• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا مودوی اور داڑھی

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
السلام علیکم محترم برادر



؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

والسلام
"تینوں باتیں درست نہیں اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق اسی بدگمانی رکھی جائے کیونکہ
کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے"

جب کوئی بات ثابت نہ ہو تو اس صورت میں بد گمانی جائز نہیں....مولانا کی تو کتابیں یہ ثابت کر رہی ہیں ...تو پھر ان سے نیک گمان کیسا ؟؟
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
بھائی سیدھے گمراہ بول دینا تو ٹھیک نہیں لگتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام معاملات مولانا کے علمی حدود سے باہر تھے۔ ان معاملات میں انہیں خامہ فرسائی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ہم نے عام طور پر اس بات کو محسوس کیا ہے کہ وہ لوگ جو مدارس سے دین کی روایتی تعلیم حاصل نہیں کرتے ان کے ساتھ یہ بڑا پرابلم ہوتا ہے کہ امت کا اجماعی فہم اگر ان کے انفرادی فہم سے ٹکرا رہا ہوتا ہے تو وہ امت کے اجماعی فہم کو ٹھکرانے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ مدارس کی روایتی تعلیم طالب علم کے دل اسلاف کی عظمت بٹھا دیتی ہے ۔ اس لیے وہ اجماعی معاملات میں شذوذ اختیار کرنے سے محفوظ رہ جاتا ہے ۔

بات تو آپ کی سہی ہے پر صحابہ کرام رضی الله عنھ کی متعلق ہرزہ سرائی کیا یہ کوئی گمراہی نہیں؟؟ خلافت و ملوکیت آخر کس گروہ کو خوش کرنے کے لئے لکھی گی تھی؟؟؟
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,423
پوائنٹ
521
"تینوں باتیں درست نہیں اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق اسی بدگمانی رکھی جائے کیونکہ
کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے"

[SUP]جب کوئی بات ثابت نہ ہو تو اس صورت میں بد گمانی جائز نہیں....مولانا کی تو کتابیں یہ ثابت کر رہی ہیں ...تو پھر ان سے نیک گمان کیسا ؟؟ [/SUP]
السلام علیکم

اتنے دن بعد بھی آپکا یہ جواب غیر مطعلقہ ھے ایک بحث کے لئے۔

کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے
کیا مولانا مودودی [SUP]مرحوم[/SUP] نے مسلمان کی حالت میں وفات نہیں پائی تھی؟

والسلام
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
السلام علیکم

اتنے دن بعد بھی آپکا یہ جواب غیر مطعلقہ ھے ایک بحث کے لئے۔


کیا مولانا مودودی [SUP]مرحوم[/SUP] نے مسلمان کی حالت میں وفات نہیں پائی تھی؟

والسلام
السلام و علیکم

مصروفیت کی بنا پر بر وقت جواب نہ دے سکا-- معزرت

مسلمان تو رافضی خارجی متظلہ قدریہ جہمیہ وغیرہ بھی تھے اور آج کل کے رافضی شیعہ بھی ہیں تو کیا ان کے بارے میں بھی آپ نیک گمان رکھتے ہیں.؟؟ ایک فاسق بھی مسلمان ہو سکتا ہے لیکن جب تک اس کے بارے میں ثبوت نہ ہو تو اس کے متعلق بعد گمانی جائز نہیں...لیکن ثابت ہونے پر اس کو گمراہ کہا جا سکتا ہے --امام ابو حنیفہ رحمللہ کے متعلق بھی انکے ہم اثر اماموں نے ان کو گمراہ قرار دیا ہے..اگرچہ امام ابو حنیفہ رحمللہ نے مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزاری اور مسلمان کی حیثیت سے فوت ہوے -


اور میں نے تو مولانا کو گمراہ ہی کہا ہے غیر مسلم تو نہیں --

واسلام
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,423
پوائنٹ
521
السلام و علیکم

