• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا دورنبوی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں شیشہ(آئینہ ) موجود تھا ؟

ابن حلبی

مبتدی
شمولیت
نومبر 23، 2013
پیغامات
38
ری ایکشن اسکور
23
پوائنٹ
19
محترم شاید آپ میری بات سمجھے نہیں -جاندار چیزوں کی عام تصاویر یا کیمرے سے لی گئی تصاویر کی شرعی ممانعت اس بنا پر ہے کہ یہ فتنہ پیدا کرنے والی چیزیں ہیں -اور فتنہ اس وقت ہی پیدا ہو سکتا ہے جب یہ تصاویر کہیں محفوظ ہوں- جبکہ آئینہ یا پانی پر بننے والا عکس محفوظ نہیں ہوتا- یہ عام فہم بات ہے کہ جب آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو آپ کو اپنا عکس نظر آتا رہتا ہے اور جب آپ وہاں سے ہٹ جاتے ہیں تو عکس بھی غائب ہو جاتا ہے - آپ کا یہ کہنا کہ "آج کل کے دور میں عکس چیز کے ہٹ جانے کے بعد بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے"- اس کی کوئی سائنسی توجیح پیش کریں تا کہ اس کی شرعی حثیت کو جانچا جا سکے -[/QUOTE]

آپ کے اس فتنے کے اصول کی بنیاد پر گرلز کالج حرام ہو گئے
کیوں اس ے باہر لڑکے کھڑے ہو کر بد نظری کرتے ہیں اور لڑکیوں کو پھسلاتے ہیں
اور فتنہ پیدا ہوتا ہے
اور آج کل کے دور میں عورتوں کے رنگ برنگے لباس بنانا اور بیچنا حرام ہو گیا
کیونکہ عورتیں انہیں غیر محرم مردوں کے سامنے پہن کر نکلتی ہیں اور فتنہ پیدا ہوتا ہے

سد الذرائع یا مالآت الافعال کا قاعدہ بذاتِ خود قابلِ بحث ہے
کہ انہیں احکام کے لیے مصدر بنانے کے لیے ان کے دلائل کا قطعی ہونا ضروری ہے
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,440
پوائنٹ
463
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
@ابن حلبی بھائی ، اگر اس والے سے آپ کی کوئی تحقیق ہے تو ضرور شئیر کریں ، آپ کے بتائے گئے پوائنٹس بہت اہم اور قابل غور ہیں۔
اور محمد علی جواد بھائی کی دلیل میں تصحیح کروں گی کہ تصاویر کی حرمت کا سبب آپ کے بیان کردہ فتنہ ہو سکتا ہے ، مگر شریعت نے اس کی وجوہات اور بتائی ہیں۔
مثال کے طور پر بتوں کو پوجنے کا اہم سبب جاندار تصاویر اور مٹی سے بنایا گیا پتلا تھا۔اسی طرح روز قیامت اللہ تعالی کا انسان سے کلام کرنا کہ جو جاندار تصاویر انسان نے بنائی ، وہ ان میں روح بھی پھونکے۔
جو کہ بہرحال کسی مخلوق کے بس کی بات نہیں۔۔۔
ایک اہل علم خاتون نے بھی یہی بات بیان کی کہ آئینہ کے سامنے آنے سے عکس بنا اور ہٹا دینے سے عکس ختم ہوا۔اسے ایسے سمجھیں کہ تصویر بنی اور مٹا دی گئی۔دوسری جانب جس طرح محمد علی جواد بھائی نے بیان کیا کہ تصویر محفوظ ہونا بھی فتنہ ہے، اس طرح آئینہ تصویر محفوظ نہیں کرتا۔اس سے ہمیں آئینہ کا جواز مل سکتا ہے تصویر کا نہیں۔۔۔
اس حوالے سے کبار علماء اکرام یا شیخ بن باز رحمہ اللہ کا مکمل فتوی مل جائے تو سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔باذن اللہ!
 
شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47
بنیادی روبوٹک قاعدہ تحت الاصول :

“آخری حدیث” جس میں جاندار کی تصویر والا پردہ پھاڑ کر پھینک دیا گیا تھا اور “نانی” عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تکیے میں چھپا کر “ہر وقت کی آویزاں تصویر” کا حکم پورا کر دیا تھا : اس اصول کے تحت :-

جاندار کی ہاتھ سے بنی یا عکسی تصویر آویزاں نہیں کرنی۔

جاندار کے کھلونے بھی نہیں بنانے کیونکہ یہ مورتی والی ناسخ حدیث کے تناقض میں آتی ہے۔

نہ گھر میں اور نہ ملک میں۔

نہ بامیان کا بت اور نہ قذافی صدام کی مورتی !

نبی کا دین پوری دنیا کے لئے ہے اور قیامت تک کے لئے کبھی نہ بدلنے والا دین ہے۔

عکسی تصویر بطور پہچان کے لئے پرس میں چھپا کر رکھنا یا سکرین مجالس کے لئے میڈیا فلیگ کے طور پر استعمال کرنا آئینہ دیکھنے کے ہی مترادف ہے۔

اخوکم فی الدین ،
محمد اویس میر ابو انس اربع اخوان المقدسی،

استاذ فی الاصول فی الدین و الدنیا و القواعد الدنیا تحت الاصول فی الدین،

عالم ڈیولپر ۱،۵% مہندس المکینیکل تحذیری روبوٹکس،

تلامذ قرآن>حدیث>امام الحدیث احمد بن حنبل>امام المجاہدین ابن تیمیہ>امام الحدیث ابن الجوزی>امام المجاہدین صلاح الدین ایوبی>امام الاصول محمد بن عبدالوہاب>امام المجاہدین محمد بن قاسم>امام الاصول عبدالرحمن کیلانی>امام الاصول سید قطب>امام الاصول ابو محمد المقدسی>امام المجاہدین ابو مصعب الزرقاوی>امام الاصول حامد محمود>امام الاصول ابو عمر الکویتی>>>>رحمہ اللہ>حفظہ اللہ>اللهم اجعل الموت على الإيمان.
009232324117715
Whatsapp Business Catalog
 
Last edited:
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
ڈاکٹر مبارک علی اپنی ایک کتاب میں کہتے ہیں کہ انیسویں صدی میں یورپ کے دیہاتی علاقوں میں صرف نائی یا حجام کے پاس آئینہ ہوتا تھا۔ اس کا استعمال صرف مردوں کیلئے ہوتا تھا، شہروں اور گاؤں میں ہاکر چھوٹے آئینے فروخت کرتے تھے کہ جن میں لڑکیاں اور عورتیں اپنا چہرہ دیکھ سکتی تھیں۔ بڑے سائز کے آئینے بہت کم ہوا کرتے تھے، خاص طور سے دیہات میں بالکل نہیں تھے جسکی وجہ سے کسان اپنی جسمانی خصوصیات کے بارے میں دوسرے کی رائے پر بھروسہ کرتے تھے اور اپنے چہرے کے تاثرات کا اندازہ خود ہی لگایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں آئینے کے بارے میں بہت سے توہمات بھی پیدا ہو گئے تھے، مثلاً اگر بچہ اسے دیکھ لے تو اس کا قد چھوٹا رہ جائے گا۔ جس گھر میں فوتگی ہو جاتی وہاں اسے ڈھانپ کر رکھا جاتا تھا، رات کے وقت آئینہ دیکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا، شرافاء کے گھرانوں میں اسے بےحیائی سمجھا جاتا تھا کہ عورت اس میں اپنی برہنگی کو دیکھ لے گی، یہاں تک کہ ٹَب کے پانی میں بھی اسے اپنے برہنہ جسم کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، اس غرض سے پانی میں ایک خاص قسم کا پوڈر ملا دیا جاتا تھا ، تاکہ اس کا عکس پانی میں نظر نہ آئے لیکن ان ہی پابندیوں نے اس جستجو اور شوق کو پیدا کیا کہ اپنے جسم کے بارے میں معلومات ہوں اور اس کے خدوخال سے واقفیت حاصل ہوجائے۔ اس غرض سے بڑے آئینوں کا رواج ہوا اور انہوں نے فرد کو اس کے جسم کے بارے میں پوری پوری آگہی دی۔


