• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا مودوی اور داڑھی

عمران اسلم

رکن نگران سیکشن
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
1,607
پوائنٹ
204
مَردوں کیلئے سنت کے مطابق داڑھی رکھنا واجب ہے یہ حضورﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور اکرم ﷺ نے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے۔ آپﷺ کا فرمان ہے:
"‏ خالفوا المشركين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وفروا اللحى،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأحفوا الشوارب ‏"‏‏[صحیح بخاری: 5892]
تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔
جب کسریٰ کے دوقاصد داڑھی منڈائے اور مونچھیں بڑھائے ہوئے حضورﷺ کے دربار میں حاضر ہوئے تو آپ انکی یہ صورت دیکھ کر کبیدہ خاطر ہوئے اور پوچھا کہ ایسی صورت بنانے کا تم کو کس نے حکم دیا ہے کہنے لگے ہمارے رب کسری نے آپ نے فرمایا لیکن میرے رب نے تو مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹانے کا حکم دیا ہے۔
اس باب کی متعدد احادیث کتب احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے فقہا نے داڑھی کو بڑھانا واجب قرار دیا ہے۔ البتہ بعض فقہا کے نزدیک داڑھی کی مقدار ایک مشت جبکہ بعض فقہا داڑھی کو کسی بھی طرح کترنے کو جائز قرار نہیں دیتے۔
مولانا مودودی نے داڑھی کی حد کے بارے میں جس رائے کا اظہار کیا وہ علمائے سلف سے مختلف اور الگ تھی۔ ان کے نزدیک انسان کے چہرے پر داڑھی ہونی چاہیے لیکن اس کی حد کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ ان کی اس رائے کے اثرات جماعت اسلامی سے وابستگان پر بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مولانا نے اپنی کتاب ’رسائل و مسائل‘ میں اس ضمن میں جن آرا کا اظہار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے:
شارع نے داڑھی کی حد مقرر نہیں کی علماء نے جو حد مقرر کی ہے وہ ایک استنباطی حکم ہے اور استنباطی حکم کی وہ حیثیت نہیں جو نص کی ہوتی ہے۔ حکم منصوص کی خلاف ورزی پر توکسی کو فاسق کہا جا سکتا ہے حکم مستنبط کی بنیاد پر نہیں۔
انبیاء فطری طریقوں اور اخلاق صالحہ کی تعلیم دیتے ہیں ان میں ایک چیز اصل روح ہوتی ہے اور دوسری قالب ومظہر۔ بعض امور میں روح اور قالب دونوں کو بجالانا ضروری ہوتا ہے جبکہ بعض امور میں روح ضروری ہوتی ہے اور قالب کو اختیار کرنے میں آزادی ہوتی ہے۔ مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ میں روح اور قالب کی پیروی لازم ہے۔ جبکہ بعض اعمال ایسے ہیں جن میں قالب کی ہوبہوپیروی لازم نہیں مثلاً دعائیں اور وہ عام اذکار جو حضورﷺوقتاً فوقتاً کرتے تھے۔ اب ہم پر لازم نہیں ہے کہ ہم بعینہٖ انہی الفاظ میں دعائیں مانگیں جن الفاظ میں حضورﷺ مانگتے تھے۔ البتہ یہ ضرور ہو کہ دعاؤں میں حضورﷺ کی دعاؤں کی روح موجود ہو۔ اور اگر کوئی شخص احادیث میں مذکور اذکار کو لفظ بلفظ یاد کرکے پڑھتا ہے تو یہ مستحب عمل ہے لیکن اتباع سنت کا لازمی تقاضا نہیں ہے۔
اب لباس کی اصل روح یہ ہے کہ وہ ساتر ہو، ٹخنوں سے اوپر ہو اور ریشم وغیرہ کا نہ ہو۔ لیکن اپنے اوپر لازم کرلینا کہ جس کا لباس رسول اللہ1 نے زیب تن کیا تھا بالکل طرح کا لباس پہنا جائے تو یہ شرعی تقاضا نہیں ہے یہ چیزیں اپنے اپنے تمدن سے تعلق رکھتی ہیں ان کو سنت بنانا مقصود نہیں تھا۔
داڑھی کے مسئلہ میں روح یہ ہے کہ اس کو بڑھایا جائے اور مونچھوں کو کتروایا جائے تو جب نبی کریمﷺ نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی تو اعفاء لحیہ اور قص شارب کی کوئی بھی مناسب صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔
یہ استدلال کہ آپﷺ نے داڑھی کا حکم دے کر خود داڑھی رکھ کر اس کی عملی صورت بتا دی تو یہ توویسے ہی ہوا کہ آپ1 نے ستر عورت کا حکم دیا اور اس حوالے سے خاص طرز کا لباس استعمال کر کے بتا دیالہٰذا اسی طرح تن پوشی فرض ہے توپھر تو کوئی شخص بھی اس سنت کا اتباع نہیں کررہا۔
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,596
پوائنٹ
139
کچھ توجہ ادھر بھی :
