• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم ولادت باسعادت اور حیاتِ طیبہ کے چالیس سال

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ولادت باسعادت:
رسول اللہ ﷺ مکہ میں شِعبِ بنی ہاشم کے اندر ۹/ ربیع الاوّل عام الفیل یوم دو شنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ (نتائج الافہام فی تقویم العرب قبل الاسلام ص ۲۸-۳۵ از محمود پاشا فلکی۔ طبع بیروت۔ مگر چاند دیکھنے کے اعتبار سے ۹ کے بجائے ۸ تاریخ بنتی ہے) اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ۲۰/ یا ۲۲ / اپریل ۵۷۱ ء کی تاریح تھی۔ علامہ محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری کی تحقیق یہی ہے۔ (۲۰/اپریل قدیم عیسوی کلنڈر کے مطابق، اور ۲۲ /اپریل جدید عیسوی کلنڈر کے مطابق۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: رحمۃ للعالمین ۱/۳۸، ۳۹، ۲/۳۶۰، ۳۶۱)
ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے فرمایا: جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہو گئے۔ امام احمد اور دارمی وغیرہ نے بھی تقریباً اسی مضمون کی روایت نقل فرمائی ہے۔ (مسند احمد ۴/۱۲۷، ۱۲۸، ۱۸۵، ۵/۱۶۲ سنن دارمی ۱/۹، ابن سعد ۱/۱۰۲)
بعض روایتوں میں بتایا گیا ہے کہ ولادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور پر ظہور پذیر ہوئے، یعنی ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور اس کے گرجے منہدم ہو گئے۔ یہ طبری اور بیہقی وغیرہ کی روایت ہے۔ (دلائل النبوہ للبیہقی ۱/۱۲۶، ۱۲۷، تاریخ طبری ۲/۱۶۶ ، ۱۶۷، البدایہ والنہایہ ۲/۲۶۸، ۲۶۹) مگر اس کی سند پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے اور ان قوموں کی تاریخ سے بھی اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی، حالانکہ ان واقعات کو قلمبند کیے جانے کا قوی داعیہ موجود تھا۔
ولادت کے بعد آپ کی والدہ نے عبد المطلب کے پاس پوتے کی خوشخبری بھجوائی۔ وہ شاداں و فرحاں تشریف لائے اور آپ کو خانہ کعبہ میں لے جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کا شکر ادا کیا۔ (ابن ہشام ۱/۱۵۹، ۱۶۰ تاریخ طبری ۲/۱۵۶، ۱۵۷، ابن سعد ۱/۱۰۳) اور آپ کا نام محمد تجویز کیا۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا، پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا۔ (کہا جاتا ہے کہ آپ مختون (ختنہ کیے ہوئے ) پیدا ہوئے تھے۔ دیکھئے: تلقیح الفہوم ص ۴ مگر ابن قیم کہتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی ثابت حدیث نہیں۔ دیکھئے: زاد المعاد ۱/۱۸)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آپ کو آپ کی والدہ کے ایک ہفتہ (اتحاف الوردی ۱/۵۷) بعد سب سے پہلے ابو لہب کی لونڈی ثُویبَہ نے دودھ پلایا۔ اس وقت اس کی گود میں جو بچہ تھا اس کا نام مسروح تھا۔ ثُویبَہ نے آپ سے پہلے حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو اور آپ کے ابو سلمہ بن عبد الاسد مخزومی کو بھی دودھ پلایا تھا۔ (صحیح بخاری ۲۶۴۵، ۵۱۰۰، ۵۱۰۱، ۵۱۰۶ ، ۵۱۰۷، ۵۳۷۲، تاریخ طبری ۲/۱۵۸۔ طبری کی اس روایت پر کلام ہے۔ دلائل النبوہ لابی نعیم ۱/۱۵۷)
بنی سعد میں:
عرب کے شہری باشندوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو شہری امراض سے دور رکھنے کے لیے دودھ پلانے والی بدوِی عورتوں کے حوالے کر دیا کرتے تھے تاکہ ان کے جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں اور اپنے گہوارہ ہی سے خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ لیں۔ اسی دستور کے مطابق عبد المطلب نے دودھ پلانے والی دایہ تلاش کی اور نبی ﷺ کو حضرت حلیمہ بنت ابی ذُوَیب کے حوالے کیا۔ یہ قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون تھیں۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزیٰ اور کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ بھی قبیلہ بنی سعد ہی سے تعلق رکھتے تھے۔