آئینے کے استعمال سے ایک فرد کو اپنی جسمانی اہمیت کا احساس ہوا ۔ اس احساس نے اس کے لباس کے ذوق کو ابھارا تاکہ وہ اس کے سہارے دوسروں کو اچھا نظر آئے۔ اس انفرادیت کے جذبہ نے اس میں یہ شوق پیدا کیا کہ وہ اپنی تصاویر بنوائے تاکہ موت کے بعد بھی اس کی نشانی باقی رہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں آئینہ آدم کی آدمیت اور اسکے ظاہری شخصیت اس پر عیاں کی مگر انسانیت (اُنس) اور باطنی و روحانی پہلو سے انسان دھیرے دھیرے دور ہوتا گیا۔ اگرچہ اس سارے عمل میں صرف آئینے کو دوش نہیں دیا جاسکتا مگر روحانیت سے دوری میں اس کے کردار سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا۔


آئینے کے چمکیلے سطح میں انسانی صورت اپنی عکس سے اُکتا گیا تھا۔ آئینہ وقتی طور پر اس کے جسمانی خدوخال کے متعلق اطمینان مہیا کرتا تھا لیکن ہر گزرتے لمحے انسان کے جسمانی خدوخال میں تبدیلی لاتے ہیں۔ دلکش چہرے ہمیشہ دلکش نہیں رہتے ہیں ، زمانے کے دردو غم انسانی چہرے پر اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں اور یوں دلکشی صرف ’اے کاش‘ میں ضم ہو جاتی ہے۔ انسان کو یہ خواہش ہوئی کہ کسی طرح اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو قید کیا جا سکے تاکہ مستقبل کو ماضی کے یادوں سے محظوظ کیا جا سکے اور نرگیسیت کو انسانی نفسیات میں جگہ دی جا سکے۔ اور یوں آئینے کی آزاد عکس کیمرے کی آنکھ میں قید ہونے لگا۔


جب فوٹو گرافی شروع ہوئی تو اس نے تصاویر کو عام کردیا اور فوٹوگرافروں کی شہروں اور دیہاتوں میں دکانیں کھل گئیں اور جب عام آدمی کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی تصویر بنوا کر رکھ سکے تو اس سے خود اس کی اہمیت اپنی نظروں میں بڑھ گئی۔ جب فوٹوگرافروں نے اپنے اسٹوڈیو بنائے کہ جس میں پورے سائز کی تصاویر بن سکتی تھیں تو اس نے لوگوں کی عادات کو بدلا کہ کس طرح سے تصویر بنوائی جائے؟ کیسے پوز بنایا جائے؟ چہرے پر کیسے تاثرات ہوں؟ وغیرہ وغیرہ چنانچہ ان تصاویر سے بچوں، والدین، اساتذہ اور مفکرین کے مختلف پوز سامنے آتے ہیں۔


جب فوٹو گرافی میں ترقی ہوئی تو اس نے چہروں کی جھریاں اور داغ و دھبہ صاف کرکے انہیں خوبصورت اور اسمارٹ بنا دیا۔ جب لوگوں نے بار بار تصاویر بنوائیں تو انہیں خود اپنے میں تبدیلی کا احساس ہوا۔ اس نے عمر اور وقت کے بارے میں لوگوں کو حساس بنا دیا۔ ساتھ ہی عمر کے آخری حصہ میں موت کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو گئے۔ بوڑھاپے کی تصویریں دیکھ کر جوانوں کو یہ احساس ہوا کہ ایک دن ان پر بھی یہ وقت آئے گا، اس لئے بوڑھے لوگوں سے اچھے سلوک کرنا چاہیئے۔


الغرض انسان کو اس کی شخصیت سے واقفیت اور اس کی نکھار میں اضافہ آئینے کی بدولت میّسر آئی۔ آئینہ انسانی ترقی میں ارتقائی عمل کا اہم رکن شمار ہوتا ہے۔ کسی غریب کے کمرے میں پڑی شکستہ آئینہ ہو یا بادشاہوں کے زیرِ استعمال شیش محل، حجام کے دوکان میں اویزان شیشہ ہو یا گاڑیوں میں لگے سائڈ مِرر ، آئینہ ماضی و حال میں ترقی کے ہر عمل کا آئینہ دار ہے۔
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
آئینہ دیکھتے وقت یہ دعا نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے یہ نہیں؟

