• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

بہت بہتر آپکا اس حرام والے مسئلہ پر بات نہیں کرتے، اگر آپ شادی شدہ ہیں تو پھر ذاتی تجربہ سے کچھ پیش کریں اور اگر نہیں تو پھر آپ کا کوئی بڑا بھائی سے آپ کچھ مختصر پیش کریں جس سے آپکا اقول درست ثابت ہو۔

والسلام
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,910
پوائنٹ
292
السلام علیکم

بہت بہتر آپکا اس حرام والے مسئلہ پر بات نہیں کرتے، اگر آپ شادی شدہ ہیں تو پھر ذاتی تجربہ سے کچھ پیش کریں
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
الحمد للہ ثم الحمد للہ
میں خود بھی شادی شدہ ہوں، اور میرے بھائی بھی سب شادی شدہ ہیں۔۔ میں اپنی بات کرتاہوں۔۔ میری اپنی شادی پر میرے سسرال والوں کی طرف سے کچھ نہیں لیا گیا بلکہ نکاح پر کھانےوغیرہ کا جتنا خرچ ہوا وہ بھی ہم نے خود برداشت کیا۔
میری بیوی نے جو سامان اپنے لیے ماں کے گھر رہتے ہوئے جمع کیا ہوا تھا۔( حالانکہ وہ خود ٹیچنگ کرتی تھی۔ اور اپنے پیسوں سے اکھٹا کیا تھا) اس کا بھی مکمل حساب اس کے والدین کو دینے کےلیے حساب وکتاب ہوچکا ہے، (اس لیے کہ وہ جب والدین کے گھر رہتی تھی تو اپنی محنت سے والدین پر ہی خرچ کرنا اس کا فرض تھا۔) جس میں سے کچھ رقم لوٹادی ہے اور باقی ماندہ رقم بھی ان شاءاللہ بہت جلد لوٹا دونگا۔۔ باللہ التوفیق
نوٹ:
کئی صور ایسی نکل سکتی ہیں۔ (واللہ اعلم) جس صورت میں بیٹی کو سامان دیا جانا جائز قرار پاسکتا ہے۔۔ اگر آپ غور کریں تو ان شاءاللہ صور سامنے آجائیں گی۔
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,806
پوائنٹ
376
جہیز کا مطالبہ واقعی غلط بات ہے لیکن انسان اپنی خوشی سے بہن یا بیٹی کو ضروریات زندگی کی اشیاء خرید کر دے تو اس بات کی ممانعت میں ابھی تک کتاب و سنت کی رو سے کوئی دلیل سامنے نہیں آئی۔کسی کی ذاتی رائے حجت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے دلیل حجت ہے۔
جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کی طرف سے یہ ایک عام بہانہ ہے۔
دیکھیے ایک چیز ہوتی ہے شریعت میں کسی چیز کا وضاحت کے ساتھ ممنوع ہونا۔
اور ایک ہوتا ہے کسی چیز سے ظاہر ہونے والے نقصان کی وجہ سے سد ذریعہ کے لیے کسی چیز سے روکنا۔
علماء کا جہیز سے روکنا اصل میں سد ذریعہ کے لیے ہے ۔
 

