• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تراویح اور سعودی علماء

محمد عاصم

مشہور رکن
شمولیت
مئی 10، 2011
پیغامات
236
ری ایکشن اسکور
1,026
پوائنٹ
104
ہمارے لیئے نمونہ عمل صرف نبیﷺ کی ذات ہے نہ کہ سعودیہ کے علما اور نہ ہی امام۔ بلفرض اگر ۲۰ رکات پڑھی بھی جاتی ہیں تو کیا ہم سنت عمل کو چھوڑ کر کسی غیر نبی کے عمل کی اتباع کرسکتے ہیں؟ اگر نہیں کرسکتے اور ہر گز نہیں کرسکتے تو کوئی ۱۰ پڑھے یا ۲۰ یا ۳۰ ہمیں اس سے غرض نہیں ہونی چاہیئے۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,345
پوائنٹ
180
اس موضوع پر یہ کتاب بھی بہت اچھی ہے جوشیخ اسماعیل انصاری نے لکھی ہے
کتاب کانام ہے۔
تصحيح حديث صلاۃ التراويح عشرين ركعۃ والرد على الالباني في تضعيفہ
شبكة الرد الإلكترونية www.alradnet.com - تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين ركعةوالرد على الألباني في تضعيفه
افسوس کہ یہ کتاب عربی میں ہے اس سے صرف وہی لوگ استفادہ کرسکیں گے جنہیں عربی زبان سے واقفیت ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,792
پوائنٹ
722
اس موضوع پر یہ کتاب بھی بہت اچھی ہے جوشیخ اسماعیل انصاری نے لکھی ہے
کتاب کانام ہے۔


شبكة الرد الإلكترونية [url]www.alradnet.com - تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين ركعةوالرد على الألباني في تضعيفه[/url]
افسوس کہ یہ کتاب عربی میں ہے اس سے صرف وہی لوگ استفادہ کرسکیں گے جنہیں عربی زبان سے واقفیت ہے۔
اس کتاب کے جواب کے لئے ملاحظہ ہو علامہ البانی رحمہ اللہ کی یہ کتاب:

قيام رمضان للشيخ ناصر الدين الألباني

درج ذیل صفحات سے ڈاؤنلود کریں:
[LINK=http://www.4shared.com/document/_tsUYB81/_____.html]http://www.4shared.com/document/_tsUYB81/_____.html[/LINK]

[LINK=http://www.alalbany.net/albany_dbbooks.php]http://www.alalbany.net/albany_dbbooks.php[/LINK]

[LINK=http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?p=1456349]http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?p=1456349[/LINK]


یہ کتاب بھی اصل عربی میں ہے لیکن اردو میں اس کے کئے تراجم ہوچکے ہیں ، مگر شاید نیٹ پر دستیاب نہیں ۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
یہ کتاب بھی اصل عربی میں ہے لیکن اردو میں اس کے کئے تراجم ہوچکے ہیں ، مگر شاید نیٹ پر دستیاب نہیں ۔
جزاکم اللہ خیرا کفایت اللہ بھائی جان۔
اگر کسی اچھے اردو ترجمہ شدہ کتاب اور مترجم کا نام بتا سکیں تو ہم لائبریری کے لئے کوشش کریں اس کو ڈھونڈنے کی۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
873
ری ایکشن اسکور
2,345
پوائنٹ
180
لگتاہے کہ کفایت اللہ صاحب نے خود یہ کتاب نہیں پڑھی ہے اس لئے اس کوجواب کے طورپر پیش کیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیام رمضان نامی کتاب ناصرالدین الالبانی کی ہے جوانہوں نے لکھی تھی اس کے بعد شیخ اسماعیل الانصاری کی کتاب ائی ۔ انہوں نے قیام رمضان کے طبع ثانی کے مقدمہ میں تھوڑااورنہایت مختصر طورپر اس کتاب کا ذکر کیاہے اورکچھ اپنادفاع کیاہے۔
اس کتاب کو شیخ اسماعیل الانصاری کی کتاب کا جواب کہناغلط ہے۔والسلام
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,567
پوائنٹ
384
اس مسٗلے پر درج ذیل کتب بھی پڑھ لیں۔

