پیارے مفتی صاحب۔(سونھڑا نھیں لکھا)۔
دخل اندازی پر انتھائی معذرت کے ساتہ،
اردو ایک کثیر الجھت زبانوں کا مرکب ھے ،یہ تو آپ مانتے ھوں گئے،(دلیل نہ مانگنا میرے بھائی)
جن میں فارسی۔ترکی،عربی اور ھندی وغیرہ شامل ھیں۔
جہاں تک لفظ انشاء اور ان شاء کا تعلق ھے،اس بارے آپ مجہ سے بھتر جانتے ھیں کہ عربی ایک کثیر المعانی الفاظ کا ذخیرہ ھے۔
اسی طرح تلفظ کی ادائیگی سے بھی مفہوم بدل جاتا ھے۔
بالکل اسی طرح کئی ایک الفاظ لکھنے کی ھیئت ترکیب سے معانی بدل جاتے ھیں۔
آپ نے بغور مشاھدہ کیا ھو گا کہ عرب ممالک میں جب کوئی نئی عمارت تعمیر کرنا شروع کرتے ھیں ،تو جو وھاں پر معلوماتی تحتی لگتی ھے ،اس پر انشاء سکن لکھا ہوتا ھے نہ کہ ان شاء سکن۔
ایک اردو دان حرم میں دعا مانگتے ہوئے پکار رہے تھے اللہ معافیپاس ھی ایک عرب بھی موجود تھے یہ سننے پر وہ زور زور سے کہنے لگے اللہ فی اللہ فی۔
روکومت جانےدو،
روکو مت جانے دو،
میں اپنی کم علمی کا پوری طرح احساس رکھتا ھوں ،اسی بنا پر یہ بھی امید ھے کہ آپ تمام اہلِ علم بندہ کی دخل اندازی کا برا محسوس نہیں کریں گے۔