عبداللہ حیدر

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
315
ری ایکشن اسکور
1,016
پوائنٹ
120
السلام علیکم،
چچا عادل سہیل حفظہ اللہ نے جہیز کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:
" شادی کے وقت بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ شادی کے بعد بہن یا بیٹی کی رخصتی کے وقت اس کو دنیاوی مال اور سامان وغیرہ میں سے کچھ دینا ، جسے ہمارے معاشرے میں """جہیز """ کہا جاتا ہے ، محض ہماری معاشرتی عادت نہیں ، جیسا کہ ہمارے کچھ بھائی مختلف فلسفوں کا شکار ہو کر دینی دنیاوی ، معاشرتی اُخروی معاملات میں فرق روا نہیں رکھتے ، اللہ ہم سب پر حق واضح کرے اور اس کو قبول کرنے کی ہمت عطا فرمائے ،
بھائی علی عمران ، اب ہم اس """معاشرتی عادت """ کو دین کے روشنی میں سمجھتے ہیں ، کسی بھی عمل کو جائز یا نا جائز قرار دینے کے لیے ہمیں اللہ ، یا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کوئی حکم درکار ہے ، عادات کے امت کے اماموں اور علماء کا یہ قانون ہے کہ """ العادات اصل فیھا الاباحیۃ ::: عادات کا بنیادی حکم جائز ہونا ہے ::: اِلا ما نَھیٰ عنھا اللہ و رسولہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ::: سوائے اس کے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو """ اور بھائی علی عمران ، ممانعت کا حکم کئی صیغوں اور انداز میں پایا جاتا ہے ،
بہرحال ، وہ عادات جن پر ممانعت وارد نہیں جائز ہیں ان عادات کی تکمیل میں ادا کیے گئے ہر ایک فعل کو دیکھا جائے گا جہاں تک کوئی کام کسی شرعی ممانعت میں داخل نہیں ہوتا اسے ناجائز نہیں کہا جائے گا ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں چار چیزیں عنایت فرمائیں ، جیسا کہ صحیح احادیث میں ملتا ہے کہ ((( أَنَّ رَسُولَ صلى اللَّهِ عليه وسلم لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ من آدم حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے کا )اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غلاف تھا اور دو چکییاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے ))) مسند احمد ، الاحادیث المختارہ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس عمل مبارک کی روشنی میں جہیز دینا کوئی """ مقامی کلچر """ نہیں رہتا ، بلکہ اسلامی شریعت میں ایک جائز کام قرار پاتا ہے ، اسے """ کسی معاشرے کا مقامی کلچر""" قرار دینا یا کہنا درست نہیں ، اور نہ ہی اسے یکسر ناجائز کہا جا سکتا جب تک کہ اس کام کی کیفیت میں کوئی اور ناجائز یا حرام کام شامل نہ ہو جائے ، مثلا جہیز ، اگر حرام مال سے دیا جائے ، یا ، اپنی اولاد میں سے دوسروں کا حق مار کر دیا جائے ، یا ، معاملہ فضول خرچی کی حدود میں داخل ہو جائے ، یا بلا ضرورت دیا جائے ، تو یقینا ایسی صورت میں نا جائز ہو گا ،
رہا معاملہ سنت ہونے کا تو یہ کہنا کئی طور پر درست نہیں کہ یہ سنت ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی دو بیٹیاں رضی اللہ عنہما جنہیں عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیا تھا ، کو جہیز دیا اس کی کوئی روایت نہیں ملتی ، فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دینا ضرورت تھی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گھر کے سامان میں کچھ نہ تھا جیسا کہ خود ان کا فرمان ہے جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا """ یا رسول اللہ أِبتنی ::: اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا """ عندك شيء تعطيها ::: تمہارے پاس اسے (مہر میں ) دینے کے لیے کچھ ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ لا ::: جی نہیں """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا """أين درعك الحطمية ::: تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ عندی ::: میری پاس ہے """ تو فرمایا """ وہ اسے (مہر میں )دے دو """ )))
