• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وطن کی عید جشن آزادی اللہ کے دشمنوں کی مشابہت ہے : شیخ ابن باز کا فتویٰ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
864
ری ایکشن اسکور
228
پوائنٹ
111
وطن کی عید جشن آزادی اللہ کے دشمنوں کی مشابہت ہے : شیخ ابن باز کا فتویٰ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ خاتم الأنبیاء والمرسلین، نبینا محمد، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد!

وطن کی عید یعنی "جشن آزادی" کے دن کو سالانہ طور پر مخصوص کیا جاتا ہے، اس دن خوشی، آزادی، وطن یا تاریخی یاد میں خصوصی تقریبات منعقد ہوتی ہیں، جھنڈے سجائے جاتے ہیں، مبارک بادیں دی جاتی ہیں اور اسے خوشی و مسرت کا ایک باقاعدہ موقع قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا شریعت نے کسی خاص دن کو اس طرح بار بار لوٹنے والی خوشی، اجتماع، جشن اور تہوار کے لیے مقرر کرنے کی اجازت دی ہے؟

اس تعلق سے شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کا فتویٰ نہایت واضح اور فیصلہ کن ہے۔ چنانچہ شیخ ابن باز سے باقاعدہ وطن کے دن، اس کے جشن اور اس کی مبارک باد کے متعلق سوال کیا گیا :

السؤال: لقد تكلمتم عن أحكام الأعياد المبتدعة، فما رأيكم فيما يحدث في وقتنا الحاضر من اليوم الوطني، والاحتفال به، والتهنئة له، أفتونا جزاكم الله خيرًا؟

آپ نے بدعتی عیدوں کے احکام کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے، تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے جو ہمارے موجودہ زمانے میں یوم الوطنی کے نام سے ہوتا ہے، اس کا جشن منانا اور اس کی مبارک باد دینا؟ ہمیں فتویٰ عنایت فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔


شیخ ابن باز نے نہایت صراحت سے جواب دیا :

هذا اليوم الوطني هو من التشبه بأعداء الله، الأيام الوطنية هو من التشبه، وقد وقع عن حسن نية، واجتهاد، ولكنه فيما يظهر لنا لا يشرع، وليس مما ينبغي، بل هو فيه تشبه لأعداء الله، وإن لم تقصد العبادة

یہ یوم الوطنی اللہ کے دشمنوں کی مشابہت میں سے ہے۔ یوم الوطنی مشابہت ہی میں سے ہیں۔ یہ اچھے ارادے اور اجتہاد کی بنا پر واقع ہوا ہے، لیکن جو بات ہمیں ظاہر ہوتی ہے، اس کے مطابق یہ مشروع نہیں ہے، اور نہ ہی یہ مناسب ہے، بلکہ اس میں اللہ کے دشمنوں کی مشابہت ہے چاہے عبادت کا ارادہ نہ ہو۔

أما لو قصد العبادة؛ يكون بدعة، لكن إذا لم تقصد العبادة، وإنما قصد بذلك التهانئ، وإظهار ما أنشأته الدولة، وما بذلته الدولة، فهذا يكون معتبرًا من جنس الأيام الأخرى التي يحدثها اليهود، والنصارى، وأشباههم للذكرى، أو لأسباب أخرى، فلا ينبغي التشبه بهم، لا في هذا، ولا في غيره.

اگر عبادت کا ارادہ ہو تو بدعت ہوتی ہے لیکن اگر عبادت کا ارادہ نہ ہو، بلکہ اس سے صرف مبارکباد دینے اور ریاست کے کارناموں اور کوششوں کو ظاہر کرنے کا ارادہ ہو تو یہ ان دوسرے ایام کی جنس میں شمار ہوگا جنہیں یہود، نصاریٰ اور ان جیسے کفار یادگاری طور پر یا دیگر اسباب کے لیے ایجاد کرتے ہیں۔ پس ان کی مشابہت نہیں اختیار کرنی چاہیے، نہ اس معاملے میں اور نہ کسی اور معاملے میں۔


[حكم الاحتفال بالأعياد الوطنية]


