• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان۔
(۱۵۸۵)۔ سیدہ ام خالد بنت خالدؓ کہتی ہیں کہ جب میں حبشہ سے (لوٹ کر مدینہ) آئی تو اس وقت میں ایک(کمسن) لڑکی تھی ، رسول اللہ نے ایک دھاری دار چادر مجھے عنایت فرمائی اور رسول اللہﷺ اس کے نقشوں (بیل بوٹوں) پر ہاتھ پھیرنے لگے اور سناہ سناہ (حبشی زبان کا لفظ) فرمانے لگے یعنی اچھا اچھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ ابو طالب کے قصہ کا بیان۔
(۱۵۸۶)۔ سیدنا عباس بن عبدالمطلبؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ سے کہا کہ یارسول اللہ ! آپ اپنے چچا کے کیا کام آئے ؟ وہ آپ کو بچاتے تھے اور آپ کی خاطر غصے ہوا کرتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' وہ ٹخنوں تک آگ میں ہیں اور اگر میں نہ (ان کی سفارش نہ کرتا) تو وہ دوزخ کی سب سے نچلی تہہ میں ہوتے۔ ''

(۱۵۸۷)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ سے سنا ، جب آپﷺ کے چچا (ابو طالب) کا ذکر آیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' قیامت کے دن میری شفاعت سے شاید انھیں اتنا فائدہ ہو کہ وہ کم گہری آگ میں ڈالے جائیں ، جو ٹخنوں تک پہنچے جس سے ان کا دماغ جو ش مارتا رہے گا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ بیت المقدس تک جانے کا قصہ۔
(۱۵۸۸)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' جب قریش نے مجھے (معراج کے بارے میں) جھٹلایا تو میں حطیم (کعبہ) میں کھڑا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا (حجاب اٹھا دیا) پس میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کی علامات بیان کرنا شروع کر دیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ معراج کا قصہ۔
(۱۵۸۹)۔ سیدنا مالک بن صعصعہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے ان (صحابہ) سے معراج کی رات کا قصہ بیان فرمایا :'' میں حطیم (یا یوں کہا کہ) حجر میں لیٹا ہو اتھا کہ اتنے میں ایک آنے والا (فرشتہ) آیا تو اس نے یہاں سے یہاں تک چیر ڈالا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سینے کے سرے سے ناف تک (چیرا)۔ میرا دل نکالا پھر ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھراہوا تھا اس سے میرا دل دھویا گیا پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا پھر میرے لیے ایک سفید جانور لایا گیا جو خچر سے ذرا نیچا اور گدھے سے کچھ اونچا تھا حضرت انسؓ سے پوچھا گیا ابو حمزہ ! کیا یہ جانور براق تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ (نبیﷺ نے فرمایا :'') وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچی تھی ، پس میں اس پر سوار کیا گیا اور جبریلؑ میرے ساتھ چلے یہاں تک کہ آسمان دنیا پر پہنچے تو جبریلؑ نے کہا کہ دروازہ کھولو!پوچھا گیا کہ یہ کون ہے ؟کہا کہ جبریلؑ ہوں ،کہا گیا کہ تیرے ساتھ اور کون ہے ؟ کہا کہ محمد (ﷺ ہیں)۔ کہا گیا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو کہا گیا کہ مرحبا خوب آئے اور دروازہ کھولا گیا ، میں اندر گیا تو دیکھا کہ آدمؑ وہاں ہیں جبریلؑ نے کہا کہ یہ تمہارے باپ آدمؑ ہیں ، انھیں سلام کر و ، میں نے انہیں سلام کیا تو انھوں نے جواب دیا اور کہا گیا کہ اچھا بیٹا اور کیا اچھا نبی ہے ، پھر (ہم) اوپر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان تک پہنچے تو وہاں بھی جبریلؑ نے کہا کہ دروازہ کھولو ! پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ کہا کہ جبریلؑ (ہوں) کہا گیا کہ تیرے ساتھ اور کون ہے ؟ کہا کہ محمد (ﷺ) کہا گیا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو کہا گیا کہ مرحبا خوب آئے اور دروازہ کھولا گیا ، میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں یحییٰ اور عیسیؑ دونوں خالہ زاد بھائی بیٹھے ہوئے ہیں جبریلؑ نے کہا کہ یہ یحییٰ اور عیسیٰؑ ہیں انھیں سلام کر و میں نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ مرحبا اچھا بھائی ہے اور اچھا پیغمبر ہے۔ پھر جبریلؑ میرے ساتھ اوپر تیسرے آسمان تک چڑھے تو وہاں بھی جبریلؑ نے کہا کہ دروازہ کھولو ! پوچھا گیا کہ یہ کون ہے ؟ کہا کہ جبریل علیہ السلام (ہوں) کہا گیا کہ تیرے ساتھ اور کون ہے ؟ کہا کہ محمد (ﷺ)۔ کہا گیا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو کہا گیا کہ مرحبا خوب آئے اور دروازہ کھولا گیا ، میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں یوسفؑ ہیں ، جبریلؓ نے کہا کہ یہ یوسفؑ ہیں ، جبریلؑ نے کہا کہ یہ یوسفؑ ہیں انھیں سلام کرو ، میں انھیں سلام کیا تو انھوں نے سلام کا جواب دیا ، پھر کہا کہ مرحبا اچھا نبی ہے ، پھر جبریلؑ میرے ساتھ چوتھے آسمان تک چڑھے اور کہا کہ دروازہ کھولو ! پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ کہا کہ جبریلؑ (ہوں) کہا گیا کہ تیرے ساتھ اور کون ہےَ کہا کہ محمد (ﷺ ہیں)۔ کہا گیا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو کہا گیا کہ مرحبا ! خوب آئے اور دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ادریسؑ ہیں ، جبریل نے کہا کہ یہ ادریسؑ ہیں انھیں سلام کرو ، میں نے انھیں سلام کیا ، انھوں نے جواب دیا پھر کہا کہ اچھے بھائی اور اچھے نبی کو مرحبا۔ پھر جبریل علیہ السلام میرے ساتھ پانچویں آسمان تک چڑھے اور کہا کہ دروازہ کھولو ! پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ کہا کہ جبریلؑ (ہوں)۔ کہا گیا کہ تیرے ساتھ اور کون ہے ؟ کہا کہ محمد (ﷺ ہیں)۔ کہا گیا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو کہا گیا کہ مرحبا خوب آئے اور دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ہارونؑ ہیں۔ جبریلؑ نے کہا کہ یہ ہارون ہیں ، انھیں سلام کرو ، میں نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے جواب دیا پھر کہا کہ مرحبا کیا اچھا بھائی ہے اور کیا اچھا نبی۔ پھر جبریلؑ میرے ساتھ چھٹے آسمان تک چڑھے اور کہا کہ دروازہ کھولو ! پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ کہا کہ جبریلؑ (ہوں) کہا گیا کہ تیرے ساتھ اور کون ہے ؟ کہا کہ محمد (ﷺ ہیں)۔ کہا گیا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو کہا گیا کہ مرحبا !خوب آئے اور دروازہ کھولا گیا ، میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں موسیٰؑ ہیں ، جبریلؑ نے کہا کہ یہ موسیٰؑ ہیں انھیں سلام کرو۔ میں نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے جواب دیا پھر کہا کہ مرحبا ! کیا اچھا بھائی ہے اور کیا اچھا نبی ہے۔ جب میں وہاں سے آگے بڑھا تو وہ رونے لگے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ تو انھوں نے کہا کہا میں اس لیے روتا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد (دنیا میں) نبی بنا کر بھیجا گیا اور اس کی امت کی لوگ میری امت سے زیادہ (تعداد میں) جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبریلؑ میرے ساتھ ساتویں آسمان تک چڑھے اور کہا کہ دروازہ کھولو پوچھا گیا کہ کون ہے ؟ کیا کہ جبریلؑ (ہوں)۔ کہا گیا کہ تیرے ساتھ او ر کون ہے ؟ کہا کہ محمد (ﷺ ہیں)۔ کہا گیا کہ وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں تو کہا گیا کہ مرحبا خوب آئے اور دروازہ کھولا گیا۔ میں اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ابراہیمؑ ہیں ،جبریلؑ نے کہا کہ یہ تمہارے باپ ابراہیمؑ ہیں ، انھیں سلام کرو ، میں نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے جواب دیا اور کہا کہ مرحبا کیا اچھا بیٹا ہے اور کیا اچھا نبی۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک بلند کیا گیا تو (دیکھا کہ) اس کے پھل (بیر) (مدینہ کے قریب مقام) ہجر کے مٹکوں کے برابر کے ہیں اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح ہیں۔ جبریلؑ نے کہا کہ یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ (میں نے دیکھا کہ) وہاں (اس کی جڑ) سے چار نہریں نکل رہی ہیں ، دو نہریں بند (ڈھانپی ہوئی) ہیں اور دو کھلی (ظاہر) ہیں۔ میں نے کہا کہ اے جبریل ! یہ کیسی نہریں ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ بند نہریں تو جنت میں (بہہ رہی) ہیں اور کھلی دو نہریں (دنیا میں) نیل اور فرات (ہیں) ، پھر مجھے بیت المعمور بلند کر کے دکھا یا گیا ، جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ، پھر میرے سامنے ایک پیالہ شراب کا اور ایک دودھ کا اور ایک شہد کا بھرا ہوا لایا گیا تو میں نے دودھ کا پیالہ لے (کر پی) لیا۔ جبریلؑ نے کہا کہ یہ اسلام کی فطرت ہے جس پر تم ہو اور تمہاری امت ہے پھر مجھ پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ پس میں لوٹ کر آیا اور موسیٰؑ کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا کہ تجھے کیا حکم ملا ؟ میں نے کہا کہ ہر دن رات میں پچاس نمازوں کا حکم ہوا ہے ، انھوں نے کہا کہ بے شک تمہاری امت ہر روز پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکتی اور اللہ کی قسم میں ان لوگوں پر تجربہ کر چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل پر بہت زیادہ کوشش کی ہے ، پس تم اپنے رب کے پاس جاؤ اور پانی امت کے لیے تخفیف کا سوال کرو۔ پس میں لوٹا اور اللہ نے دس نمازیں مجھے معاف کر دیں۔ پھر میں لوٹ کر موسیٰؑ کے پاس آیا تو انھوں نے پھر ویسا ہی کہا (جیسا پہلے کہا تھا) تو میں پھر لوٹ کر گیا تو دس نمازیں اور کم کر دی گئیں۔ میں لوٹ کر موسیٰؑ کے پاس آیا تو انھوں نے پھر ویسا ہی کہا تو میں پھر لوٹ گیا تو دس نمازیں اور کم کر دی گئیں پھر میں موسیٰؑ کے پاس آیا تو انھوں نے ویسا ہی کہا تو میں پھر لوٹ گیا اور دس نمازیں اور کم کر دی گئیں اور مجھے ہر روز دس نمازوں (کے پڑھنے) کا حکم دیا گیا پھر موسیٰؑ کے پاس آیا تو انھوں نے پھر ویسا وہی کہا تو میں پھر لوٹ گیا تو مجھے ہر روز پانچ نمازوں (کے پڑھنے) کا حکم دیا گیا، میں موسیٰؑ کے پاس لوٹ کر آیا تو انھوں نے کہا کہ کیا حکم ہوا ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم ہوا ہے تو انھوں نے کہا کہ بے شک تمہاری امت سے ہر روز پانچ نمازیں نہ پڑھی جا سکیں گی اور بے شک میں ان لوگوں پر تجربہ کر چکا ہوں اور میں نے بنی اسرائیل پر بہت زیادہ کوشش کی ہے پس تم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جاؤ اور اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کرو تو میں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تخفیف کا سوال کرتے کرتے شرمندہ ہو گیا ، میں اسی پر راضی ہوں اور (اپنے رب کا حکم) مان لیتا ہوں۔ پھر فرمایا :'' جب میں آگے بڑھا تو ایک پکارنے والے نے پکارا کہ جو میرا ٹھہرا ؤ تھا وہ میں نے جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف بھی کی۔ (یعنی لوگ پڑھیں گے پانچ نمازیں اور انھیں ثواب پچاس کا ملے گا)۔ '' سیدنا انسؓ سے مروی یہ حدیث پہلے کتاب الصلاۃ میں بھی گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث : ۲۲۸)اور ان میں سے ایک روایت کے آخر میں جو باتیں ہیں وہ دوسری روایت میں نہیں ملتیں۔

(۱۵۹۰)۔ سیدنا ابن عباسؓ اللہ تعالیٰ کے اس قول '' اور جو رؤیا (عینی رؤیت) ہم نے آپ کو دکھلائی تھی وہ لوگوں کے لیے صاف آزمائش ہی تھی '' (بنی اسرائیل :۲۰)کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں رؤیا سے مراد (خواب نہیں بلکہ) آنکھ سے دیکھنا مراد ہے جو رسول اللہﷺ کو اس رات دکھایا گیا جب آپﷺ کو بیت المقدس تک لے جایا گیا۔ سیدنا ابن عباس کہتے ہیں کہ اللہ کا یہ قول کہ '' اور وہ درخت ، جس سے قرآن میں اظہار نفرت کیا گیا ہے۔ '' (بنی اسرائیل :'' ۶۰) میں درخت سے تھوہر کا درخت مراد ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا عائشہؓ سے نکاح کرنا اور عائشہؓ کا مدینہ کو ہجرت کرنا اور آپﷺ کا ان سے صحبت کرنا۔
(۱۵۹۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جب نبیﷺ نے مجھ سے نکاح کیا تو میری عمر چھ برس تھی ، پھر ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے ، مجھے بخار ہو اور میرے سارے بال جھڑ گئے (بعد میں دوبارہ) کندھوں تک میرے بال نکل آئے اور میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں ، میں (اس وقت) اپنی ہم جو لی لڑکیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی ، انھوں نے مجھے پکارا میں گئی ، میں نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر کے دروازے پر لے جا کر کھڑا کیا۔ میں ہانپ رہی تھی ، جب میری سانس ٹھہری تو انھوں نے پانی سے میرا سر اور منہ پونچھا پھر گھر کے اندر لے گئیں ، وہاں انصار کی چند عورتیں بیٹھی تھیں ، انھوں نے کہا کہ مبارک ہو مبارک ہو ، تمہارا نصیب بہت اچھا ہے ، پس (میری ماں نے) مجھے ان کے سپرد کیا اور انھوں نے میرا بناؤ سنگھار کیا اور میں اس وقت گھبرا گئی جب چاشت کے وقت یکدم نبیﷺ تشریف لائے تو (ان عورتوں نے) مجھے آپﷺ کے سپرد کیا ، اور اس وقت میری عمر نو سال تھی۔ ''

