• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب : امام کے پیچھے سے جنگ کرنا اور اس کو اپنا بچا ؤ بنانا۔
(۱۲۷۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' ہم لوگ اور امتوں سے باعتبار ادوار کے آخیر میں ہیں مگر مرتبہ میں سب سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ '' اور فرمایا :'' جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے (شرعی) امیر کی اطاعت کی اس نے بے شک میری اطاعت کی اور جس نے (شرعی) امیر کی نافرمانی کی اس نے بے شک میری نافرمانی کی اور امام تو مثل ڈھال کے ہوتا ہے اس کے پیچھے سے جنگ کی جاتی ہے۔ اور اسی کی طرف پناہ لی جاتی ہے۔ پس اگر وہ اللہ سے تقویٰ کا حکم دے اور انصاف کرے تو اس کی وجہ سے اسے ثواب ملے گا اور اگر اس کے خلاف کرے تو اس کی وجہ سے اس پر گناہ ہو گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:جنگ میں اس بات پر لوگوں سے بیعت لینا کہ فرار نہیں ہوں گے۔
(۱۲۷۱)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ (بیعت رضوان کے بعد) آئندہ سال جب ہم پھر آئے تو ہم میں سے دو آدمیوں نے بھی باتفاق اس درخت کو نہ بتایا جس کے نیچے ہم نے بیعت (رضوان) کی تھی (اسی میں کچھ اللہ کی مہر بانی تھی۔ پوچھا گیا کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کس بات پر بیعت لی گئی تھی ، موت پر ؟ تو انھوں نے کہا کہ نہیں بلکہ صبر پر بیعت لی گئی تھی۔

(۱۲۷۲)۔ سیدنا عبداللہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ جب واقعہ حرہ کا دور آیا تو ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ حنظلہ کے بیٹے لوگوں سے موت پر بیعت لے رہے ہیں تو عبداللہ بن زیدؓ نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کے بعد کسی سے اس شرط پر (یعنی موت پر) بیعت نہ کریں گے۔

(۱۲۷۳)۔ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے (بیعت رضوان میں) بیعت کی۔ بعد اس کے میں ایک درخت کے سایہ کی طرف چلا گیا۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو آپﷺ فرمایا :'' اے ابن اکوع ( رضی اللہ عنہ)کیا تم بیعت نہ کرو گے ؟ تو میں عرض کی کہ یار سول اللہ ! میں تو بیعت کر چکا ہوں۔ تو آپﷺ نے فرمایا :'' پھر بھی۔ '' چنانچہ میں نے آپﷺ سے دوبارہ بیعت کی۔ پوچھا گیا کہ ابو مسلم (یہ مسلمہ بن اکو عؓ کی کنیت ہے) اس دن کس بات پر تم نے بیعت کی تھی تو انھوں نے کہا :'' موت پر۔ ''

