باب۔ (اگر) کوئی شخص طلاق دے (تو) کیا مرد کو طلاق دیتے وقت عورت کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے ؟
(۱۸۷۴)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ جون کی بیٹی (نکاح کے بعد) جب رسول اللہﷺ کے ہاں آئی اور آپﷺ اس کے قریب گئے تو وہ کہنے لگی میں تجھ سے اللہ کی امان چاہتی ہوں آپﷺ نے اس سے فرمایا :'' تو نے بہت بڑے کی امان مانگی۔ (جا) اپنے رشتہ داروں میں مل جا۔ ''
(۱۸۷۵)۔ ایک دوسری روایت میں سیدنا ابواسیدؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ اس (عورت دختر جون) کے پاس گئے اور اس کے ہمراہ اس کی دایہ اس کی دودھ پلانے والی بھی تھی۔ نبیﷺ نے اس سے کہا کہ اپنا نفس تو میرے حوالے کر دے۔ '' اس نے جواب دیا کہ کہیں ملکہ بھی بازاری لوگوں کو اپنا نفس ہبہ کر سکتی ہے ؟(پھر)کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے سوچا کہ اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر اسے تسکین دیں وہ بولی کہ میں تجھ سے اللہ کی امان مانگتی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تو نے بڑے پناہ دینے والے کی امان مانگی۔ '' پھر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا :'' اے ابواسید ! اپنے دو کپڑے رازقی پہنا کر اس کے کنبہ والوں کے پاس پہنچا دے۔ ''