یہ مندرجہ بالا حدیث ، الاحادیث المختارہ /حدیث 610 /جلد 2 / صفحہ 231 ، مطبوعہ مکتبہ النھضہ الحدیثہ ، میں ہے ، اور مختلف الفاظ اور صحیح اسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی ہے ، التعلیقات الحِسان علی صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان/حدیث 6906 /کتاب 60 أخبارہ صلی اللہ علی وعلی آلہ وسلم عن مناقب الصحابہ / ذکر ما أعطی علی رضی اللہ عنہ فی صداق فاطمہ رضی اللہ عنھا ، مطبوعہ دار باوزیر /جدہ /السعودیہ ، سنن النسائی / حدیث 3375 کتاب النکاح / باب 60 ، جز 6 داخل جلد 3 ، مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت ، لبنان ، عون المعبود شرح سنن ابی داود / حدیث 2126 / کتاب النکاح / باب 36 ، مطبوعہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ، سنن البیہقی الکبریٰ / مسند ابی یعلی / حدیث 2433 / مسند ابن عباس کی روایت 110 ، جلد 3 ، صفحہ 43 ، مطبوعہ دار القبلہ ، جدہ ، السعودیہ ، مسند احمد / حدیث 603 / مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث 41 ،جلد اول ، مطبوعہ عالم الکتب ، بیروت ، لبنان ، اور دیگر کتب احادیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے ، اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں ان کی وجہ """معاشرتی عادت """ تھی نہ یہ """ کسی مقامی کلچر """ کی وجہ سے تھا ،بلکہ ضرورت تھی ، پس اسے سنت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ،
اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عملی اجازت کی بنا پر جہیز دینے کو یکسر ناجائز بھی نہیں کہا جا سکتا ،
اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی اپنی درع شادی کی تیاری کے لییے نہیں فروخت کی تھی بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کے مطابق بطور مہر دی تھی ،
اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس درع کی قیمت سے سامان خرید کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا تھا ،
فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جو سامان دیا گیا اس کے انتظام یا مہیا کرنے کے بارے میں امام ابن سعد کی طبقات الکبریٰ میں ایک روایت ہے جس میں علی رضی اللہ کی سواری کا جانور فروخت کرنے کا ذکر ہے اور اس کی قیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے تقسیم کیا گیا کہ دوتہائی کو ولیمے کے استعمال ہو اور ایک تہائی کو سامان ضرورت کے لیے ، لیکن علی بھائی مجھے فی الوقت اس روایت کی صحت کا اندازہ نہیں اس لیے میں اس کو اپنی بات کا حصہ نہیں بنا رہا ، صرف معلومات کے لیے ذکر کر رہا ہوں ،
اگر یہ روایت صحیح ہو تو معاملہ مرد حضرات کے لیے اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی والوں کو سامان کی تیاری کے لیے مال فراہم کریں نہ کہ ان سے مانگیں ،
یہ معاملہ تو جہیز دینے والے کے لیے ہوا ، اور لینے والے کے لیے خود سے سوال کر کے یا فرمائش کر کے جیسا کہ اب ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے جائز نہیں ، کیونکہ یہ اکثر اوقات ظلم میں شامل ہوتا ہے ، اور دوسری طرف اسلام میں عورت کو اس کی طلب کے مطابق مہر ادا کرنے کا حکم ہے نہ کہ عورت یا وارثین سے مال لینے کا ، یہ غیر اسلامی طریقہ ہے اور غیر ملسموں کی نقالی جائز نہیں ، خاص طور پر ان کی عادات اپنانے کی اجازت نہیں ، اگر میں اس موضوع پر بات کروں تو بات کافی طویل ہو جائے گی ، لیکن اگر آپ جاننا چاہیں تو ان شاء اللہ تعالی کسی اور وقت اس کی تفصیل بیان کردوں گا ،
اب اگر کوئی خود سے اپنی بہن یا بیٹی یا کسی بھی اور کو اس کی شادی و رخصتی پر جائز حدود میں رہتے ہوئے کچھ دیتا ہے تو مرد کے لیے وہ لینا جائز ہے ۔"
حوالہ:جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ - پاکستان کی آواز
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
[SUP]وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
الحمد للہ ثم الحمد للہ
میں خود بھی شادی شدہ ہوں، اور میرے بھائی بھی سب شادی شدہ ہیں۔۔ میں اپنی بات کرتاہوں۔۔ میری اپنی شادی پر میرے سسرال والوں کی طرف سے کچھ نہیں لیا گیا بلکہ نکاح پر کھانےوغیرہ کا جتنا خرچ ہوا وہ بھی ہم نے خود برداشت کیا۔
میری بیوی نے جو سامان اپنے لیے ماں کے گھر رہتے ہوئے جمع کیا ہوا تھا۔( حالانکہ وہ خود ٹیچنگ کرتی تھی۔ اور اپنے پیسوں سے اکھٹا کیا تھا) اس کا بھی مکمل حساب اس کے والدین کو دینے کےلیے حساب وکتاب ہوچکا ہے، (اس لیے کہ وہ جب والدین کے گھر رہتی تھی تو اپنی محنت سے والدین پر ہی خرچ کرنا اس کا فرض تھا۔) جس میں سے کچھ رقم لوٹادی ہے اور باقی ماندہ رقم بھی ان شاءاللہ بہت جلد لوٹا دونگا۔۔ باللہ التوفیق
نوٹ:
کئی صور ایسی نکل سکتی ہیں۔ (واللہ اعلم) جس صورت میں بیٹی کو سامان دیا جانا جائز قرار پاسکتا ہے۔۔ اگر آپ غور کریں تو ان شاءاللہ صور سامنے آجائیں گی۔[/SUP]
السلام علیکم