حارث کی اوّلاد کے نام یہ ہیں جو رضاعت کے تعلق سے رسول اللہ ﷺ کے بھائی بہن تھے: عبد اللہ، انیسہ، حذافہ یا جذامہ، انہیں کالقب شَیْماَء تھا اور اسی نام سے وہ زیادہ مشہور ہوئیں۔ یہ رسول الل ہﷺ کو گود کھلایا کرتی تھیں، ان کے علاوہ ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب جو رسول اللہ ﷺ کے چچیرے بھائی تھے وہ بھی حضرت حلیمہ کے واسطے سے آپ کے رضاعی بھائی تھے۔ آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب بھی دودھ پلانے کے لیے بنو سعد کی ایک عورت کے حوالے کیے گئے تھے۔ اس عورت نے بھی ایک دن جب رسول اللہ ﷺ حضرت حلیمہ کے پاس تھے آپ کو دودھ پلا دیا۔ اس طرح آپ اور حضرت حمزہ دوہرے رضاعی بھائی ہو گئے ایک ثویبہ کے تعلق سے اور دوسرے بنو سعد کی اس عورت کے تعلق سے۔ (زاد المعاد ۱/۱۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رضاعت کے دوران حضرت حلیمہ نے نبی ﷺ کی برکت کے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ سراپا حیرت رہ گئیں۔ تفصیلات انہیں کی زبانی سنیے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت حلیمہ ؓ بیان کیا کرتی تھیں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنا ایک چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ لے کر بنی سعد کی کچھ عورتوں کے قافلے میں اپنے شہر سے باہر دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلیں۔ یہ قحط سالی کے دن تھے اورقحط نے کچھ باقی نہ چھوڑا تھا۔ میں اپنی ایک سفید گدھی پر سوار تھی اور ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی، لیکن واللہ! اس سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا۔ اِدھر بھُوک سے بچہ اس قدر بِلکتا تھا کہ ہم رات بھر سو نہیں سکتے تھے، نہ میرے سینے میں بچہ کے لیے کچھ تھا اور نہ اونٹنی اس کی خوراک دے سکتی تھی۔ بس ہم بارش اور خوشحالی کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلی تو وہ کمزوری اور دُبلے پن کے سبب اتنی سست رفتار نکلی کہ پورا قافلہ تنگ آ گیا۔ خیر ہم کسی نہ کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے۔ پھر ہم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جس پر رسول اللہ ﷺ کو پیش نہ کیا گیا ہو مگر جب اسے بتایا جاتا کہ آپ ﷺ یتیم ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے سے انکار کر دیتی۔ کیونکہ ہم بچے کے والد سے داد و وہش کی امید رکھتے تھے۔
ہم کہتے کہ یہ تو یتیم ہے۔ بھلا اس کی بیوہ ماں اور اس کے دادا کیا دے سکتے ہیں، بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ کو لینا نہیں چاہتے تھے۔
ادھر جتنی عورتیں میرے ہمراہ آئی تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا صرف مجھ ہی کو نہ مل سکا۔ جب واپسی کی باری آئی تو میں نے اپنے شوہر سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہیلیاں تو بچے لے لے کر جائیں اور تنہا مَیں کوئی بچہ لیے بغیر واپس جاؤں۔ میں جا کر اسی یتیم بچے کو لے لیتی ہوں۔ شوہر نے کہا: کوئی حرج نہیں! ممکن ہے اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت دے۔ اس کے بعد میں نے جا کر بچہ لے لیا اور محض اس بناء پر لے لیا کہ کوئی اور بچہ نہ مل سکا۔
حضرت حلیمہؓ کہتی ہیں کہ جب میں بچے کو لے کر اپنے ڈیرے پر واپس آئی اور اسے اپنی آغوش میں رکھا تو اس نے جس قدر چاہا دونوں سینے دودھ کے ساتھ اس پر اُمنڈ پڑے اور اس نے شکم سیر ہو کر پیا۔ اس کے ساتھ اس کے بھائی نے بھی شکم سیر ہو کر پیا، پھر دونوں سو گئے۔ حالانکہ اس سے پہلے ہم اپنے بچے کے ساتھ سو نہیں سکتے تھے۔ ادھر میرے شوہر اونٹنی دوہنے گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے لبریز ہے، انھوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم دونوں نے نہایت آسودہ ہو کر پیا اور بڑے آرام سے رات گزاری۔ ان کا بیان ہے کہ صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا: حلیمہ! اللہ کی قسم! تم نے ایک بابرکت روح حاصل کی ہے۔ میں نے کہا: مجھے بھی یہی توقع ہے۔
حلیمہؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ہمارا قافلہ روانہ ہوا۔ میں اپنی اسی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا۔ لیکن اب وہی گدھی اللہ کی قسم! پورے قافلے کو کاٹ کر اس طرح آگے نکل گئی کہ کوئی گدھا اس کا ساتھ نہ پکڑ سکا۔ یہاں تک میری سہیلیاں مجھ سے کہنے لگیں: او! ابو ذویب کی بیٹی! ارے یہ کیا ہے؟ ذرا ہم پر مہربانی کر۔ آخریہ تیری وہی گدھی تو ہے جس پر تُو سوار ہو کر آئی تھی؟ میں کہتی: ہاں ہاں! اللہ کی قسم یہ وہی ہے، وہ کہتیں۔ اس کا یقینا کوئی خاص معاملہ ہے۔
پھر ہم بنو سعد میں اپنے گھروں کو آ گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اللہ کی روئے زمین کا کوئی خطہ ہمارے علاقے سے زیادہ قحط زدہ تھا۔ لیکن ہماری واپسی کے بعد میری بکریاں چرنے جاتیں تو آسودہ حال اور دودھ سے بھرپور واپس آتیں۔ ہم دوہتے اور پیتے۔ جبکہ کسی اور انسان کو دودھ کا ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوتا۔ ان کے جانوروں کے تھنوں میں دودھ سرے سے رہتا ہی نہ تھا۔ حتیٰ کہ ہماری قوم کے شہری اپنے چرواہوں سے کہتے کہ کم بختو! جانور وہیں چرانے لے جایا کرو جہاں ابو ذویب کی بیٹی کا چرواہا لے جاتا ہے...لیکن تب بھی ان کی بکریاں بھوکی واپس آتیں۔ ان کے اندر ایک قطرہ دودھ نہ رہتا، جبکہ میری بکریاں آسودہ اور دودھ سے بھر پور پلٹتیں۔ اس طرح ہم اللہ کی طرف سے مسلسل اضافے اور خیر کا مشاہدہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس بچے کے دو سال پورے ہو گئے اور میں نے دودھ چھڑا دیا۔ یہ بچہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس طرح بڑھ رہا تھا کہ دو سال پورے ہوتے ہوتے وہ کڑا اور گٹھیلا ہو چلا۔ اس کے بعد ہم اس بچے کو اس کی والدہ کے پاس لے گئے، لیکن ہم اس کی جو برکت دیکھتے آئے تھے۔ اس کی وجہ سے ہماری انتہائی خواہش یہی تھی کہ وہ ہمارے پاس رہے۔ چنانچہ ہم نے اس کی ماں سے گفتگو کی۔ میں نے کہا: کیوں نہ آپ میرے بچے کو میرے پاس ہی رہنے دیں کہ ذرا مضبوط ہو جائے۔ کیونکہ مجھے اس کے متعلق مکہ کی وباء کا خطرہ ہے۔ غرض ہمارے مسلسل اصرار پر انھوں نے بچہ ہمیں واپس دے دیا۔ (ابن ہشام ۱/۱۶۲ ، ۱۶۳، ۱۶۴، تاریخ طبری ۲/۱۵۸، ۱۵۹، ابن حبان (مرتب ) ۸/۸۲-۸۴ ، ابن سعد ۱/۱۱۱ سب نے الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ابن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔)
واقعۂ شق صدر:
اس طرح رسول اللہ ﷺ مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد بھی بنو سعد ہی میں رہے یہاں تک کہ ولادت کے چوتھے یا پانچویں (عام سیرت نگاروں کا یہی قول ہے۔ دیکھئے: ابن سعد ۱/۱۱۲، مروج الذہب للمسعودی ۲/۲۸۱، دلائل النبوہ لابی نعیم ۱/۱۶۱، ۱۶۲، ان کے نزدیک ابن عباس کے بقول پانچویں سال کا واقعہ ہے۔ ۱/۱۶۲، البتہ ابن اسحاق کے بقول یہ آپ کی واپسی کے صرف چند ماہ بعد کا واقعہ ہے۔ ( دیکھئے: ابن ہشام ۱/۱۶۴ ، ۱۶۵، تاریخ طبری ۲/۱۶۰) مگر ابن اسحاق کا قول تقریباً متناقض ہے۔ کیونکہ صرف دو سال چند ماہ کے بچے سے بکری چرانے کا تصور نہیں کیا جا سکتا) سال شَقِّ صَدر (سینہ مبارک چاک کیے جانے) کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی تفصیل حضرت انسؓ سے صحیح مسلم میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت جبریل نے آپ کو پکڑ کر پٹخا اور سینہ چاک کر کے دل نکالا، پھر دل سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا: یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے، پھر دل کو طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا اور پھر اسے جوڑ کر اس کی جگہ لوٹا دیا۔ ادھر بچے دوڑ کر آپ کی ماں، یعنی دایہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: محمد قتل کر دیا گیا۔ ان کے گھر کے لوگ جھٹ پٹ پہنچے، دیکھا تو آپ کا رنگ اترا ہوا تھا۔ (صحیح مسلم، باب الاسراء ۱/۹۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ماں کی آغوشِ محبت میں:
اس واقعے سے حلیمہ ؓ کو خطرہ محسوس ہوا اور انھوں نے آپ کو آپ کی ماں کے حوالے کر دیا۔ چنانچہ آپ چھ سال کی عمر تک والدہ ہی کی آغوشِ محبت میں رہے۔ (تلقیح الفہوم ص ۷ ، ابن ہشام ۱/۱۶۸)
