• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: قرآن مجید خوش الحانی کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔
(۱۸۲۳)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے نبیﷺ نے فرمایا :'' اے ابو موسیٰ !تجھے آل داؤد کی خوش الحانی میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: قرآن کتنی مدت میں مکمل پڑھنا چاہیے ؟
(۱۸۲۴)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر وؓ کہتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا عمرو بن عاص) رضی اللہ عنہ نے ایک اچھے خاندان کی عورت سے مرا نکاح کر دیا تھا اور وہ اپنی بہو سے (اکثر اوقات) اس کے شوہر کا (میرا) حال پوچھتے رہتے ، وہ جواب دیتی ہاں ہاں اچھا اور نیک آدمی ہے مگر جب سے میں آئی ہوں کہ میرے تو بچھو نے پر کبھی قدم بھی نہیں رکھا اور نہ میرے قریب آیا۔ جب ایک عرصہ گزر گیا تو (میرے والد نے) نبیﷺ سے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اسے میرے پاس لاؤ ؟ '' میں (آپ کے بلانے سے) آپﷺ کے پاس گیا تو آپﷺ نے پوچھا تو روزے کس طرح رکھتا ہے ؟ '' میں نے کہا روزانہ (رکھتا ہوں) پھر فرمایا :'' تو قرآن کیونکر مکمل کرتا ہے ؟ '' میں نے کہا ہر رات۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور مہینے بھر میں قرآن مکمل پڑھا کر و۔ '' میں نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ طاقت حاصل ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ایک ہفتہ میں تین روزے رکھ لیا کر۔ '' میں نے کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت حاصل ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ہمیشہ دو دن افطار کیا کہ اور ایک دن روزہ رکھا کر۔ '' میں نے کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت حاصل ہے تو آپﷺ نے فرمایا :'' اچھا ! سب روزوں سے افضل روزہ داؤدؑ کا اختیار کر یعنی ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر اور سات راتوں میں قرآن مکمل کر۔ ''(سیدنا عبداللہ بن عمر وؓ کہتے ہیں) کا ش! میں رسول اللہﷺ کی رخصت منظور کر لیتا کیونکہ اب میں بوڑھا اور ضعیف ہو گیا ہوں (مجھ میں وہ طاقت نہ رہی) پھر وہ قرآن کا ساتواں حصہ (ایک منزل) اپنے گھر والوں سے کسی کو دن میں سنا دیا کرتے تھے۔ جو منزل رات کو پڑھنا ہوتی وہ دن میں دہرا لیتے تا کہ رات کو اس کا پڑھنا آسان ہو جائے اور جب کمزور ہو جاتے اور طاقت حاصل کرنا چاہتے تو کئی روز تک مسلسل روزہ رکھتے پھر (وہ دن) شمار کر کے اتنے روزے رکھ لیتے ، انھیں یہ برا معلوم ہوتا کہ کہیں کوئی امر ایسا رہ جائے جو وہ رسول اللہﷺ کے سامنے کیا کرتے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص قرآن لوگوں کے دکھانے کو پڑھے یا دنیا کمانے کے لیے۔۔۔ الخ
(۱۸۲۵)۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، فرماتے تھے :'' تم میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابل اور اپنے روزے ان کے روزوں اور اپنے (دوسرے) نیک اعمال کو ان کے اعمال کے مقابل حقیر سمجھو گے اور وہ قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور میں سے باہر نکل جاتا ہے کہ شکار ی کو نہ پیکان میں کچھ معلوم ہو اور نہ ڈنڈی میں کچھ لگا ہوا معلوم ہو اور نہ پَر پر کچھ اثر ہو بس سوفار کچھ شبہ ساہو (شکار یپیکان کو دیکھے تو اس میں کچھ نظر نہ آئے)۔