بہت خوب، دیکھیں ہر والدین کی اپنی کچھ خواہشات ہوتی ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں پر خرچ کرتے ہییں ویسے ہی وہ اپنی بیٹیوں کو ان کی شادی پر حسب توفیق کچھ سامان ساتھ دیتے ہیں اس پر کوئی جتنا چاہے منع کر لے مگر وہ اس پر کوئی مزاحمت قبول نہیں کرتے۔ اس پر کوئی ممانعت نہیں کیونکہ والدین کی جائیداد میں بیٹی کا حصہ بھی ھے اس لئے اسے حرام کہنا درست نہیں جیسے آپکو بھی ملا اور آپ بھی جانتے ہونگے کے آپ کے منع کرنے کے باوجود بھی والدین نے اسے ساتھ کچھ سامان دیا۔

آپکا بڑا پن ھے جو آپ اہلیہ کے والدین کو کچھ رقم لوٹا دی اور کچھ بعد میں واپس کرنے کے خواہشمند ہیں مگر یہ جہیز کا نعم البدل نہیں بلکہ ان کی مالی معاونت میں شامل ہو گا ان کے حالات کے پیش نظر۔ جہیز تو مل گیا مگر اس میں کوئی شرط نہیں باندھی گئی تھی اس دوران جو سب نے سنا ہو کہ آپ اسے واپس لوٹائیں گے۔ ہاں حق مہر جو دینا ضروری ھے جس پر کچھ لوگ نکاح کے وقت جو زیورات لڑکی کو دیتے ہیں وہ حق مہر میں لکھوا لیتے ہیں یا جو صاحب حیثیت ہوں وہ دلہن کو شادی کے دن ادا کرتے ہیں یا جو بالکل اس قابل نہ ہو تو وہ معاف کروا لیتے ہیں یا کچھ لوگ اسی دن کوئی چھوٹی چیز دے کر کل کو تسلی کر لیتے ہیں کہ یہ حق مہر ھے اور باقی بعد میں ادا کریں گے۔

جہیز لعنت ھے اس کی بات ہو رہی ھے جو یہ جانتے ہیں کہ لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو اپنی خوشی سے ساتھ کچھ سامان دیں گے مگر اس کے باوجود بھی وہ انہیں ایکسٹر فرمائش کرتے ہیں کہ وہ دلہا کو بھی فلاں فلاں چیزیں ساتھ دیں جس پر والدین اگر اپنی بیٹی کو مزید اگر ان کی خواہش کے مطابق کچھ کم کریں تو بھی بیٹی کی جان کو عذاب اور اگر ساری خواہشات پوری کریں تو بھی جان کو عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں جس پر رزلٹ برا ہی نکلتا ھے۔

