• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں۔۔۔ (آل عمران :۷۷)کے بیان میں۔
(۱۷۲۵)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ان سے دو عورتوں کا جھگڑا بیان کیا گیا جو کہ ایک گھر یا کوٹھڑی میں بیٹھی موزہ سی رہی تھیں ، اتنے میں (ان دونوں میں سے) ایک باہر نکلی اس کی ہتھیلی میں موزہ سینے کی سوئی (آر) چبھو دی گئی تھی اس نے دوسری عورت پر دعویٰ کیا (جو اس کے ساتھ تھی) جب یہ مقدمہ سیدنا ابن وعباسؓ کے پاس لایا گیا تو سیدنا ابن عباسؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :''اگر لوگوں کو دعویٰ کرنے کی بنا پر ان کے حق میں فیصلہ کر دیا جاتا (جو دعویٰ کرتے) تو کتنوں کے خون اور مال تلف ہو جاتے۔ ''تم اس دوسری عورت کو (مدعی علیہا) کو اللہ تعالیٰ سے ڈراؤ اور یہ آیت سنا ؤ '' بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں۔۔۔ ''جب لوگوں نے ایسا کیا تو (وہ ڈر گئی اور) اس نے جرم کا اقرار کیا تو سیدنا بن عباسؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :'' قسم مدعی علیہ پر ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' بے شک کافروں نے تمہارے مقابلے پر لشکر جمع کیے ہیں۔۔۔ (آل عمران :۱۷۷)
(۱۷۲۶)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ﴿حَسْبُنَا اﷲُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ﴾سیدنا ابراہیمؑ نے اس وقت کہا تھا جب وہ آگ میں ڈالے گئے تھے اور رسول اللہﷺ نے بھی یہ کلمہ اس وقت کہا تھا جب لوگوں نے ان سے کہا :'' قریش کے کافروں نے آپﷺ سے لڑنے کے لیے بہت بڑا لشکر جمع کیا ہے ان سے ڈرتے رہنا۔ یہ خبر سن کر صحابہؓ کا ایمان بڑھ گیا اور انھوں نے یہی کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہ اچھا کام کرنے والا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اور یہ بھی یقین ہے کہ تمہیں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور مشرکوں کی بہت سے دکھ دینے والی باتیں بھی سننا پڑیں گی۔''(آل عمران :۔ ۱۸۶)
(۱۷۲۷)۔ سیدنا اسامہ بن زیدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر (شہر) فدک کی (بنی ہوئی) چادر پڑی تھی اور اسامہ بن زیدؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ آپﷺ بنی حارث بن خزرج کے محلہ میں ، سیدنا سعد بن عبادہؓ کی عیادت کو تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے۔ راستے میں ایک مجلس پر سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول (مشہور منافق) بیٹھا تھا ، اس وقت تک عبداللہ بن ابی (ظاہر میں بھی) مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس مجلس میں ہر قسم کے لوگ تھے کہ کچھ مسلمان کچھ مشرک بت پرست اور کچھ یہود۔ اس مجلس میں سیدنا عبداللہ بن راوحہؓ (مشہور صحابی) بھی موجود تھے۔ جب گدھے کے پاؤں کی گرد مجلس والوں پر پڑنے لگی (یعنی سواری قریب آ پہنچی) تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک چادر سے ڈھک سے لی اور کہا کہ ہم پر گرد مت اڑاؤ۔ رسول اللہﷺ نے سلام کیا اور پھر ٹھہر گئے اور سواری سے اتر پڑے اور ان کو قرآن پڑھ کر سنانے لگے اور (ان مجلس والوں کو) اللہ کی طرف بلایا۔ اس وقت عبداللہ بن ابی نے کہا اے شخص ! اگرچہ تیرا کلام بہت اچھا ہے ،اگر یہ سچ ہے تو بھی ہماری مجلسوں میں مت سنا۔ اپنے گھر کو جا،وہاں جو تیرے پاس آئے اس کو یہ قصے سنا۔ عبداللہ بن ابی رواحہؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! نہیں بلکہ آپ ہماری پر ایک مجلس میں ضرور آیا کیجیے ہمیں یہ بہت اچھا لگتا ہے۔ اس بات پر مسلمانوں ،مشرکوں اور یہودیوں میں گالم گلوچ ہونے لگی اور قریب تھا کہ لڑائی شروع ہو جائے تو رسول اللہﷺ ان سب کو چپ کرانے لگے ، آخر کار وہ سب خاموش ہو گئے پھر رسول اللہﷺ سوار ہوئے اور سیدنا سعد بن عبادہؓ کے ہاں گئے اور ان سے فرمایا :'' اے سعد ! تو نے ابو حباب کی باتیں نہیں سنیں ؟ آپﷺ کی ابو حباب سے عبداللہ بن ابی مراد تھا ، اس نے ایسا ایسا کہا ہے۔ ''سیدنا سعد بن عبادہؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ اسے معاف کر دیجیے اور اس سے درگزر فرمایے اور قسم اس ذات کی جس نے آپﷺ پر کتاب نازل کی ہے کہ اللہ کی جانب سے جو کچھ آپﷺ پر اترا ہے وہ برحق اور سچ ہے۔ (وجہ یہ ہے کہ) اس بستی کے لوگوں نے (آپﷺ کے آنے سے پہلے) یہ فیصلہ کیا تھا کہ عبداللہ بن ابی کو سرداری کا تاج پہنائیں گے اور اس کو اپنا والی اور رئیس بنائیں گے۔ پس جب اللہ نے یہ بات (عبداللہ بن ابی کا سردار ہونا) نہ چاہی بوجہ اس حق کے جو آپﷺ کو عطا کیا ہے تو اس کو آپﷺ کا قصور معاف کر دیا اور رسول اللہﷺ اور ان کے اصحاب کی عادت مبارکہ تھی کہ بت پرستوں اور یہودیوں کی ایسی ایسی ناشائستہ حرکات کو معاف کر دیا کرتے تھے جیسے کہ اللہ نے ان کو حکم فرمایا تھا :
'' اور یقیناً تم بہت سی دل آزادی کی باتیں ان سے بھی سنوگے جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں اور اگر تم صبر کرو تو یہ بڑے عزم و حوصلہ کی بات ہے۔ '' اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :'' بہت سے اہل کتاب تو دل ہی سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان (لے آنے) کے بعد پھر سے کافر بنا لیں ، حسد کی راہ سے جو ان کے دلوں میں ہے۔ ''
آخری آیت تک۔
اور ان کی ایذا دہی پر صبر کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان سے لڑنے کا حکم دیا۔ جب آپﷺ نے بدر میں جنگ کی تو بڑے بڑے قریش کے رئیسوں کو اللہ نے قتل کرایا تو عبداللہ بن ابی ابن سلول نے اور جو اس کے ساتھ مشرک اور بت پرست تھے کہا کہ اب (تو اس دین میں شریک ہونے کا) موقع آن پہنچا (کہ اس کا غلبہ ہو گیا) تو اب رسول اللہﷺ سے اسلام پر بیعت کر لو۔ اس پروہ سب(ظاہری طور پر) مسلمان ہوئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول'' وہ لو گ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں۔۔۔ ''(آل عمران :۱۸۸)کے بیان میں۔
(۱۷۲۸)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ کے عہد میں چند منافق تھے جو بظاہر مسلمان ہو گئے تھے۔ جب رسول اللہﷺ جہاد کو جاتے تو وہ (مدینہ میں) پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہﷺ کی ساتھ نہ جانے پر خوش ہوتے پھر جب آپﷺ جہاد سے لوٹ کر آتے تو وہ (طرح طرح) کے بہانے بناتے اور قسمیں کھاتے (کہ ان وجوہات کی وجہ سے ہم نہ جا سکے) اور ان کوایسے کام پر تعریف ہونا پسند آتا جس کو انھوں نے نہ کیا ہوتا۔ پس یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی کہ '' وہ لو گ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انھوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں۔۔۔۔ ''

(۱۷۲۹)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے کہا گیا ہر شخص ان نعمتوں پر جو اس کو ملی ہیں خوش ہے اور یہ بات بھی پسند کرتا ہے کہ جو کام اس نے نہیں کیا اس پر اس کی تعریف کی جائے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کو آخرت میں عذاب ہو گا ، اگر یہ بات ہے تو ہم سب ضرور عذاب دیئے جائیں گے تو سیدنا ابن عباسؓ نے جواب دیا کہ تمہیں اس قصہ سے کیا مطلب ؟بیشک یہ اس وقت نازل ہوئی جب ایک روز نبیﷺ نے چند یہودیوں کو بلایا اور ان سے دین کی کوئی بات دریافت فرمائی۔ انھوں نے اصلی بات کو چھپایا اور کوئی غلط بات بتا دی ، پھر یہ سمجھے کہ ہم آپﷺ کے نزدیک تعریف کے لائق ٹھہریں گے کہ آپﷺ نے جو بات پوچھی ہم نے بتا دی اور اس (مکر اور اصلی بات کو چھپانے) سے بہت خوش ہوئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۃ النساء