اسماء الرجال اور سیرت کی کتابوں میں تلاش کرنے سے مجھے بجز دو تین صحابیوں کے کسی کی ڈاڑھی کی مقدار معلوم نہیں ہو سکی ہے۔صحابہ کے حالات پر صفحے کے صفحے لکھے گئے ہیں مگر ان کے متعلق یہ نہیں لکھا گیا کہ ان کی داڑھی کتنی تھی۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سلف میں یہ مقدار کا مسئلہ کتنا غیر اہم اور ناقابل توجہ تھا،حالاں کہ متاخرین میں جس شدت سے اس پر زور دیا جاتا ہے،اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید مومن کی سیرت و کردار میں پہلی چیز جس کی جستجو ہونی چاہیے وہ یہی ہے کہ اس کی داڑھی کا طول کتنا ہو۔(رسائل و مسائل،جلد اول،صفحہ نمر ١٠٤)
پھر لکھتے ہیں :
آپ کا قلب جس چیز پر گواہی دے،آپ کو خود اس پر عمل کرنا چاہیے،میرے نزدیک کسی کی داڑھی چھوٹے یا بڑے ہونے سے کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا۔اصل چیز جو آدمی کے ایمان کی کمی بیشی پر دلالت کرتی ہے وہ تو اور ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو اور ہمارے تمام رفقاء کو اپنے باطن کی فکر اپنے ظاہر سے بڑھ کر ہونی چاہیے اور اسی طرح اپنے ان اعمال کی زیادہ فکر ہونی چاہیے جن پر خدا کی میزان میں آدمی کے ہلکے یا بھاری ہونے کا مدار ہے،کیوں کہ اگر ایسے اعمال ہلکے رہ گئے تو بال برابر وزن رکھنے والی چیزوں کی کمی بیشی سے میزان الٰہی میں کوئی خاص فرق واقع ہونے کی توقع نہیں ہے۔(رسائل و مسائل،جلد اول،صفحہ نمبر ١٠٤-١٠٥)
بلا تبصرہ
داڑھی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مقدار مقرر نہیں کی ہے،صرف یہ ہدایت فرمائی ہے کہ رکھی جائے۔آپ اگر داڑھی رکھنے میں فاسقین کی وضعوں سے پرہیز کریں،اتنی داڑھی رکھ لیں جس پر عرف عام میں داڑھی رکھنے کا اطلاق ہوتا ہو،جسے دیکھ کر کوئی شخص اس شبہ میں مبتلا نہ ہو کہ شاید چند روز سے آپ نے داڑھی نہیں مونڈی ہے تو شارع کا منشا پورا ہو جاتا ہے،خواہ اہل فقہ کی استنباطی شرائط پر وہ پوری اترے یا نہ اترے۔
(رسائل و مسائل ١٨٧-١٨١،ترجمان القرآن رمضان،شوال ٢٦ھ ستمبر،اکتوبر ٤٣ء بحوالہ مقالات محدث گوندلوی ص ٣٦٨)
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,596
پوائنٹ
139
مزید :
اسی طرح داڑھی کے معاملے میں جو شخص حکم کا یہ منشا سمجھتا ہو کہ اسے بلا نہایت بڑھنے دیا جائے،وہ اپنی اس رائے پر عمل کرے،اور جو شخص کم سے کم مشت کو حکم کا منشا پورا کرنے کے لئے ضروری سمجھتا ہو وہ اپنی رائے پر عمل کرے اور جو شخص مطلقا داڑھی رکھنے والے کو(بلا قید مقدار) حکم کا منشا پورا کرنے کے لئے کافی سمجھتا ہو،وہ اپنی رائے پر عمل کرے،ان تینوں گروہوں میں سے کسی کو بھی یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ استنباط و اجتہاد سے جو رائے اس نے قائم کی ہے،وہی شریعت ہے اور اس کی پیروی سب لوگوں پر لازم ہے۔ایسا کہنا اس چیز کو سنت قرار دینا ہے جس کے سنت ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہی وہ بات ہے جس کو میں بدعت کہتا ہوں۔
(رسائل و مسائل،جلد اول،ص ١٧٣)
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,596
پوائنٹ
139
سید ابو الاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں :
آپ کا یہ خیال کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنی بڑی داڑھی رکھتے تھے اتنی ہی بڑی داڑھی رکھنا سنت رسول یا اسوہ رسول ہے،یہ معنی رکھتا ہے کہ آپ عادات رسول کو بعینہ وہ سنت سمجھتے ہیں جس کے جاری اور قائم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام مبعوث کیے جاتے رہے ہیں۔مگر میرے نزدیک یہی نہیں کہ یہ سنت کی صحیح تعریف نہیں ہے،بلکہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اس قسم کی چیزوں کو سنت قرار دینا اور پھر ان کے اتباع پر اصرار کرنا ایک سخت قسم کی بدعت اور ایک خطرناک تحریف دین ہے جس سے نہایت برے نتائج پہلے بھی ظاہر ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ظاہر ہونے کا خطرہ ہے۔
(رسائل و مسائل،جلد اول،صفحہ ١٦٨)
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
مولانا مودودی ایک گمراہ انسان تھے