کچھ شادیوں کے ٹوٹنے/ ناکام ہونے کی وجوہات کچھ اور ہوتی ھے مگر اس پر لڑکی والے الزام لگاتے ہیں کہ جہیز پر ان کی خواہش پوری نہ کرنے سے ہماری بیٹی کو چھوڑ دیا گیا۔

والسلام
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,910
پوائنٹ
292
أَنَّ رَسُولَ صلى اللَّهِ عليه وسلم لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ من آدم حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے کا )اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غلاف تھا اور دو چکییاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے ))) مسند احمد ، الاحادیث المختارہ ،
اس حدیث سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آپﷺ نے یہ سامان کن کے پیسوں سےخرید کر دیا تھا۔۔ اگر اس پر دلیل مل جائے کہ جو آپﷺ نے اپنی لاڈلی اور جنتی عورتوں کی سردار کو سامان دیا تھا وہ اپنے ہی مال سے خرید کر دیا تھا۔
آپ نے لکھا کہ
’’ اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں ‘‘
اس بات کا بھی اس حدیث
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا """ یا رسول اللہ أِبتنی ::: اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا """ عندك شيء تعطيها ::: تمہارے پاس اسے (مہر میں ) دینے کے لیے کچھ ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ لا ::: جی نہیں """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا """أين درعك الحطمية ::: تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ عندی ::: میری پاس ہے """ تو فرمایا """ وہ اسے (مہر میں )دے دو """ )))
سے پتہ نہیں چل سکتا یا اس ضمن میں اس حدیث کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا کوہ وہ چار چیزیں رسول اللہﷺ کی ہی طرف سے دی گئی تھیں۔کیونکہ دوسری جگہ البدایۃ والنہایۃ اور ابن کثیر میں یہ روایت ملتی ہے (تلاش کے بعد مل گئی تو پیش کردونگا۔ ان شاءاللہ ) کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی یہ ذرعہ 480 درہم کے عوض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بیچ دی جس کی رقم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی پھر آپﷺ نے اس رقم سے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کےلیے سامان تیار کیا تھا۔
جس سے صاف ظاہر ہے کہ جو سامان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو دیا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہی پیسوں سے خریدا گیا تھا۔۔اور دوسری بات غور طلب یہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا دونوں کے کفیل تھے، لہٰذا تھوڑا سا سامان ضرورت مرحمت فرمایاتھا اور یہ سامان بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مہر کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا نہ کہ اپنے ذاتی پیسوں سے۔۔۔واللہ اعلم
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,910
پوائنٹ
292
اہم نقطہ
جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے گئے سامان سے دلیل پکڑتے ہیں، ان کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس وقت کیفیت کیا تھی ؟
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
اس حدیث سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سامان کن کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا ۔۔ اگر اس پر دلیل مل جائے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لاڈلی اور جنتی عورتوں کی سردار کو سامان دیا تھا وہ اپنے ہی مال سے خرید کر دیا تھا۔

’’ اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں ‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی یہ ذرعہ 480 درہم کے عوض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بیچ دی جس کی رقم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رقم سے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کےلیے سامان تیار کیا تھا۔

جس سے صاف ظاہر ہے کہ جو سامان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو دیا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہی پیسوں سے خریدا گیا تھا۔۔ اور دوسری بات غور طلب یہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا دونوں کے کفیل تھے، لہٰذا تھوڑا سا سامان ضرورت مرحمت فرمایا تھا اور یہ سامان بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مہر کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا نہ کہ اپنے ذاتی پیسوں سے۔۔۔ واللہ اعلم
السلام علیکم

