باب۔ جب کوئی شخص رمضان میں جماع کر لے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو پھر اس کو صدقہ ملے تو اسے چاہیے کہ (اسی صدقہ سے) کفارہ دے دے
(۹۴۱)۔ سیدنا ابو ہریر ہؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) اس حال میں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص آپﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!میں تو برباد ہو گیا، آپﷺ نے فرمایا :''کیا ہوا؟ ''اس نے عرض کی کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :''کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟ ''تو اس نے عرض کی کہ نہیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا :''کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھا نا کھلا سکتا ہے؟ ''تو اس نے عرض کی کہ نہیں۔ (سیدنا ابو ہریرہؓ) کہتے ہیں کہ پھر نبیﷺ نے توقف کیا۔ ہم اسی حال میں تھے کہ کوئی شخص نبیﷺ کے پاس کھجوروں سے بھرا ہوا خرمے کی چھال کا ایک ٹوکرا لایا۔ آپﷺ نے فرمایا :''سائل کہاں ہے؟ ''تو اس نے عرض کی حاضر ہوں، آپﷺ نے فرمایا :''اس ٹوکرے کولے لے اور خیرات کر دے۔ ''اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو خیر ات کر دوں تو اللہ کی قسم !مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی گھر میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ یہ سن کررسول اللہﷺ اتنا ہنسے کہ آپﷺ کے دانت مبارک نظر آنے لگے پھر آپﷺ نے فرمایا : ''اچھا ! پھر اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دے۔ ''