مصروفیت کی بنا پر بر وقت جواب نہ دے سکا-- معزرت

مسلمان تو رافضی خارجی متظلہ قدریہ جہمیہ وغیرہ بھی تھے اور آج کل کے رافضی شیعہ بھی ہیں تو کیا ان کے بارے میں بھی آپ نیک گمان رکھتے ہیں.؟؟ ایک فاسق بھی مسلمان ہو سکتا ہے لیکن جب تک اس کے بارے میں ثبوت نہ ہو تو اس کے متعلق بعد گمانی جائز نہیں...لیکن ثابت ہونے پر اس کو گمراہ کہا جا سکتا ہے --امام ابو حنیفہ رحمللہ کے متعلق بھی انکے ہم اثر اماموں نے ان کو گمراہ قرار دیا ہے..اگرچہ امام ابو حنیفہ رحمللہ نے مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزاری اور مسلمان کی حیثیت سے فوت ہوے -


اور میں نے تو مولانا کو گمراہ ہی کہا ہے غیر مسلم تو نہیں --

واسلام
السلام علیکم

یہ سب میں سے آپ کو یزید میں کچھ بھی ملتا جلتا نہیں آیا جس پر آپ کا جواب یہ تھا۔
کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے
والسلام
 

عبداللہ حیدر

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
316
ری ایکشن اسکور
1,016
پوائنٹ
120
مولانا مودودی ایک گمراہ انسان تھے

ظاہر میں منکر حدیث نہ تھے لیکن حقیقت میں منکر حدیث تھے
السلام علیکم،
اپنے گروہ کے سوا دوسروں کو منکر حدیث، گستاخ رسول یا مشرک اعظم سمجھنے کی ہوا جب ہر طرف چل رہی ہو تو کسی تنہا فرد کو انسان کیا الزام دے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ حجیت حدیث پر آج میرا جو ایمان ہے اس کی بنیاد اسی شخص کے محکم اور دلنشین دلائل ہیں جس پر اب انکار حدیث کے الزامات کے تیر برسائے جا رہے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
والسلام علیکم
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
السلام علیکم،
اپنے گروہ کے سوا دوسروں کو منکر حدیث، گستاخ رسول یا مشرک اعظم سمجھنے کی ہوا جب ہر طرف چل رہی ہو تو کسی تنہا فرد کو انسان کیا الزام دے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ حجیت حدیث پر آج میرا جو ایمان ہے اس کی بنیاد اسی شخص کے محکم اور دلنشین دلائل ہیں جس پر اب انکار حدیث کے الزامات کے تیر برسائے جا رہے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
والسلام علیکم

والسلام علیکم
ذرا مولانا موصوف کی خیالات اور عقائد بھی ملاحظہ کر لیں اور پھر خود ہی فیصلہ کیجیے کہ مولانا گمراہ ہیں یا ہدایت یافتہ ؟؟

مولانا مودودی نے ترجمان القرآن ماہ مئی ؁ 55ء کے ص 163 پر فرمایا ہے کہ:

ایک گروہ روایت پرستی میں غلو کرکے اس حد تک پہنچ گیا ہے۔ کہ اسے بخاری و مسلم رحمہما اللہ کے چند راویوں کی صداقت زیادہ عزیز ہے اوراس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے ایک نبی پر جھوٹ کا الزام عاید ہوتا ہے۔

کانا دجال تو افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ (ترجمان القرآن ، جلد 28 ، نمبر 3 ، ص 172 ۔ 173 بابت ربیع الاول 1365ھ مطابق فروری ؁ 1964ء)

’’کیا تیرہ سو برس کی تاریخ نے یہ ثابت نہیں کردیا۔ کہ حضورﷺ کا یہ اندیشہ صحیح نہ تھا۔‘‘

(ملاحظہ ہو ترجمان القرآن جلد28نمبرص172/173 بابت ربیع الاول ؁1365ھ مطابق فروری ؁1964)