آپ کو یہ بتاتا چلوں یہ بات گلف میں رہنے والے بھی جانتے ہیں مگر پاکستان میں رہنے والے بہت کم جانتے ہیں کہ پورے عرب میں جہیز نہیں بلکہ حق مہر ھے جو شادی سے پہلے لڑکی کے والدین کو کیش رقم کے طور پر ادا کرنا ہوتا ھے لڑکی کے لئے جو بھی خریدا جاتا ھے وہ اسی مال سے ہوتا ھے اور اس پر بھی کچھ لوگوں کو اعتراضات ہیں جس پر ذکر مناسب نہیں، پختون سعودی عرب کے قانون کے مطابق چلتے ہیں اس لئے ان میں بھی جب لڑکی کی شادی کی جاتی ھے تو حق مہر میں رقم ملتی ھے جسے پاکستان کے لئے کچھ لوگ اس کا الٹ مطلب نکالتے ہیں۔

والسلام
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کی طرف سے یہ ایک عام بہانہ ہے۔
دیکھیے ایک چیز ہوتی ہے شریعت میں کسی چیز کا وضاحت کے ساتھ ممنوع ہونا۔
اور ایک ہوتا ہے کسی چیز سے ظاہر ہونے والے نقصان کی وجہ سے سد ذریعہ کے لیے کسی چیز سے روکنا۔
علماء کا جہیز سے روکنا اصل میں سد ذریعہ کے لیے ہے ۔
جہیز کے حق میں کون دلائل دیتا ہے؟ جہیز ایک غلط چیز ہے، اس بات کا میں بھی قائل ہوں، لیکن ہر معاملے میں افراط و تفریط اچھی چیز نہیں، لوگ تعصب میں دوسروں کے بارے میں غلط موقف قائم کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
مجھے ایک بات بتا دیں فرض کریں آپ کے بیٹے کی شادی ایک نیک لڑکی سے طے پاتی ہے، آپ کے بیٹے کے پاس ضروریات زندگی کا سامان کا فقدان ہے، لڑکی کا والد آپ کی حالت کو دیکھ کر بخوشی فیصلہ کرتا ہے کہ میں اپنی بیٹی اور داماد کو ضرورت زندگی کا سامان خرید کر دیتا ہوں تاکہ وہ زندگی اچھے طریقے سے بسر کر سکیں۔ تو کیا آپ اس بات کو نامنظور کر کے رشتہ توڑ دیں گے، اگر ہاں تو کیوں؟ اگر آپ کا یہ عمل شرعی ہے تو کتاب وسنت سے کوئی دلیل پیش کریں۔
 

