• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ '' تمہاری اوہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو ''(النساء :۲۳)کا بیان (اور فرمان رسول کہ)'' جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہی رشتے رضاعت سے حرام ہیں۔
(۱۸۳۸)۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ کسی نے نبیﷺ سے کہا کہ آپﷺ (سیدالشہد ء سیدنا) حمزہ (رضی اللہ عنہ) کی بیٹی سے شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' وہ دودھ کے رشتے سے میری بھتیجی ہے۔ ''

(۱۸۳۹)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کی آواز سنی جو ام المومنین حفصہؓ کے مکان میں جانے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا:'' یا رسول اللہ بے شک یہ (غیر) مرد آپ کے مکان میں جانا چاہتا ہے تو نبیﷺ نے فرمایا :'' میں جانتا ہوں کہ یہ فلاں شخص ہے جو حفصہؓ کا رضاعی چچا ہے ''عائشہؓ نے پوچھا کہ اگر فلاں شخص زندہ ہوتا جو کہ دودھ کے رشتہ سے میرا چچا تھا تو کیا میں اس کے سامنے نکلتی ؟ تو آپﷺ نے فرمایا :''ہاں ! جو رشتے نسب سے حرام ہیں (وہ) دودھ پینے سے بھی حرام ہیں۔ ''