ادھر آمنہ کا ارادہ ہوا کہ وہ اپنے متوفی شوہر کی یادِ وفا میں یثرب جا کر ان کی قبر کی زیارت کریں۔ چنانچہ وہ اپنے یتیم بچے محمد ﷺ اپنی خادمہ اُمِّ ایمن اور اپنے سر پرست عبد المطلب کی معیت میں کوئی پانچ سو کلومیٹر کی مسافت طے کر کے مدینہ تشریف لے گئیں اور وہاں ایک ماہ تک قیام کر کے واپس ہوئیں۔ لیکن ابھی ابتداء راہ میں تھیں کہ بیماری نے آ لیا۔ پھر یہ بیماری شدت اختیار کرتی گئی یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام اَبْوَاء میں پہنچ کر رحلت کر گئیں۔ (ابن ہشام ۱/۱۶۸)
دادا کے سایۂ شفقت میں:
بوڑھے عبد المطلب اپنے پوتے کو لے کر مکہ پہنچے۔ ان کا دل اپنے اس یتیم پوتے کی محبت و شفقت کے جذبات سے تپ رہا تھا۔ کیونکہ اب اسے ایک نیا چرکا لگا تھا جس نے پرانے زخم کرید دیئے تھے۔ عبد المطلب کے جذبات میں پوتے کے لیے ایسی رِقّت تھی کہ ان کی اپنی صُلبی اوّلاد میں سے بھی کسی کے لیے ایسی رقت نہ تھی۔ چنانچہ قسمت نے آپ کو تنہائی کے جس صحرا میں لا کھڑا کیا تھا عبد المطلب اس میں آپ کو تنہا چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے بلکہ آپ کو اپنی اوّلاد سے بھی بڑھ کر چاہتے تھے اور بڑوں کی طرح ان کا احترام کرتے تھے۔ ابن ہشام کا بیان ہے کہ عبد المطلب کے لیے خانہ کعبہ کے سائے میں فرش بچھایا جاتا۔ ان کے سارے لڑکے فرش کے ارد گرد بیٹھ جاتے۔ عبد المطلب تشریف لاتے تو فرش پر بیٹھتے۔ ان کی عظمت کے پیش نظر ان کا کوئی لڑکا فرش پر نہ بیٹھتا، لیکن رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تو فرش ہی پر بیٹھ جاتے۔ ابھی آپ کم عمر بچے تھے۔ آپ کے چچا حضرات آپ کو پکڑ کر اتار دیتے لیکن جب عبد المطلب انہیں ایسا کرتے دیکھتے تو فرماتے: میرے اس بیٹے کو چھوڑ دو، اللہ کی قسم! اس کی شان نرالی ہے، پھر انہیں اپنے ساتھ اپنے فرش پر بٹھا لیتے۔ اپنے ہاتھ سے پیٹھ سہلاتے اور ان کی نقل و حرکت دیکھ کر خوش ہوتے۔ (ابن ہشام ۱/۱۶۸)
آپ کی عمر ابھی ۸ سال دو مہینے دس دن کی ہوئی تھی کہ دادا عبد المطلب کا بھی سایۂ شفقت اُٹھ گیا۔ ان کا انتقال مکہ میں ہوا اور وہ وفات سے پہلے آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کو...جو آپ کے والد عبد اللہ کے سگے بھائی تھے...آپ کی کفالت کی وَصیت کر گئے تھے۔ (تلقیح الفہوم ص ۷ ابن ہشام ۱/۱۴۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
شفیق چچا کی کفالت میں:
ابو طالب نے اپنے بھتیجے کا حق کفالت بڑی خوبی سے ادا کیا۔ آپ کو اپنی اوّلاد میں شامل کیا۔ بلکہ ان سے بھی بڑھ کر مانا۔ مزید اعزاز و احترام سے نوازا۔ چالیس سال سے زیادہ عرصے تک قوت پہنچائی اپنی حمایت کا سایہ دراز رکھا اور آپ ہی کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی کی۔ مزید وضاحت اپنی جگہ آ رہی ہے۔
روئے مبارک سے فیضانِ باراں کی طلب:
ابن عساکر نے جلہمہ بن عرفطہ سے روایت کی ہے کہ میں مکہ آیا۔ لوگ قحط سے دوچار تھے۔ قریش نے کہا: ابو طالب! وادی قحط کا شکار ہے۔ بال بچے کال کی زد میں ہیں۔ چلیے بارش کی دعا کیجیے۔ ابو طالب ایک بچہ ساتھ لے کر برآمد ہوئے۔ بچہ ابر آلود سورج معلوم ہوتا تھا۔ جس سے گھنا بادل ابھی ابھی چھٹا ہو۔ اس کے ارد گرد اور بھی بچے تھے۔ ابو طالب نے اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پیٹھ کعبہ کی دیوار سے ٹیک دی۔ بچے نے ان کی انگلی پکڑ رکھی تھی۔ اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا نہ تھا۔ لیکن (دیکھتے دیکھتے) اِدھر اُدھر سے بادل کی آمد شروع ہو گئی اور ایسی دھواں دھار بارش ہوئی کہ وادی میں سیلاب آ گیا اور شہر و بیاباں شاداب ہو گئے۔ بعد میں ابو طالب نے اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محمد ﷺ کی مدح میں کہا تھا:
وأبیض یستسقی الغمام بوجہہ
ثمال الیتامی عصمۃ للأرامل
''وہ خوبصورت ہیں ، ان کے چہرے سے بارش کا فیضان طلب کیا جاتا ہے۔ یتیموں کے ماویٰ اور بیواؤں کے محافظ ہیں۔'' (مختصر السیرۃ شیخ عبد اللہ ص ۱۵، ۱۶، ہیثمی نے مجمع الزوائد میں طبرانی سے اسی طرح کا واقعہ کتاب علامات النبوۃ ۸/۲۲۲ میں نقل کیا ہے۔)
بحیرا راہب:
بعض روایات کے مطابق... جو تحقیق کے رو سے مجموعی طور پر ثابت اور مستند ہیں... جب آپ کی عمر بارہ برس اور تفصیلی قول کے مطابق بارہ برس دو مہینے دس دن (یہ بات ابن جوزی نے تلقیح الفہوم ص ۷ میں کہی ہے۔) کی ہو گئی تو ابو طالب آپ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے ملک شام کے سفر نکلے اور بصریٰ پہنچے بصریٰ ملک شام کا ایک مقام اور حوران کا مرکزی شہر ہے۔ اس وقت یہ جزیرۃ العرب کے رومی مقبوضات کا دار الحکومت تھا۔ اس شہر میں جرجیس نامی ایک راہب رہتا تھا، جو بحیرا کے لقب سے معروف تھا۔ جب قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو یہ راہب اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اس کی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کے اوصاف کی بنا پر پہچان لیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین ہیں۔ اللہ انہیں رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گا۔ ابو طالب نے کہا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا: تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لیے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی انسان کو سجدہ نہیں کرتیں۔ پھر میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو کندھے کے نیچے کری (نرم ہڈی) کے پاس سیب کی طرح ہے اور ہم انہیں اپنی کتابوں میں بھی پاتے ہیں۔ اس کے بعد بحیرا راہب نے ابو طالب سے کہا کہ انہیں واپس کر دو ملک شام نہ لے جاؤ۔ کیونکہ یہود سے خطرہ ہے۔ اس پر ابو طالب نے بعض غلاموں کی معیت میں آپ کو مکہ واپس بھیج دیا۔ (دیکھئے: جامع ترمذی ۵/۵۵۰، ۵۵۱ حدیث نمبر ۳۶۲۰ تاریخ طبری ۲/۲۷۸، ۲۷۹، مصنف ابن ابی شیبہ ۱۱/۴۸۹ حدیث نمبر ۱۱۷۸۲، دلائل النبوۃ بیہقی ۲/۲۴، ۲۵، ابو نعیم ۱/۱۷۰، اس روایت کی سند قوی ہے۔ البتہ اس کے آخر میں یہ مذکور ہے کہ آپ کو حضرت بلال کی معیت میں روانہ کیا گیا لیکن یہ فاش غلطی ہے۔ بلال تو اس وقت غالباً پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور اگر پیدا تھے بھی تو بہرحال ابو طالب یا ابوبکر ؓ کے ساتھ نہ تھے۔ زاد المعاد ۱/۱۷۔ اس واقعے میں مزید تفصیلات بھی مروی ہیں جنھیں ابن سعد نے واہیات سندوں سے روایت کیا ہے۔ (۱/۱۳۰) اور ابن اسحاق نے بلا سند ذکر کیا ہے۔ جسے ابن ہشام ۱/۱۸۰ - ۱۸۳، طبری ۲/۲۷۷، بیہقی نے روایت کیا ہے۔)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جنگ فجار:
آپ کی عمر کے بیسویں سال عکاظ کے بازار میں قریش و کنانہ...اور قیس عیلان کے درمیان ماہ ذی قعدہ میں ایک جنگ پیش آئی جو جنگ فجار کے نام سے معروف ہے۔ (ان دونوں گروہ میں فجار کے واقعات چار مرتبہ پیش آئے، پہلے تین میں کچھ جھگڑا فساد ہوا۔ لیکن جنگ کے بغیر صلح ہو گئی۔ پہلے کی وجہ یہ تھی کہ ایک قیسی کا ایک کنانی پر قرض تھا اور وہ ٹال مٹول کر رہا تھا۔ دوسرے کی وجہ یہ تھی کہ عکاظ کے بازار میں ایک کنانی اپنی بڑائی جتا رہا تھا اور تیسرے کی وجہ یہ تھی کہ مکہ کے کچھ جوان قیس کی ایک خوبصورت عورت سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔ چوتھے کی وجہ براض کا واقعہ تھا جسے ہم نے کتاب میں ذکر کیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: المنمق فی اخبار قریش ص ۱۶۰-۱۶۴ الکامل لابن الاثیر ۱/۴۶۷، ابن اثیر نے سب کو ایک ہی قرار دے دیا ہے) اس کی وجہ یہ ہوئی کہ براض نامی بنو کنانہ کے ایک شخص نے قیس عیلان کے تین آدمیوں کو قتل کر دیا تھا۔ اس کی خبر عکاظ پہنچی تو فریقین بھڑک اٹھے اور لڑ پڑے۔ اس جنگ میں قریش اور کنانہ کا کمانڈر حرب بن امیہ تھا۔ کیونکہ وہ اپنے سن و شرف کی وجہ سے قریش و کنانہ کے نزدیک بڑا مرتبہ رکھتا تھا۔ پہلے پہر کنانہ پر قیس کا پلہ بھاری تھا لیکن دوپہر ہوتے ہوتے قیس پر کنانہ کا پلہ بھاری ہوا چاہتا تھا کہ اتنے میں صلح کی آواز اٹھی اور یہ تجویز آئی کہ فریقین کے مقتولین گن لیے جائیں۔ جدھر زیادہ ہوں ان کو زائد کی دیت دے دی جائے، چنانچہ اسی پر صلح ہو گئی۔ جنگ ختم کر دی گئی اور جو شر و عداوت پیدا ہو گئی تھی اسے نیست و نابود کر دیا گیا۔ اسے حرب فجار اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں حرام مہینے کی حرمت چاک کی گئی۔ اس جنگ میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے گئے تھے اور اپنے چچاؤں کو تیر تھماتے تھے۔ (ابن ہشام ۱/۱۸۴ تا ۱۸۶، المنمق فی اخبار قریش ص ۱۶۴-۱۸۵۔ کامل ابن اثیر ۱/۴۶۸ -۴۷۲ عموما ًمؤرخین نے کہا ہے کہ یہ شوال میں پیش آئی تھی، مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ شوال کا مہینہ حرام کا مہینہ نہیں اور عکاظ حرم سے باہر ہے۔ تو پھر حرمت کون سی چاک ہوئی۔ علاوہ ازیں عکاظ کا بازار ذی قعدہ کے شروع سے لگتا تھا)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حلف الفضول:
اس جنگ کے بعد اسی حرمت والے مہینے ذی قعدہ میں حلف الفضول پیش آئی۔ چند قبائل قریش، یعنی بنی ہاشم، بنی مُطّلب، بنی اَسَدَ بن عبد العزیٰ بنی زہرہ بن کلاب اور بنی تَیم بن مُرّہ نے اس کا اہتمام کیا۔ یہ لوگ عبد اللہ بن جُدْعان تیمی کے مکان پر جمع ہوئے...کیونکہ وہ سن وشرف میں ممتاز تھا ...اور آپس میں عہد و پیمان کیا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے گا۔ خواہ مکے کا رہنے والا ہو یا کہیں اور کا، یہ سب اس کی مدد اور حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کا حق دلوا کر رہیں گے۔ اس اجتماع میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے اور بعد میں شرفِ رسالت سے مشرف ہونے کے بعد فرمایا کرتے تھے۔ میں عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ مجھے اس کے عوض سُرخ اونٹ بھی پسند نہیں اور اگر (دور) اسلام میں اس عہد و پیمان کے لیے مجھے بلایا جاتا تو میں لبیک کہتا۔ (ابن ہشام ۱/۱۳۳، ۱۳۵، مختصر السیرہ شیخ عبد اللہ ص ۳۰، ۳۱)
اس معاہدے کی روح عصبیت کی تہہ سے اٹھنے والی جاہلی حمیت کے منافی تھی۔ اس معاہدے کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ زبید کا ایک آدمی سامان لے کر مکہ آیا اور عاص بن وائل نے اس سے سامان خریدا لیکن اس کا حق روک لیا۔ اس نے حلیف قبائل عبد الدار، مخزوم، جمح، سہم اور عَدِی سے مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ اس کے بعد اس نے جَبَلِ ابو قُبَیس پر چڑھ کر بلند آواز سے چند اشعار پڑھے۔ جن میں اپنی داستانِ مظلومیت بیان کی تھی۔ اس پر زبیر بن عبد المطلب نے دوڑ دھوپ کی اور کہا کہ یہ شخص بے یار و مدد گار کیوں ہے؟ ان کی کوشش سے اوپر ذکر کیے ہوئے قبائل جمع ہو گئے، پہلے معاہدہ طے کیا اور پھر عاص بن وائل سے زبیدی کا حق دلایا۔ (طبقات ابن سعد ۱/۱۲۶-۱۲۸ نسب قریش للزبیر ی ص ۲۹۱)
جفا کشی کی زندگی:
عنفوانِ شباب میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی معین کام نہ تھا۔ البتہ یہ خبر متواتر ہے کہ آپ بکریاں چراتے تھے۔ آپ ﷺ نے بنی سعد کی بکریاں چرائیں۔ (ابن ہشام ۱/۱۶۶) اور مکہ میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چراتے تھے۔ (صحیح بخاری۔ الاجارات، باب رعی الغنم علی قراریط ۱/۳۰۱) اور غالباً جوان ہوئے تو تجارت کی طرف منتقل ہو گئے۔ کیونکہ یہ روایت آتی ہے کہ آپ سائب بن یزید مخزومی کے ساتھ تجارت کرتے تھے اور بہترین شریک تھے، نہ ہیر پھیر نہ کوئی جھگڑا۔ چنانچہ سائب فتح مکہ کے دن آپ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں مرحباً کہا اور فرمایا کہ میرے بھائی اور میرے شریک کو مرحبا۔ (سنن ابی داؤد ۲/۶۱۱ ، ابن ماجہ ح ۲۲۸۷ (۲/۷۶۸))
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پچیس سال کی عمر ہوئی توحضرت خدیجہ ؓ کا مال لے کر تجارت کے لیے ملک شام تشریف لے گئے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ خدیجہ بنت خویلد ایک معزز مالدار اور تاجر خاتون تھیں۔ لوگوں کو اپنا مال تجارت کے لیے دیتی تھیں اور مضاربت کے اصول پر ایک حصہ طے کر لیتی تھیں۔ پورا قبیلۂ قریش ہی تاجر پیشہ تھا۔ جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی راست گوئی، امانت اور مکارمِ اخلاق کا علم ہوا تو انھوں نے ایک پیغام کے ذریعے پیش کش کی۔ آپ ان کا مال لے کر تجارت کے لیے ان کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لے جائیں۔ وہ دوسرے تاجروں کو جو کچھ دیتی ہیں اس سے بہتر اجرت آپ کو دیں گی۔ آپ نے یہ پیش کش قبول کر لی اور ان کا مال لے کر ان کے غلام مَیْسَرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لے گئے۔ (ابن ہشام ۱/۱۸۷، ۱۸۸)
حضرت خدیجہ ؓ سے شادی:
جب آپ مکہ واپس تشریف لائے اور حضرت خدیجہ ؓ نے اپنے مال میں ایسی امانت و برکت دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی اور ادھر ان کے غلام مَیْسَرہ نے آپ کے شریں اخلاق، بلند پایہ کردار موزوں اندازِ فکر، راست گوئی اور امانت دارانہ طور طریق کے متعلق اپنے مشاہدات بیان کیے تو حضرت خدیجہ کو اپنا گم گشتہ گوہرِ مطلوب دستیاب ہو گیا۔ اس سے پہلے بڑے بڑے سردار اور رئیس ان سے شادی کے خواہاں تھے، لیکن انھوں نے کسی کا پیغام منظور نہ کیا تھا۔ اب انھوں نے اپنے دل کی بات اپنی سہیلی نفیسہ بنت منبہ سے کہی اور نفیسہ نے جا کر نبی ﷺ سے گفت و شنید کی۔ آپ ﷺ راضی ہو گئے اور اپنے چچاؤں سے اس معاملے میں بات کی۔ انھوں نے حضرت خدیجہ ؓ کے چچا سے بات کی اور شادی کا پیغام دیا۔ اس کے بعد شادی ہو گئی۔ نکاح میں بنی ہاشم اور رؤسائے مضر شریک ہوئے۔
یہ ملک شام سے واپسی کے دو مہینے بعد کی بات ہے۔ (مسعودی نے تعیین کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ آپ جنگ فجار کے چار سال نو مہینہ، چھ دن کے بعد ملک شام کے لیے نکلے اور حضرت خدیجہ ؓ سے آپ کی شادی ملک شام روانگی کے دو مہینہ چوبیس دن کے بعد ہوئی دیکھئے: مروج الذہب ۲/۲۷۸) آپ ﷺ نے مہر میں بیس اونٹ دیے۔ اس وقت حضرت خدیجہ ؓ کی عمر چالیس سال اور کہا جاتا ہے کہ اٹھائیس سال تھی اور وہ نسب و دولت اور سوجھ بوجھ کے لحاظ سے اپنی قوم کی سب سے معزز اور افضل خاتون تھیں، یہ پہلی خاتون تھیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے شادی کی اور ان کی وفات تک کسی دوسری خاتون سے شادی نہیں کی۔ (ابن ہشام ۱/۱۸۹، ۱۹۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ابراہیم کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کی بقیہ تمام اوّلاد انہی کے بطن سے تھیں۔ سب سے پہلے قاسم پیدا ہوئے اور انہی کے نام پر آپ کی کنیت ابو القاسم پڑی۔ پھر حضرت زینب ؓ ، رقیہ ؓ ، اُم کلثوم ؓ ، فاطمہؓ اور عبد اللہ پیدا ہوئے۔ عبد اللہ کا لقب طیب اور طاہر تھا۔ آپ ﷺ کے سب بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ البتہ بچیوں میں سے ہر ایک نے اسلام کا زمانہ پایا۔ مسلمان ہوئیں اور ہجرت کے شرف سے مشرف ہوئیں، لیکن حضرت فاطمہ ؓ کے سوا باقی سب کا انتقال آپ کی زندگی ہی میں ہو گیا۔ حضرت فاطمہ ؓ کی وفات آپ کے چھ ماہ بعد ہوئی۔ (ابن ہشام ۱/۱۹۰، ۱۹۱ صحیح بخاری، فتح الباری ۷/۱۰۵، تلقیح الفہوم ص ۷)
کعبہ کی تعمیر اور حجر اسود کے تنازعہ کا فیصلہ:
آپ ﷺ کی عمر کا پینتیسواں سال تھا کہ قریش نے نئے سرے سے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی۔ وجہ یہ تھی کہ کعبہ صرف قد سے کچھ اونچی چہار دیوار کی شکل میں تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے ہی سے اس کی بلندی ۹ ہاتھ تھی اور اس پر چھت نہ تھی۔ اس کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ چوروں نے اس کے اندر رکھا ہوا خزانہ چرا لیا... اس کے علاوہ اس کی تعمیر پر ایک طویل زمانہ گزر چکا تھا۔ عمارت خستگی کا شکار ہو چکی تھی اور دیوار یں پھٹ گئی تھیں۔ ادھر اسی سال ایک زور دار سیلاب آیا۔ جس کے بہاؤ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف تھا۔ اس کے نتیجے میں خانہ کعبہ کسی بھی لمحے ڈھہ سکتا تھا، اس لیے قریش مجبور ہو گئے کہ اس کا مرتبہ و مقام بر قرار رکھنے کے لیے اسے ازسرِ نو تعمیر کر یں۔
اس مرحلے پر قریش نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ خانۂ کعبہ کی تعمیر میں صرف حلال رقم ہی استعمال کریں گے۔ اس میں رنڈی کی اُجرت، سود کی دولت اور کسی کا ناحق لیا ہوا مال استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