(۱۸۲۶)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جو مومن قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال ترنج کی سی ہے کہ اس کا مزا بھی اچھا ہے اور خوشبو بھی اچھی اور جو مسلمان قرآن نہیں پڑھتا اور (لیکن) عمل کرتا ہے وہ کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزا تو اچھا ہے لیکن خوشبو کچھ نہیں اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے تو خوشبو دار گل بیونہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے مگر مزا کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کا پھل ہے کہ جس کا مزا بھی کڑوا ہے اور برا بھی اور خوشبو بھی خراب ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ قرآن اسی وقت تک پڑھنا چاہیے ، جب تک دل لگا رہے۔
(۱۸۲۷)۔ سیدنا جندب بن عبداللہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جب تک تمہارا دل لگا رہے تم قرآن مجید پڑھتے ہو اور جب تم میں اختلاف پڑھ جائے تو قرآن کی تلاوت موقوف کر دو۔ '' (یعنی بے دلی سے پڑھنے کی وجہ سے الفاظ آگے پیچھے اور غلط ہونے لگ جائیں)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
نکاح کے بیان میں

نکاح کی رغبت دلانے کا بیان۔
(۱۸۲۸)۔ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کی بیویوں کے گھروں میں تین آدمی آپﷺ کی عبادت کا حال پوچھنے آئے۔ جب ان سے بیان کیا تو انھوں نے آپ کی عبادت بہت کم خیال کی (یعنی اپنے لیے اسے کم اور ناکافی سمجھا)۔ پھر انھوں نے کہا ہمیں نبیﷺ سے کیا نسبت ؟ آپﷺ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے گئے ہیں۔ ایک کہا کہ میں تو رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے رکھتا رہوں گا۔ تیسر ے نے کہا کہ میں نکاح نہیں کروں گا (یعنی) عورتوں سے الگ رہوں گا۔ اتنے میں رسول اللہﷺ تشریف لائے اور فرمایا :' ' کیا تم لوگوں نے ایسی ایسی بات کہی ہے ؟ سن لو ! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ حقوق اللہ کی نگہداشت کرنے والا ہوں مگر میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں اور (رات کو) نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں (خبر دار !) جو میری سنت سے منہ پھیرے گا وہ مجھ سے نہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب :نکاح نہ کرنے اور خصی ہو جانے کی کراہیت کا بیان۔
(۱۸۲۹)۔ فاتح ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے تھے کہ نبیﷺ نے عثمان بن مظعونؓ کو تر ک نکاح سے منع فرمایا : اگر آپ انھیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔

(۱۸۳۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی کہ میں جو ان آدمی ہوں اور مجھے خوف ہے کہ کہیں مجھ سے زنانہ ہو جائے اور نکاح کرنے کی مجھ میں استطاعت نہیں تو آپﷺ نے مجھے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے پھر اسی طرح عرض کی تو آپﷺ پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے پھر عرض کی تو آپﷺ نے کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے پھر اسی طرح عرض کی تو آپﷺ نے جواب دیا :'' ابو ہریرہ ! جو کچھ تیری تقدیر میں ہے (اسے لکھ کر) قلم خشک ہو گئی (اب حکم نہیں بدل سکتا) چاہے تو خصی ہو یا نہ ہو۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کنواری عورت سے نکاح کا بیان۔
(۱۸۳۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ کسی مقام میں اتریں اور اس میں ایسے درخت ہوں جس میں سے کھایا ہوا ہو اور کوئی درخت آپ کو ایسا ملے جس میں سے کچھ نہ کھایا گیا ہو تو آپ کون سے درخت سے اپنے اونٹ کو چرائیں گے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' جس میں سے نہیں چرا گیا۔ ام المومنین عائشہؓ کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہﷺ نے میرے علاوہ کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کم سن لڑکی کا بڑی عمر والے سے نکاح کرنا۔
(۱۸۳۲)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو میرے نکاح کا پیغام بھیجا تو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے عرض کی میں تو آپ کا بھائی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تو میرا بھائی اللہ کے دین اور اس کی کتاب کی رو سے ہے اور وہ (عائشہ) میرے لیے حلال ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ (میاں بیوی کا) مذہب میں یکساں ہونا۔
(۱۸۳۳)۔ ام المومنین عائشہؓ سے روایت ہے کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس اور جو کہ غزوۂ بدر میں موجود تھا سالم کو بیٹا بنا کر اس سے اپنی بھتیجی ہندہ دختر ولید بن عتبہ ربیعہ کا نکاح کر دیا۔ سالم ایک انصاری عورت کا غلام تھا جیسے کہ نبیﷺ نے زید کو بیٹا بنا لیا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا قاعدہ تھا اگر کوئی کسی کو بیٹا بناتا تو لوگ اسی کی طرف منسوب کر کے پکارتے تھے اور اس کے مرنے کے بعد وہ وارث بھی ہوتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری '' منہ بولے (لے پالک) بیٹوں کو ان کے اصلی باپ کا بیٹا کہہ کر پکارو۔۔۔ ''(احزاب :۵)تو وہ سب اپنے حقیقی باپوں کے نام سے پکارے جانے لگے او اگر اس کا باپ معلوم نہ ہوتا تو مولیٰ اور دینی بھائی کہا جائے گا۔ بعد ازاں سہلہ بنت سہیل بن عمرو قریشی عامری نے ، جو کہ ابو حذیفہ کی بیوی تھیں ، نبیﷺ سے آ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم سالم کو اپنا بیٹا جانتے تھے اب اللہ نے جو حکم بھیجا ہے وہ آپ کو معلوم (مجھ کو کیا کرنا چاہیے ؟) پھر پوری حدیث بیان کی۔

