• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کلمہ طیبہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" سنت سےثابت نہیں ہے

شمولیت
مارچ 03، 2023
پیغامات
62
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
40
الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله ﷺ۔

ہمارے معاشرے میں یہ عبارت بہت مشہور ہے:

««لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ»»

اصل سوال یہ ہے:

«کیا رسول اللہ ﷺ نے یہی مکمل عبارت، اسی ترتیب اور اسی مختصر شکل میں بطورِ مقررہ کلمہ یا مسنون صیغہ سکھائی تھی؟»

یہ ایک حدیثی دعویٰ ہے، اور حدیثی دعوے کے لیے حدیثی ثبوت ضروری ہے۔

---

1۔ شہادتین کا اسلام میں مقام

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

««بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ...»»

"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں..."

صحیح بخاری: 8
صحیح مسلم: 16

---

2۔ نبی ﷺ سے شہادتین کے ثابت شدہ الفاظ

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

««كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ»»

"رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔"

صحیح مسلم میں تشہد کے الفاظ ہیں:

««أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»»

صحیح مسلم: 403

یہ الفاظ مندرجہ بالا واضح طور پر ثابت ہیں۔


اصل سوال یہ ہے:

«کیا «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ» اسی مختصر ترکیب کو نبی ﷺ نے بطورِ مقررہ کلمہ سکھایا تھا؟»

---

3۔ اصل روایت: «أمرت أن أقاتل الناس»

حضرت ابو ہریرہؓ سے صحیح حدیث میں ہے:

««أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ»»

یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔

صحیحین کے محفوظ متن میں:

««حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»»

کے الفاظ ہیں۔

یعنی:

"یہاں تک کہ وہ کہیں: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"

اس اصل روایت میں زیرِ بحث مکمل عبارت:

««لا إله إلا الله محمد رسول الله»»

موجود نہیں۔

---

4۔ پھر «محمد رسول الله» والے الفاظ کہاں سے آئے؟

ابو ہریرہؓ کی اسی روایت کے بعض دوسرے طریقوں میں سورۃ الفتح کی آیت:

«﴿وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى﴾»

کے بعد یہ عبارت نقل ہوئی:

««وَهِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ»»

یعنی:

"اور وہ کلمۂ تقویٰ «لا إله إلا الله محمد رسول الله» ہے۔"

یہ عبارت صحیح ابن حبان، بیہقی، ابن ابی حاتم اور ابن جریر طبری کی بعض روایات میں ملتی ہے۔

لیکن یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے:

«کیا یہ وضاحت نبی ﷺ نے فرمائی تھی، یا یہ امام زہریؒ کی اپنی وضاحت تھی؟»

اسی سوال پر محدثین نے کلام کیا ہے۔

---

5۔ امام طبرانیؒ — ایک اہم قرینہ

یہاں امام طبرانیؒ کی روایت خاص طور پر اہم ہے۔

المعجم الأوسط، حدیث 1272

امام طبرانیؒ نے اسی روایت کو ابن شہاب زہری → سعید بن مسیب → ابو ہریرہؓ کے طریق سے نقل کیا۔

لیکن جب «كلمة التقوى» کی وضاحت آتی ہے تو الفاظ ہیں:

««وَهِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»»

بس!

اس میں:

««مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ»»

کے الفاظ موجود نہیں۔

یہ بات بہت اہم ہے۔

کیونکہ ایک ہی بنیادی روایت کے ایک طریق میں:

««وهي لا إله إلا الله»»

ہے،

جبکہ دوسرے طریق میں:

««وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»»

ہے۔

یہی روایات کے باہمی موازنے کا پہلا اہم قرینہ ہے۔

---

6۔ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ — اصل محفوظ روایت

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابو ہریرہؓ کی اصل حدیث موجود ہے:

««أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله...»»

اور اس میں:

««محمد رسول الله»»

والی زیرِ بحث عبارت موجود نہیں۔

درر کی حدیثی تخریج بھی واضح کرتی ہے کہ ابن حبان کی روایت کو بخاری اور مسلم نے اصل حدیث کے طور پر روایت کیا، لیکن ان کے ہاں وہ بعد کی قرآنی توضیح موجود نہیں۔

یہ اس بات کا اہم قرینہ ہے کہ روایت کے مختلف طرق میں الفاظ کا فرق ہے، اور اضافی عبارت کو الگ سے جانچنے کی ضرورت ہے۔

---

7۔ امام ابن حبانؒ — روایت نقل کرتے ہیں

امام ابن حبانؒ نے:

صحیح ابن حبان، حدیث 218

میں روایت نقل کی:

««... وألزمهم كلمة التقوى ... وهي لا إله إلا الله ومحمد رسول الله...»»