عادل سہیل

مشہور رکن
شمولیت
اگست 26، 2011
پیغامات
367
ری ایکشن اسکور
941
پوائنٹ
120
اس حدیث سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ آپﷺ نے یہ سامان کن کے پیسوں سےخرید کر دیا تھا۔۔ اگر اس پر دلیل مل جائے کہ جو آپﷺ نے اپنی لاڈلی اور جنتی عورتوں کی سردار کو سامان دیا تھا وہ اپنے ہی مال سے خرید کر دیا تھا۔
آپ نے لکھا کہ
’’’’ اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں ‘‘‘‘‘
اس بات کا بھی اس حدیث
’’’’’ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا """ یا رسول اللہ أِبتنی ::: اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا """ عندك شيء تعطيها ::: تمہارے پاس اسے (مہر میں ) دینے کے لیے کچھ ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ لا ::: جی نہیں """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا """أين درعك الحطمية ::: تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ عندی ::: میری پاس ہے """ تو فرمایا """ وہ اسے (مہر میں )دے دو """ ))) ‘‘‘‘‘
سے پتہ نہیں چل سکتا یا اس ضمن میں اس حدیث کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا کوہ وہ چار چیزیں رسول اللہﷺ کی ہی طرف سے دی گئی تھیں۔کیونکہ دوسری جگہ البدایۃ والنہایۃ اور ابن کثیر میں یہ روایت ملتی ہے (تلاش کے بعد مل گئی تو پیش کردونگا۔ ان شاءاللہ ) کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی یہ ذرعہ 480 درہم کے عوض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بیچ دی جس کی رقم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی پھر آپﷺ نے اس رقم سے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کےلیے سامان تیار کیا تھا۔
جس سے صاف ظاہر ہے کہ جو سامان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو دیا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہی پیسوں سے خریدا گیا تھا۔۔اور دوسری بات غور طلب یہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا دونوں کے کفیل تھے، لہٰذا تھوڑا سا سامان ضرورت مرحمت فرمایاتھا اور یہ سامان بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مہر کے پیسوں سے خرید کر دیا تھا نہ کہ اپنے ذاتی پیسوں سے۔۔۔واللہ اعلم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی، اچھے مسلمان ( گڈ مسلم)
سب سے پہلے تو یہ گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ البدایۃ و النھایۃ کو ہی عام طور پر تاریخ ابن کثیر کہا جاتا ہے ، اور اگر اب کثیر لکھنے سے آپ کی مراد تفسیر ابن کثیر ہے تو بھی میری طرف سے پیش کی گئی معلومات جو بھتیجے عبداللہ حیدر نے یہاں پوسٹ کی ہیں ، ان کی صحت اور ان کے مطابق جو کچھ سمجھا گیا اُس کی درستگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا ،
بھائی ، البدایۃ و النھایۃ میں بھی صِرف اور تقریبا وہی کچھ لکھا ہے جو معلومات میں نے مہیا کی ہیں ، دیکھیے ،"""فصل في دخول علي بن أبي طالب رضي الله عنه على زوجته فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم"""
اور دیکھیے """ذكر من توفي في هذه السنة أعني سنة إحدى عشرة من الاعيان والمشاهير """
جو آپ نے لکھا ہے وہ کچھ البدایۃ و النھایۃ میں مجھے بھی نہیں ملا ، بلکہ اس کتاب میں بھی علی رضی اللہ عنہ ُ کی اسی حطمیہ درع کو فاطمہ رضی اللہ عنھا کا """مہر""" بتایا گیا ہے اور اس کی قیمت 400درھم بتائی گئی ہے ، اور دیگر بھی بہت سے کتابوں میں یہی کچھ مذکور ہے جن میں با سند روایات کا حوالہ میں پہلے ذِکر چکا ہوں،
میرے پیارے بھائی ، اگر ایک طرف صحیح ثابت شدہ روایات ہوں اور دوسری طرف قیل و رُویٰ کی قبیل سے مجھول روایات ، تو ہمیں صحیح ثابت شدہ روایات میں موجود احکام و معلومات کے مطابق معاملات کو سمجھنا چاہیے ،