(۱۵۹۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا :'' میں نے تجھے دو دفعہ خواب میں دیکھا کہ تو ایک ریشمی کپڑے کے ٹکڑے میں (لپٹے ہوئے) ہے اور (مجھ سے) کہا جاتا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں نے جو کھول کر دیکھا تو اندر تو ہی تھی ، میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ اس کو ضرور پورا کرے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ اور آپ کے صحابہ کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
(۱۵۹۳)۔م المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ جب سے مجھے اپنے والدین کی شناخت ہوئی (اتنی عقل آئی) تو میں نے ان کو دین سلام ہی پر پایا اور ہمارا کوئی دن نہیں گزرتا تھا کہ اس میں نبیﷺ ہمارے پاس تشریف نہ لائے ہوں ، آپﷺ دن میں دو دفعہ آتے ، صبح اور شام کو۔ پھر جب مسلمانوں کو (مشرکین سے) سخت تکلیف پہنچنے لگیں تو سیدنا ابو بکرؓ حبشہ کی طرف ہجرت کی نیت سے نکلے یہاں تک کہ جب مقام برک غماد میں پہنچے تو وہاں ابن الدغنہ سے ملے ، وہ قوم کا قارہ کا سر دار تھا ، اس نے کہا کہ اے ابوبکر ! کہاں کا قصد ہے ؟ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا کہ مجھے میری قوم (قریش) نے نکال دیا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ زمین میں سیروسیاحت کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا کہ اے ابوبکر ! تیرے جیسے لوگ نہ نکلتے ہیں اور نہ نکالے جاتے ہیں ، تم لوگوں کو جو چیز ان کے پاس نہیں ہوتی وہ مہیا کر دیتے ہو ،صلہ رحمی کرتے ہو ، لوگوں کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لیتے ہو ، مہمان نوازی کرتے ہو اور جھگڑوں میں حق کی مدد کرتے ہو۔ پس میں تمہیں پناہ دیتا ہوں ، تم واپس لوٹ جاؤ اور اپنے شہر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرو۔ پس سیدنا ابو بکرؓ واپس آ گئے اور ابن الدغنہ بھی آپؓ کے ساتھ آیا اور ابن الدغنہ شام کے وقت قریش کے سر داروں کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ بے شک ابو بکرؓ جیسا (عمدہ) آدمی نہ نکلتا ہے اور نہ (قوم سے) نکالا جاتا ہے ، کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو لوگوں کو وہ چیزیں مہیا کرتا ہے جوان کے پاس نہیں ہوتیں اور صلہ رحمی کرتا ہے ، دوسروں کا بوجھ اپنے سر لینے والا ، مہمان نواز اور حق والے شخص کی مدد کرنے والا ہے۔ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ کو رد نہیں کیا (منظور کر لیا) اور ابن الدغنہ سے کہا کہ تم ابو بکرؓ کو سمجھا دو کہ وہ اپنے گھر میں اللہ کی عبادت کریں اور وہیں نمازیں پڑھیں اور قرأت کریں اور اس سے ہمیں اذیت نہ دیں اور نہ اس کو اعلانیہ پیش کریں کیونکہ ہم (اعلانیہ پیش کرنے سے) اپنی عورتوں اور بیٹوں کے بگڑ جانے کا خوف رکھتے ہیں۔ پس ان الدغنہ نے سیدنا ابو بکرؓ سے یہ سب کہہ دیا ، پس سیدنا ابو بکرؓ اسی شرط پر مکہ میں رہے۔ وہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرتے اور اعلانیہ نماز پڑھتے اور نہ اپنے گھر کے سوا کہیں اور قرآن پڑھتے۔ پھر سیدنا ابو بکرؓ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی اور اس میں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ، پس مشرکین کی عورتیں اور ان کے بیٹے (بہت سے لوگ) اکٹھے ہو جاتے اور وہ سب (قرآن سن کر) انھیں دیکھتے اور تعجب کا اظہار کرتے اور سیدنا ابو بکرؓ بہت زیادہ رونے والے آدمی تھے ، جب وہ قرآن پڑھتے تو اپنے آنسو نہ روک سکتے ، اس صورت حال سے مشرکین قریش گھبرا گئے اور ابن الدغنہ کو بلوایا ،وہ ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا کہ ہم نے ابوبکرؓ کو تیری پناہ میں دینا اس شرط سے قبول کیا تھا کہ وہ اپنے گھر میں رہ کر پروردگار کی عبادت کریں اور اس نے اس شرط کے خلاف کیا اور اس نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی ہے ، وہاں اعلانیہ نماز ادا کرتے اور قرآن پڑھتے ہیں اور بے شک ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے گمراہ نہ ہو جائیں ، تم ابو بکرؓ کو اس سے رو کو ، اگر وہ صرف اپنے گھر کے اندر عبادت کرتے ہیں تو کرتے رہیں اور اگر وہ نہ مانیں اور اعلانیہ عبادت کرنے پر ہی ڈٹے رہیں تو تم اپنی پناہ ان سے واپس مانگ لو ، ہم تمہاری پناہ توڑنا پسند نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں کرسکتے کہ ابوبکرؓ کو اعلانیہ عبادت کرنے دیں۔ عائشہؓ کہتی ہیں کہ ابن دغنہ (یہ سب سن کر) سیدنا ابوبکر کے پاس آیا اور کہا کہ بے شک تم جانتے ہو کہ میں نے جو شرط قریش کے لوگوں سے ٹھہرائی تھی اب تم یا تو اس شرط پر قائم رہو یا میری پناہ واپس کر دو کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ عرب لوگ یہ خبر سنیں کر میں نے جس شخص کو امان دی تھی اس کی امان توڑ دی گئی۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا کہ میں تجھے تیری امان واپس کرتا ہوں اور اللہ عزوجل کی پناہ پر راضی ہوں اور نبیﷺ بھی ان دنوں مکہ ہی میں تھے۔ پس نبیﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا :'' مجھے تم لوگوں کی ہجرت کا مقام دکھلایا گیا وہاں کھجور کے درخت ہیں اور دونوں طرف پتھریلے میدان ہیں۔ '' یعنی مدینہ کے وہ دونوں پتھریلے میدان جن کو حرتین کہتے ہیں ، جن مسلمانوں سے ہو سکا وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور بہت سے وہ مسلمان بھی جو حبش کی طرف (اس سے پہلے) ہجرت کر چکے تھے ، مدینہ ہی میں لوٹ آئے اور سیدنا ابو بکرؓ نے بھی مدینہ جانے کی تیاری کی تو رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا :'' تم ٹھہر جاؤ ! مجھے امید ہے کہ مجھے بھی (ہجرت کی) اجازت ملے گی۔ '' سیدنا ابو بکرؓ نے کہا کہ آپ پر میرا باپ صدقے !کیا آپ کو یہ امید ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' ہاں۔ '' پس سیدنا ابو بکرؓ رک گئے اور اپنی دو اونٹیوں کو ، جو ان کے پاس تھیں ، چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے (اس سے اونٹ خوب تیز ہو جاتا ہے) عائشہؓ کہتی ہیں کہ ایک دن ہم ٹھیک دوپہر کے وقت ابو بکرؓ کے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک کہنے والے نے کہا کہ (دیکھو) رسول اللہﷺ ایسے وقت پر آئے جو آپﷺ کے تشریف لانے کا وقت نہ تھا۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا کہ میرے ماں باپ آپﷺ پر صدقے اللہ کی قسم ! آپﷺ جو اس وقت آئے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے ، پس رسول اللہﷺ آ پہنچے اور (اندر آنے کی) اجازت مانگی۔ اجازت دی گئی تو آپﷺ اندر داخل ہوئے تو نبیﷺ نے ابو بکرؓ سے فرمایا :'' اپنے لوگوں سے کہو ذرا باہر جائیں۔ '' سیدنا ابو بکرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ پر میرا باپ صدقے ، یہاں صرف آپ کے گھر والے ہیں (یعنی عائشہ اور ان کی والدہ ام رومانؓ) نبیﷺ نے فرمایا :'' مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ '' تو سیدنا ابو بکرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کے ساتھ رہوں گا ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' ہاں '' تو سیدنا ابو بکرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ان دونوں اونٹنیوں میں سے کوئی اونٹنی لے لیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' اچھا (مگر میں) قیمت سے لوں گا۔ '' عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہم نے جلدی سے دونوں کے سفر کا سامان تیار کیا اور ایک چمڑے کے تھیلے میں رکھا تو سیدہ اسماءؓ نے اپنا کمر بند پھاڑا اور اس سے تھیلے کا منہ باندھا ، (اسی وجہ سے) ان کا نام ذات النطاقین رکھا گیا۔