[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/8-ibadaat/662-namaz-e-taraweeh.html]نماز تراویح[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/181-total-books/119-tadad-e-rakat-qiyam-ramzan.html]تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائز ہ[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/1-urdu-islami-kutub/118-rakaat-ul-traweeh.html]رکعات التراویح مع اضافات و ضمیمہ
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/ibadaat/%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2-/%D9%85%D8%AA%D9%81%D8%B1%D9%82%D8%A7%D8%AA/62-%D8%AA%DB%81%D8%AC%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AD/106-anwar-masabeeh-bajawab-rakat-e-taraweeh.html]انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح
[/LINK][LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/1-urdu-islami-kutub/115-fazail-o-masail-ramzan-ul-mubarak.html]فضائل و مسائل رمضان المبارک مع التحقیق فی رکعات تراویح[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/1-urdu-islami-kutub/129-ameen-okarwi-ka-taqub.html]امین اوکاڑوی کا تعاقب- بجواب اعتراضات امین اکاڑوی، مسلہ رکعات تراویح[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/19-taqabul-masalik/615-bara-masail.html]بارہ مسائل صفحات: 157-179[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/taqabul-masalik/148-%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C%D8%AA/336-deen-ul-haq-bajawab-jaa-ul-haq-01.html]دین الحق بجواب جاء الحق۔حصہ اول: صفحات 518-537[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/181-total-books/258-mukalimat-e-noorpoori.html]مکالمات نور پوری: صفحات: 157-298[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/urdu-islami-kutub/19-taqabul-masalik/690-zameer-ka-bohran.html]ضمیر کا بحران: صفحات: 266-274[/LINK]
[LINK=http://www.kitabosunnat.com/kutub-library/article/1-urdu-islami-kutub/655-hadees-aur-ahle-taqleed-2.html]حدیث اور اہل تقلید بجواب حدیث اوراہل حدیث--جلد دوم: صفحات: 363-413
[/LINK]

اگر ان ساری کتابوں، بلکہ ان میں سے چند کا ہی مطالعہ کیا جاے تو شیخ البانی کے خلاف پیش کی گئى کتاب میں اعتراضات کے جوابات، ضرور مل جایں گے۔ ان شاء اللہ!
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,792
پوائنٹ
722
لگتاہے کہ کفایت اللہ صاحب نے خود یہ کتاب نہیں پڑھی ہے اس لئے اس کوجواب کے طورپر پیش کیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیام رمضان نامی کتاب ناصرالدین الالبانی کی ہے جوانہوں نے لکھی تھی اس کے بعد شیخ اسماعیل الانصاری کی کتاب ائی ۔ انہوں نے قیام رمضان کے طبع ثانی کے مقدمہ میں تھوڑااورنہایت مختصر طورپر اس کتاب کا ذکر کیاہے اورکچھ اپنادفاع کیاہے۔
اس کتاب کو شیخ اسماعیل الانصاری کی کتاب کا جواب کہناغلط ہے۔والسلام
میرے خیال سے جمشید صاحب نے نہ تو علامہ البانی کی کتاب پڑھی ہے اورنہ ہی انصاری صاحب کی کتاب پڑھی بلکہ صرف ورق گردانی کرلیا ہوگا جیساکہ ان کے جامعات میں صحیحین اوردیگرکتب احادیث کی ورق گردانی ہوتی ہے۔
جمشیدصاحب کے مراسلہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے علم میں تراویح کے موضوع پر علامہ البانی کی صرف ایک ہی کتاب ہے اور وہ ہے ’’قیام رمضان ‘‘ اور انصاری صاحب نے اسی کتاب کا جواب دیا کیونکہ علامہ البانی رحمہ اللہ کی یہ کتاب ’’قیام رمضان ‘‘ پہلے لکھی گئی اور اس کے بعد شیخ اسماعیل الانصاری کی کتاب ائی۔

پھر جب علامہ البانی نے اپنی کتاب ’’قیام رمضان ‘‘ کا گلا ایڈیشن نکالا تو اس کتاب کے مقدمہ میں تھوڑااورنہایت مختصر طورپر اس کتاب کا ذکر کیاہے اورکچھ اپنادفاع کیاہے۔