باب۔ اللہ کا یہ فرما ن'' اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو ''(النساء:۳)
(۱۷۳۰)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے عروہ بن زبیرؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول '' اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکوگے '' کے بار ے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اے میرے بھانجے ! اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یتیم عورت اپنے والی کی پرورش میں ہو اور اس کے مال میں شریک ہو تو اس کے ولی کو اس کی مالداری اور خوبصورتی پسند آئے اور اس سے نکاح کرنا چاہیے اور اس کو مہر انصاف کے ساتھ (جتنا اس کو دوسرے لوگ دیں) نہ دینا چاہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ کہ جب تک ان کا پورا مہر انصاف کے ساتھ نہ ،دیں نکاح کر نے سے منع فرمایا ہے اور ان کو یہ حکم دیا گیا تو تم ان یتیم عورتوں کے سوا اور جو عورتیں تمہیں اچھی معلوم ہو ں ان سے نکاح کر لو۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ چند آدمیوں نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبیﷺ سے ان عورتوں کے بارے میں فتویٰ لینا چاہا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی '' آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں (النساء:۱۲۷)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ نے کہا کہ دوسری آیت میں جو یہ فرمایا کہ ''یعنی وہ یتیم عورتیں جن کا مال اور جمال کم ہو اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرو '' تو اللہ کا یہ حکم ہوا کہ جو عورتیں یتیم ہیں اور ان کی طرف بوجہ قلت مال اور کم خوبصورتی کے رغبت نہیں کرتے تھے ، اگر ان کے پاس کثیر مال ہو تو ان سے نکاح نہ کرو مگر اس صورت میں کہ ان کے مال اور مہر میں انصاف کرو۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولادوں کی بابت وصیت کرتا ہے۔ ''(النساء:۱۱)
(۱۷۳۱)۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اور ابو بکر صدیقؓ پیدل چلتے ہوئے بنی سلمہ کے محلہ میں میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور نبیﷺ نے دیکھا کہ میں بیہوش پڑا ہوں تو آپﷺ نے پانی مانگا اور وضو کیا اور پھر پانی میرے اوپر چھڑکا تو مجھے ہوش آگیا میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں اپنے مال کو کس طرح بانٹوں ؟ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ '' اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولادوں کی بابت وصیت کرتا ہے ''۔۔۔ پوری آیت۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ ''(النساء :۔ ۴۰)
(۱۷۳۲)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ سے چند آدمیوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟۔۔۔ اور پوری حدیث بیان کی جو کہ پہلے گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث ۴۲۳)پھر کہا :'' جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک پکارنے والا یوں پکارے گا کہ یہ شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اسی کے ساتھ چلا جائے۔ پس غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں میں سے کوئی فرد باقی نہ رہے گا ، سب اپنے معبودوں ، بتوں اور تھان وغیرہ کے ساتھ دوزخ میں جا کر گر جائیں گے ، یہاں تک کہ صرف وہی لو گ رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ ان میں اچھے اور برے مسلمان لوگ ہوں گے اور اہل کتاب کے کچھ باقی رہ جانے والے لوگ۔ سب سے پہلے یہود بلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر (علیہ السلام) کی جو اللہ کا بیٹا ہے عبادت کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جھوٹ کہا ، اللہ نے اپنی بیوی اور بیٹا کسی کو نہیں بنایا۔ اب تم کیا چاہتے ہو ؟ یہود کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں پیاس لگی ہے ، ہمیں پانی پلا۔ پھر ان کی طرف اشارہ کیا جائے گا ، کیا تم دوزخ میں نہیں گر پڑتے ؟ اسی وقت سب کے سب آگ کی طرف بیتاب ہو کر دوڑیں گے ، گو یا آگ پانی ہے (جو ان کی پیاس بجھا دے گی) اور آگ میں گر پڑیں گے۔ پھر نصاریٰ بلائے جائیں گے ، اور ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے بیٹے مسیح کی عبادت کرتے تھے۔ کہا جائیگا تم نے جھوٹ کہا۔ اللہ کی کوئی بیوی اور کوئی بیٹا نہیں۔ پھر کہا جائے گا کہ اب تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ بھی ویسا ہی کہیں جیسا یہود نے کہا تھا اور ان کی طرح اس میں گر پڑیں گے یہاں تک کہ کوئی باقی نہ رہے گا مگر جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ نیک بندوں میں سے یا گنہگاروں میں سے ، وہ رہ جائیں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ایک صورت میں ظاہر ہو گا جو پہلی صورت سے جس کو وہ دیکھ چکے ہوں گے ملتی جلتی ہو گی لیکن وہ پہلی صورت نہ ہو گی اور ان سے کہا جائے گا تم کس کے انتظار میں کھڑے ہو ؟ کیونکہ ہر امت اپنے معبود کے ساتھ لگی جا رہی ہے تو وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں تو ، جب کہ ہمیں ان گمراہ کن لوگوں کی احتیاج تھی ،ان سے جدا رہے اور ان کا ساتھ نہیں دیا ، ہم تو اپنے سچے رب کے انتظار میں ہیں کہ جس کی ہم عبادت کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کہے گا کہ میں ہی تمہارا (سچا) رب ہوں تو وہ کہیں گے کہ ہم کسی کو بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے۔ یہ جملہ دو یا تین مرتبہ کہیں گے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' پس کیا حال ہو گا جس وقت کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے۔ ''(النساء۔ :۴۱)
(۱۷۳۳)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا :'' مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ '' میں نے عرض کی بھلا میں کیا سناؤں ، قرآن تو آپ پر ہی اترا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' مجھے دوسرے سے سننا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ تو میں نے سورۂ نساء شروع کی اور جب میں اس آیت پر پہنچا ''پس کیا حال ہو گا جس وقت کہ ہم ہر مت میں سے ایک گواہ لائیں گے۔ '' تو آپﷺ نے فرمایا '' بس کر۔ '' اور آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ، جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے۔۔۔ '' (سورۃ النساء :۹۷)
(۱۷۳۴)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ کے عہد میں چند مسلمان مشرکوں کے ساتھ ہو گئے تا کہ ان کی جماعت بڑ ھ جائے اور پھر (لڑائی کے موقع پر) ایک تیر آتا تو ان میں سے کوئی مارا جاتا یا تلوار کی ضرب سے کوئی قتل کیا جاتا تو اس وقت یہ نازل ہوئی :'' جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ، جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے۔۔۔۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا قول '' یقیناً ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے جیسے نوح (علیہ السلام) اور یونس ، ہارون اور سلیمان کی طرف۔۔۔ ''(سورۃ النساء :۔ ۱۶۳)
(۱۷۳۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' جو شخص اپنے آپ کو یونس بن متی (پیغمبرؑ) سے اچھا کہے تو وہ جھوٹا ہے۔ ''
 
Top