• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
مریضوں کے بیان میں

باب۔ کفارۂ مرض (کے بیان میں)
(۱۹۴۹)۔ سیدنا ابو سعید خدری اور ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ فرماتے تھے کہ مسلمان کو کوئی سختی (اور بیماری یا رنج و غم اور تکلیف) وغیرہ نہیں پہنچتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اس کے گناہ مٹا دیتا ہے یہاں تک کہ اگر کوئی کانٹا بھی چبھ جائے (تو اس کے بدلے میں بھی کوئی گناہ مٹا دیا جاتا ہے)۔ ''

(۱۹۵۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ فرماتے تھے :''مومن کی مثال تازہ کھیتی کی مانند ہے کہ جس طرف سے ہوا آتی ہے اسے جھکا دیتی ہے اور ہوا کے نہ ہونے کے وقت سیدھی ہو جاتی ہے پس مومن ، بلا سے اس طرح بچا رہتا ہے اور گنہگار کی مثال صنوبر کے پیڑ کی سی ہے کہ سیدھا سخت کھڑا رہتا ہے (تو) اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھیڑ دیتا ہے۔ ''

(۱۹۵۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے :'' اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سختی مرض (کی فضیلت) کا بیان
(۱۹۵۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے بیماری کی اتنی سختی کسی اور پر نہیں دیکھی جتنی رسول اللہﷺ پر واقع ہوئی تھی۔

(۱۹۵۳)۔ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کی خدمت میں آپﷺ کی بیماری کے وقت حاضر ہوا ، آپﷺ کو بہت سخت بخار تھا۔ میں نے عرض کی کہ آپﷺ کو تو بہت ہی سخت بخار ہے۔ (شاید) اس لیے ہو گا کہ آپ کودو اجر ملیں گے فرمایا :'' ہاں ! مسلمان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچنے پاتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے عوض گناہ معاف نہ کر دیتا ہو جس طرح خشک درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جسے بندش ہوا کی وجہ سے مرگی لاحق ہو ، اس کی فضیلت کا بیان
(۱۹۵۴)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ کیا میں تمہیں جنتی عورت دکھلاؤں ؟ انھوں نے کہا ہاں کیوں نہیں۔ کہا یہی سانولی سی عورت نبیﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا جسم ظاہر ہو جاتا ہے۔ میرے لیے دعا کر دیجیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اگر تو چاہے تو صبر کر لے تو تجھے جنت ملے گی ورنہ میں اللہ سے دعا کروں گا وہ تجھے صحت دے دے گا۔ '' اس نے عرض کی (کہ بہتر ہے) میں صبر کر لوں گی (لیکن) یہ میرا بدن جو ظاہر ہو جاتا ہے اس کے لیے اللہ سے دعا کر دیجیے۔ آپﷺ نے دعا کر دی (پھر اس کا بدن کبھی نظر نہ آیا)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص نا بینا ہو جائے اس کی فضیلت کا بیان۔
(۱۹۵۵)۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے سنا ، آپﷺ فرماتے تھے :'' اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے کہ جس وقت میں اپنے بندہ کو اس کی دو پیاری چیزوں کی تکلیف دیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کر لیتا ہے تو ضرور ان دونوں کے عوض جنت دیتا ہوں۔ '' (ان سے) آپﷺ کی مراد آنکھیں تھیں۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ مریض کی عیادت کو جانا۔
(۱۹۵۶)۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ پر میرے پاس میری عیادت کے لیے ایسے حال میں تشریف لائے کہ نہ خچر پر سوار تھے اور نہ گھوڑے پر۔
باب۔ مریض یوں کہہ سکتا ہے کہ میں بیمار ہوں یا میرا سر پھٹا جاتا ہے یا مجھے سخت تکلیف ہے وغیرہ۔ اور ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے (عاجزی سے) دعا مانگی کہ اے پروردگار ! مجھ کو بیماری لگ گئی ہے اور تو سب رحم کر نے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ ''(الانبیاء: ۸۳)