یہ ساری مصیبت اصل میں اس قیاس آرائی والی عادت کا نتیجہ ہے جو موصوف کی موروثی متاع ہے !!!
محترم ! کم ازکم حقائق کی دنیا میں قیاس آرائی نہ کیا کریں۔

دراصل تراویح کے موضوع پر علامہ البانی رحمہ اللہ کی دوکتابیں ہیں ۔

اول: صلاۃ التراویح
دوم: قیام رمضان

انصاری صاحب نے جس کتاب کا جواب دیا تھا وہ ’’صلاۃ التراویح ‘‘ ہے نہ کہ ’’قیام رمضان ‘‘۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ انصاری صاحب نے اپنی کتاب میں علامہ البانی کی جو عبارتیں نقل کی ہیں وہ صرف ’’صلاۃ التراویح ‘‘ ہی میں ملتی ہیں:
مثلا:
انصاری صاحب علامہ البانی سے نقل کرتے ہیں:
إن سلم ممن بينه وبين محمد بن يوسف فالعلة منه أعني عبد الرزاق لأنه وإن كان ثقة حافظا ومصنفاص مشهورا فقد كان عي في آخر عمره فتغير[تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين ركعة والرد على الألباني في تضعيفه ص: ١٧]۔

یہ عبارت علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’قیام رمضان ‘‘ میں نہیں ہے بلکہ ’’صلاۃ التراویح ‘‘ میں ہے ملاحظہ ہو:
إن سلم ممن بينه وبين محمد بن يوسف فالعلة منه أعني عبد الرزاق لأنه وإن كان ثقة حافظا ومصنفاص مشهورا فقد كان عي في آخر عمره فتغير [صلاة التراويح - الألباني ص: 57]

اسی طرح انصاری صاحب علامہ البانی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لا يجوز أن يقال: عن إحداها تقوي الأخرى لأن الشرط في ذلك أن يكون شيوخ كل من الذين أرسلاها غير شيوخالآخر وهذ لم يثبت هنا لأ كلا من الراويين يزيد وابن سعيد مدني فالذي يغلب على الظن في هذه الحالة أنهما اشتركا في الرواية عن بعض الشيوخ وعليه فمن الجائز أن أن يكون شيخهما الذي تلقيا عنه هذه الرواية إنما هو شيخ واحد وهذا قد يكون مجهولا أو ضعيفا لا يحتج به ومن لجائز أنهما تلقياها عن شيخين متغايرين ولكنهما ضعيفان لا يعتبر بهما[تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين ركعة والرد على الألباني في تضعيفه ص: ٢١،٢٢]۔

یہ عبارت علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’قیام رمضان ‘‘ میں نہیں ہے بلکہ ’’صلاۃ التراویح ‘‘ میں ہے ملاحظہ ہو:
لا يجوز أن يقال: عن إحداها تقوي الأخرى لأن الشرط في ذلك أن يكون شيوخ كل من الذين أرسلاها غير شيوخالآخر وهذ لم يثبت هنا لأ كلا من الراويين يزيد وابن سعيد مدني فالذي يغلب على الظن في هذه الحالة أنهما اشتركا في الرواية عن بعض الشيوخ وعليه فمن الجائز أن أن يكون شيخهما الذي تلقيا عنه هذه الرواية إنما هو شيخ واحد وهذا قد يكون مجهولا أو ضعيفا لا يحتج به ومن لجائز أنهما تلقياها عن شيخين متغايرين ولكنهما ضعيفان لا يعتبر بهما[صلاة التراويح - الألباني ص: 67]۔

بلکہ بعض مقامات پر تو انصاری صاحب نے صراحت کردی ہے کہ ان رد کا علامہ البانی کی کتاب ’’صلاۃ التراویح‘‘ پر ہے نہ کی ’’قیام رمضان‘‘ پر ، مثلا ص٣٠پر لکھتے ہیں:
قلت وفی نفس ھذا الخطا وقع الالبانی فی ’’رسالة التراویح ‘‘[تصحيح حديث صلاة التراويح عشرين ركعة والرد على الألباني في تضعيفه ص: ٣٠]۔

