- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
ولادت باسعادت:
رسول اللہ ﷺ مکہ میں شِعبِ بنی ہاشم کے اندر ۹/ ربیع الاوّل عام الفیل یوم دو شنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ (نتائج الافہام فی تقویم العرب قبل الاسلام ص ۲۸-۳۵ از محمود پاشا فلکی۔ طبع بیروت۔ مگر چاند دیکھنے کے اعتبار سے ۹ کے بجائے ۸ تاریخ بنتی ہے) اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ۲۰/ یا ۲۲ / اپریل ۵۷۱ ء کی تاریح تھی۔ علامہ محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری کی تحقیق یہی ہے۔ (۲۰/اپریل قدیم عیسوی کلنڈر کے مطابق، اور ۲۲ /اپریل جدید عیسوی کلنڈر کے مطابق۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: رحمۃ للعالمین ۱/۳۸، ۳۹، ۲/۳۶۰، ۳۶۱)
ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے فرمایا: جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہو گئے۔ امام احمد اور دارمی وغیرہ نے بھی تقریباً اسی مضمون کی روایت نقل فرمائی ہے۔ (مسند احمد ۴/۱۲۷، ۱۲۸، ۱۸۵، ۵/۱۶۲ سنن دارمی ۱/۹، ابن سعد ۱/۱۰۲)
بعض روایتوں میں بتایا گیا ہے کہ ولادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور پر ظہور پذیر ہوئے، یعنی ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور اس کے گرجے منہدم ہو گئے۔ یہ طبری اور بیہقی وغیرہ کی روایت ہے۔ (دلائل النبوہ للبیہقی ۱/۱۲۶، ۱۲۷، تاریخ طبری ۲/۱۶۶ ، ۱۶۷، البدایہ والنہایہ ۲/۲۶۸، ۲۶۹) مگر اس کی سند پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے اور ان قوموں کی تاریخ سے بھی اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی، حالانکہ ان واقعات کو قلمبند کیے جانے کا قوی داعیہ موجود تھا۔
ولادت کے بعد آپ کی والدہ نے عبد المطلب کے پاس پوتے کی خوشخبری بھجوائی۔ وہ شاداں و فرحاں تشریف لائے اور آپ کو خانہ کعبہ میں لے جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کا شکر ادا کیا۔ (ابن ہشام ۱/۱۵۹، ۱۶۰ تاریخ طبری ۲/۱۵۶، ۱۵۷، ابن سعد ۱/۱۰۳) اور آپ کا نام محمد تجویز کیا۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا، پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا۔ (کہا جاتا ہے کہ آپ مختون (ختنہ کیے ہوئے ) پیدا ہوئے تھے۔ دیکھئے: تلقیح الفہوم ص ۴ مگر ابن قیم کہتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی ثابت حدیث نہیں۔ دیکھئے: زاد المعاد ۱/۱۸)
رسول اللہ ﷺ مکہ میں شِعبِ بنی ہاشم کے اندر ۹/ ربیع الاوّل عام الفیل یوم دو شنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ (نتائج الافہام فی تقویم العرب قبل الاسلام ص ۲۸-۳۵ از محمود پاشا فلکی۔ طبع بیروت۔ مگر چاند دیکھنے کے اعتبار سے ۹ کے بجائے ۸ تاریخ بنتی ہے) اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ۲۰/ یا ۲۲ / اپریل ۵۷۱ ء کی تاریح تھی۔ علامہ محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری کی تحقیق یہی ہے۔ (۲۰/اپریل قدیم عیسوی کلنڈر کے مطابق، اور ۲۲ /اپریل جدید عیسوی کلنڈر کے مطابق۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: رحمۃ للعالمین ۱/۳۸، ۳۹، ۲/۳۶۰، ۳۶۱)
ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے فرمایا: جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہو گئے۔ امام احمد اور دارمی وغیرہ نے بھی تقریباً اسی مضمون کی روایت نقل فرمائی ہے۔ (مسند احمد ۴/۱۲۷، ۱۲۸، ۱۸۵، ۵/۱۶۲ سنن دارمی ۱/۹، ابن سعد ۱/۱۰۲)
بعض روایتوں میں بتایا گیا ہے کہ ولادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور پر ظہور پذیر ہوئے، یعنی ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور اس کے گرجے منہدم ہو گئے۔ یہ طبری اور بیہقی وغیرہ کی روایت ہے۔ (دلائل النبوہ للبیہقی ۱/۱۲۶، ۱۲۷، تاریخ طبری ۲/۱۶۶ ، ۱۶۷، البدایہ والنہایہ ۲/۲۶۸، ۲۶۹) مگر اس کی سند پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے اور ان قوموں کی تاریخ سے بھی اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی، حالانکہ ان واقعات کو قلمبند کیے جانے کا قوی داعیہ موجود تھا۔
ولادت کے بعد آپ کی والدہ نے عبد المطلب کے پاس پوتے کی خوشخبری بھجوائی۔ وہ شاداں و فرحاں تشریف لائے اور آپ کو خانہ کعبہ میں لے جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کا شکر ادا کیا۔ (ابن ہشام ۱/۱۵۹، ۱۶۰ تاریخ طبری ۲/۱۵۶، ۱۵۷، ابن سعد ۱/۱۰۳) اور آپ کا نام محمد تجویز کیا۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا، پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا۔ (کہا جاتا ہے کہ آپ مختون (ختنہ کیے ہوئے ) پیدا ہوئے تھے۔ دیکھئے: تلقیح الفہوم ص ۴ مگر ابن قیم کہتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی ثابت حدیث نہیں۔ دیکھئے: زاد المعاد ۱/۱۸)