(۱۸۴۰)۔ ام المومنین ام حبیبہ بنت ابی سفیانؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ میر ی بہن بنت ابو سفیان سے نکاح کر لیجیے۔ آپ نے پوچھا :'' کیا تو یہ بات پسند کرتی ہے ؟'' (کیا تجھے سوکن ناگوار نہیں گزرتی ؟) میں نے عرض کی ''جی ہاں '' (لیکن) اب بھی تو آپ کی میں ہی اکیلی بیوی نہیں ہوں اور مجھے اپنی بہن کو اپنے ساتھ بھلائی میں شریک بنا نا نا گوار نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا۔ :'' مجھے یہ جائز ہی نہیں ہے (کہ دو بہنیں ایک وقت نکاح میں رکھوں)۔ '' میں نے کہا کہ ہم نے تو سنا ہے کہ آپﷺ ابو سلمہ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ؟ آپﷺ نے پوچھا :''کیا ام سلمہ کی بیٹی سے ؟ (میں نکاح کرنا چاہتا ہوں)۔ '' میں نے کہا جی ہاں۔ تو آپﷺ نے فرمایا :'' وہ تو اگر میری ربیبہ (پہلے خاوند سے بیوی کی بیٹی) نہ بھی ہوتی تب بھی حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ دودھ کے رشتے میں میری بھتیجی ہے ، مجھے اور ابو سلمہ (اس کے باپ) کو ثوبیہؓ نے دودھ پلایا تھا (اے بی بی ! تجھ کو لازم ہے کہ) میرے رو برو اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو پیش نہ کرو (مجھے حلال نہیں)۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب : جو شخص کہتا ہے دو سال کے بعد دودھ پینا(معتبر) نہیں ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے '' (مائیں اپنی اولاد کو) پورے دو سال دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔ ''(البقرہ :۲۳۳)اور تھوڑے اور بہت دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔
(۱۸۴۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ نبیﷺ ان کے ہاں تشریف لائے اور (اس وقت) ایک شخص ان کے پاس بیٹھا تھا ، یہ دیکھ کر آپﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا گو یا کہ آپﷺ کو یہ ناگوار گزرا۔ میں نے عرض کی کہ '' یہ میرا دودھ شریک بھائی ہے '' تو آپﷺ نے فرمایا :'' غور کر و کہ تمہارا کون کون بھائی ہے کیونکہ دودھ کا رشتہ جب ہی ثابت ہوتا ہے کہ بچے کی غذا(دودھ) ہو۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لا سکتا۔
(۱۸۴۲)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنی پھوپھی یا اپنی خالہ کے اوپر نکاح کی جائے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نکاح شغار (وٹہ سٹہ) کا بیان۔
(۱۸۴۳)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے(جس کا مطلب ہے کہ کوئی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح دوسرے شخص کے ساتھ اس شرط پر کر دے کہ وہ دوسرا شخص اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس پہلے شخص کے ساتھ کر دے اور ان دونوں کا کچھ بھی مہر مقرر نہ ہو)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ نے نکاح متعہ سے اخیر وقت میں منع فرمایا ہے۔
(۱۸۴۴)۔ سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک لشکر میں تھے (جو حنین پر گیا تھا) اتنے میں رسول اللہﷺ ہمارے پاس آئے اور ارشاد فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت ہے تم متعہ کر لو۔ ابن ابی ذئب سے روایت ہے کہ ایاس بن سلمہ بن اکوع نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا :'' اگر مرد اور عورت متعہ کر لیں اور مدت متعین نہ کریں تو (کم سے کم) تین دن تین راتیں مل کر رہیں۔ اس کے بعد چاہیں تو جدا ہو جائیں یا مدت بڑھا لیں۔ سلمہ نے کہا '' میں نہیں جانتا کہ یہ اجازت ہمارے لیے خاص تھی یا عام لوگوں کے لیے بھی تھی۔ '' امام بخاری نے وضاحت فرما دی کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ غزوۂ خیبر میں یہ حکم منسوخ ہو گیا تھا۔ (دیکھیے حدیث :۱۶۵۱)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اگر کوئی عورت اپنے تئیں کسی صالح و نیک شخص پر پیش کرے (تاکہ وہ اس سے نکاح کر لے)۔
(۱۸۴۵)۔ سیدنا سہل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے نبیﷺ کے رو برو (نکاح کے لیے) اپنا آپﷺ کیا (لیکن نبیﷺ نے کچھ جواب نہ دیا تو) ایک شخص نے آپﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! اس کا مجھ سے نکاح کر دیجیے۔ آپﷺ نے پوچھا :'' تیرے پاس کیا چیز ہے ؟ '' وہ بول کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :'' جا کر ڈھونڈ ، اگر چہ لو ہے کی انگوٹھی ہی ہو ، وہ جا کر پھر دوبارہ آیا اور کہا '' اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے کچھ نہ ملا اور نہ لوہے کی انگوٹھی ملی لیکن میرے پاس یہ تہبند ہے آدھا اس کو دے دیجیے '' سیدنا سہلؓ کہتے ہیں کہ اس کے پاس دوسری چادر بھی نہ تھی۔ آپﷺ نے جواب دیا :'' تیری چادر کو کیا کریں اگر تو پہنے تو عورت کو اس میں سے کچھ نہ ملے گا اور اگر عورت پہنے تو تجھے کچھ نہ ملے گا۔ '' وہ بیچارہ (مایوس ہو کر) بیٹھ گیا ، بڑی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا (جانے لگا) تو نبیﷺ نے اسے (جاتے) دیکھ کر خود بلایا یا کسی سے بلوایا اور فرمایا :'' تجھے قرآن کی کون کون سی سورتیں یاد ہیں ؟'' اس نے کئی سورتیں گن کر کہا کہ فلاں فلاں سورت یاد ہے تو نبیﷺ نے فرمایا ہم نے تجھے قرآن مجید (جو تمہیں یاد ہے اس) کے عوض اس عورت کا مالک کر دیا۔ (یعنی ان سورتوں کی تعلیم تم اس عورت کو دو گے اور یہی تمہارا حق مہر ہے)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عورت کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا جائز ہے۔
(۱۸۴۶)۔ سیدنا سہل بن سعدؓ سے ہی ایک دوسری روایت میں منقول ہے کہ ایک عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کو اپنا نفس ہبہ کر نے آئی ہوں۔ رسول اللہﷺ نے اس کی طرف نظر کی پھر اسے سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا پھر اپنا سر نیچا کر لیا۔۔۔ پھر گزشتہ حدیث پوری بیان کی اور آخر میں کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کیا تو ان (سورتوں) کو زبانی پڑھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں آپﷺ نے فرمایا :'' جا ! میں نے تجھے قرآن یاد ہو نے کے عوض میں اس عورت کا مالک بنا دیا۔ ''(یعنی ان سورتوں کی تعلیم دینا تیرا مہر ہے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: جو کہتا ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
(۱۸۴۷)۔ سیدنا معقل بن یسارؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن کا ایک شخص سے نکاح کر دیا تھا ، اس نے میری بہن کو طلاق دے دی۔ جب اس کی عدت پوری ہو گئی تو اس نے دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجا۔ میں نے اسے جواب دیا کہ میں نے اس کا تجھ سے نکاح کر دیا تھا اور اسے تیری بیوی بنا دیا اور تیری تعظیم کی پھر تو نے اسے طلاق دے دی ، اب تو پھر پیغام دیتا ہے تو اللہ کی قسم ! اب وہ لوٹ کر دوبارہ تیرے پاس نہیں آئے گی۔ وہ شخص کچھ برا نہ تھا (نیک بخت تھا) اور میری بہن بھی اس کی طرح رجوع کرنے پر راضی تھی ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ '' تم عورتوں کو اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرنے سے منع نہ کر و''(البقرہ :۲۳۲)میں نے کہا یا رسول اللہ! اب (اللہ کا حکم اتر آیا تو) میں ضرور بجا لاؤں گا (اس سے نکاح کر دوں گا)۔ پھر اس نے اپنی بہن کا نکاح اس سے کر دیا۔
نوٹ : آیت مبارکہ میں خطاب (عورت کے) اولیاء (جیسے باپ ، بھائی وغیرہ) سے کہا گیا ہے کیونکہ نکاح کرو انا ان کا کام ہے۔ اگر ولی کی اجازت ضروری نہ ہوتی تو خطاب (عورت کے) اولیاء سے نہ ہوتا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب : باپ اور دوسرا کوئی ولی باکرہ (بالغہ) اور ثیبہ کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر نہیں سکتے۔
(۱۸۴۸)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' وہ عورت کا نکاح اس سے اجازت لیے بغیر نہ کیا جائے اور نہ باکرہ کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے۔ ''لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! باکرہ کی اجازکیونکر ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' اس کا خاموش ہو جانا ہی (اس کی) رضا مندی ہے۔ ''

(۱۸۴۹)۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کنواری لڑکی تو شرم کرتی ہو گی۔ آپﷺ نے فرمایا ''اس کا خاموش ہو جانا ہی (اس کی) رضا مندی ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح کر دے اور وہ (اس نکاح سے) ناخوش ہو تو وہ نکاح ناجائز ہے۔
(۱۸۵۰)۔ سیدہ خنساء بنت خذام انصاریہؓ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں (یعنی خاوند کر چکی تھیں) وہ اس نکاح سے ناخوش تھیں ، پھر وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں (اور یہ ذکر کیا) تو آپﷺ نے وہ نکاح (جو ان کے باپ نے کر دیا تھا) فسخ کر دیا۔ ''
 
Top