حافظ مظفر اختر
رکن
- شمولیت
- اکتوبر 09، 2018
- پیغامات
- 6
- ری ایکشن اسکور
- 4
- پوائنٹ
- 43
وحید الزمان کا صحابہ پر تبرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحید الزمان را ف ض ۔ی کا عقیدہ
ويستحب الترضى للصحابة غير ابى سفيان ومعاوية وعمرو بن العاص ومغيرة بن شعبة وسمرة بن جندب ،ويستحب السكوت عن هولاء الخمسة وتفويض امرهم الى الله، ولا يحسن سبهم ولا مدحهم
•ترجمہ :
صحابہ کے لئے رضی اللّٰہ عنہ کہنا مستحب ہے سوائے ابوسفیان ، اور معاویہ اور عمرو بن العاص اور مغیرہ بن شعبہ سمرہ بن جندب (رضی اللّٰہ عنہم) کے، ان پانچ (صحابہ) پر سکوت(خاموشی) اور ان کے معاملہ کو اللہ کے سپرد کرنا مستحب ہے، نہ ان کو برا کہنا اچھا عمل ہے اور نہ ہی ان کی تعریف کرنا
لقوله تعالى ..ان جاءكم فاسق بنبا فتبينوا.. نزلت فى وليد بن عقبة , وكذلك قوله افمن كان مؤمنا كمن كان فاسقا.....ومنه يعلم أن من الصحابة من هو فاسق كالوليد و مثله يقال فى حق معاوية و عمرو و مغيرة وسمرة ومعنى كون الصحابة عدولا انهم صادقون فى الرواية لا انهم معصومون
•ترجمہ :
اللہ تعالیٰ کا فرمان ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا ۔۔ ولید بن عقبہ (رضی اللّٰہ عنہ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے
اور اسی طرح اللہ کا یہ فرمان۔۔۔ افمن کان مؤمنا کمن کان فاسقا۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ میں بعض لوگ وہ ہیں جو فاسق ہیں اور معاویہ، عمرو ، مغیرہ، سمرہ (رضی اللّٰہ عنہم)کے بارے میں اسی طرح کہا جائے گا
اور صحابۃ کے عدول ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ روایۃ (حدیث) میں سچے ہیں، یہ معنی نہیں کہ وہ معصوم ہیں
اٹیچمنٹس
-
1.4 MB مناظر: 22
-
1.7 MB مناظر: 21
-
2.2 MB مناظر: 21