میں اسوہ اور سنت اور بدعت وغیرہ اصلاحات کے ان مفہومات کو غلط بلکہ دین میں تحریف کا موجب سمجھتا ہوں۔ جو بالعموم آ پ حضرات کے ہاں رائج ہیں۔ (رسالہ ترجمان القرآن : مئی و جون ؁1945ء )
آپ کا خیال کہ نبیﷺ جتنی بڑی ڈاڑھی رکھتے تھے اتنی ہی بڑھی ڈاڑھی رکھنا سنتِ رسولﷺ ہے یا اسوۂ(پیروی) رسولﷺ ہے یہ معنی رکھنا ہے۔ کہ آپ عاداتِ رسولﷺ کو بعینہٖ وہ سنت سمجھتے ہیں جس کے جاری اور قائم کرنے کے لئے نبیﷺ اور دوسرے انبیاء علیہم السلام مبعوث کیے جاتے رہے۔ مگر میرے نزدیک یہی نہیں کہ یہ سنت کی صحیح تعریف نہیں ہے۔ بلکہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اس قسم کی چیزوں کو سنت قرار دینا اور پھر ان کے اتباع پر اصرار کرنا ایک سخت قسم کی بدعت اور خطرناک تحریفِ دین ہے ۔ (حوالہ مذکورہ )

کیا تیرہ سو برس کی تاریخ نے یہ ثابت نہیں کردیا۔ کہ حضورﷺ کا یہ اندیشہ صحیح نہ تھا۔ (ترجمان القرآن ، جلد 28 ، ص 172 )

بلکہ اس سے بھی ترقی کرکے لکھتے ہیں:

وہ دراصل آپ کے قیاسات ہیں۔ جن کے بارے میں آپ صل الله وسلم خود شک میں تھے۔ (حوالہ مذکورہ )

مسیح علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ متشابہات میں سے ہے۔ ( کوثر ، 21 فروری ؁1951ء)

جہاں تک قرآن کا تعلق ہے حیاتِ مسیح ورفع الی السماء قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔ قرآن مجید کی مختلف آیات سے یقین نہیں ہوتا۔ (تقریر مولانا مودودی صاحب بموقعہ درس مقام اچھرہ لاہور ، 28 مارچ ؁ 1951ء)

یہ تین جھوٹ حدیث میں مذکور ہیں۔ ایک جان بچانے کے لئے اور دو اللہ کے راستہ میں اور یہ دونوں (جو اللہ کے راستہ میں ہیں) قرآن مجید میں بھی موجود ہیں اور تیسرا صرف حدیث میں ہے۔ اس کے متعلق اس حدیث میں صاف یہ الفاظ ہیں۔ میں نے بہن اس بناء پر کہا ہے کہ تو میری اسلامی بہن ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ یہ شکل جھوٹ کی ہے۔ دراصل جھوٹ نہیں لیکن باوجود اس کے مودودی صاحب ترجمان القرآن جلد 5 ص 282، 44 بابت دسمبر ؁ 1955ء میں اس حدیث پر اعتراض کرتےہیں۔ کہ یہ قرآن مجید کے خلاف ہے کیونکہ قرآن مجید میں ابراہیم علیہ السلام کو صِدِّیق (بڑا سچا) کہا ہے۔ حالانکہ دو جھوٹ جب قرآن مجید میں موجود ہیں۔

یہ بات قابلِ انکار ہے۔ کہ جیسا مستند اور معتبر ذریعہ قرآن مجید ہے ویسا مستند اور معتبر ذریعہ حدیث نہیں ہے۔ اس لئے صحت کا اصلی معیار قرآن ہی ہونا چاہیے۔ ( تفہیمات ص 329 )