آج وطن کی جشن آزادی کے نام سے جو سالانہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، ان کے بارے میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف وطن سے محبت کے اظہار، تاریخی واقعے کی یاد اور خوشی منانے کا نام ہے، اس لیے اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔

جبکہ شیخ ابن باز نے صراحت کے ساتھ فرمایا: «هذا اليوم الوطني هو من التشبه بأعداء الله، الأيام الوطنية هو من التشبه» یعنی یہ یوم الوطنی اللہ کے دشمنوں کی مشابہت میں سے ہے، وطن کے دن مشابہت میں سے ہیں۔

غور کیجیے! شیخ نے محض یہ نہیں فرمایا کہ اس میں کوئی معمولی قباحت ہے، بلکہ صاف لفظوں میں اس کی بنیاد ہی "تشبہ بأعداء اللہ" قرار دی۔ اگر یہ کوئی معمولی، بے ضرر اور مباح اجتماعی سرگرمی ہوتی تو شیخ ابن باز نے اسے اللہ کے دشمنوں کی مشابہت کیوں قرار دیا؟

بعض وطن پرست فورا عذر پیش کرتے ہیں کہ ہم تو عبادت نہیں سمجھتے، صرف خوشی مناتے ہیں۔ شیخ ابن باز نے اسی عذر کو پہلے ہی واضح کر دیا ہے۔ فرماتے ہیں: «وقد وقع عن حسن نية، واجتهاد، ولكنه فيما يظهر لنا لا يشرع، وليس مما ينبغي» یعنی یہ اچھے ارادے اور اجتہاد کی بنا پر واقع ہوا ہے، لیکن جو بات ہمیں ظاہر ہوتی ہے، اس کے مطابق یہ مشروع نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایسی چیز ہے جو مناسب ہو۔ پس حسن نیت، غیر مشروع عمل کو مشروع نہیں بنا سکتی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ وطن کا جشن تو عبادت نہیں، لہٰذا غیر مشروع و حرام کیسے ہوا؟ شیخ ابن باز نے اس کا بھی جواب دیا۔ فرماتے ہیں: «بل هو فيه تشبه لأعداء الله، وإن لم تقصد العبادة» بلکہ اس میں اللہ کے دشمنوں کی مشابہت ہے، اگرچہ عبادت کا ارادہ نہ کیا گیا ہو۔

یہ جملہ نہایت اہم ہے۔ یعنی یہ سمجھ لینا کہ "ہم اسے عبادت نہیں سمجھتے، اس لیے کوئی حرج نہیں" درست نہیں۔ کیونکہ اگر عبادت کی نیت نہ بھی ہو تب بھی تشبہ کی علت موجود ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جسے وطن پرستی کے جوش میں مبتلا لوگ عموما نظر انداز کر دیتے ہیں۔

شیخ ابن باز بیان فرماتے ہیں: «إذا لم تقصد العبادة، وإنما قصد بذلك التهانئ، وإظهار ما أنشأته الدولة، وما بذلته الدولة» یعنی اگر عبادت کا ارادہ نہ ہو، بلکہ اس سے مقصد صرف مبارک باد دینا، اور جو کچھ ریاست نے قائم کیا ہے اور ریاست نے جو کچھ خرچ کیا ہے اسے ظاہر کرنا ہو... تو یہ بھی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے کفار کی یادگاری تقریبات کی مشابہت ہے۔

وطن پرست مشرکین کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ہم عبادت تو نہیں کرتے؛ ہم صرف مبارک باد دیتے ہیں؛ ہم صرف آزادی کی خوشی مناتے ہیں؛ ہم صرف ریاست کی کامیابیوں کو یاد کرتے ہیں؛ ہم صرف وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن شیخ ابن باز نے عین اسی قسم کے مقصد کا ذکر کرکے اسے ان ایام کی جنس قرار دیا ہے جنہیں یہود و نصاریٰ اور ان جیسے کفار نے یادگار کے طور پر مقرر کیا۔

