گڈمسلم
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 10، 2011
- پیغامات
- 1,407
- ری ایکشن اسکور
- 4,912
- پوائنٹ
- 292
خود مانا جا رہا ہے کہ جہیز ایک غلط چیز ہے، اور اس کے حق میں دلائل بھی کون دیتا ہے؟۔۔ لیکن اس کے باوجود پھر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ نہیں جہیز ملنا چاہے بس نام ضروریات زندگی کا رکھ لیا جائے۔ یعنی شراب کا نام پانی رکھ کر بیچتے چلے جاؤ۔جہیز کے حق میں کون دلائل دیتا ہے؟ جہیز ایک غلط چیز ہے، اس بات کا میں بھی قائل ہوں،
کتنی ہی عورتیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں ۔ کم جہیز کی وجہ سے بہت سی عورتوں کی زندگی عذاب ہو جاتی ہے؛ مار پیٹ کے علاوہ بعض دفعہ ان کو جلا دیا جاتا ہے یا ان پر تیزاب پھینکا جاتا ہے ۔ دوسری طرف آج کل کا معاشرہ انسانی رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ لعنت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام سادگی کا دین ہے اور اسلام کی نظر میں عورت کا بہترین جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے۔لیکن ہر معاملے میں افراط و تفریط اچھی چیز نہیں،
باپ کی وارثت میں بیٹیوں کا ایک معین حصہ قرآن نے مقرر کیا ہے۔ اس کی طرف تو کوئی توجہ نہیں کی جاتی بلکہ اگر کوئی مطالبہ کردے تو اسے معیوب تصور کیا جاتاہے۔ اس کے برعکس جہیز کے بغیر شادی کا تصور بھی ناممکن ہے۔ معاشرے میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی صرف اس لیے وقت پر نہ ہو سکی کہ ان کے والدین ان کے جہیز کا بندوبست نہ کرسکے۔چند امیر لوگوں کو چھوڑ کر بے شمار لوگوں کی زندگیاں اپنی بیٹیوں کا جہیز تیار کرنے میں گزر جاتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات قرض لے کر اس ہندوانہ رسم کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔اور اگر کوئی خدا ترس اس رسم کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائے تو اسے معاشرے کی طرف سے زبردست طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑتاہے۔۔۔جو عمل صنف نازک کے گلے کا طوق بن چکا ہے، ہمارے اصحاب اس وقت بھی مشورہ دیتے چلے جاتے ہیں کہ افراد وتفریط اچھی نہیں۔
میں مانتا ہوں کہ ہر معاملے میں افراط وتفریط اچھی چیز نہیں لیکن جہاں اچھی چیز ہو، وہاں ادھر ادھر کی دور کی کڑیاں لگا کر جان بھی نہیں چھڑانی چاہیے۔
جو ایسا کرتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ اور جو ضروریات کا نام دے کر ایک ایسی چیز کو رائج کرنے کے چکروں میں ہیں۔ جن کے نقصانات سورج کی طرح عیاں ہیں۔ ان کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ غریبوں کےلیے تلواروں کو بے نیام کرنے کے ساتھ ماؤں بیٹیوں کے سروں پہ چادریں دینے کے بجائے کھینچتے چلے جارہے ہیں۔لوگ تعصب میں دوسروں کے بارے میں غلط موقف قائم کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
فرائض فروض اور اگر مگر پارٹی سے ہمارا (اہل الحدیث کا) کوئی تعلق نہیں۔۔ اس لیے گفتگو میں فرضی بات کو لانے کا جواب بھی فرضی سمجھ لیا جائے۔۔مجھے ایک بات بتا دیں فرض کریں
ضروریات زندگی ؟ بہت خوب۔آپ کے بیٹے کی شادی ایک نیک لڑکی سے طے پاتی ہے، آپ کے بیٹے کے پاس ضروریات زندگی کا سامان کا فقدان ہے، لڑکی کا والد آپ کی حالت کو دیکھ کر بخوشی فیصلہ کرتا ہے کہ میں اپنی بیٹی اور داماد کو ضرورت زندگی کا سامان خرید کر دیتا ہوں تاکہ وہ زندگی اچھے طریقے سے بسر کر سکیں۔ تو کیا آپ اس بات کو نامنظور کر کے رشتہ توڑ دیں گے، اگر ہاں تو کیوں؟ اگر آپ کا یہ عمل شرعی ہے تو کتاب وسنت سے کوئی دلیل پیش کریں۔
1۔ پہلی بات مجھے آج ایسا گھرانہ آپ دکھا ہی نہیں سکتے کہ جس گھر میں سونے کےلیے بستر نہ ہوں، کھانے پینے اور کھانا پکانے کےلیے سامان نہ ہو، اگر آپ کی نظر میں ایسا گھرانہ ہے تو بتائیے۔ باللہ التوفیق ایسے گھر کے ساتھ (ان شاءاللہ ہم سب) تعاون کرنے کےلیے تیار ہیں۔۔ اور پھر جو ایسے گھر میں اپنی بیٹی کا رشتہ دے گا۔( شرط یہ ہے کہ خود صاحب مال ہو، اور اس طرح کے گھر بیٹی کا رشتہ دے رہا ہوں۔ جہاں نہ سونے کےلیے بستر ہوں، اور نہ کھانے پینے کا سامان) تو ان شاءاللہ اس کی بیٹی کو ضروریات زندگی کا سامان ہم دیں گے۔۔۔۔ہے کوئی تیار ایسا کرنے کےلیے ؟
2۔ دوسری بات حقیقتاً جب ایسی صورت حال بن جائے تو علماء سے شرعی رہنمائی لینے آجائیے گا۔ آپ کے حق میں ہی رہمائی مل جائے گی۔ لیکن ابھی فرضی قصے کہانیوں سے دور رہیں۔۔شکریہ