اشماریہ
سینئر رکن
- شمولیت
- دسمبر 15، 2013
- پیغامات
- 2,682
- ری ایکشن اسکور
- 752
- پوائنٹ
- 290
آپ ہونے کی دلیل دیں تا کہ میں اس کا اس قول کی دلیل سے تقابل کر کے پھر آپ کو اپنا بتاؤں۔یعنی تمہارے نزدیک کتا نجس العین نہیں ہے؟
آپ کو کیا مسئلہ ہے دلیل دینے میں؟
آپ ہونے کی دلیل دیں تا کہ میں اس کا اس قول کی دلیل سے تقابل کر کے پھر آپ کو اپنا بتاؤں۔یعنی تمہارے نزدیک کتا نجس العین نہیں ہے؟
میں دوں گا دلائل ان شاءاللہآپ ہونے کی دلیل دیں تا کہ میں اس کا اس قول کی دلیل سے تقابل کر کے پھر آپ کو اپنا بتاؤں۔
آپ کو کیا مسئلہ ہے دلیل دینے میں؟
بندہ منتظر رہے گا۔میں دوں گا دلائل ان شاءاللہ
ٹھہرو میں پہلے تحقیق کر لوں، میں نے ایک حدیث پڑھی تھی جس کا مفہوم ہے کہ اگر کسی برتن میں کتا منہ مارے تو اس کو سات بار دھونے کا حکم ہے۔ پہلے میں اس پر تحقیق کر لوں، پھر آگے بات کریں گے۔ ان شاءاللہبندہ منتظر رہے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کا جوٹھا ناپاک ہے کیوں کہ جب برتن ناپاک ہو گیا جس کے پاک کرنے کا طریق آپ نے یہ بتایا کہ سات مرتبہ دھویا جائے تو جو کچھ برتن میں ہے وہ بطریق اولیٰ ناپاک ہو گیا۔ اور اسی لیے اس کے گرانے کا حکم دیا اور اس سے معلوم ہوا کہ کتے کا گوشت بھی نجس ہے کیوں کہ جوٹھا لعاب کی وجہ سے نجس ہے اور لعاب گوشت سے نکلتا ہے تو وہ بھی نجس ہوا۔''ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کتا برتن میں لگے تو اس کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے پہلی بار مٹی سے اس کو مسلم نے روایت کیا۔ اور مسلم کی ایک روایت ہے کہ برتن میں جو کچھ ہے گرا دیں۔''
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
چمچہ کو اگر کتا چاٹ جائے تو کیا وہ پاک ہو سکتا ہے؟ مٹی اور دوسرے برتنوں کے پاک کرنے کا کیا ہوتا ہے؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
پاک ہو سکتا ہے ایک دفعہ مٹی لگا کر پھر سات دفعہ دھو لیا جائے، جیسا کہ حدیث میں ہے۔ خواہ مٹی کا برتن ہو یا کسی دھات کا۔ (حضرت العلام) حافظ محمد صاحب مدظلہ العالی ( اعتصام ج ۲۰ ش ۳)
(الجواب صحیح : علی محمد سعیدی جامعہ سعیدیہ خانیوال مغربی پاکستان)
فتاویٰ علمائے حدیث
کتاب الطہارۃجلد 1 ص 41۔42
محدث فتویٰ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بھگیاڑی میں سخت شور مچ رہا ہے کہ وہابی لوگ کتے کا جوٹھا پاک جانتے ہیں کیونکہ ایک مولوی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ کتّے کا جوٹھا پانی بالکل پاک ہے اگرچہ برتن میں ہو اس پر سخت تنازعہ ہو رہا ہے بلکہ کسی وقت لڑائی تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے اس کی بابت بہت کوشش سے جواب لکھیں، آپ کو ہر دو فریقین نے حاکم تسلیم کر لیا ہے۔
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عن أبی ھریرة رضی اللہ تعالیٰ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم طھور اناًء أحدکم إذا ولغ فیه الکلب ان یغسله سبع مرات او لھن بالتراب اخرجہ مسلم وفی لفظ لہ فلیرقہ(الحدیث) بلوغ المرام ص۷
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کا جوٹھا ناپاک ہے کیوں کہ جب برتن ناپاک ہو گیا جس کے پاک کرنے کا طریق آپ نے یہ بتایا کہ سات مرتبہ دھویا جائے تو جو کچھ برتن میں ہے وہ بطریق اولیٰ ناپاک ہو گیا۔ اور اسی لیے اس کے گرانے کا حکم دیا اور اس سے معلوم ہوا کہ کتے کا گوشت بھی نجس ہے کیوں کہ جوٹھا لعاب کی وجہ سے نجس ہے اور لعاب گوشت سے نکلتا ہے تو وہ بھی نجس ہوا۔
اگر مولوی صاحب نے پاک ہونے کا فتویٰ دیا ہے تو اس کو اس حدیث کا علم نہیں ہو گا، ورنہ اہل حدیث کا یہ مذہب کیسے ہو سکتا ہے اہل حدیث کا مذہب تو قرآن سنت ہے نہ کسی کی رائے۔
بہت لوگ خاص کر بریلوی پارٹی اہل حدیث پر اس قسم کی تہمتیں لگا کر بدنام کرنا چاہتی ہے جس کی تھوڑی سی تفصیل پرچہ تنظیم اہل حدیث جلد نمبر ۳ نمبر ۹ میں ہو چکی ہے۔ (عبد اللہ امر تسری مقیم روڑ ضلع انبالہ ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۵۲ھ تنظیم اہل حدیث جلد نمبر ۳ نمبر ۱۵)
(الجواب صحیح : الراقم علی محمد سعیدی جامع سعیدیہ خانیوال مغربی پاکستان)
فتاویٰ علمائے حدیث
کتاب الصلاۃجلد 2 ص 21
محدث فتویٰ
دو باتیں:۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کتّے نے گنّے کے رس سے بھرے ہوئے برتن میں منہ ڈالا اس سے گڑ تیار کیا گیا، اب وہ گڑ قابل استعمال ہے یا نہیں، کہتے ہیں آگ سے جلی ہوئی چیز پاک ہو جاتی ہے۔
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بعض ائمہ نے شکاری کتے کے جھوٹھے پر محمول کر کے اجازت دی ہے، مگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ناجائز لکھا ہے، اس لیے احوط مذہب یہی ہے کہ مسلمان کو پرہیز کرنا چاہیے، اور گڑ مویشیوں کو کھلا دینا چاہئے۔ آگ سے پکی ہوئی چیز کے پاک ہونے کا مسئلہ حدیث شریف کا نہیں ہے۔
(قوانین فطرت ص ۵ جلد نمبر ۷) (الجواب صحیح علی محمد سعیدی خانیوال)
فتاویٰ علمائے حدیث
کتاب الصلاۃجلد 2 ص 24
محدث فتویٰ