(۱۲۷۴)۔ سیدنا مجاشعؓ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کے پاس اپنے بھائی کے بیٹے کو لے کر آیا اور میں نے عرض کی کہ آپ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا:'' ہجرت تو اپنے لوگوں کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ '' میں نے عرض کی پھر آپ کس بات پر ہم سے بیعت لیں گے ؟ تو فرمایا :'' اسلام اور جہاد پر۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب :اسلام کا لوگوں پر اسی بات کو واجب کرنا جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں۔
(۱۲۷۵)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک روز کہا کہ آج میرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا۔ میں نہیں سمجھا کہ اس کو کیا جواب دوں۔ اس نے کہا کہ بتایے ایک شخص جو زبر دست ہتھیار بند ہے ، صحیح تندرست ہے ، وہ ہمارے امراء کے ہمراہ جہادوں میں جاتا ہے پھر وہ چند باتوں میں ہمیں ایسے احکام دیتا ہے کہ ہم انھیں نہیں کر سکتے۔ میں نے اس سے کہا کہ اللہ کی قسم میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں تجھے کیا جواب دوں سوا اس کے کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ تھے تو آپﷺ ہمیں ہر کام میں ایک مرتبہ حکم دیتے تھے یہاں تک کہ ہم اس کو کر لیتے اور بے شک تم میں سے ہر شخص بہتر پر رہے گا جب تک کہ اللہ سے ڈرتا رہے گا اور جب اس کے دل میں کسی بات کا شک پیدا ہو تو وہ کسی سے پوچھ لے ، وہ اس کی تشفی کر دے گا اور عنقریب ایسے آدمی کو تم نہ پاؤ گے (کہ جن کے فیصلے سے تسلی ہو) قسم ہے۔ اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جس قدر دنیا گزر چکی ہے۔ (اور جس قدر باقی ہے) اس کی نسبت یہ کہتا ہوں کہ دنیا مثل ایک حوض ہے کہ اس کا صاف صاف پانی پی لیا گیا اور میلا پانی رہ گیا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:(اس بات کا بیان کہ) نبیﷺ جب اول وقت دن میں نہ لڑتے تھے تو پھر جنگ میں تاخیر کر دیتے تھے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جا تا۔
(۱۲۷۶)۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بعض دفعہ جہاد میں ، جس میں دشمن سے مقابلہ ہوا ، لڑائی میں دیر کی۔ جب سورج ڈھل گیا ، اس وقت کھڑے ہو کر خطبہ سنایا اور فرمایا :'' اے لوگو ! دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو اور اﷲ سے عافیت طلب کرو۔ پھر جب تم دشمن سے مقابلہ کرو تو صبر کرو اور خوب سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ '' اس کے بعد فرمایا :'' اے اللہ ! کتاب (قرآن) کے نازل فرمانے والے اور ابر کے جاری کرنے والے اور کفار کی فوجوں کو شکست دینے والے !ان لوگوں کو بھگا دے اور ہمیں ان پر فتح عنایت فرما۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:جو مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو۔
(۱۲۷۷)۔ سیدنا یعلیٰ بن امیہؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اجرت پررکھا تھا ، اس نے ایک شخص سے لڑائی کی۔ ایک نے دوسرے کا ہاتھ منہ سے کا ٹ لیا۔ دوسرے نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا اور اس کے آگے کے دانت گر گئے۔ پھر وہ نبیﷺ کے پاس آیا۔ آپﷺ نے اس کو دانتوں کا معاوضہ نہیں دلایا اور فرمایا :'' کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رہنے دیتا تاکہ تو اس کو چبا جاتا ، جس طرح اونٹ سبزے کو چبا جاتا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:نبیﷺ کے جھنڈ ے کا بیان۔
(۱۲۷۸)۔ سیدنا عباسؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا زبیرؓ سے یہ کہا کہ نبیﷺ نے تمہیں یہ حکم دیا تھا کہ اس جگہ جھنڈا گاڑ دو۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:نبیﷺ کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی مسافت سے اللہ نے میرا رعب کافروں کے دلوں میں ڈال کر میری مدد کی۔
(۱۲۷۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' میں جامع باتیں دے کر بھیجا گیا ہوں اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ پس (ایک دن) اس حال میں کہ میں سو رہا تھا میرے پاس زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ '' سیدنا ابو ہریرہؓ نے (اس حدیث کو بیان کر کے) کہا کہ رسول اللہﷺ تو (دنیا سے) تشریف لے گئے اور اب تم ان خزانوں کو نکال رہے ہو۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: جہاد میں زاد راہ ہمراہ لے جانا (درست ہے) اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرۃ میں یہ) فرمانا '' اور راستے کا خرچ اپنے ساتھ لے لیا کر و بے شک عمدہ راہ خرچ تقویٰ ہے۔ ''
(۱۲۸۰)۔ سیدنا اسماءؓ کہتی ہیں کہ میں نے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے گھر میں رسول اللہﷺ کے لیے دستر خوان تیار کیا ،جب کہ آپﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے آپﷺ کے دستر خوان اور پانی کے ظرف کے لیے کوئی ایسی چیز نہ ملی جس سے میں ان دونوں چیزوں کو باندھ دیتی تو میں نے سیدنا ابو بکرؓ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے سوا اپنے کمر بند کے اور کوئی چیز نہیں ملتی جس سے میں اس کو باندھ دوں۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا تم اپنے کمر بند کے دو حصے کر ڈالو ، ایک سے پانی کے ظرف کو اور دوسرے سے دستر خوان کو باند ھ دو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اسی وجہ سے میرا نام ذات النطاقین رکھا گیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:گدھے پر دو آدمیوں کا ایک ساتھ بیٹھنا۔
(۱۲۸۱)۔ سیدنا اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک گدھے پر جس کی زین پر ایک چادر پڑی ہوئی تھی سوار ہوئے اور سیدنا اسامہؓ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔

(۱۲۸۲)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ فتح مکہ کے دن مکہ کی بلندی کی طرف سے ایک اونٹنی پر سوار سیدنا اسامہ بن زیدؓ کو اپنے ساتھ بٹھائے ہوئے تشریف لائے ، آپﷺ کے ہمراہ سید نا بلالؓ تھے اور آپﷺ کے ہمراہ عثمان بن طلحہ تھے (جو کعبہ کے دربانوں میں سے تھے) یہاں تک کہ آپﷺ نے مسجد میں اونٹ کو بٹھا یا۔ پھر عثمان کو حکم دیا کہ کعبہ کی کنجی لے آئیں پھر کعبہ کو کھولا گیا اور رسول اللہﷺ (اس میں) داخل ہوئے۔۔۔ باقی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ (دیکھئے حدیث : ۳۱۷)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب:دشمن کے ملک کی طرف قرآن مجید کے ساتھ سفر کرنا مکروہ ہے۔
(۱۲۸۳)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ دشمن کے ملک کی طرف قرآن مجید کے ساتھ سفر کیا جائے۔
 
Top