Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان '' (یاد کرو کہ) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔۔۔ سخت سزا دینے والا ہے۔ ''(الانفال :۹۔۔۔ ۱۳)
(۱۶۰۰)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا مقدام بن اسودؓ کی ایک ایسی بات دیکھی کہ اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو میں اس مقابل میں کسی نیکی کو نہ سمجھتا ، وہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہوتی۔ (ہوا یہ کہ) نبیﷺ مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے کہ اتنے میں مقدادؓ آن پہنچے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم (کبھی بھی) اس طرح نہیں کہیں گے جیسا کہ موسیٰؑ کی قوم نے ان سے کہا تھا '' تم اور تمہارا پروردگار جاؤ اور دشمنوں سے لڑو '' (سورۂ المائدہ :۲۴)بلکہ ہم تو آپ کی داہنی طرف سے اور بائیں طرف سے اور سامنے سے پیچھے کی طرف سے (دشمنوں کے مقابل) لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ (یہ بات سن کر) نبیﷺ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپﷺ خوش ہو گئے۔
(۱۶۰۰)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا مقدام بن اسودؓ کی ایک ایسی بات دیکھی کہ اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو میں اس مقابل میں کسی نیکی کو نہ سمجھتا ، وہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہوتی۔ (ہوا یہ کہ) نبیﷺ مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے کہ اتنے میں مقدادؓ آن پہنچے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم (کبھی بھی) اس طرح نہیں کہیں گے جیسا کہ موسیٰؑ کی قوم نے ان سے کہا تھا '' تم اور تمہارا پروردگار جاؤ اور دشمنوں سے لڑو '' (سورۂ المائدہ :۲۴)بلکہ ہم تو آپ کی داہنی طرف سے اور بائیں طرف سے اور سامنے سے پیچھے کی طرف سے (دشمنوں کے مقابل) لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ (یہ بات سن کر) نبیﷺ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپﷺ خوش ہو گئے۔