ان دلائل سے معلوم ہوا کہ انصاری صاحب نے علامہ البانی کی کتاب ’’صلاۃ التراویح ‘‘ پر برائے نام رد کیا تھا جس کا جواب تو خود اصل کتاب ہی میں موجودہے اگر کوئی بھی شخص انصاری صاحب کی کتاب کوپڑھ کرعلامہ البانی کی اصل کتاب کی طرف مراجعہ کرے گا تو اصل کتاب ہی میں انصاری صاحب کی بات کا جواب مل جائے گا کیونکہ انصاری صاحب نے اپنی کتاب میں تلبیس و تدلیس سے کام لیا ہے بلکہ علامہ البانی کے بقول ان پر جھوٹ بھی بولاہے۔
جھوٹ اور تلبیسات کے سہارے جو رد کیا جاتاہے اس کے ازالہ کے لئے اصل کتاب کی طرف مراجعہ ہی کافی ہوتا ہے ، البتہ انصاری صاحب کے جومغالطات تھے تو ان کا مختصر مگر جامع جواب علامہ البانی رحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب ’’قیام رمضان ‘‘ میں دے دیا ہے، اس کتاب میں علامہ البانی کاجواب پڑھیں انصاری صاحب کی کتاب کی پوری حقیقت سامنے آجائے گی۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,792
پوائنٹ
722
جزاکم اللہ خیرا کفایت اللہ بھائی جان۔
اگر کسی اچھے اردو ترجمہ شدہ کتاب اور مترجم کا نام بتا سکیں تو ہم لائبریری کے لئے کوشش کریں اس کو ڈھونڈنے کی۔
علامہ البانی کی کتاب ’’صلاۃ التراویح ‘‘ کے کئی ترجمہ ہوئے ہیں ہیں ، میرے پاس درج ذیل دو ترجمہ موجود ہیں :

صلاۃ التراویح : ترجمہ زبیر احمد سلفی ، مطبوعہ الدار السلفیہ ، ممبئی۔
صلاۃ التراویح : ترجمہ عاشق الہی اثری ، مطبوع در مجلہ ’’التبیان ‘‘ نئی دہلی۔


علامہ البانی رحمہ اللہ کی دوسری کتاب ’’قیام رمضان ‘‘ کے بھی کئی ترجمہ ہوئے ہیں ہیں ، میرے پاس درج ذیل دو ترجمہ موجود ہیں :

قیام رمضان(رکعات تراویح کے احکام) : مترجم کا نام کتاب میں درج نہیں ، مطبوعہ فریوائی اکادمی ئی دہلی۔
قیام رمضان : ترجمہ وتعلیق و اضافہ شیخ مقصودالحسن فیضی حفظہ اللہ ۔ مطبوعہ صوبائی جمعیت اہل حدیث ، ممبئی۔


نوٹ : دونوں کتابوں کے موخر الذکر ترجمے میری نظر میں سب سے بہتر ہیں ، بالخص قیام رمضان مترجم شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ ، بہت ہی مفید ہے کیونکہ اس کتاب کے اخیر میں درج ذیل تین بحث کا اضافہ ہے۔
١: کیا اعتکاف صرف مساجد کے ساتھ خاص ہے؟
٢: قنوت وتر رکوع سے قبل یا بعد؟
٣: قنوت میں اللہم اھدنا یا اللہم اھدنی ؟

ان تینوں بحوث کا خلاصہ مترجم کی نظر میں درج ذیل ہے:
١: اعتکاف تمام مساجد میں جائز ہے اور اس سلسلے میں پیش کی جانے والی حدیث ضعیف ہے جیساکہ حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ وغیرہم نے تحقیق کی ہے۔
نوٹ : مترجم نے حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ کے فتوی سے چندباتیں ہی پیش کی ہیں اورمکمل فتوی کے لئے اسلام دعوہ ویب سائٹ کا حوالہ دیاہے۔
عرض ہے کہ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے اپنے اس فتوی پر قیمتی اضافہ کرکے اسی علمی مقالات میں شائع کیا ہے شائقین اس کتاب میں اس فتوی کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔


٢: دونوں طرح جائز ہے۔

٣: جمع کا صیغہ استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں ۔
 
Top