Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
تفسیر سورۃ الطور
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور لکھی ہوئی کتاب کی ''(الطور : ۱،۲)کے بیان میں۔
(۱۷۸۲)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا جب آپﷺ اس آیت :'' کیا یہ لو گ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہو گئے ہیں یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں ؟ کیا انھوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟(نہیں) بلکہ یہ لوگ یقین ہی نہیں رکھتے۔ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا یہ (ان خزانوں کے) داروغہ ہیں (جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں)''(سورۂ طور:۳۵۔ ۳۷)پر پہنچے تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے یعنی پھٹ کر نکل جائے۔
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور لکھی ہوئی کتاب کی ''(الطور : ۱،۲)کے بیان میں۔
(۱۷۸۲)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا جب آپﷺ اس آیت :'' کیا یہ لو گ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہو گئے ہیں یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں ؟ کیا انھوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟(نہیں) بلکہ یہ لوگ یقین ہی نہیں رکھتے۔ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا یہ (ان خزانوں کے) داروغہ ہیں (جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں)''(سورۂ طور:۳۵۔ ۳۷)پر پہنچے تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے یعنی پھٹ کر نکل جائے۔