(۱۸۳۴)۔ ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ضباعہ بنت زبیر (ابن عبدالمطلب) کے پاس جا کر اس سے پوچھا :'' کیا تیرا حج کا ارادہ ہے ؟'' اس نے کہا(ہاں) مگر مجھے شدید درد لاحق ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تو حج کو چلی اور جا (اس میں) شرط کر لے کہ اے اللہ میرے احرام سے باہر ہونے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھ کو (میری کسی بیماری وغیرہ کے عذر سے) روک دے۔ '' اور ضباعہؓ مقداد بن اسودؓ کے نکاح میں تھیں۔

(۱۸۳۵)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' عورت سے (لوگ) چار غرضوں سے نکاح کرتے ہیں (۱)اس کے مال (۲) نسب (۳)خوبصورتی (۴) دینداری کی وجہ سے ، پس تجھے چاہیے کہ دینداری کو حاصل کر (اگر نہ مانے تو) تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔ ''

(۱۸۳۶)۔ سیدنا سہلؓ کہتے ہیں کہ ایک مالدار شخص رسول اللہﷺ کے پاس سے گزرا تو آپﷺ نے فرمایا :'' تم لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟'' انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا شخص ہے کہ اگر کہیں (نکاح کا) پیغام بھیجے تو وہ پیغام قبول کیا جائے ، اگر کسی کی سفارش کرے تو منظور کی جائے اور اگر کوئی بات کہے کہ تو کان لگا کر سنی جائے (سیدنا سہلؓ) کہتے ہیں کہ پھر آپ خاموش ہو گئے ، اس کے بعد ایک دوسرا شخص جو مسلمانوں میں فقیر اور محتاج تھا ، گزرا تو آپﷺ نے پوچھا کہ اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟انھوں نے جواب دیا یہ ایک ایسا شخص ہے کہ اگر کہیں پیغام (نکاح) بھیجے تو وہ قبول نہ کیا جائے ، اگر کسی کی سفارش کرے تو وہ منظور نہ کی جائے اور اگر کوئی بات کہے تو غور سے نہ سنی جائے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :'' ساری زمین ایسے امیروں سے بھر جائے تو تب بھی یہ فقیر ان سے بہتر ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عورت کی نحوست سے پرہیز کرنا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول '' بے شک تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے خود تمہارے دشمن ہیں۔ ''(التغابن :۱۴)
(۱۸۳۷)۔ سیدنا اسامہ بن زیدؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' میں نے اپنے پیچھے مردوں پر کوئی فتنہ عورتوں سے زیادہ ضرررساں باقی نہیں چھوڑا۔ ''
 
Top