شیخ ابن باز فرماتے ہیں: «فهذا يكون معتبرًا من جنس الأيام الأخرى التي يحدثها اليهود، والنصارى، وأشباههم للذكرى، أو لأسباب أخرى» یعنی یہ ان دوسرے ایام کی جنس میں شمار ہوگا جنہیں یہود، نصاریٰ اور ان جیسے کفار یادگاری طور پر یا دوسرے اسباب کی بنا پر ایجاد کرتے ہیں۔

یہاں ایک معمولی سا غور بھی وطن پرستوں کے بڑے بڑے دعووں کی قلعی کھول دیتا ہے۔ اگر کوئی وطن پرست کہے کہ جشن آزادی تو محض تاریخی یادگار ہے! تو جواب یہی ہے کہ شیخ ابن باز نے یادگاری طور پر مقرر کیے جانے والے ایام کو بھی اسی مسئلے میں شامل کیا ہے۔

پس یہ کہنا کہ یہ دینی عید نہیں، صرف تاریخی دن ہے شیخ بن باز کے اس فتویٰ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ کیونکہ شیخ نے مسئلہ صرف عبادت والی عید تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان ایام کا بھی ذکر کیا جو یادگار یا دوسرے اسباب کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی عجیب مغالطہ ہے کہ وطن سے محبت کو جشن آزادی کی دلیل بنا دیا جائے۔ کسی وطن سے طبعی و فطری محبت اگر شریعت کے مقرر کردہ حدود سے نکال دے تو یہ بھی مذموم ہے۔ اگر محض وطن سے محبت کی وجہ سے ہر سال ایک مخصوص دن مقرر کرکے باقاعدہ سالانہ جشن، عید، مخصوص تہوار اور خوشی منانا مشروع ہوجائے تو پھر ہر قوم اپنے وطن کے مختلف واقعات کی بنیاد پر بے شمار عیدیں ایجاد کر سکتی ہے۔

اسلام نے مسلمان کو اس قسم کے بے شمار تہواروں کی محتاجی سے نکال کر اس کے لیے اپنی شرعی عیدیں مقرر کی ہیں۔ اگر وطن کی آزادی کے لیے سالانہ جشن منانا کوئی مشروع یا پسندیدہ طریقہ ہوتا تو اس کا سب سے زیادہ حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تھا۔

مدینہ میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ظلم سے نجات دی، بدر میں عظیم فتح دی، مکہ فتح ہوا، عرب کے قبائل اسلام میں داخل ہوئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان واقعات کی سالانہ جشن و عید کے طور پر نہیں منایا۔

اتنی تفصیل کے بعد شیخ ابن باز نے معاملے کو کسی ابہام میں نہیں چھوڑا بلکہ فرمایا «فلا ينبغي التشبه بهم، لا في هذا، ولا في غيره» یعنی ان کافروں کی مشابہت اختیار کرنا مناسب نہیں، نہ اس معاملے میں اور نہ کسی دوسرے معاملے میں۔ لہٰذا ایک مخصوص دن کو کافر اقوام کی یادگاری تقریبات کی طرز پر سالانہ طور پر منانا جائز نہیں۔

شیخ ابن باز کے مذکورہ فتوے کی روشنی میں یوم الوطنی کو سالانہ جشن، تہوار اور مبارک باد کے مخصوص موقع کے طور پر اختیار کرنا «من التشبه بأعداء الله» اللہ کے دشمنوں کی مشابہت ہے۔ لہٰذا وطن کی محبت، تاریخی یادگار، قومی یکجہتی جیسے خوب صورت نام دینے سے اس عمل کی اصل شرعی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔

پس مسلمان کا شعار یہ ہونا چاہیے کہ وہ کتاب و سنت کو مقدم رکھے، خواہشات اور قومی جذبات اور ہر اس رسم سے اجتناب کرے جس کی بنیاد شرعی دلیل کے بجائے کفریہ اقوام کی تقلید پر ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں وطن پرستی کے شرک، غیر شرعی رسوم و عادات اور کافر قوموں کی مشابہت سے محفوظ رکھے، ہمیں حق کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری محبت، وفاداری اور اطاعت کا اصل مرکز اپنی شریعت اور اپنے دین کو بنائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top