• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
با ب۔ سیدنا زید بن ثابتؓ کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۶۹)۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے عہد میں چار آدمی قرآن کے حافظ تھے ، یہ سب انصاری ہی تھے۔ ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، ابو زید ، اور زید بن ثابت سیدنا انس سے کہا گیا کہ ابو زید کون تھے ؟ انھوں نے کہا کہ میرے چچاؤں میں سے ایک چچا تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا ابو طلحہ انصاریؓ کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۰۸)۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب مسلمان نبیﷺ کو چھوڑ کر بھاگے تو سیدنا ابو طلحہؓ نبیﷺ کے سامنے ایک چمڑے کی سپر کی آڑ کیے رہے (تاکہ کافروں کے تیر آپﷺ کو نہ لگ جائیں) اور سیدنا ابو طلحہؓ بڑے تیر انداز اور کمان کو بڑے زور سے کھینچے والے تھے ان کی دو یا تین کمانیں اس دن ٹوٹ گئیں اور جب کوئی مسلمان تیروں کی ترکش لیے ادھر سے گزرتا تو نبیﷺ فرماتے۔ :'' یہ سب تیرا ابو طلحہ کے سامنے ڈال دے۔ '' ایک مرتبہ نبیﷺ سر اٹھا کر کافروں کو دیکھنے لگے سیدنا ابو طلحہؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ سر نہ اٹھائیے کہیں کافروں کے تیروں میں سے کوئی تیر آپ کے نہ لگ جائے ، میرے سینہ آپ کی آڑ کر رہا ہے۔ اور میں (انسؓ) نے (اس جنگ میں) ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ ام سلیمؓ کو دیکھا کہ وہ اپنا کپڑا اٹھائے ہوئے ، پنڈلیاں کھولے ہوئے ، پانی کی مشکیں جلدی جلدی لاتیں اور لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتیں ، پھر لوٹ جاتیں اور مشکیں بھر کر لا تیں اور لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتیں (میں نے ان کی پاز یبیں دیکھیں) اس دن سیدنا ابو طلحہؓ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر پڑی تھی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۷۱)۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے کسی شخص کے بارے میں جو زمین پر چلتا ہو یہ نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے سوائے عبداللہ بن سلامؓ کے۔ سیدنا سعد کہتے ہیں اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ''۔۔۔ اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ نے اسی طرح کی گواہی بھی دی۔۔۔ پوری آیت۔ ''(الاحقاف :۱۰)

(۱۵۷۳)۔ سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کے عہد میں ایک خواب دیکھا جو آپﷺ سے بیان کیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ گو یا کہ میں ایک باغ میں ہوں اور اس کی کشادگی اور سرسبز ی کی تعریف کی ، اور اس کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا پایہ زمین میں ہے اور سر آسمان میں ، اس کے اوپر کی طرف ایک کڑا لگا ہے۔ تو مجھے کہا گیا کہ اس کے اوپر چڑھ۔ میں نے کہا کہ میں اتنی طاقت نہیں رکھتا (نہیں چڑ ھ سکتا) پھر ایک خدمتگار آیا اور اس نے پیچھے کی طرف سے میرے کپڑے اٹھا دیے ، پس میں چڑھنے لگا یہاں تک کہ چوٹی پر پہنچ گیا اور میں نے وہ کڑا پکڑا لیا تو مجھ سے کہا گیا کہ مضبوطی سے تھا مے رکھ۔ جب تک میں نیند سے اٹھا یہ کڑا تھامے رہا۔ میں نے یہ خواب نبیﷺ سے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' باغ سے دین اسلام مراد ہے اور ستون سے مراد اسلام کا ستون (کلمہ شہادت یا پانچوں ارکان) اور کڑا عروۃ الو ثقی ہے اور تو اپنی موت تک اسلام پر قائم رہے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا ام المومنین خدیجہؓ سے نکاح کرنے اور ان کی فضیلت کا بیان۔
(۱۵۷۳)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبیﷺ کی کسی بیوی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا خدیجہؓ پر کیا حالانکہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں لیکن نبیﷺ ان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے اور جب کبھی بکری کاٹتے تو اس کے حصے کرے کے خدیجہؓ کی دوستوں کو بھیج دیتے۔ کبھی میں آپﷺ سے یوں کہتی کہ شاید دنیا میں خدیجہؓ کے سوا اور کوئی عورت نہیں ہے تو آپﷺ فرماتے :'' خدیجہ (رضی اللہ عنہ)میں یہ یہ صفتیں تھیں اور میری اولاد انہی کے پیٹ سے ہوئی۔ ''

(۱۵۷۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ جبریلؓ نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! خدیجہ (رضی اللہ عنہ)آپ کے پاس سالن کی یا کھانے کا یا پینے کا ایک برتن لا رہی ہیں جب وہ آپﷺ کے پاس آئیں تو انھیں ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہنا اور انھیں جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دینا جو ایک خولدار موتی کا ہو گا جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف نہ تھکن (پریشانی وغیرہ) ہو گی۔