یعنی ابن حبانؒ کی روایت میں یہ مکمل عبارت موجود ہے۔

ان کی کتاب کا نام ہی صحیح ابن حبان ہے، اس لیے یہ طریق حدیثی طور پر قابلِ توجہ ہے۔

لیکن ایک اہم بات:

ابن حبانؒ نے روایت نقل کی؛ بعد کے ناقدین نے اس روایت کے خاص اضافی الفاظ کے مرفوع ہونے کو الگ سے جانچا۔

اسی لیے صرف یہ کہنا کہ:

«"ابن حبان نے اسے صحیح میں روایت کیا ہے"»

بحث ختم نہیں کرتا۔

---

8۔ امام بیہقیؒ — روایت میں مکمل عبارت موجود ہے

امام بیہقیؒ نے:

الأسماء والصفات، حدیث 196، 1/263

میں ایک طریق سے روایت نقل کی، جس میں:

««وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»»

کے الفاظ موجود ہیں۔

ان کی سند میں:

إسماعیل بن ابی اویس
→ ان کے بھائی
→ سلیمان بن بلال
→ یحییٰ بن سعید
→ زہری
→ سعید بن المسیب
→ ابو ہریرہؓ

کا طریق آتا ہے۔

یہ روایت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ الفاظ حدیثی کتابوں میں منقول ہوئے ہیں۔

لیکن پھر وہی بنیادی سوال باقی رہتا ہے:

کیا یہ الفاظ نبی ﷺ کے ہیں یا زہریؒ کی وضاحت؟

اسی لیے صرف بیہقیؒ کی روایت کا موجود ہونا ادراج کے اعتراض کو ختم نہیں کرتا۔

---

9۔ امام ابن ابی حاتمؒ — ایک اور طریق

ابن کثیرؒ نے ابن ابی حاتمؒ کے طریق کو نقل کیا ہے:

«أحمد بن منصور الرمادي
→ عبد الله بن صالح
→ الليث
→ عبد الرحمن بن خالد
→ ابن شهاب
→ سعيد بن المسيب
→ أبو هريرة
→ النبي ﷺ»

اس روایت میں بھی:

««وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»»

کے الفاظ آئے ہیں۔

یعنی ابن ابی حاتمؒ کے طریق میں بھی یہی اضافی عبارت موجود ہے۔

لیکن خود ابن ابی حاتمؒ کی طرف سے یہاں یہ فیصلہ منقول نہیں کہ یہ عبارت لازماً نبی ﷺ کا محفوظ فرمان ہے۔

---

10۔ امام ابن جریر طبریؒ — ایک اور طریق

حافظ ابن کثیرؒ نے واضح طور پر لکھا:

««وكذا رواه بهذه الزيادات ابن جرير من حديث الزهري»»

یعنی:

"ابن جریر نے بھی زہریؒ کی روایت کے ذریعے اسے انہی اضافی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔"

لیکن اس کے فوراً بعد ابن کثیرؒ نے اپنا اہم نقد پیش کیا:

««والظاهر أنها مدرجة من كلام الزهري، والله أعلم»»

یعنی:

"ظاہر یہی ہے کہ یہ الفاظ زہریؒ کے کلام سے حدیث میں شامل ہوئے ہیں، واللہ اعلم۔"

یہاں ابن کثیرؒ نے مختلف طرق کو سامنے رکھ کر نتیجہ نکالا۔

---

11۔ امام ابن مندهؒ — سب سے واضح حکم

امام ابن مندهؒ نے اس مسئلے پر بہت واضح الفاظ استعمال کیے:

««وَأَرَى هَذِهِ الزِّيَادَةَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ»»

اور اس کی وضاحت میں:

««قوله: وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله ... من قول الزهري ولا تصح عن النبي صلى الله عليه وسلم»»

یعنی:

«"«لا إله إلا الله محمد رسول الله» والے یہ الفاظ زہریؒ کے قول سے ہیں اور نبی ﷺ سے صحیح طور پر ثابت نہیں۔"»

ابن منده، الإيمان، ص 102۔

یہ اس پوری تحقیق کا سب سے صاف اور صریح حکم ہے۔

---

12۔ حافظ ابن کثیرؒ — "مدرج" ہونے کا فیصلہ

حافظ ابن کثیرؒ نے مختلف طرق کو اکٹھا دیکھنے کے بعد کہا:

««والظاهر أنها مدرجة من كلام الزهري، والله أعلم»»

یعنی:

«"ظاہر یہی ہے کہ یہ الفاظ زہریؒ کی اپنی گفتگو سے حدیث میں شامل ہوئے ہیں۔"»

یہاں "مدرج" سے مراد ہے:

راوی یا بعد کے ناقل کی وضاحت اصل حدیث کے ساتھ اس طرح بیان ہوجائے کہ وہ حدیث کے متن کا حصہ محسوس ہونے لگے۔

---

13۔ شعیب ارناؤوطؒ — سند صحیح، مگر وضاحتی الفاظ کا مسئلہ

شعیب ارناؤوطؒ نے صحیح ابن حبان کی روایت پر لکھا:

««إسناده صحيح»»

یعنی:

"اس کی سند صحیح ہے۔"

لیکن اسی روایت کے دوسرے طریق کے بارے میں انہوں نے نہایت اہم بات کہی:

««إسناده صحيح لكن زيادة التفسير فيه يظهر أنها مدرجة من كلام الزهري»»

یعنی:

«"سند صحیح ہے، لیکن اس میں موجود اضافی الفاظ' محمد رسول اللہ' بظاہر زہریؒ سے مدرج ہیں۔"»

یہاں ایک انتہائی اہم اصول سامنے آتا ہے:

سند صحیح ہونا اور حدیث کے ہر لفظ کا نبی ﷺ سے ثابت ہونا ایک ہی بات نہیں۔

یہی اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔

---

14۔ محدثین کے دلائل کو آسان الفاظ میں سمجھیں

اب سوال یہ ہے:

ابن مندهؒ اور ابن کثیرؒ نے کیسے سمجھا کہ یہ الفاظ زہریؒ کی طرف سے آئے ہیں؟

اس کے چند اہم قرائن ہیں:

پہلا قرینہ: صحیحین کا محفوظ متن

بخاری و مسلم میں ابو ہریرہؓ کی اصل حدیث میں:

««حتى يقولوا لا إله إلا الله»»

ہے۔

وہاں یہ اضافی عبارت موجود نہیں۔

---

دوسرا قرینہ: طبرانیؒ کا طریق

طبرانیؒ کے المعجم الأوسط میں اسی روایت کے آخر میں:

««وهي لا إله إلا الله»»

ہے۔

«محمد رسول الله» موجود نہیں۔

یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ طبرانیؒ کا طریق بھی زہری → سعید بن مسیب → ابو ہریرہؓ کے سلسلے سے متعلق ہے۔

---

تیسرا قرینہ: بعض دوسرے طرق میں ہی یہ عبارت آتی ہے

ابن حبان، ابن ابی حاتم، بیہقی اور طبری کے بعض طرق میں:

««محمد رسول الله»»

کے الفاظ آئے ہیں۔

یعنی تمام طرق ایک جیسے نہیں۔

---

چوتھا قرینہ: «كلمة التقوى» کی تفسیر میں خود سلف سے مختلف الفاظ منقول ہیں

حافظ ابن کثیرؒ نے اسی مقام پر کئی مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔

مثلاً مجاہدؒ:

««الإخلاص»»

عطاءؒ:

««لا إله إلا الله وحده لا شريك له...»»

اور بعض دوسرے سلف سے:

««لا إله إلا الله»»

وغیرہ منقول ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

«كلمة التقوى» کی تفسیر میں مختلف الفاظ مفسرین اور راویوں سے منقول تھے۔

لہٰذا ہر تفسیری عبارت کو خود بخود نبی ﷺ کا فرمان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

---

15۔ ایک بہت اہم بات: «محمد رسول الله» کا صحیح ثبوت اپنی جگہ موجود ہے

یہاں کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔

یہ کہنا مقصود نہیں کہ:

««محمد رسول الله» نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔»

بلکہ قرآن و سنت میں یہ بالکل ثابت ہے۔

مثلاً صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن عمرؓ کی حدیث میں:

««أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»»

کے الفاظ موجود ہیں۔

یعنی:

"وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"

لہٰذا مسئلہ شہادتِ رسالت کے ثبوت کا نہیں۔

مسئلہ صرف یہ ہے:

«کیا «لا إله إلا الله محمد رسول الله» اسی مختصر شکل کو نبی ﷺ نے بطورِ مقررہ کلمہ سکھایا تھا؟»

اس مخصوص دعوے کے لیے پیش کی جانے والی ابو ہریرہؓ کی روایت کے متعلق محدثین نے اوپر بیان کردہ علمی اعتراض کیا ہے۔

---

⚖ 16۔ تو پھر حتمی حدیثی نتیجہ کیا ہے؟

تمام طرق اور محدثین کی گفتگو کو سامنے رکھیں تو زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے:

««لا إله إلا الله محمد رسول الله» کو رسول اللہ ﷺ کا مقرر کردہ مستقل مسنون صیغہ ثابت کرنے کے لیے واضح اور محفوظ صحیح مرفوع حدیث موجود نہیں۔»

اور جس روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں، اس کے بارے میں:

ابن مندهؒ:

««من قول الزهري ولا تصح عن النبي»»

یعنی زہریؒ کا قول ہے، نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔

ابن کثیرؒ:

««والظاهر أنها مدرجة من كلام الزهري»»

یعنی ظاہر ہے کہ یہ زہریؒ کی اپنی بات سے حدیث میں شامل ہوئے ہیں۔

شعیب ارناؤوطؒ:

««إسناده صحيح لكن ... يظهر أنها مدرجة من كلام الزهري»»

یعنی سند صحیح ہے، لیکن یہ وضاحتی الفاظ زہریؒ کے کلام سے شامل معلوم ہوتے ہیں۔

اور دوسری طرف:

امام طبرانیؒ کے طریق میں:

««وهي لا إله إلا الله»»