ظاہر میں منکر حدیث نہ تھے لیکن حقیقت میں منکر حدیث تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشدگرامی ہے داڑھی بڑھاؤ او مونچھیں پست کرو

یہ تمام انبیا کی سنّت ہے اور سب کی داڑھی لمبی تھیں
..
قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
کہا (ہارون علیہ سلام نے موسیٰ علیہ سلام) سے اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور اور سر نہ پکڑ بیشک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,596
پوائنٹ
139
مولانا مودودی ایک گمراہ انسان تھے

ظاہر میں منکر حدیث نہ تھے لیکن حقیقت میں منکر حدیث تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشدگرامی ہے داڑھی بڑھاؤ او مونچھیں پست کرو

یہ تمام انبیا کی سنّت ہے اور سب کی داڑھی لمبی تھیں
..
قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
کہا (ہارون علیہ سلام نے موسیٰ علیہ سلام) سے اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور اور سر نہ پکڑ بیشک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا
شیخ توصیف الرحمٰن راشدی حفظہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ مودودی صاحب نے منکرین حدیث کو خام مال بہم پہنچایا۔
کبھی موقع ملا تو ان شاءاللہ مودودی صاحب کے مسلک اعتدال کی ایک جھلک بھی پیش کروں گا جو اس فساد کی اصل جڑ ثابت ہوئی۔ مودودی صاحب نے دجال،مہدی،رفع الیدین،آمین بالجہر،پردہ،اصول حدیث وغیرہ پر جو نشتر چلائے ان کا بہترین رد اپنے دور میں مولانا عبداللہ روپڑی،مولانا حافظ محمد گوندلوی اور مولانا اسماعیل سلفی رحمہم اللہ نے کیا اور حدیث کا دفاع کرنے کا حق ادا کر دیا۔
 

عمران اسلم

رکن نگران سیکشن
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
1,607
پوائنٹ
204
مولانا مودودی ایک گمراہ انسان تھے

ظاہر میں منکر حدیث نہ تھے لیکن حقیقت میں منکر حدیث تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشدگرامی ہے داڑھی بڑھاؤ او مونچھیں پست کرو

یہ تمام انبیا کی سنّت ہے اور سب کی داڑھی لمبی تھیں
..
قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
کہا (ہارون علیہ سلام نے موسیٰ علیہ سلام) سے اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور اور سر نہ پکڑ بیشک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا
آپ کے خیال میں پرویز اور مولانا مودودی میں کوئی فرق نہیں ہے؟؟
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
آپ کے خیال میں پرویز اور مولانا مودودی میں کوئی فرق نہیں ہے؟؟

کچھ زیادہ فرق نہیں بس انداز مختلف ہے پر ہیں دونوں منکر حدیث
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,423
پوائنٹ
521
السلام علیکم

مولانا مودودی ایک گمراہ انسان تھے

ظاہر میں منکر حدیث نہ تھے لیکن حقیقت میں منکر حدیث تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے والوں کے لئے ایسی بات کہنا مناسب نہیں ان کی کسی بات یا بہت سے باتوں پر آپ اختلاف کر سکتے ہیں یا کسی وجہ سے آپ اپنی ناپسندی کا اظہار کر سکتے ہیں مگر ایسا کہنا (گمراہ) یہ درست نہیں۔

والسلام
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,549
پوائنٹ
304
اسلام و علیکم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے والوں کے لئے ایسی بات کہنا مناسب نہیں ان کی کسی بات یا بہت سے باتوں پر آپ اختلاف کر سکتے ہیں یا کسی وجہ سے آپ اپنی ناپسندی کا اظہار کر سکتے ہیں مگر ایسا کہنا (گمراہ) یہ درست نہیں۔

والسلام
اسلام و علیکم

میرے بھائی نبی صل الله آلہ وسلم کو آخر نبی ماننا اسلام کا ایک جزو ہے

قرون اولیٰ میں بہت سے ایسے گمراہ فرقے پیدا ہوے مثَلاً خارجی رافضی متزلا جہمیہ قدریہ وغیرہ .. جو باوجود اس کے کہ نبی صل الله آلہ وسلم کو آخری نبی مانتے تھے مگر ان پر کفر کے فتویٰ لگایے گئے اور آج بھی ہم مسلمان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں وو گمراہ تھے باوجود اسس کے کہ یہ سب اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ ہم الله اور اس کے آخری نبی پر ایمان رکھتے ہیں-

مولانا موودودی نے نہ صرف احادیث رسول کا مزاق اڑایا ہے بلکہ اکثر صحابہ کرام رضی الله عنہ کی کردار کشی بھی کی ہے ..کتاب خلافت و-ملوکیت اس کا مونه بولتا ثبوت ہے
- امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی
 
Top