺ نے یوں دعا فرمائی :'' اے اللہ ! مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے جس طرح کہ ہم مکہ سے محبت رکھتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اے اللہ ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے لیے درست کر دے اور اس کا بخار حجفہ (کے مشرکوں) کی طرف لے جا۔ (ام المومنین عائشہؓ) کہتی ہیں جب ہم مدینہ میں آئے تو وہ اللہ کی سب سے زیادہ وبائی زمین تھی۔ نیز کہتی ہیں کہ اس وقت وادیِ بطحان میں نجل یعنی بدبو دار پانی بہا کرتا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
روزے کے بیان میں

باب۔ روزے کی فضیلت و عظمت کا بیان
(۹۱۹)۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' روزہ (عذاب الٰہی کے لیے) ڈھال ہے پس روزہ دار کو چاہیے کہ فحش بات نہ کہے اور جہالت کی باتیں (مثلاً مذاق، جھوٹ، چیخنا چلانا اور شور و غل مچانا وغیرہ) بھی نہ کرے اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اسے چاہیے کہ دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) روزہ دار اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہش و شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ (تو) روزہ میرے ہی لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ملتا ہے (لیکن روزہ کا ثواب اس سے کہیں زیادہ ملے گا)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ روزہ داروں کے لیے (جنت کا دروازہ) '' ریان'' ہے
(۹۲۰)۔ سیدنا سہلؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ''ریان '' کہتے ہیں، اس دروازہ سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے سوا کوئی (بھی اس دروازے سے) داخل نہ ہو گا۔ کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ پس وہ اٹھ کھڑے ہوں گے، ان کے سوا کوئی اس دروازہ سے داخل نہ ہو گا پھر جس وقت داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر لیا جائے گا غرض اس دروازہ سے کوئی داخل نہ ہو گا۔ ''

(۹۲۱)۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جو شخص اللہ کی راہ میں دو جوڑے (کپڑے یا کوئی سی بھی دو چیزیں) تقسیم کرے وہ جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا (فرشتے کہیں گے کہ) اے اللہ کے بندے ! یہ دروازہ اچھا ہے (اس میں سے آ جا) پھر جو کوئی نماز قائم کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو کوئی جہاد کرنے والوں میں سے ہو گا تو وہ جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو کوئی روزہ داروں میں سے ہو گا تو وہ '' باب الریان '' سے پکارا جائے گا اور جو کوئی صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ ! میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں جو شخص ان تمام دروازوں سے پکارا جائے تو اس کو پھر کوئی حاجت ہی نہ رہے گی تو کیا کوئی شخص ان تمام دروازوں سے بھی پکارا جائے گا؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' ہاں ! میں امید رکھتا ہوں کہ تم انھیں میں سے ہو گے۔ ''

(۹۲۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ''

(۹۲۳)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ دوسری ایک روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''جب رمضان آتا ہے تو آسمان (یعنی جنت) کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیاطین مضبوط ترین زنجیروں سے جکڑ جا تے ہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ رمضان یا ماہ رمضان کیا کہا جائے اور اس شخص کی دلیل جو دونوں کہنا درست جانتا ہے
(۹۲۴)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کر دو اور جب تم (عید الفطر کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا ترک کر دو پھر اگر تمہارا مطلع ابر آلود ہو (یعنی بادل چھا جائیں) تو تم اس کے لیے اندازہ کر لو (یعنی ۳۰ پورے کر لو)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس نے روزے میں جھوٹ بولنا اور لغو کام کرنا نہ چھوڑا
(۹۲۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :''جو شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کہ وہ (روزہ کا نام کر کے) اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کیا جب کسی روزہ دار کو گالی دی جائے تو وہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں
(۹۲۶)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کے تمام اعمال اسی کے لیے ہوتے ہیں سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔ ''
اور (حدیث کے) آخر میں ارشاد فرمایا :''روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں ایک اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے(تو دلی) خوشی محسوس کرتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہو گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مجرد شخص اگر زنا میں مبتلا ہو جانے کا خوف رکھتا ہو تو روزے رکھے
(۹۲۷)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ تھے تو آپﷺ نے فرمایا :''جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح کر لے اس لیے کہ نکاح اس کی نظر کو (غیر محرم پر پڑنے سے) خوب روکے گا اور اس کی شرم گاہ کی (زنا سے) حفاظت کرے گا اور جو شخص نکاح کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اس پر روزے رکھنا لازم ہے کیوں کہ روزے اس کہ شہوت کو توڑ دیتے ہیں۔ ''(یہ روزے فرض نہیں البتہ مستحب ہیں اور حدیث میں اسی استحباب کی تاکید کی گئی ہے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا فرمان ''جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو موقوف کر دو ''
(۹۲۸)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :''مہینہ (کم از کم) انتیس دن کا ہوتا ہے پس تم جب تک چاند نہ دیکھو لو روزہ نہ رکھو پھر اگر مطلع ابر آلود ہو جائے (یعنی آسمان پر بادل چھا جائیں اور تم چاند نہ دیکھ سکو) تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔ ''

(۹۲۹)۔ ام المومنین ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ ایک بار نبیﷺ نے اپنی ازواج مطہر ات سے ایک مہینہ کا ایلا ء کیا (یعنی ترک تعلق کی قسم کھائی) پھر جب انتیس دن گزر گئے تو صبح کے وقت یا دوپہر کے بعد آپﷺ (اپنی بیویوں کے پاس) تشریف لے گئے۔ کسی نے آپﷺ سے کہا کہ آپﷺ نے تو قسم کھائی تھی کہ میں ایک مہینہ تک (بیویوں کے پاس) نہ جاؤں گا تو آپﷺ نے فرمایا :''مہینہ انتیس دن کا(بھی ہوتا) ہے۔ ''
 
Top