ہے، «محمد رسول الله» نہیں۔

یہ تمام چیزیں مل کر ادراج کے قول کو مضبوط قرینہ فراہم کرتی ہیں۔

---

17۔ تمام اہم محدثین اور ان کا کردار

محدث / ماخذ| کیا ملا؟| تحقیق میں اہمیت
امام بخاریؒ| اصل روایت: «لا إله إلا الله»| اصل محفوظ متن کا اہم ماخذ
امام مسلمؒ| اصل روایت: «لا إله إلا الله»| اصل محفوظ متن کا اہم ماخذ
امام طبرانیؒ| «وهي لا إله إلا الله»| «محمد رسول الله» والے الفاظ موجود نہیں
امام ابن حبانؒ| مکمل عبارت نقل کی| اضافی الفاظ والا طریق
امام بیہقیؒ| مکمل عبارت والا طریق نقل کیا| اضافی الفاظ والا طریق
امام ابن ابی حاتمؒ| مکمل عبارت والا طریق نقل کیا| اضافی الفاظ والا طریق
امام طبریؒ| مکمل عبارت والے طریق کو نقل کیا| اضافی الفاظ والا طریق
حافظ ابن مندهؒ| اسے زہریؒ کا قول قرار دیا| واضح طور پر مرفوع نہ ہونے کا حکم
حافظ ابن کثیرؒ| اسے زہریؒ کی مدرج عبارت قرار دینے کا رجحان دیا| مختلف طرق کے تقابل سے اہم نقد
شعیب ارناؤوطؒ| سند کو صحیح کہا، مگر وضاحتی الفاظ کو مدرج قرار دینے کی طرف اشارہ کیا| سند اور متن کے فرق کو واضح کیا

یہی وہ تمام اہم متعلقہ محدثین اور مصادر ہیں جو اس خاص روایت اور اس کے الفاظ کی تحقیق میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

---

18۔ سب سے اہم نتیجہ

اس لیے یہ کہنا زیادہ علمی اور محتاط ہے:

««لا إله إلا الله محمد رسول الله» کے الفاظ کا معنی صحیح ہے، لیکن اسے رسول اللہ ﷺ کا مقرر کردہ مستقل مسنون کلمہ کہنا ثابت نہیں۔»

اور اس مخصوص صیغے کے لیے پیش کی جانے والی ابو ہریرہؓ کی روایت میں:

- صحیحین میں اصل متن صرف «لا إله إلا الله» کے ساتھ محفوظ ہے۔
- طبرانیؒ کے طریق میں بھی «وهي لا إله إلا الله» ہے۔
- بعض دوسرے طرق میں «محمد رسول الله» والے الفاظ آئے ہیں۔
- ابن مندهؒ نے ان الفاظ کو زہریؒ کا قول قرار دیا۔
- ابن کثیرؒ نے انہیں زہریؒ کے کلام سے مدرج قرار دینے کو ظاہر کہا۔
- شعیب ارناؤوطؒ نے سند صحیح ہونے کے باوجود اسی تفسیری عبارت کے مدرج ہونے کی طرف اشارہ کیا۔

لہٰذا اس مخصوص عبارت کو:

«"یہ رسول اللہ ﷺ کا مقرر کردہ مسنون کلمہ ہے"»

کہنا حدیثی تحقیق کے مطابق درست نہیں۔

---

⚠ 19۔ کیا یہ بدعت ہے؟

«شہادہ اسلام کا رکن ہے جس طرح دوسرے ارکان ہیں جیسے نماز، روزہ ، زکوۃ وغیرہ اور ارکان اسلام ، عبادتیں اور اذکار ۔۔۔ توقیفی ہیں، توقیفی ہیں مطلب جنہیں بدلہ نہیں جا سکتا یعنی جن کے الفاظ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مقرر ہیں لہذا شہادت کے الفاظ ایسے ہیں جیسے اذان کے الفاظ ہیں ان میں کسی بھی قسم کا، کوئی ایک لفظ کا بھی رد و بدل نہیں کیا جا سکتا۔»

عبادت میں ایسی چیز کو شریعت کی طرف سے مقرر سمجھنا، جس کی مقرر ہونے کی دلیل موجود نہ ہو، بدعت کے اصول کے تحت آتا ہے۔

---

20۔ اصل سبق

دین میں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ:

«"بات کا معنی صحیح ہے یا نہیں؟"»

بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے:

«"کیا رسول اللہ ﷺ نے یہی بات، انہی الفاظ اور اسی طریقے سے سکھائی ہے؟"»

اگر ثابت ہے تو اسے سنت کہیں۔

اگر ثابت نہیں تو اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب نہ کریں۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی بات کی نسبت بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

---

خلاصۂ تحقیق

✅ ثابت:

««لا إله إلا الله»»

✅ ثابت:

««أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدًا رسول الله»»

⚠ لیکن:

❌ ثابت نہیں:
««لا إله إلا الله محمد رسول الله»»

کو اسی مکمل مختصر شکل میں رسول اللہ ﷺ کا مقرر کردہ مسنون کلمہ کہنا ثابت نہیں۔

اس کے متعلق اہم حدیثی تحقیق یہ ہے:

«ابن مندهؒ:
«أرى هذه الزيادة من قول الزهري»»

«ابن کثیرؒ:
«والظاهر أنها مدرجة من كلام الزهري»»

«شعیب ارناؤوطؒ:
«إسناده صحيح لكن ... يظهر أنها مدرجة من كلام الزهري»»

اور:

«طبرانیؒ کی روایت:
«وهي لا إله إلا الله»»

یعنی وہاں «محمد رسول الله» والے الفاظ موجود نہیں۔

لہٰذا:

«جس صیغے کو رسول اللہ ﷺ نے مقرر نہیں کیا، اسے رسول اللہ ﷺ کا مقرر کردہ مسنون صیغہ نہ بنایا جائے۔»

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کو صحیح سمجھنے، حدیث کے صحیح اور غیر صحیح الفاظ میں فرق کرنے، محدثین کے تحقیقی منہج کو سمجھنے اور دلیل سامنے آنے کے بعد حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

بنیادی مصادر

- صحیح البخاری: 8، 25، 2946
- صحیح مسلم: 16، 21، 403
- المعجم الأوسط للطبرانی: 1272، 2/67
- صحیح ابن حبان: 218، 1/451-452
- الأسماء والصفات للبیہقی: 196، 1/263-264
- تفسیر ابن ابی حاتم: 18687
- تفسیر طبری: 22/252
- الإیمان لابن منده: ص 102
- تفسیر ابن کثیر، سورۃ الفتح، آیت 26
- تخریج المسند، شعیب ارناؤوط: 35/177

اصل حدیثی تخریج:
 
Last edited:

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
902
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا صحیح حدیث اور اجماع سے ثبوت موجود ہے۔

12599.jpg

12587.jpg

12589.jpg

12591.jpg

12593.jpg

12597.jpg
 
شمولیت
مارچ 03، 2023
پیغامات
62
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
40
محترم بھائی!


آپ نے حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ فرمایا کہ بیہقی کی روایت کی سند صحیح ہے، لہٰذا «لا إله إلا الله محمد رسول الله» ثابت ہے۔


عرض ہے کہ یہاں ایک نہایت اہم حدیثی اصول کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے:


سند کا صحیح ہونا ایک چیز ہے، اور سند کے ذریعے مروی متن کے ہر لفظ کا نبی ﷺ سے مرفوع اور محفوظ ہونا دوسری چیز۔


ہم اصل حدیث کے صحیح ہونے سے انکار نہیں کر رہے۔ اصل حدیث کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ثابت ہے۔


اصل بحث صرف اس اضافی تشریح کے بارے میں ہے:


«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
یعنی کیا یہ پورا جملہ اسی مقام پر نبی ﷺ کا ارشاد تھا، یا بعد میں راوی، بالخصوص امام محمد بن شہاب الزہری رحمہ اللہ کی طرف سے بطور تشریح متن میں داخل ہوا؟


یہاں محدثین کی صریح تنقید موجود ہے۔

1۔ سب سے پہلے ابن منده رحمہ اللہ کی صریح تحقیق

امام ابن منده رحمہ اللہ نے کتاب الإيمان میں اس روایت کے طرق ذکر کرنے کے بعد صاف لکھا:


«رواه يحيى بن سعيد وأرى هذه الزيادة من قول الزهري»
یعنی:


“یحییٰ بن سعید نے اسے روایت کیا ہے، اور میری رائے میں یہ اضافی عبارت زہری کے قول میں سے ہے۔”


درر السنیہ کی تخریج بھی اسی مقام پر وضاحت کرتی ہے کہ ابن منده کے نزدیک:


«وهي: لا إله إلا الله محمد رسول الله»
نبی ﷺ سے ثابت نہیں، بلکہ زہری کی طرف سے تشریح معلوم ہوتی ہے۔


یہاں ایک بات بہت واضح رہے:


ابن منده اصل حدیث کو رد نہیں کر رہے۔


ان کا اعتراض خاص طور پر اس اضافی تشریحی عبارت پر ہے۔


درر السنیہ — ابن منده کا اصل حکم


2۔ اب تمام اہم طرق کو سامنے رکھیں

یہاں اصل نکتہ بہت اہم ہے، کیونکہ مختلف کتب میں یہ روایت مختلف طرق سے آئی ہے۔

پہلا طریق: صحیح ابن حبان

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے حدیث 218 میں سند یوں ذکر کی:


محمد بن عبید اللہ الکلاعی
← عمرو بن عثمان
← عثمان بن کثیر
← شعیب بن ابی حمزہ
← محمد بن شہاب الزہری
← سعید بن المسیب
← ابو ہریرہؓ
← رسول اللہ ﷺ
اور اسی روایت کے آخر میں:


«وهي لا إله إلا الله ومحمد رسول الله»
کے الفاظ موجود ہیں۔


صحیح ابن حبان، حدیث 218


یہاں زہری اس سند کا مرکزی راوی ہیں۔


3۔ بیہقی کا طریق

امام بیہقی رحمہ اللہ نے الأسماء والصفات میں حدیث نمبر 196 میں یہ سند ذکر کی:


ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان
← احمد بن عبید الصفار
← عباس الاسفاطی
← اسماعیل بن ابی اویس
← ان کے بھائی
← سلیمان بن بلال
← یحییٰ بن سعید
← محمد بن شہاب الزہری
← سعید بن المسیب
← ابو ہریرہؓ
← رسول اللہ ﷺ
اور یہاں بھی آخری عبارت ہے:


«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
یعنی اس طریق میں بھی زہری → سعید بن المسیب → ابو ہریرہؓ وہی بنیادی سلسلہ موجود ہے۔


الاسماء والصفات للبیہقی، 1/264، حدیث 196


لہٰذا اگر کوئی صرف یہ کہے:


“بیہقی کی سند صحیح ہے، اس لیے مسئلہ ختم ہوگیا”


تو یہ مکمل حدیثی جواب نہیں ہے۔


کیونکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس صحیح سند کے اندر موجود ہر تشریحی جملہ بھی نبی ﷺ ہی کا فرمان ہے؟


4۔ امام طبری کا طریق بھی اسی زہری والے مدار سے ہے

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے جامع البيان میں بھی یہی روایت نقل کی ہے۔


ان کے ہاں ایک اہم طریق یہ ہے:


عمرو بن محمد العثمانی
← اسماعیل بن ابی اویس
← ان کے بھائی
← سلیمان
← یحییٰ بن سعید
← ابن شہاب الزہری
← سعید بن المسیب
← ابو ہریرہؓ
← رسول اللہ ﷺ
اور اسی میں وہ عبارت موجود ہے:


«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
یعنی بیہقی اور طبری کے اس اہم طریق میں بھی زہری بنیادی مشترک راوی ہیں۔


یہی وجہ ہے کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بعد میں اس روایت کے بارے میں نہایت اہم تبصرہ کیا۔


5۔ ابن ابی حاتم کا طریق

ابن ابی حاتم کے طریق میں سند یوں آتی ہے:


احمد بن منصور الرمادی
← عبداللہ بن صالح
← لیث
← عبدالرحمن بن خالد
← ابن شہاب الزہری
← سعید بن المسیب
← ابو ہریرہؓ
← رسول اللہ ﷺ
اور اس روایت میں بھی:


«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
موجود ہے۔


لہٰذا یہاں بھی زہری ہی وہ مشترک مرکزی راوی ہیں جہاں سے یہ تشریحی حصہ روایت ہو رہا ہے۔


6۔ لیکن اب سب سے اہم چیز: اسی روایت کا دوسرا متن!

اب اگر صرف وہ روایات دیکھی جائیں جن میں یہ الفاظ موجود ہیں تو بظاہر مسئلہ آسان لگتا ہے۔


لیکن حدیثی تحقیق میں دوسرے طرق کے متن کا موازنہ کیا جاتا ہے۔


امام طبرانی نے المعجم الأوسط حدیث 1272 میں اسی عمومی سلسلے سے یہ روایت نقل کی:


ابن شہاب
← سعید بن المسیب
← ابو ہریرہؓ
← رسول اللہ ﷺ
اور یہاں آیت:


«وألزمهم كلمة التقوى»
کے بعد صرف یہ الفاظ ہیں:


«وهي لا إله إلا الله»
یہاں:


«محمد رسول الله»
موجود نہیں ہے۔


المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث 1272، 2/67


یہ معمولی فرق نہیں ہے۔


کیونکہ یہاں بھی بنیادی سلسلہ:


الزہری → سعید بن المسیب → ابو ہریرہؓ
موجود ہے، لیکن متن میں اختلاف پیدا ہوگیا:


ایک طرف:


«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله»
دوسری طرف:


«وهي لا إله إلا الله»
اب سوال پیدا ہوتا ہے:


اگر «محمد رسول الله» نبی ﷺ کے اصل الفاظ تھے تو اسی روایت کے دوسرے طریق میں وہ کہاں گئے؟


7۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ابن منده کا نقد سمجھ میں آتا ہے

اب ابن منده رحمہ اللہ کا کلام دوبارہ پڑھیں:


«وأرى هذه الزيادة من قول الزهري»
یعنی:


“میرے نزدیک یہ اضافی عبارت زہری کے قول میں سے ہے۔”


یہ بات محض قیاس سے نہیں کہی گئی۔


ان کے سامنے مختلف روایات اور طرق تھے۔


ایک طرف زہری کے طریق سے یہ تفصیلی تشریح آ رہی ہے، دوسری طرف اسی واقعے کی روایت میں عبارت صرف:


«وهي لا إله إلا الله»
تک ہے۔


چنانچہ ابن منده نے اس اختلاف کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالا کہ اضافی تشریح زہری کی طرف سے معلوم ہوتی ہے۔


