• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ '' جو '' کو (پیسنے کے بعد) منہ سے پھونکنا۔
(۱۸۹۶)۔ سیدنا سہلؓ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے رسول اللہﷺ کے دور میں میدہ دیکھا تھا ؟ وہ بولے '' بالکل نہیں '' (پھر) پوچھا گیا کہ کیا تم یہ جو (کے آٹے) کو چھانتے تھے ؟تو انھوں نے کہا کہ نہیں
،لیکن ہم (پیس کر) منہ سے پھونک لیا کرتے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کیا کھاتے تھے ؟(آپﷺ کی خوراک کا بیان)
(۱۸۹۷)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ایک روز اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں اور ہر ایک آدمی کو سات (سات) کھجوریں ، مجھے بھی سات کھجوریں دیں ، ان میں سے ایک خراب (سخت) تھی لیکن ان میں سے کوئی کھجور مجھے اس سے زیادہ پسندنہ تھی کیونکہ وہ میرے چبانے میں دیر تک رہی۔

(۱۸۹۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک قوم پر گزرے جن کے پاس بھنی ہوئی بکری تھی ، انھوں نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو بھی کھانے کے لیے بلایا لیکن انھوں نے کھانے سے نکار کر دیا اور کہا کہ رسول اللہﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے لیکن کبھی جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کے نہ کھائی۔