عائشہؓ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہﷺ اور ابو بکر صدیقؓ دونوں (مکہ سے تین میل پر) ثور پہاڑ کی غار میں چلے گئے ، پس وہاں یہ لوگ تین راتیں رہے۔ عبداللہ بن ابی بکرؓ جو جوان گھبرو بڑا چالا ک ہوشیار تھے ، رات کو غار میں جا کر ان کے پاس رہتا اورسحر کے وقت واپس چلا آتا اور صبح قریش کے لوگوں کے ساتھ کرتا جیسے رات مکہ ہی میں گزاری ہو اور پھر جتنی باتیں نبیﷺ اور سیدنا ابو بکرؓ کو نقصان پہنچانے کی سنتا ، وہ یاد رکھتا اور رات کا اندھیرا ہوتے ہی (غار پر آ کر)نبیﷺ اور ابو بکرؓ کو سنا دیتا اور عامر بن فہیرہ جوابو بکرؓ کے غلام تھے ، وہ ایک ایک دودھیل بکری گلے میں سے روکے رہتے (اس دودھ نہ نچوڑتے) جب ایک گھڑی رات گزر جاتی تو وہ بکری اس غار میں لے کر آتے اور دونوں صاحب تازہ اور گرم گرم دودھ پی کر رات بسر کرتے ، یہاں تک کہ عامر بن فہیرہ اندھیرے ہی میں بکریوں کو آواز دینا شروع کرتے ، تین راتیں برابر ایسا ہی کرتے رہے اور نبیﷺ اور ابو بکرؓ نے قبیلہ نبی الدیل ، جو کہ بنی عبد بن عدی میں سے تھا۔ میں سے ایک شخص کو اجرت پر راہ بتلانے والا (خریت) ٹھہرایا ،خریت اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو راستہ بتلانے میں ماہر ہو۔ یہ شخص عاص بن وائل سہمی کے خاندان کا حلیف تھا (اس نے ہاتھ ڈبو کر ان کے ساتھ حلف کیا تھا) اور وہ کفار قریش کے دین پر تھا ، پس (نبیﷺ اور سیدنا ابو بکرؓ) دونوں نے اس کو امین ٹھہرایا (بھروسا کیا) اور اپنی اونٹنیاں اس کے حوالے کیں اور اس سے یہ وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تین راتوں کے بعد اونٹنیاں لے کر غار ثور آ جائے ، پس وہ (حسب وعدہ) تیسری (رات کی) صبح کو اونٹنیاں لے کر آیا اور آپ دونوں کے ساتھ عامر بن فہیرہؓ اور راستہ بتانے والا شخص روانہ ہوئے اور راستہ بتانے والے نے ساحل سمند ر کا راستہ اختیار کیا۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم المدلجیؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس قریش کے کافروں کا ایک ایلچی آیا اور انھوں نے رسول اللہﷺ اور ابو بکرؓ میں سے ہر ایک کے قتل کرنے یا پکڑ لینے والے کے لیے دیت (یعنی سواونٹوں) وعدہ کیا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ میں بنی مد لج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک شخص انہی کی قوم کا آیا اور ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا ، ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ اے سراقہ ! میں نے ابھی چند آدمیوں کو دیکھا جو ساحل کے راستے سے جا رہے تھے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہ کہتے ہیں کہ میں (دل میں) پہچان گیا کہ یہ وہی لو گ ہوں گے لیکن اس سے میں نے کہا کہ یہ لو گ وہ (محمدﷺ اور ان کے ساتھی) نہیں ہیں لیکن تو نے فلاں اور فلاں اور فلاں کو دیکھا ہو گا جو ابھی ابھی ہمارے سامنے گئے ہیں ، پھر میں گھڑی بھر اسی مجلس میں ٹھہرا رہا اور پھر اٹھ کر اپنے گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا کہ تو میرا گھوڑا نکال اور ٹیلے کے پرے جا کر گھوڑے کو روکے رہ ، میں نے اپنا نیزہ سنبھالا اور گھر کے پچھلے دروازے سے نیزہ کی بھال (نوک) کو زمین پر لگائے ہوئے (یا بھال سے زمین پر لکیر کرتے ہوئے)باہر نکلا اور نیزہ کا اوپر کا حصہ میں نے جھکا دیا اور اسی طرح اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور اس پر سوار ہو گیا اور میں نے اسے دوڑایا تاکہ جلدی پہنچا دے۔ جب میں ان (نبیﷺ اور آپ کے ساتھیوں) کے قریب پہنچا تو میرے گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور میں اس پر سے گر پڑا پھر میں اٹھ کر کھڑا ہو اور ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس میں سے تیر نکالے اور ان سے فال لی کہ کیا میں انھیں ضرور پہنچا سکوں گا یا نہیں تو وہ بات(میرے خلاف) نکلی جسے میں برا سمجھتا تھا ، (لیکن اونٹوں کے لا لچ میں) میں پھر اپنے گھوڑے پر سوارہوا اور فال کے خلاف کیا ، میرا گھوڑا مجھے لے کر (آپﷺ کے) قریب پہنچ گیا ، یہاں تک کہ میں نے آپﷺ کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی اور آپﷺ ادھر ادھر نہ دیکھتے تھے اور سیدنا ابو بکرؓ بار بار ادھر ادھر دیکھ رہے تھے ، اتنے میں میرے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے یہاں تک کہ گھٹنوں تک زمین میں چھپ گئے اور میں اس کے اوپر سے گر پڑا ، پھر میں نے اس ڈانٹا تو وہ اٹھا مگر ایسی مشکل سے کہ اپنے ہاتھ زمین سے نہ نکال سکا ، پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اس کے دونوں ہاتھوں (کے زمین کے باہر نکلنے کی وجہ) سے ایک گرد نکلی جو دھوئیں کی طرح آسمان میں پھیل گئی۔ میں نے پھر تیروں سے فال نکالی تو میری ناپسندیدہ بات نکلی (میرے خلاف نکلی) آخر میں نے انھیں امان (دینے) کے ساتھ پکارا تو وہ رک گئے ، پس میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچا اور جب مجھے ان تک پہنچنے میں یہ مصیبت پیش آئی تو میرے دل میں خیال آیا کہ عنقریب رسول اللہﷺ کا کام (دین اسلام) غالب آ جائے گا پھر میں نے ان سے کہا کہ بے شک آپ کی قوم نے آپ کے بارہ میں دیت مقرر کی ہے اور میں نے وہ سب خبریں بیان کیں جو لوگ ان کے ساتھ چاہتے تھے اور میں نے ان کے سامنے زاد راہ (کھانا) اور (سفر کا) سامان پیش کیا لیکن انھوں نے مجھ سے کچھ نہیں لیا اور نہ مجھ سے مانگا۔ صرف یہ کہا کہ ہمارا حال پوشیدہ رکھنا ، پس میں نے نبیﷺ سے درخواست کی کہ میر ے لئے امن کی ایک تحریر لکھ دیں تو آپﷺ نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا،انہوں نے مجھے
چمڑے کے ایک ٹکڑے پر لکھ دیا اور پھر رسول اللہﷺ روانہ ہو گئے، (عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ) رسول اللہ زبیر اور مسلمانوں کے کئی سواروں سے ملے جو تاجر تھے اور شام کے ملک سے لوٹے آ رہے تھے ، پس سیدنا زبیرؓ نے نبیﷺ اور سیدنا ابو بکرؓ کو سفید کپڑے پہنائے ، ادھر مدینہ میں مسلمانوں نے نبیﷺ کے مکہ سے نکلنے کی خبر سنی تو وہ ہر روز صبح کو (مقام) حرہ تک آتے اور آپﷺ کا انتظار کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ دوپہر کی گرمی (کی شدت) انھیں واپس (ہونے پر مجبور) کر دیتی۔ ایک دن وہ بہت انتظار کے بعد واپس آئے ، جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے کسی کام سے اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر چڑھا تو اس نے رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو سفید پوش (سفید کپڑے پہنے ہوئے) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تھا (جتنا آپﷺ نزدیک ہو رہے ہیں اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریت کا چمکنا کم ہوتا جاتا ہے) پس یہودی اپنے آپ کو بلند آواز سے یہ کہنے سے نہ روک سکا کہ اے گروہ عرب ! یہ تمہارا سر دار ، جس کا تم انتظار کر ر ہے تھے (آ پہنچا) پس مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حرہ میں جا کر آپﷺ سے ملے۔ پس آپﷺ ان کے ساتھ داہنی جانب مڑے یہاں تک کہ بنی عمر و بن عوف کے محلہ میں جا کر اترے اور یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔ پس سیدنا ابوبکرؓ لوگوں (سے ملنے) کے لیے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہﷺ خاموش بیٹھے رہے تو انصار کے کچھ لوگوں نے ، جنہوں نے رسول اللہﷺ کو نہ دیکھا تھا وہ سیدنا ابوبکرؓ (کو نبیﷺ سمجھ کر انہی) کے پاس آتے یہاں تک کہ جب آپﷺ پر دھوپ آنے لگی تو سیدنا ابو بکرؓ آگے بڑھے اور آپﷺ پر اپنی چادر سے سایہ کر لیا۔ پھر اس وقت لوگ رسول اللہﷺ کو پہچان گئے ،پس نبیﷺ دس سے کچھ اوپر راتوں تک بنی عمر و بن عوف میں رہے اور اس مسجد (قبا) کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد تقویٰ (پرہیز گاری) پر رکھی گئی اور رسول اللہﷺ نے اس میں نما ز ادا فرمائی پھر اپنی سواری (اونٹنی) پر سوار ہو کر چلے اور لوگ آپﷺ کے ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ مدینہ میں مسجد نبوی کے پاس جا کر (اونٹنی) بیٹھ گئی اور ان دونوں اس جگہ کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ زمین دو یتیم لڑکوں سہیل اور سہل کی تھی جو کہ اسعد بن زرارہ کی پرورش میں تھے پس جب اونٹنی بیٹھ گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' ان شاء اللہ یہی ہمارا (رہنے کا) مقام ہو گا۔ '' پھر رسول اللہﷺ نے دونوں لڑکوں (سہیل اور سہل) کو بلایا اور ان سے اس زمین (کھلیان) کی قیمت پوچھی تا کہ وہاں مسجد بنائی جائے ، ان دونوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم یہ زمین آپ کو ہبہ کرتے ہیں (قیمت نہ لیں گے) پس رسول اللہﷺ نے بطور ہبہ (تحفہ) لینے سے انکار کر دیا بلکہ ان دونوں سے خرید لی پھر وہاں مسجد بنانا شروع کی اور اس کے بنانے کے لیے خود بھی سب لوگوں کے ہمراہ اینٹیں اٹھا اٹھا کر لے جاتے تھے اور فرماتے ::