8۔ امام ابن کثیر نے بھی یہی نکتہ واضح کیا

اب اس مسئلے پر سب سے واضح بعد کے محدثین میں سے ایک امام ابن کثیر رحمہ اللہ ہیں۔


انہوں نے ابن ابی حاتم کی یہی روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا:


«وكذا رواه بهذه الزيادات ابن جرير من حديث الزهري، والظاهر أنها مدرجة من كلام الزهري، والله أعلم.»
یعنی:


“ابن جریر نے بھی اسے زہری کے طریق سے ان اضافی عبارتوں کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ظاہر یہی ہے کہ یہ اضافی عبارتیں زہری کے کلام میں سے متن میں داخل ہوئی ہیں۔”


یہاں لفظ:


«مدرجة»
کا مطلب ہے کہ کسی راوی کی اپنی وضاحتی بات حدیث کے متن کے ساتھ اس طرح آ گئی کہ بعد میں وہ مرفوع روایت کا حصہ محسوس ہونے لگی۔


اور ابن کثیر نے اسے خاص طور پر زہری کے کلام سے متعلق قرار دیا ہے۔


تفسیر ابن کثیر، سورۃ الفتح 48:26


9۔ مزید اہم بات: خود «کلمة التقوى» کی تشریح ایک ہی نہیں

یہ بھی اس مسئلے کو سمجھنے میں بہت اہم ہے۔


ابن کثیر نے اسی مقام پر «كلمة التقوى» کی مختلف سلفی تفسیریں نقل کی ہیں:


  • مجاہد: الإخلاص
  • عطاء: لا إله إلا الله وحده لا شريك له...
  • زہری سے ایک دوسرے طریق میں: لا إله إلا الله وحده لا شريك له
  • علیؓ سے: لا إله إلا الله والله أكبر
  • ابن عباسؓ سے: شهادة أن لا إله إلا الله
  • قتادہ سے: لا إله إلا الله

اور ابن کثیر نے انہی مختلف اقوال کو نقل کرنے کے بعد زہری والی روایت کی اضافی عبارت کے بارے میں کہا کہ وہ ظاہرًا زہری کے کلام سے مدرج ہے۔


اس سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے:


سلف میں «كلمة التقوى» کی تشریح بطور تفسیر مختلف الفاظ سے منقول تھی؛ اس لیے ہر تفسیری جملے کو لازماً نبی ﷺ کا مرفوع فرمان قرار دینا درست نہیں۔


10۔ اب حافظ شعیب ارناؤوط کی عبارت توجہ سے دیکھیے

یہاں اس اعتراض کا سب سے مضبوط جواب ملتا ہے کہ:


“لیکن ابن حبان کی سند تو صحیح ہے!”


جی ہاں، سند صحیح ہونے کا حکم اپنی جگہ۔


لیکن حافظ شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ نے اسی روایت کے بارے میں نہایت اہم وضاحت کی:


«إسناده صحيح لكن زيادة التفسير فيه يظهر أنها مدرجة من كلام الزهري»
یعنی:


“اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں موجود تفسیری اضافی عبارت ظاہر ہوتا ہے کہ زہری کے کلام سے مدرج ہے۔”


یہی تو اصل بحث ہے!


لہٰذا:


سند صحیح ہونے کو ہم تسلیم کر سکتے ہیں، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سند کے ساتھ آنے والی ہر تشریحی عبارت بھی نبی ﷺ کا مرفوع فرمان ہو۔


یہ دونوں الگ الگ علمی مسائل ہیں۔


11۔ اس پورے مسئلے کا خلاصہ

اب تمام اہم طرق کو ایک جگہ دیکھیں:


کتاباہم سند کا مرکزی حصہ«محمد رسول الله»؟
صحیح ابن حبان 218شعیب → زہری → سعید → ابو ہریرہہاں
بیہقی، الأسماء والصفات 196سلیمان بن بلال → یحییٰ بن سعید → زہری → سعید → ابو ہریرہہاں
طبری، جامع البيانسلیمان/یحییٰ بن سعید → زہری → سعید → ابو ہریرہہاں
ابن ابی حاتم، جسے ابن کثیر نے نقل کیاعبدالرحمن بن خالد → زہری → سعید → ابو ہریرہہاں
طبرانی، الأوسط 1272زہری → سعید → ابو ہریرہنہیں؛ صرف «لا إله إلا الله»
ابن منده، الإيمان ص102زہری کے طرق کا تقابلصاف کہتے ہیں: اضافی عبارت زہری کی معلوم ہوتی ہے

12۔ لہٰذا اصل اختلاف کہاں ہے؟

یہ کہنا درست نہیں کہ:


“بیہقی کی حدیث ضعیف ہے۔”


یہ بات ہماری بحث کا اصل نقطہ نہیں۔


اور یہ کہنا بھی مکمل جواب نہیں کہ:


“اس کی سند صحیح ہے، لہٰذا پورا متن نبی ﷺ سے ثابت ہے۔”


اصل مسئلہ یہ ہے:


سند صحیح ہونے کے باوجود کیا اس سند میں موجود «وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله» کا پورا تشریحی حصہ بھی نبی ﷺ سے مرفوع اور محفوظ ہے؟
یہاں متعدد محدثین نے الگ بات کہی ہے۔


ابن منده:


«وأرى هذه الزيادة من قول الزهري»
ابن کثیر:


«والظاهر أنها مدرجة من كلام الزهري»
شعیب ارناؤوط:


«إسناده صحيح لكن زيادة التفسير فيه يظهر أنها مدرجة من كلام الزهري»
اور دوسری طرف طبرانی کے طریق میں اسی مقام پر عبارت:


«وهي لا إله إلا الله»
تک ہے۔


13۔ ایک بہت اہم انصاف کی بات

اس لیے میں نہ یہ کہہ رہا ہوں کہ:


“ابن حبان نے روایت نقل ہی نہیں کی”


اور نہ یہ کہہ رہا ہوں کہ:


“بیہقی کی سند لازماً ضعیف ہے۔”


بلکہ زیادہ محتاط اور حدیثی تحقیق کے مطابق بات یہ ہے:


اصل حدیث صحیح اور ثابت ہے، لیکن «محمد رسول الله» کو اسی روایت میں نبی ﷺ کے مرفوع الفاظ قرار دینے پر قوی علمی اشکال موجود ہے، کیونکہ متعدد طرق کے تقابل، ابن منده کی صریح تنقید، ابن کثیر کی تصریح، اور شعیب ارناؤوط کی وضاحت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حصہ زہری کی تشریح ہو سکتا ہے بلکہ ان ائمہ نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔


لہٰذا صرف یہ کہنا:


“بیہقی کی سند صحیح ہے، اس لیے «لا إله إلا الله محمد رسول الله» اسی حدیث میں نبی ﷺ سے قطعی طور پر ثابت ہوگیا”
ایک غیر مکمل استدلال ہے۔


کیونکہ حدیث کی تحقیق صرف سند کے راویوں کے ثقہ ہونے کا نام نہیں؛ محدثین متن کے مختلف طرق، الفاظ کے اختلاف، راوی کے ادراج اور مرفوع و موقوف کے فرق کو بھی دیکھتے ہیں۔


اور یہاں یہی کام ابن منده، ابن کثیر اور بعد میں شعیب ارناؤوط نے کیا ہے۔



14 شہادت کے صیغوں کا حدیثی تقابلی جائزہ

�
صیغہ / عبارتصحیح مرفوع حدیث سے ثبوتاہم حوالہنتیجہ
أشهد أن لا إله إلا الله واشہد ان محمد عبدہ ورسولہ✅ ہاںصحیح احادیث بخاری و مسلمسنت سے ثابت
اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ✅ ہاںصحیح مسلم؛ صحیح صحیح بخاریسنت سے ثابت
أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدًا رسول الله✅ ہاںصحیح مسلم، صحیح بخاری سنت سے ثابت
لا إله إلا الله ✅ ہاںبخاری و مسلمسنت سے ثابت
«وهي لا إله إلا الله» بطور «كلمة التقوى» کی تشریح✅ روایت میں موجودطبرانی، المعجم الأوسط؛ ابن منده کے نقل کردہ طرقثابت روایت کا حصہ
«وهي لا إله إلا الله محمد رسول الله» کو اسی حدیثِ «كلمة التقوى» میں نبی ﷺ کا مکمل مرفوع فرمان کہنا❌ ثابت نہیںابن منده، الإيمان ص102؛ طبرانی؛ ابن کثیراضافی «محمد رسول الله» کے مرفوع ہونے پر اعتراض
«لا إله إلا الله محمد رسول الله» — بطور ایک ہی مختصر، مسلسل شہادتی صیغہ❌ کسی صحیح مرفوع حدیث سے اس مکمل صیغے کا ثبوت نہیںاس کے حق میں پیش کی جانے والی اہم روایات یا تو اسی «كلمة التقوى» کے مدرج ہونے کے محل میں ہیں، یا ضعیف/مختلف فیہ ہیںیہ مخصوص مختصر صیغہ صحیح مرفوع حدیث سے ثابت شدہ نہیں


آخری بات


میرے نزدیک دستیاب طرق اور ائمہ کے صریح کلام کو سامنے رکھتے ہوئے کلمہ طیبہ" لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کہ ثابت نہ ہونے کے دلائل بہت قوی حدیثی دلائل موجود ہیں۔


لہٰذا اگر کوئی اس کے باوجود یہ کہتا ہے کہ پورا جملہ نبی ﷺ سے مرفوعاً ثابت ہے تو اسے صرف “سند صحیح ہے” کہنے کے بجائے پہلے ابن منده کے «من قول الزهري»، ابن کثیر کے «مدرجة من كلام الزهري»، طبرانی کے «وهي لا إله إلا الله»، اور شعیب ارناؤوط کے «إسناده صحيح لكن...» کا علمی جواب دینا ہوگا۔


اور یہی اصل محلِ بحث ہے۔
 
Last edited:
Top