(نئی تعمیر کے لیے پرانی عمارت کو ڈھانا ضروری تھا) لیکن کسی کو ڈھانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ بالآخر ولید بن مغیرہ مخزومی نے ابتداء کی اور کدال لے کر یہ کہا کہ اے اللہ! ہم خیر ہی کا ارادہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد دو کونوں کے اطراف کو کچھ ڈھا دیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اس پر کوئی آفت نہیں ٹوٹی تو باقی لوگوں نے بھی دوسرے دن ڈھانا شروع کیا اور جب قواعد ابراہیم تک ڈھا چکے تو تعمیر کا آغاز کیا۔ تعمیر کے لیے الگ الگ ہر قبیلے کا حصہ مقرر تھا اور ہر قبیلے نے علیحدہ علیحدہ پتھر کے ڈھیر لگا رکھے تھے، تعمیر شروع ہوئی۔ باقوم نامی ایک رومی معمار نگراں تھا۔ جب عمارت حجر اسود تک بلند ہو چکی تو یہ جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف و امتیاز کسے حاصل ہو، یہ جھگڑا چار پانچ روز تک جاری رہا اور رفتہ رفتہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ معلوم ہوتا تھا سر زمینِ حرم میں سخت خون خرابہ ہو جائے گا، لیکن ابو اُمَیہ مخزومی نے یہ کہہ کر فیصلے کی ایک صورت پیدا کر دی کہ مسجد حرام کے دروازے سے جو شخص پہلے داخل ہو اسے اپنے جھگڑے کا حَکَم مان لیں۔ لوگوں نے یہ تجویز منظور کر لی۔ اللہ کی مشیت کہ اس کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ کو دیکھا تو چیخ پڑے کہ ھذا الأمین رضیناہ ھذا محمد ﷺ ''یہ امین ہیں۔ ہم ان راضی ہیں یہ محمد ﷺ ہیں۔'' پھر جب آپ ان کے قریب پہنچے اور انھوں نے آپ کو معاملے کی تفصیل بتائی تو آپ نے ایک چادر طلب کی بیچ میں حجر اسود رکھا اور متنازعہ قبائل کے سرداروں سے کہا کہ آپ سب حضرات چادر کا کنارہ پکڑ کر اوپر اٹھائیں۔ انھوں نے ایسا ہی کیا، جب چادر حجر اسود کے مقام تک پہنچ گئی تو آپ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو اس کی مقررہ جگہ پر رکھ دیا، یہ بڑا معقول فیصلہ تھا۔ اس پر ساری قوم راضی ہو گئی۔
ادھر قریش کے پاس مال حلال کی کمی پڑ گئی اس لیے انھوں نے شمال کی طرف سے کعبہ کی لمبائی تقریبا چھ ہاتھ کم کر دی۔ یہی ٹکڑا حجر اور حطیم کہلاتا ہے۔ اس دفعہ قریش نے کعبہ کا دروازہ زمین سے خاصا بلند کر دیا تاکہ اس میں وہی شخص داخل ہو سکے جسے وہ اجازت دیں۔ جب دیواریں پندرہ ہاتھ بلند ہو گئیں تو اندر چھ ستون کھڑے کر کے اوپر سے چھت ڈال دی گئی اور کعبہ اپنی تکمیل کے بعد قریب قریب چوکور شکل کا ہو گیا۔ اب خانہ کعبہ کی بلندی پندرہ میٹر ہے۔ حجر اَسْوَد والی دیوار اور اس کے سامنے کی دیوار، یعنی جنوبی اور شمالی دیواریں دس دس میٹر ہیں۔ حجرِ اسود مطاف کی زمین سے ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر ہے۔ دروازے والی دیوار اور اس کے سامنے کی دیوار یعنی پورب اور پچھم کی دیواریں ۱۲ - ۱۲ میٹر ہیں۔ دروازہ زمین سے دو میٹر بلند ہے۔ دیوار کے گرد نیچے ہر چہار جانب سے ایک بڑھے ہوئے کرسی نما ضلعے کا گھیرا ہے، جس کی اوسط اونچائی ۲۵ سینٹی میٹر اور اوسط چوڑائی ۳۰ سینٹی میٹر ہے۔ اسے شاذروان کہتے ہیں۔ یہ بھی دراصل بیت اللہ کا جزو ہے لیکن قریش نے اسے بھی چھوڑ دیا تھا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ابن ہشام ۱/۱۹۲ تا ۱۹۷، تاریخ طبری ۲/۲۸۹، اور اس کے بعد صحیح بخاری باب فضل مکۃ ونبیانہا۔ ۱/۲۱۵، تحکیم کی یہ خبر مسند ابی داؤد طیالسی میں بھی ہے۔ نیز دیکھئے: تاریخ خضری ۱/۶۴، ۶۵)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نبوت سے پہلے کی اجمالی سیرت:
نبی ﷺ کا وجود ان تمام خوبیوں اور کمالات کا جامع تھا جو متفرق طور پر لوگوں کے مختلف طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ اصابتِ فکر، دُور بینی اور حق پسندی کا بلند مینار تھے۔ آپ ﷺ کوحسنِ فراست، پختگی فکر اور وسیلہ و مقصد کی درستگی سے حظِ وافر عطا ہوا تھا۔ آپ ﷺ اپنی طویل خاموشی سے مسلسل غور و خوض، دائمی تفکیر اور حق کی کرید میں مدد لیتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی شاداب عقل اور روشن فطرت سے زندگی کے صحیفے، لوگوں کے معاملات اور جماعتوں کے احوال کا مطالعہ کیا اور جن خرافات میں یہ سب لت پت تھیں۔ ان سے سخت بیزاری محسوس کی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سب سے دامن کش رہتے ہوئے پوری بصیرت کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی کا سفر طے کیا۔ یعنی لوگوں کا جو کام اچھا ہوتا اس میں شرکت فرماتے۔ (مثلاً: قریش جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ بھی عہد جاہلیت میں یہ روزہ رکھتے تھے۔ دیکھئے: صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۰۰۲، فتح الباری ۴/۲۸۷)
 
Top