اللهم انت حسنت خلقي فحسن خلقي "

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ دیکھئے عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی ( 163) بتحقیق الشیخ سلیم الھلالی( عجالۃ الراغب الممتنی ج 1 ص 217)

اس کا راوی الحسین بن ابی السری متروک ، عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی ضعیف اور نعمان بن سعد مجہول ہے (الحدیث:20)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)
ج1ص478
محدث فتویٰ
 
شمولیت
نومبر 07، 2021
پیغامات
121
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
47
ڈاکٹر مبارک علی اپنی ایک کتاب میں کہتے ہیں کہ انیسویں صدی میں یورپ کے دیہاتی علاقوں میں صرف نائی یا حجام کے پاس آئینہ ہوتا تھا۔ اس کا استعمال صرف مردوں کیلئے ہوتا تھا، شہروں اور گاؤں میں ہاکر چھوٹے آئینے فروخت کرتے تھے کہ جن میں لڑکیاں اور عورتیں اپنا چہرہ دیکھ سکتی تھیں۔ بڑے سائز کے آئینے بہت کم ہوا کرتے تھے، خاص طور سے دیہات میں بالکل نہیں تھے جسکی وجہ سے کسان اپنی جسمانی خصوصیات کے بارے میں دوسرے کی رائے پر بھروسہ کرتے تھے اور اپنے چہرے کے تاثرات کا اندازہ خود ہی لگایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں آئینے کے بارے میں بہت سے توہمات بھی پیدا ہو گئے تھے، مثلاً اگر بچہ اسے دیکھ لے تو اس کا قد چھوٹا رہ جائے گا۔ جس گھر میں فوتگی ہو جاتی وہاں اسے ڈھانپ کر رکھا جاتا تھا، رات کے وقت آئینہ دیکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا، شرافاء کے گھرانوں میں اسے بےحیائی سمجھا جاتا تھا کہ عورت اس میں اپنی برہنگی کو دیکھ لے گی، یہاں تک کہ ٹَب کے پانی میں بھی اسے اپنے برہنہ جسم کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، اس غرض سے پانی میں ایک خاص قسم کا پوڈر ملا دیا جاتا تھا ، تاکہ اس کا عکس پانی میں نظر نہ آئے لیکن ان ہی پابندیوں نے اس جستجو اور شوق کو پیدا کیا کہ اپنے جسم کے بارے میں معلومات ہوں اور اس کے خدوخال سے واقفیت حاصل ہوجائے۔ اس غرض سے بڑے آئینوں کا رواج ہوا اور انہوں نے فرد کو اس کے جسم کے بارے میں پوری پوری آگہی دی۔


آئینے کے استعمال سے ایک فرد کو اپنی جسمانی اہمیت کا احساس ہوا ۔ اس احساس نے اس کے لباس کے ذوق کو ابھارا تاکہ وہ اس کے سہارے دوسروں کو اچھا نظر آئے۔ اس انفرادیت کے جذبہ نے اس میں یہ شوق پیدا کیا کہ وہ اپنی تصاویر بنوائے تاکہ موت کے بعد بھی اس کی نشانی باقی رہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں آئینہ آدم کی آدمیت اور اسکے ظاہری شخصیت اس پر عیاں کی مگر انسانیت (اُنس) اور باطنی و روحانی پہلو سے انسان دھیرے دھیرے دور ہوتا گیا۔ اگرچہ اس سارے عمل میں صرف آئینے کو دوش نہیں دیا جاسکتا مگر روحانیت سے دوری میں اس کے کردار سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا۔