(۱۹۵۷)۔ ام المومنین عائشہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا'' ہائے میرا سر پھٹا جاتا ہے۔ '' تو رسول اللہﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا :'' (غم نہ کرو بلکہ) اسی درد میں اور میری زندگی میں تمہارا خاتمہ ہو جائے تو بہتر ہے تاکہ میں تمہارے لیے دعا اور ستغفار کروں۔ '' عائشہؓ نے کہا '' ہائے افسوس اللہ کی قسم میں گمان کرتی ہوں کہ آپ میرا مرنا ہی چاہتے ہیں بلکہ اگر میں مر جاؤں تو آپ اسی دن شام کو اپنی بیویوں میں سے ایک کے ساتھ رات گزاریں گے۔ '' نبیﷺ نے فرمایا :'' یہ بات ہر گز نہیں بلکہ میں درد سر میں (خود مبتلا) ہوں اور میں چاہتا ہوں یا ارادہ کرتا ہوں (راوی کو شک ہے) کہ ابوبکرؓ اور ان کے بیٹے کے پاس کسی کو بھیج کر (ان لوگوں کو بلا لوں اور خلافت کی) وصیت کر دوں تا کہ بعد میں کوئی کچھ نہ کہے سکے اور نہ کوئی (خلافت کی) آرزو کر سکے (مگر) پھر میں نے سوچا کہ اللہ کو خود (کسی دوسرے کی خلافت) منظور نہیں اور نہ مسلمان منظور کریں گے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ موت کی آرزو کرنا منع ہے۔
(۱۹۵۸)۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ فرماتے تھے۔ :'' ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ رنج و مصیبت پر ہر گز موت کی آرزو نہ کرے اور اگر کوئی ایسی ہی مجبوری ہو تو اس طرح دعا کرے:'' اے اللہ ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو مجھ کو زندہ رکھ اور جب مرنا میرے لیے بہتر ہو تو مجھے کو اٹھا لے۔ ''

(۱۹۵۹)۔ سیدنا خبابؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے بدن پر سات داغ دے رکھے تھے اور کہتے تھے کہ میرے ساتھی مجھ سے پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے اور دنیا ، ان کا اجر و ثواب کم نہ کر سکی (کیونکہ وہ دنیا میں مشغول نہ تھے) اور ہمارے پاس (اب) اس قدر مال ہے کہ اس کے رکھنے کی جگہ سوائے مٹی کے ہمیں اور نہیں ملتی اور اگر نبیﷺ ہمیں موت کے مانگنے سے منع فرماتے تو میں ضرور موت کی دعا مانگتا۔

(۱۹۶۰)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپﷺ فرماتے تھے :'' کوئی اپنے (نیک) عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ ''صحابہؓ نے عرض کی کہ کیا آپ بھی یا رسول اللہ ! (نیک عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتے ؟ تو آپﷺ نے) فرمایا :'' ہاں ! میں بھی ''(نہیں جا سکتا)۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنے(دامن) رحمت میں چھپا لے تو بہتر ہے۔ اب تمہیں چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرو اور اللہ کا قرب حاصل کر و اور چاہیے کہ موت کی آرزو کوئی نہ کرے کیونکہ اگر آدمی نیک ہے تو (زندگی سے) اپنی نیکی میں ترقی کرے گا اور اگر گنہگار ہے تو شاید تو بہ کر لے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عیادت کرنے والے کا مریض کے لیے دعا کرنا۔
(۱۹۶۱)۔ ام المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض کے پاس لایا جاتا (راوی کا شک ہے) تو آپﷺ یہ دعا پڑھتے :'' پروردگار عالم ! لوگوں کی بیماری دور فرما دے اور شفا عطا فرما دے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ ایسی شفا دے کہ کوئی بیماری نہ رہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
علاج کا بیان

باب۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کے لیے شفا نہ نازل کی ہو۔
(۱۹۶۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری (اپنے بندوں پر) ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ نے شفا تین (چیزوں) میں رکھی ہے
(۱۹۶۳)۔ سیدنا ابن عباسؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' شفا (بیماری سے ان) تین چیزوں میں ہے (۱) شہد پینا (۲) پچھنے لگوانا (۳) آگ سے داغ لگوانا (مگر) میں اپنی امت کو داغ دلوانے سے منع کرتا ہوں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب: شہد سے علاج کرنا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول '' اس(شہد)میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ '' (النحل :۶۹)
(۱۹۶۴)۔ سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا کہ میرے بھائی کو پیٹ کی تکلیف ہے (یعنی دست آ رہے ہیں) آپﷺ نے فرمایا :'' اس کو شہد پلاؤ۔ '' (چنانچہ اس نے جا کر پلایا) پھر وہ دوبارہ آیا (اور عرض کی کہ اس کو ابھی آرام نہیں آیا) فرمایا اور شہد پلاؤ۔ '' (وہ گیا اور پلایا) پھر لوٹ کر آیا اور (کہ اب بھی آرام نہیں آیا اور) میں سب کچھ کر چکا ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :'' اللہ کا فرمانا ('' اس شہد میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ '') سچ ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اس لیے تو شہد ہی پلائے جائے۔ '' چنانچہ وہ پلاتا رہا ، پس وہ تندرست ہو گیا۔
 
Top