(۱۸۹۹)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ محمدﷺ کے اہل و عیال نے ، جب سے مدینہ میں آئے تین روز متواتر گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کے کبھی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپﷺ کی وفات ہو گئی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ تلبینہ (حریرہ) کا بیان۔
(۱۹۰۰)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ جب ان کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جاتا اور عورتیں اکٹھی ہوتیں پھر وہ اپنے اپنے گھر چلی جاتیں مگر گھر والے اور قریب کی عورتیں رہ جاتیں تو تلبینہ کی ہنڈیاں پکواتیں پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ پر ثرید ڈال دیا جاتا پھر کہتی تھیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :'' تلبینہ مریض کے دل کو آرام دیتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جس برتن پر چاندی کا ملمع ہو اس میں کھانا (پینا)۔
(۱۹۰۱)۔ سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ریشم اور دیباج نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتنوں میں پانی پپو (مثلاً جگ ، گلاس ، جام ، پیالے وغیرہ) اور نہ سونے چاندی کی رکابی (پلٹ ، ڈش وغیرہ) میں کھانا کھاؤ کیونکہ یہ سامان کفار کے واسطے دنیا میں ہے اور ہمارے واسطے آخرت میں ہو گا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص اپنے بھائیوں کے لیے پر تکلف کھانا تیا ر کرے۔
(۱۹۰۲)۔ سیدنا ابو مسعود انصاریؓ فرماتے ہیں کہ قوم انصار میں ایک شخص تھا جسے ابو شعیبؓ کہتے تھے ، اس کا ایک غلام قصائی تھا ، انھوں نے اسے کہا کہ میرے واسطے کھانا تیار کر ، میں رسول اللہﷺ سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں گا۔ پھر انھوں نے رسول اللہﷺ سمیت پانچ آدمیوں کو بلایا تو ایک اور شخص بھی آپﷺ کے پیچھے ہو لیا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' تو نے ہم پانچ آدمیوں کو بلایا ہے اور یہ شخص ہمارے پیچھے چلا آیا۔ اب تجھے اختیار ہے چاہے اسے اجازت دے یا نہ دے۔ '' (انھوں نے) کہا کہ میں نے اسے بھی اجازت دی (یعنی اسے بھی آنے دیجیے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کھجوریں اور ککڑی (یا کھیرا) ملا کر کھانا۔
(۱۹۰۳)۔ سید نا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالبؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ کھجور اور ککڑی ملا کر کھا رہے تھے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ رطب وتمر (تر اور خشک کھجور) کا بیان۔
(۱۹۰۴)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا جو میری کھجوریں کٹنے تک مجھے قرض دیا کرتا تھا ، سیدنا جابرؓ کے پاس وہ زمین تھی جو بئر رومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال خالی گزرا ، اس زمین میں کھجوریں کم ہوئیں اور وہ سال گزر گیا۔ کٹائی کے وقت یہودی میرے پاس آیا اور میں اس میں سے کچھ نہ کاٹنے پایا تھا (میوہ بہت کم تھا) اس میں سے آئندہ سال تک مہلت مانگنے لگا لیکن وہ نہ مانا۔ یہ خبر رسول اللہﷺ تک پہنچی تو آپﷺ نے اپنے اصحاب سے کہا کہ چلو جابرؓ کو یہودی سے مہلت دلا دیں۔ وہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ رسول اللہﷺ یہودی سے گفتگو کرنے لگے۔۔۔ ،وہ کہنے لگا کہ اے ابو القاسم !میں جابر کو مہلت نہیں دو ں گا۔ جب آپﷺ نے یہودی کودیکھا (کہ نہیں مانتا) تو کھڑے ہو کے باغ کے چاروں طرف پھرے اور یہودی سے دوبارہ گفتگو کی لیکن وہ راضی نہ ہوا تو میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تر کھجوریں لایا اور نبیﷺ کے سامنے رکھ دیں۔ آپﷺ نے وہ کھائیں پھر فرمایا :''اے جابر !تیرے باغ کی جھونپڑی کہا ں ہے ؟''میں نے آپﷺ کو جگہ بتائی۔ آپﷺ نے فرمایا :''وہاں میرے لیے بچھو نا کر دے۔ ''میں نے (فوراً) بستر بچھا دیا۔ آپﷺ وہاں جا کر سو گئے جب آپﷺ بیدار ہوئے تومیں مٹھی بھر کھجوریں اور لے آیا۔ آپﷺ نے وہ کھا لیں پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو کی مگر وہ پھر بھی نہ مانا تو آپﷺ دوسری مرتبہ کھجوروں کے درختوں میں جا کھڑے ہوئے پھر فرمایا :''اے جابرؓ !کاٹتا جا اور دیتا جا۔ ''آپﷺ کاٹنے کی جگہ بیٹھ گئے میں نے اتنی کھجوریں کاٹیں کہ اس کا قرض ادا ہو گیا اور اسی قدر اور بچ گئیں۔ میں نے آ کر رسول اللہﷺ کو یہ خوشخبری سنائی تو آپﷺ نے (خوش ہو کے)فرمایا :''میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا سچا رسول ہو ں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عجوہ کھجور کا بیان (جو مدینہ کی عمدہ قسم کی کھجور ہے)۔
(۱۹۰۵)۔ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرما یا :''جو شخص ہر روز صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے ،اس دن اسے زہر اور جادو ضرر نہ پہنچاسکے گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ انگلیوں کو (پو نچھنے سے پہلے)چاٹنا اور چو سنا۔
(۱۹۰۶)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فر مایا :''جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے جب تک (انگلیاں)خود نہ چاٹ لے یا کسی دوسرے کو چٹا نہ دے۔ ''

(۱۹۰۷)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ نے کہا کہ نبیﷺ کے دور میں ہمارے پاس (کھانے کے بعد ہاتھ صاف کر نے کے لیے) رو مال نہ ہوتا۔ بس یہی ہماری ہتھیلیاں تھیں۔ بازو، پاؤں وغیرہ(انھیں رگڑ لیتے اور نماز پڑھ لیتے ،وضو نہ کرتے)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جب کھانا کھا چکے تو کیا کہے؟
(۱۹۰۸)۔ سیدنا ابو امامہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ کا دستر خو ان جب اٹھایا جاتا تھا تو آپﷺ یہ پڑھتے تھے :''سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ، بکثرت تعریف ہے اور پاکیزہ شکر برکت والا ، ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا ہے (اور یہ اس لیے کیا تاکہ)اس سے ہم کو بے پرواہی کا خیال نہ ہو ، اے ہمارے رب !''

(۱۹۰۹)۔ سیدنا ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ کھانا کھا نے سے فارغ ہو تے تو فرماتے ''اللہ کا شکرجس نے ہمیں پیٹ بھر کر کھلا یا پلا یا ،ہم نے اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے ورنہ ہم اس نعمت کے منکر نہیں۔ ''
 
Top