اگر آپ کے پاس کوئی صحیح ثابت شدہ روایت ایسی ہے جو اس بات کی وضاحت و صراحت رکھتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کواُن کی شادی کے وقت جو کچھ دِیا تھا وہ علی رضی اللہ عنہ ُ کے مال میں سے تھا تو بھی میرے بھائی ہم اس کی وجہ سے کسی کو اپنی بیٹیوں یا بہنوں کی شادی میں ضروریات زندگی مہیا کرنے سے مطلقا منع نہیں کر سکتے ، اور نہ ہی اسے شادی کرنے والے لڑکےیا مرد کی ذمہ داری ہی قرار دیا جا سکتا ہے ،
اور دسری بات ، میرے بھائی کہ میرے لکھے ہوئے میں سے جو آپ نے دوسرا اقتباس لیا ہے اس میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر سے پہلے علی رضی اللہ عنہ ُ کا ذِکر رہ گیا ہے تو پڑھنے میں یہ ہی لگتا ہے کہ گویا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی شادی کی بات کر رہے ہیں ، اقتباس لیتے ہوئے یا بات نقل کرتے ہوئے احتیاط برتا کیجیے بھائی ، بسا اوقات اس قسم کی چُوک خوفناک نتائج کا سبب بن جاتی ہے ، کہ جو لوگ کسی بات کو اس کے اصل مقام تک جا کر جانچتے نہیں وہ اس قسم کی نامکمل باتوں سے کچھ کے کچھ قصے کہانیاں بنا لیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے ،
اور تیسری بات یہ میرے بھائی ، کہ جس کام کے غلط ، ناجائز ،لعنت والا یا کسی اور سبب سے حرام ہونے کی کوئی شہادت اللہ جلّ و عزّ یا اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے میسر نہ ہو ، یا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اتفاق کی دلیل کے ذریعے سے نہ ہو ،تو ایسے کسی کام کو لوگوں کی طرف سے غلط ، یا ناجائز ، یا مقررہ حد سے خارج ہو کر کیے جانے کی وجہ سے جو نقصانات ہوتے ہیں ، ان نقصانات کی وجہ سے ہم اُس کام کو شرعی طور پر حرام یا لعنت قرار نہیں دے سکتے ،
(خیال رہے """سد ذرائع""" ، والا نسخہ استعمال کرنا ہم جیسوں عام لوگوں اور چند ایک اِکا دُکا علماء کے اختیارات میں سے نہیں )
جی ہاں ،اُس کام کی شرعی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ، اس کے غلط اور بے جا اور حدود سے خارج ہو کر ، ظلم اور زیادتی پر مبنی استعمال میں سے حرام کی خبر ضرور کی جا نی چاہیے ،اور اس پر غیر حقیقی شرعی حکم صادر کرنے سے دُور رہتے ہوئے اس کے دینی ، دُنیاوی اور اُخروی نقصانات کے بارے میں سب کو آگاہ کرتے ہوئے ان سے بچانے کی کوشش کی جاتی رہنی چاہیے، حتیٰ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اُس کی اصلاح فرما دے ،
ہم میں سے کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ جہیز لینے اور دینے کی رسم ہمارے معاشرے میں ظلم و زیادتی کی بہت سے حدود تجاوز کیے ہوئے ہے ، اور اگر کہیں کوئی اس کی اصلاح کی کوشش میں جہیز نہیں لیتا تو بھی اس کے اہل خاندان شادی کے بعد لڑکی کا جینا دوبھر کیے رکھتے ہیں ، لہذا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی لڑکے یا مرد کی طرف سے جہیز نہ لینے کے اصرار کے باجود لڑکی والے جہیز دیتے ہیں ، اور اکثر اوقات اپنی مالی و معاشی قوت سے بہت بڑھ کر خود کو مصیبتوں میں ڈال کر دیتے ہیں ،
جہیز لینے اور دینے میں واقع ہونےو الی زیادتی بھی دیگر بہت سے غلط اور ناجائز کاموں کی طرح ہمارے معاشرے میں ایک معمول بن چکی ہے ، جس کی اصلاح سختی ترشی سے ہونا تقریباً نا ممکن ہے ، پس یہ معاملہ آہستگی ، نرمی اور مستقل تبلیغ کے ذریعے دِلوں اور احساسات کی اصلاح کے ذریعے ہی سدھرا جا سکتا ہے اِن شاء اللہ ، نہ کہ جہیز کو حرام یا لعنت قرار دے کر ، کیونکہ جب کسی کام کو اس کی اصل شرعی حیثیت کی بجائے کسی اور حیثیت میں کر دیا جاتا ہے تو اس کاروائی کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ہوتی ، لہذا جس کام کی جو شرعی حیثیت ہے اسے وہیں رکھتے ہوئے، اُس کام کو غلط ، ناجائز اور حرام طریقوں سے پورا کرنے کے لیے جو کچھ کیا یا کروایا جاتا ہے اس کی اصلاح کی کوشش کی جانی چاہیے ، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی اور سب ہی مسلمانوں کی اصلاح فرمائے ،والسلام علیکم۔
 
Top