lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
جس روایت میں روح کے لوٹنے کا ذکر ہے ، اس میں روح کے لوٹنے والی بات کو نہیں مانتے
یہ والی روایت پیش کریں کہ اللہ روح کو واپس دنیا میں لوٹاتا ہے -
جس روایت میں روح کے لوٹنے کا ذکر ہے ، اس میں روح کے لوٹنے والی بات کو نہیں مانتے
محترم ابراہیم صاحب : جناب کا پورا مضمون پڑھا ، عقلی ڈھکوسلوں ، رقیق تاویلات ، تفسیر بالرّائے اور قرآن میں تحریف معنوی کا مجموعہ پایا ۔ان شاء اللہ فرصت ملنے پرکچھ لکھوں گا آج صرف ایک بات لکھتا ہوں
جناب نے قرآن مجید کی اس آیت "” ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ “ پر تفسیر بالرائے اور تحریف معنوی کے جو علمی جواہر رقم کئے ہیں پڑھنے کے قابل ہیں ؟
جناب لکھتے ہیں کہ "” ثُمَّ أَمَاتَهُ “ اللہ نے جب تک چاہا اس کو زندگی بخشی، ” ثُمَّ أَمَاتَهُ “پھر کچھ عرصہ بعد اللہ نے اسے موت دی ” فَأَقْبَرَهُ [عبس : 21]“ پھر اسی روح وجسد کے مجموعے کو اللہ رب العالمین نےقبر عطا کردی۔
محترم: آپ نے "ثم اماتہ فاقبرہ " کا ایک ترجمہ یہ کیا کہ “ اللہ نے جب تک چاہا اس کو زندگی بخشی، ” پھر اسی کا ترجمہ یہ لکھا“پھر کچھ عرصہ بعد اللہ نے اسے موت دی ” دونوں میں کونسا ترجمہ درست ہے؟
"فاقبرہ" کا ترجمہ جناب نے لکھا کہ “ پھر اسی روح وجسد کے مجموعے کو اللہ رب العالمین نےقبر عطا کردی۔" یہ ترجمہ اس آیت کے کن لفظوں کا ہے؟اسی کو تحریف معنوی کہتےہیں
ان آیات کریمہ کا ترجمہ پڑھئے " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ﴿١٨﴾ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ﴿١٩﴾ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ﴿٢١﴾
اس نے کس چیز سے اس کو بنایا( 18)ایک بوند سے اس کوبنایا پھر اس کا اندزہ ٹھیرایا (19)پھراس پر راستہ آسان کر دیا(20)پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا (21)
(اگر یہ ترجمہ غلط ہو تو نشاندہی فرمائیں)
آیت نمبر 21 سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس انسان پر موت وارد ہوتی ہے اُسے فورا" قبر مل جاتی ہے(خواہ اسے اس ظاہری قبر میں دفنایا جائے یا نہیں)اس بات کو جناب نے بھی تسلیم کیا ہے " فَ ‘ موت دینے کے فوراً بعد ’ أَقْبَرَهُ‘ اس کو قبر دے دی۔"
اب صرف اتنا بتا دیں کہ فرعون اور الِ فرعون اوربدر کے کافر و مشرک مقتولوں کو کیا اِن ظاہری قبروں میں دفنایا گیا؟ تو پھر بتائیں! کہ انہیں فورا" کہاں اور کون سی قبریں ملیں؟
بات صرف اتنی سی تھی مگر بات ” بڑھا“ دی ” بڑھانے والوں“ نے۔ گویا وہی بات ہوئی :-بسم اللہ الرحمن الرحیم
منکرین برزخ کا عقیدہ اور اس کا رد
بدنیت اور منحرف لوگوں کا ایک گروہ گمراہی کا شکار ہوا۔ان لوگوں نے اپنے اوہام باطلہ کی رو سے قبر کے عذاب اور اس کی راحتوں کا انکار کیا۔اور کہا کہ یہ ایک خلاف واقعہ اور ناممکن بات ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر قبر کھول کر مُردے کی حالت دیکھی جائے تو وہ اسی حالت میں پایا جاتا ہے جس میں دفن کیا گیا تھا اور قبر میں کوئی بھی تبدیلی کشادگی یا تنگی دیکھنے میں نہیں آتی۔ایسا گمان شریعت،حس اور عقل کی رو سے باطل ہے۔
شریعت کی رو سے اس کا رد
یوم آخرت پر ایمان کے باب میں "عذاب قبر اور اس کی نعمتیں" کے زیر عنوان عذاب قبر اور اس کی نعمتوں پر دلالت کردہ شرعی دلائل و نصوص گزر چکے ہیں۔
(حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
"نبی ﷺ مدینہ منورہ کے کسی باغ سے نکلے تو آپ نے دو مُردوں کی آوازیں سنیں جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا "پھر پوری حدیث سنا کر بتایا کہ "ان میں سے ایک پیشاب سے احتیاط اور طہارت نہیں رکھتا تھا"۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ دوسرا شخص چغل خور تھا۔(صحیح بخاری،الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ،حدیث:216،218)
حسی اعتبار سے اس کا رد
سونے والا شخص کبھی خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ بہت وسیع ،پر فضا اور کوش گوار مقام پر ہے اور وہاں طرح طرح کی نعمتیں اور راحتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے (تو وہ اپنے اندر فرحت و شادمانی محسوس کرتا ہے۔)اور اگر وہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ ایک وحشت ناک اور تنگ و تاریک جگہ پر ہے اور اس سے تکلیف محسوس کر رہا ہے (تو وہ غمگین اور رنجیدہ ہو جاتا ہے)کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ خواب دیکھنے والا شخص اپنے خواب سے چونک کر اٹھ بیٹھتا ہے،حالانکہ وہ اپنے گھر کے کمرے میں اپنے ہی بستر پر لیٹا ہوتا ہے اور (ان رنج یا راحت کے مقامات پر نہ پہنچنے کے باوجود بھی راحت اور تکالیف کی کیفیات سے گزرتا ہے )جبکہ نیند تو موت کی چھوٹی بہن ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا نام "وفاۃ" رکھا ہے،ارشاد ہوتا ہے:
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَٱلَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ ٱلَّتِى قَضَىٰ عَلَيْهَا ٱلْمَوْتَ وَيُرْسِلُ ٱلْأُخْرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّى ۚ
عقلی اعتبار سے اس کا رد
سونے والا کبھی سچے خواب بھی دیکھتا ہے اور کبھی اصلی شکل وصورت میں نبی ﷺ کی زیارت بھی کر لیتا ہے اور جس نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے اوصاف کے مطابق دیکھا بلاشبہ اس نے آپ ہی کو دیکھا،حالانکہ سونے والا اس فرد سے جسے وہ خواب میں دیکھتا ہے،بہت دور اپنے کمرے کے بستر پر محو خواب ہوتا ہے۔اگر یہ تمام چیزیں دنیاوی حالات میں ممکن ہیں تو احوال آخرت میں کیونکر ناممکن ہو سکتی ہیں؟
جہاں تک منکروں کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ اگر قبر کو کھول کر مُردے کی حالت دیکھی جائے تو وہ اسی حالت میں نظر آتا ہے جس میں دفن کیا گیا تھا ،اور قبر میں کسی قسم کی کشادگی یا تنگی بھی نظر نہیں آتی تو اس کا جواب کئی ایک طرح سے دیا جا سکتا ہے:
• شریعت میں جو کچھ وارد ہے اس کا اس طرح کے باطل اور گمراہ کن شبہات کے ساتھ تقابل ہر گز جائز نہیں۔ان شکوک و شبہات کے ساتھ شریعت پر اعتراض کرنے والا شخص شریعت میں موجود نصوص و دلائل پر کما حقہ غوروفکر کرے تو اس پر ان شبہات کا بطلان واضح ہو جائے گا۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
وکم من عائب قولا صحیحا
وافتہ من الفھم السقیم
• عالم برزخ کے احوال کا تعلق غیبی امور سے ہے ،ان کا حسی ادراک ممکن نہیں۔اگر حس کے ذریعے سے ان کی حقیقت کا جانا ممکن ہوتا تو "ایمان بالغیب"کا سرے سے کوئی فائدہ ہی باقی نہ رہتا بلکہ اس طرح تو غیب پر ایمان لانے والے اور جان بوجھ کر اس کی تصدیق کے منکر ،دونوں ہی برابر ہو جاتے۔
• قبر میں عذاب و راحت یا کشادگی و تنگی کی کیفیات صرف میت ہی محسوس کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ان کیفیات کا احساس و ادراک نہیں کر سکتا۔اس کی مثال ٹھیک اس شخص کے خواب جیسی ہے جو نیند کی حالت میں کوئی تنگ و تاریک اور وحشت ناک مقام،یا نہایت دلفریب اور کشادہ جگہ دیکھتا ہے اور اپنے خواب کے احوال کے مطابق غمگین یا خوش ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس اس کے کمرے،بستر اور چادر میں سونے والا کوئی دوسرا فرد ان تمام کیفیات سے قطعی بے خبر رہتا ہے۔
اس کی ایک اور واضح مثال یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ اپنے صحابہ کے درمیان موجود ہوا کرتے تھے لیکن وحی کو صرف آپ ﷺ ہی سن پاتے تھے جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو وہ وحی سنائی دیتی تھی۔اور کبھی کبھی فرشتہ انسانی شکل میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے گفتگو بھی کرتا تھا لیکن صحابہ کرام اس فرشتے کو (نہ)دیکھ پاتے تھے نہ اس کی باتیں سن سکتے تھے۔اور کبھی کبھی دیکھ بھی لیتے اور گفتگو سن بھی لیتے تھے۔
• مخلوق کی قوت ادراک محدود ہے۔انسان کسی چیز کی حقیقت اسی حد تک پا سکتا ہے جس حد حقیقت کوپانا نا ممکن ہے۔مثلا ساتوں آسمان،زمین اور جو جو چیزیں ان میں موجود ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہیں ۔کبھی کبھار اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا ہے ان کی تسبیح و تحمید سنا دیتا ہے لیکن یہ حقیقت ہم سے پوشیدہ ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمائی ہے:
تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ ٱلسَّبْعُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِۦ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ
اسی طرح شیاطین اور جن زمین پر ادھر اُدھر دندناتے پھرتے ہیں۔اور جنوں کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوئی ،کاموشی سے آپ کی قراءت سنی اور مبلغ کی حیثیت سے اپنی قوم کی طرف لوٹ گئی اور وہ جماعت ان تمام چیزوں کے با وجود پوشیدہ رہی۔
اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿27﴾
پس جب مخلوق ہر موجود چیز کی اصل حقیقت کو نہیں پا سکتی تو اس کے لیے غیب کے ثابت شدہ ناقابل ادراک امور کا انکار قطعی جائز نہیں۔
اسلام کے بنیادی عقائد از شیخ محمد بن صالح العثیمین
بات صرف اتنی سی تھی مگر بات ” بڑھا“ دی ” بڑھانے والوں“ نے۔ گویا وہی بات ہوئی :-
لڑکا بغل میں، ڈھنڈورا شہر میں