احادیث کسی مسئلہ میں حجت نہیں قرار پاسکتیں۔ (ترجمان القرآن فروری 1946ء)
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,596
پوائنٹ
139
السلام علیکم،
اپنے گروہ کے سوا دوسروں کو منکر حدیث، گستاخ رسول یا مشرک اعظم سمجھنے کی ہوا جب ہر طرف چل رہی ہو تو کسی تنہا فرد کو انسان کیا الزام دے۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ حجیت حدیث پر آج میرا جو ایمان ہے اس کی بنیاد اسی شخص کے محکم اور دلنشین دلائل ہیں جس پر اب انکار حدیث کے الزامات کے تیر برسائے جا رہے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
والسلام علیکم
وعلیکم السلام
محترم بھائی ! مسئلہ صرف حدیث کو حجت تسلیم کرنے کا نہیں ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے (سر)سید احمد خان،جاوید احمد غامدی اور امین احسن اصلاحی صاحبان حدیث کی حجیت کا کلیہ انکار کرتے ہیں ؟
اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ وہ کونسی حدیث ہے جو حجت ہے ؟
(سر)سید احمد خان کہتے تھے کہ لوگ مجھے منکر حدیث کہتے ہیں جبکہ میں ہر اس حدیث کو مانتا ہوں جو میرے نزدیک صحیح ہے !!!
ان تمام اور ان جیسے دیگر صاحبان نے حدیث کی صحت اور ضعف کا جو میعار مقرر کیا ۔۔۔اس میں ان لوگوں نے محدثین کے منہج کو خیر باد کہ دیا اور یہی بگاڑ کی اصل وجہ بنی۔
کسی نے صحت اور ضعف کا میعار اپنی عقل کو ٹھہرایا تو کسی نے روایت میں درایت کا ایسا پیوند لگایا کہ پھل اپنی مرضی کا حاصل ہو تو کسی نے چور دروازے سے گس کر علوم حدیث کو یرغمال بنانے کی کوشش کی !!!
مولانا اسماعیل سلفی رحمہ نے کیا خوب بات کہی تھی کہ یہ لوگ ایک ایسے قلعے میں نقب لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس کے اندرونی حالات سے باکل واقف نہیں۔۔۔جس کی وجہ سے کبھی یہ لوگ آتے ہوئے گرفتار ہوتے ہیں اور کبھی جاتے ہوئے !
 

عبداللہ حیدر

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
316
ری ایکشن اسکور
1,016
پوائنٹ
120
والسلام علیکم
ذرا مولانا موصوف کی خیالات اور عقائد بھی ملاحظہ کر لیں اور پھر خود ہی فیصلہ کیجیے کہ مولانا گمراہ ہیں یا ہدایت یافتہ ؟؟
السلام علیکم، برادر مکرم!
اعتبار یا (Credibility)کی اہمیت دنیا کے ہر شعبے میں مسلم ہے لیکن جب دیندار لوگ اپنا اعتبار کھو بیٹھیں تو اس کی زد خود دین پر پڑتی ہے۔ اس لیے ہمدردانہ گزارش ہے کہ علمی اختلاف ضرور کریں لیکن کسی کی مخالفت میں اتنا آگے مت جائیے کہ جو اینٹ پتھر ہاتھ آئے وہ اگلے کے سر پر دے ماری جائے۔ یاد رکھیے سامعین و قارئین دو قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم سرسری طور سے گزر جانے والوں کی ہے جن میں ایسے غیر سنجیدہ لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا کام محض تالیاں پیٹنا اور لڑنے والے پہلوانوں کو شہہ دینا ہوتا ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو تلاش حق میں مارے مارے پھرتے ہیں اور کسی خاص مکتب فکر کے لیے تعصب نہیں رکھتے۔ ان میں ایسے خاموش قارئین بھی ہوتے ہیں جو شاید چلتی بحث میں شامل ہونا پسند نہ کریں لیکن آپ کی ایک ایک بات کی اپنے ذرائع سے تصدیق ضرور کریں گے۔ ان کے سامنے ہر کچی پکی بات لا کر پیش کر دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں دینی رجحان رکھنے والے کسی شخص کا اعتبار باقی نہیں رہتا۔بالآخر یہ لوگ روایتی چالبازیوں اور ایک دوسرے پر جھوٹے الزامات سے ایسے متنفر ہوتے ہیں کہ مذہب ہی کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی مجھے اور آپ سب کو اس فتنے سے محفوظ رکھے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آپ نے جو اقتباسات دیے ہیں تحقیق کے پلڑے میں ان کا کیا وزن ہے۔ آپ نے نقل کیا ہے:
مسیح علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ متشابہات میں سے ہے۔ ( کوثر ، 21 فروری ؁1951ء)
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے حیاتِ مسیح ورفع الی السماء قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔ قرآن مجید کی مختلف آیات سے یقین نہیں ہوتا۔ (تقریر مولانا مودودی صاحب بموقعہ درس مقام اچھرہ لاہور ، 28 مارچ ؁ 1951ء)
ان دو جملوں سے جو تاثر آپ نے دینا چاہا ہے وہ یہ ہے کہ مودودی عیسی علیہ السلام کی حیات کا نہ صرف منکر ہے بلکہ وہ ان کے آسمان پر اٹھائے جانے میں بھی شک کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے قرآن کا نام استعمال کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ یہی وہ دو جملے ہیں جنہیں بنیاد بنا کر آپ نے مجھے موصوف کے "عقیدے" سے واقفیت پیدا کرنے کی دعوت دی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ گمراہی کا فتوی جاری کرنے سے قبل مفتی صاحب (محدث فتوی پر جو فتوی ہے اس کی طرف اشارہ ہے) نے وہ صریح جملے اور وہ پرزور دلائل دیکھنے گوارا ہی نہیں کیے جو مودودی صاحب نے رفع الی السماء اور حیات مسیح کے اثبات میں دیے ہیں۔ تفہیم القرآن جلد اول کے یہ صفحات دیکھیے:



انصاف سے بات کیجیے، آپ کو لگتا ہے یہ شخص واقعی رفع الی السماء اور حیات مسیح کا منکر تھا؟ انہی صفحات سے دجال کے انکار والے الزام کا غلط ہونا بھی معلوم ہو گیا۔
دیگ کا ذائقہ بتانے کے لیے چاول کا ایک دانہ ہی کافی ہوتا ہے۔ آپ نے جن دلائل سے مودودی عقائد کشید کرنے کی سعی کی ہے دیکھ لیجیے تحقیق کی میزان میں ان کا کتنا وزن ہے۔ مودودی صاحب کی غلط باتوں کا رد میں نے خود کئی جگہ نشر کروایا ہے جس کی گواہی باذوق بھائی دے سکتے ہیں۔ اختلاف وہ کریں جو علمی، تحقیقی اور حقیقی ہو۔ خود تراشیدہ الزامات دینی طبقے کو سوائے بدنامی کے کچھ نہیں دے سکتے۔
والسلام علیکم
 

باربروسا

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 15، 2011
پیغامات
311
ری ایکشن اسکور
1,078
پوائنٹ
106
السلام علیکم!

حال یہ ہے کہ کفار اب الوہیت سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ربوبیت کے مسائل میں مسلمانوں کو مشکوک کرنے میں لگے ہیں اور ہم ابھی تک ایک ایک شخصیت کو گمراہ اور نجانے کیا کیا ثابت کر کے دین کی کیا خدمت کرنا چاہتے ہیں؟؟ شاید خود بھی ہمیں معلوم نہیں ہوتا.

اردو میں اسلام کے عقلی مقدمے کو پیش کرنے اور اس کے دفاع پر نظر دوڑائیں تو آپ کو اس میدان میں مودودی رحمہ اللہ سے شاید ہی کوئی آگے نظر آئے.

اب اس تھریڈ کا موضوع داڑھی سے شروع ہو کر مودودی صاحب کا فیصلہ کرنے پر آ چکا ہے .

پتہ نہیں ہم کب ان چیزوں سے نکلیں گے ، یا کسی اور ہلاکو خان کا انتظار کر رہے ہیں شاید!

اور یہ بات بالخصوص قابل غور ہے کہ ایسی تحریریں یا معرکے جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ، کو پڑھ کر لوگ اہل دین سے ہی متنفر ہو جاتے ہیں

ان کے سامنے ہر کچی پکی بات لا کر پیش کر دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں دینی رجحان رکھنے والے کسی شخص کا اعتبار باقی نہیں رہتا۔بالآخر یہ لوگ روایتی چالبازیوں اور ایک دوسرے پر جھوٹے الزامات سے ایسے متنفر ہوتے ہیں کہ مذہب ہی کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔
والسلام
 
Top