(۱۵۷۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ خدیجہؓ کی بہن ہالہ نبت خویلد نے رسول اللہﷺ سے (اندر آنے کی) اجازت مانگی تو آپﷺ کو خدیجہ کا اجازت لینا یاد آیا اور آپﷺ اس سے گھبرا گئے اور فرمایا :'' اے اللہ ! (کیا) یہ ہالہ ہیں۔ عائشہؓ کہتی ہیں کہ مجھے رشک آیا۔ میں نے کہا کیا آپ قریش کی ایک بوڑھی عورت کو یاد کرتے ہیں ، جس کے (دانت گر کر) صرف سرخ سرخ مسوڑھے رہ گئے تھے ، جو بہت پہلے فوت ہو گئی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے بدل میں اس سے اچھی عورت عنایت فرمائی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ ہند بنت عتبہ ربیعہؓ کا بیان۔
(۱۵۷۶)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ہند بنت عتبہؓ آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! مجھے (اسلام لانے سے پہلے) ساری دنیا میں کسی ڈیرے (یعنی قوم) والوں کا ذلیل ہوتا اتنا پسند نہ تھا جتنا آپ کے ڈیرے والوں کا ذلیل ہونا پسند تھا پھر آج کے دن مجھے ساری دنیا میں کسی ڈیرے والوں کا عزت دار ہونا اتنا پسند نہیں جتنا آپ کے ڈیرے والوں کا عزت دار ہونا پسند ہے تو نبیﷺ نے فرمایا :'' اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں بھی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔۔۔۔ '' اور باقی حدیث گزر چکی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا زید بن عمرو بن نفیلؓ کا قصہ۔
(۱۵۷۷)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ زید بن عمرو بن نفیلؓ سے (وادی) بلدح میں ملے (اس وقت) ابھی نبیﷺ پر وحی نازل ہونا شروع نہیں ہوئی تھی۔ نبیﷺ کے سامنے کھانے کا دستر خوان چنا گیا تو انھوں نے وہ کھانا کھانے سے انکار کیا۔ پھر زید نے کہا کہ میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا جنہیں تم بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو ،میں اسی جانور کا گوشت کھاؤں گا جو اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے اور زید قریش کا جانوروں کو ذبح کرنے کا طریقہ برا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ نے ہی بکری کو پیدا کیا اور آسمان سے اس کے پینے کے لیے پانی نازل فرمایا اور اس کے کھانے کے لیے زمین میں چارہ اگایا پھر تم اسے اللہ کے نام کے سوا اوروں کے نام پر ذبح کرتے ہو۔ وہ ان (کے اس فعل) سے انکار کرتا تھا اور اس کو بڑا گناہ خیال کرتا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ دور جاہلیت کا بیان۔
(۱۵۷۸)۔ سیدنا ابن عمرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' سن رکھو ! جو کوئی قسم کھانا چاہے تو وہ اللہ کے سوا اور کسی کی قسم نہ کھائے ، قریش کے لوگ اپنے باپ دادا کی قسم کھایا کرتے تھے۔ ''(اس وجہ سے) آپﷺ نے فرمایا :'' اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔ ''

(۱۵۸۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' شاعروں کی باتوں میں سب سے زیادہ سچا لبید (ابن ربیعہ بن عامر) کا یہ کلمہ ہے کہ '' اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ فنا ہو جائے گا۔ ''اور(جاہلیت کاایک شاعر) امیہ بن ابی صلت مسلمان ہونے کے قریب تھا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کی بعثت (پیغمبر ی) کا بیان۔ (اور آپ کا نام) محمد (ﷺ ہے) بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔
(۱۵۸۰)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی ، آپﷺ مکہ میں تیرہ برس رہے پھر کا حکم ہوا تو مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں دس سال رہے ، پھر وفات ہو گئی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: نبیﷺ اور آپﷺ کے صحابہؓ نے مشرکین مکہ کے ہاتھوں جو تکالیف اٹھائیں ، ان کا بیان
(۱۵۸۱)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ مشرکوں نے نبیﷺ کو سخت ایذا کونسی دی تھی ؟ تو انھوں نے کہا کہ اس دوران کہ نبیﷺ حطیم کعبہ میں نماز پڑ ھ رہے تھے ، عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا آپﷺ کی گردن میں ڈالا اور آپﷺ کا گلا زور سے گھونٹا ، اتنے میں سیدنا ابو بکرؓ آ گئے اور انھوں نے اس کا کندھا پکڑ کر اس کو نبیﷺ سے الگ گیا اور کہا '' کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔۔۔ پوری آیت۔ ''(المومن : ۲۸)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جنوں کا بیان۔
(۱۵۸۲)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ نبیﷺ کو کس نے بتلایا کہ جنوں نے رات کو آپﷺ کا قرآن سنا ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ بے شک نبیﷺ کو ایک (ببول کے) درخت نے ان کے بارے میں بتلایا۔

(۱۵۸۳)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ وہ نبیﷺ کے ساتھ آپ کے وضو اور استنجا کے لیے پانی کی چھاگل اٹھا کر چلتے تھے۔۔۔ یہ حدیث (۱۲۴)گزر چکی ہے۔

(۱۵۸۴)۔ اور اس روایت میں اتنا زیادہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میرے پاس نصیبین جنوں کے قاصد آئے اور وہ کتنے اچھے جن تھے ، انھوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا تو میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی جب یہ کسی ہڈی یا گوبر پر سے گزریں تو انھیں اس پر سے کھانا ملے۔ ''
 
Top