'' یہ بوجھ اٹھانا خیبر کا بوجھ اٹھانے سے بہتر ہے بلکہ اس کا اجرو ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اور اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے۔ ''

(۱۵۹۴)۔ سیدہ اسماءؓ سے روایت ہے کہ (سیدنا) عبداللہ بن زبیرؓ ان کے پیٹ میں تھے کہتی ہیں کہ میں (مکہ سے ہجرت کی نیت سے) اس وقت نکلی جب پورے دنوں کا پیٹ تھا ، میں مدینہ میں آ کر قبا میں اتری اور وہاں سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ پیدا ہوئے ، میں انھیں لے کر نبیﷺ کے پاس آئی۔ پس آپﷺ نے انھیں اپنی گود میں بٹھا یا پھر ایک کھجور منگوائی اور اس کو چبایا ، پھر اس کو ان کے منہ میں ڈال دیا تو پہلی چیز جو عبداللہؓ کے پیٹ میں پہنچی وہ رسول اللہﷺ کا تھوک تھا۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے کھجور چبا کر ان کے منہ میں ڈالی اور ان کے لیے دعا فرمائی اور برکت کی دعا فرمائی اور یہ (سیدنا عبداللہؓ مہاجرین اسلام کے) پہلے بچے تھے جو اسلام میں پیدا ہوئے۔

(۱۵۹۵)۔ سیدنا ابو بکرؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کیسا تھ غار (ثور) میں تھا کہ میں نے اپنا سر اٹھایا تو (مشرک) لوگوں کے پاؤں دیکھے تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کسی نے اپنی نظر نیچے کی تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپﷺ نے فرمایا :'' اے ابو بکر ! خاموش رہ ہم دو آدمی ایسے ہیں جن کے ساتھ تیسرا (ساتھی) اللہ ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا مدینہ میں تشریف لانا۔
(۱۵۹۶)۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہمارے پاس (مکہ سے) سیدنا معصب بن عمیرؓ آئے۔ ان کے بعد سیدنا ابن ام مکتومؓ آئے (جو نا بینا تھے) اور وہ دونوں لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے پھر سیدنا بلالؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ اور عمار بن یاسرؓ (آئے) پھر سیدنا عمر بن خطابؓ نبیﷺ کے بیس صحابہؓ کے ساتھ آئے پھر نبیﷺ تشریف لائے پس میں نے مدینہ والوں کو کسی بات سے اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ رسول اللہﷺ کے تشریف لانے سے خوش ہوئے یہاں تک کہ لونڈیاں بھی یہی کہنے لگیں کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے اور نبیﷺ ابھی (مدینہ میں) تشریف نہیں لائے تھے کہ میں '' اپنے بہت ہی پاکیزہ رب کی پاکی بیان کر '' (سورۃ الاعلیٰ :۱) اور مفصل کی کئی سورتیں پڑ ھ چکا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس نے مکہ سے ہجرت کی اس کو حج یا عمرہ کر کے پھر مکہ میں رہنا کیسا ہے ؟
(۱۵۹۷)۔ سیدنا لعلا ء بن حضرمیؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' مہاجر کو منیٰ سے لوٹنے کے بعد (جب حج ختم ہو جائے تو) تین دن تک (مکہ میں) رہنا درست ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
نبیﷺ کے پاس،جب آپﷺ مدینہ میں آئے ،یہودیوں کا آنا۔
(۱۵۹۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' اگر دس یہودی بھی مجھ پر ایمان لے آتے تو سب یہودی مسلمان ہو جائے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
غزوات کے بیان میں

غزوۂ عشیرہ کا بیان
(۱۵۹۹)۔ سیدنا زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ نبیﷺ نے کتنے غزوے کیے ؟ '' انھوں نے جواب دیا کہ انیس (۱۹)۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ کتنے غزوات میں نبیﷺ کے ہمراہ تھے ؟ تو انھوں نے کہا کہ سترہ غزوات میں۔ پھر پوچھا گیا کہ ان میں سے سب سے پہلے کو نسا غزوہ ہو ا؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ '' غزویہ عشیر یاعسیرہ۔ ''
 
Top