آئینے کے چمکیلے سطح میں انسانی صورت اپنی عکس سے اُکتا گیا تھا۔ آئینہ وقتی طور پر اس کے جسمانی خدوخال کے متعلق اطمینان مہیا کرتا تھا لیکن ہر گزرتے لمحے انسان کے جسمانی خدوخال میں تبدیلی لاتے ہیں۔ دلکش چہرے ہمیشہ دلکش نہیں رہتے ہیں ، زمانے کے دردو غم انسانی چہرے پر اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں اور یوں دلکشی صرف ’اے کاش‘ میں ضم ہو جاتی ہے۔ انسان کو یہ خواہش ہوئی کہ کسی طرح اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو قید کیا جا سکے تاکہ مستقبل کو ماضی کے یادوں سے محظوظ کیا جا سکے اور نرگیسیت کو انسانی نفسیات میں جگہ دی جا سکے۔ اور یوں آئینے کی آزاد عکس کیمرے کی آنکھ میں قید ہونے لگا۔


جب فوٹو گرافی شروع ہوئی تو اس نے تصاویر کو عام کردیا اور فوٹوگرافروں کی شہروں اور دیہاتوں میں دکانیں کھل گئیں اور جب عام آدمی کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی تصویر بنوا کر رکھ سکے تو اس سے خود اس کی اہمیت اپنی نظروں میں بڑھ گئی۔ جب فوٹوگرافروں نے اپنے اسٹوڈیو بنائے کہ جس میں پورے سائز کی تصاویر بن سکتی تھیں تو اس نے لوگوں کی عادات کو بدلا کہ کس طرح سے تصویر بنوائی جائے؟ کیسے پوز بنایا جائے؟ چہرے پر کیسے تاثرات ہوں؟ وغیرہ وغیرہ چنانچہ ان تصاویر سے بچوں، والدین، اساتذہ اور مفکرین کے مختلف پوز سامنے آتے ہیں۔


جب فوٹو گرافی میں ترقی ہوئی تو اس نے چہروں کی جھریاں اور داغ و دھبہ صاف کرکے انہیں خوبصورت اور اسمارٹ بنا دیا۔ جب لوگوں نے بار بار تصاویر بنوائیں تو انہیں خود اپنے میں تبدیلی کا احساس ہوا۔ اس نے عمر اور وقت کے بارے میں لوگوں کو حساس بنا دیا۔ ساتھ ہی عمر کے آخری حصہ میں موت کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو گئے۔ بوڑھاپے کی تصویریں دیکھ کر جوانوں کو یہ احساس ہوا کہ ایک دن ان پر بھی یہ وقت آئے گا، اس لئے بوڑھے لوگوں سے اچھے سلوک کرنا چاہیئے۔


الغرض انسان کو اس کی شخصیت سے واقفیت اور اس کی نکھار میں اضافہ آئینے کی بدولت میّسر آئی۔ آئینہ انسانی ترقی میں ارتقائی عمل کا اہم رکن شمار ہوتا ہے۔ کسی غریب کے کمرے میں پڑی شکستہ آئینہ ہو یا بادشاہوں کے زیرِ استعمال شیش محل، حجام کے دوکان میں اویزان شیشہ ہو یا گاڑیوں میں لگے سائڈ مِرر ، آئینہ ماضی و حال میں ترقی کے ہر عمل کا آئینہ دار ہے۔
اور آجکل کے بے غیرت پاکستانی حکمران لائف کئیر نیوروکیم ہسپتال = Wife Share اور حدود بے قیود یہود NeuroCam Robotics Telephone SIM لگانے کے بعد انتہائ بے غیرتی سے “آفیشل SMS” بھیجتے ہیں کہ “عورتیں اپنی چھاتی کا روزانہ معائنہ کریں کہ کہیں بریسٹ کینسر کی گلٹی تو نہیں ابھر رہی (تاکہ میری ماں کا پستان سینما امریکہ میں مزید ترقی کر سکے !)” جبکہ یہ میڈیکل تحذیری SMS اسطرح ہونا چاہئیے تھا کہ “نیوروکیم خواتین اندھیرے میں اپنی چھاتی ٹٹول کر بریسٹ کینسر کی گلٹی کا ٹچ ٹریکر Touch Tracker اپنے میڈیکل کھاتے میں درج کریں”
 
Top