جنوری مصر کے مفتی اعظم کا فتوی
""""""داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں """"""
اس فتوے پر آج لوگوں میں بہت زیادہ بات چیت ہوتی نضر آ ئی آپ دوست اس فتوے پر کیا کہنا پسند فرمائیں گیں خاص طور پر جو لوگ داڑھی کو اس وقت کی ثقافت کہتے ہیں وہ بہت خوش نضر آئے اللہ ہمیں سنت پر زندہ رکھے اور سنت پر ہی موت نصیب فرمائے آمین
جزاک اللہ
جب انسان کسی گناہ میں مبتلا ہو تو پھر اس کے جواز کے لیے مختلف بہانوں کی تلاش میں رہتا ہے اور جونہی کوئی ٹوٹی پھوٹی دلیل یا سہارا ملتا ہے تو اس پر قانع ہو کر بیٹھ جاتا ہے ۔
اصل میں ایسے لوگوں کے ہاں شرعی حکم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ وہ تو اپنی خواہشات نفس کے غلام ہوتے ہیں ۔ البتہ بھان متی کا کنبہ جوڑنے میں اس لیے لگے رہتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور لوگوں کو دھوکہ دے سکیں کہ ہم شریعت کی پابندی کرنے والے ہیں اس کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔
حالانکہ اگر مسئلہ شرعی حکم کا ہی ہے تو حضور کے فرمان
(اعفوا اللحی و أرخوا اللحی و خالفوا المشرکین و خالفو المجوس أو کما قال علیہ السلام) داڑہی کو چھوڑ دو ۔ داڑہی بڑھاؤ اور مشرکین و مجوس کی خلاف ورزی کرو ۔ پر اس ایک مفتی کیا ہزراوں مفتیوں کے فتاوی قربان کیے جا سکتے ہیں ۔ کیا حضور کا فرمان اس کے حکم شرعی ہونے کے لیے کافی نہیں ؟
چلو بات مفتی کی بھی ہو پھر بھی اس ایک مفتی کے مقابلے میں ہزاروں ایسے مفتی ہیں جنہوں نے داڑہی کو امر شرعی قرار دیا ہے ۔ ایک کی بات کو ہزاروں پر ترجیح دینے کی وجہ ؟ اس کے سواکچھ نہیں کہ یہ خواہش نفس سے میل کھاتا ہے ۔
جب ہم قرآن وسنت کے خلاف آئمہ أربعہ تک کی بات کو نہیں مانتے تو اس ایک مفتی کی کیا حیثیت ہے کہ اس جیسے ہزاروں مفتی ان میں سے کسی ایک کے جوتے کی خاک کے ایک ذرے کے برابر نہیں ہوسکتے ۔
ذرا تصور کریں ایک طرف فرمان رسول ہے :
داڑہی چھوڑو ۔ داڑھی بڑھاؤ اور مشرکین کی مخالفت کرو ۔ مجوسیوں کی مخالفت کرو ۔
اور دوسری طرف مفتی اعظم کا فلسفہ ہے :
داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں
اب خود اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ کسے خوشی منانی چاہیے اور کسے اپنی قسمت پر ماتم کرنا چاہیے ۔