• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنا چاھیے؟

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
428
پوائنٹ
198
رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم۔عبداللہ ابن االزبیر رضی اللہ عنہ
إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا(الاحزاب۔33)
رَّ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا عَنْهُ ۚ(المائدہ۔5)
بھائی یہ کاپی پسٹ کیا وہ بھی کسی ملحد کی تحریر سے
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,783
پوائنٹ
1,069
11091292_1426553254323028_7150014543722928935_n.jpg

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔

جو حکمران کے خلاف کسی من گھڑت تاویل کی وجہ سے اسلحہ اور قوت و طاقت کے ساتھ خروج کریں جیسے خوارج وغیرہ ہیں اگرچہ ان کا کوئی امیر نہ ہو اور اگرچہ وہ کسی غیر عادل حکمران کے خلاف بغاوت کریں ۔۔۔۔۔۔

امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔۔

کہ باغی وہ ہے جو اللہ تعالی کے واجب کردہ حاکم وقت کی اطاعت سے نکل جائے ۔۔
( السیل الجرار ، 4/556)

قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد ہے ۔۔
..

وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ

اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو ۔

فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ۚ

پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔

یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے ۔

فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (۹)

اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو (۱) اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ( الحجرات)

''''''یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مطابق اپنا اختلاف دور کرنے پر آمادہ نہ ہو بلکہ بغاوت کی روش اختیار کرے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ سب مل کر بغاوت کرنے والے گروہ سے لڑائی کریں تاکہ وہ اللہ کے حکم کو ماننے کے لیے تیار ہو جائے ۔۔۱۔ اگر باغی گروہ بغاوت سے باز آ جائے تو پھر عدل کے ساتھ یعنی قرآن وحدیث کی روشنی میں دونوں گروہوں کے درمیان صلح کرا دی جائے۔

۲۔ اور ہر معاملے میں انصاف کرو‘ اس لیے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور اس کی یہ پسند اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ انصاف کرنے والوں کو بہترین جزا سے نوازے گا۔

( تفسیر احسن البیان ؛ سورۃ الحجرات آیت نمبر 8 ، 9 )

امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں لکھتے ہیں :

بعض یہ فرماتے ہیں کہ باغیوں سے جہاد کرنا کفار سے ان کے گھروں میں جا کر جہاد کرنے سے بھی افضل ہے ۔۔۔۔۔

اگر حکمرانی قبائلی عصبیت اور مسلکی عصبیت کی بنیاد پر حاصل کرنے کے لیے تاویلیں پیش کی جائیں تو یہ درست نہیں ۔۔ جس طرح اس وقت حوثی باغی تاویلات پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔

اب یہاں پر چند احادیث مبارکہ حکام کی اطاعت پر پیش کرتا ہوں :

(1) "علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین ۔۔"

تم پر میریسنت ، میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت لازمی ہے ۔۔

(ابودائود 3851)

(2) " الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ ثمہ تکون ملکا ""

میرے بعد خلافت تیس سال تک رہے گی پھر بادشاہت آ جائے گی ۔۔

(ابن حبان :1943)

(3) "ومن یطع الامیر فقد اطاعنی ومن یعص الامیر فقد عصانی ""

جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ، اور جس نے امیر کی نا فرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی ۔۔

( بخاری :2957)

(4) " اسمعوا و اطیعو ۔۔"

سنو اور اطاعت کرو ۔اگرچہ تم پر حبشی غلام ہی امیر کیوں نہ ہو ،

(بخاری: 7142)

(5) "" علی المرء المسلم السمع والطاعۃ فیما احب او کرہ الا ان یومر بمعصیۃ فان امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ ""

مسلمان آدمی پر سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے خواہ وہ اسے پسند کرتا ہو یا نا پسند کرتا ہو ، الا کہ اسے کسی نا فرمانی کا حکم دیا جائے ، تو کوئی سننا اور اطاعت نہیں ۔۔

(بخاری :7144)

(6) "' من رای من امیرہ شیاء یکرمہ فلیصبر ""

جو شخص اپنے امیر میں کوئی قابل کراہت چیز دیکھے تو صبر سے کام لے اس لیے کہ جو شخص بھی جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا اور پھر اسی حالت میں مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا ۔۔

( بخاری : 7053)

(7)'' وعلی ان لا تنازع الامر اھلہ الا ان تروا کفرا بواحا عندکم من اللہ فیہ برھان ""

ہم امارت پر قابضوں سے امارت نہیں چھیںیں گے ۔ البتہ جب ہم ان میں ظاہر کفر نہ دیکھ لیں اور ان پر اللہ کی طرف سے کوئی دلیل موجود ہو ۔

(صحیح بخاری: 7055 )

(8) '' انہ سیکون ھنات و ھنات فمن اراد ان یفرق امر ھذہ الامۃ وھی جمیع فاضربوہ بالسیف کائنا من کان "

مستقبل میں فتنے ہوں گے اور فسادات ہوں گے ، پس جو شخص امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہے تو اسے تلوار سے قتل کر دو چاہے جو بھی ہو ۔۔
(صحیح مسلم : 1852)

(9) "" ( سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس شخص نے اپنا ہاتھ امیر کی اطاعت سے کھینچ لیا ، وہ قیامت کے دن اللہ کے ساتھ ملاقات کرے گا ، تو اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو گی )

ومن مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاھلیۃ ""

اور جو شخص فوت ہوا اور اس کی گردن میں امیر کی اطاعت کی بیعت نہیں تو وہ جاھلیت کی موت مرا "

( صحیح مسلم : 1851)

موجودہ حالات کے پیش نظر اگر ہم ان حالات کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ھادی الصالح جو سابق حکمران تھا اس نے " الحوثیون " کے ساتھ مکمل اتحاد کیا ہوا ہے ۔ اور ہمن کی موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت پر اتر آیا ہے ۔ اس لحاذ سے اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں دلیل دیکھی جائے تو " الحوثیون " کو یہ دلیل دینا لازم پو گی کہ موجودہ حکمران نے " نماز و صیام " کی پابندی کا نظام یمن سے ختم کر دیا ہے ، اس کے علاوہ اس نے صریحا کفر کا ارتقاب کر دیا ہے اور وہ مرتد ہو چکا ہے ۔ جبکہ الحوثیون کے پاس موجودہ حاکم اور امیر وقت کے خلاف کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اس لیے سعودی حکومت یا دوسری متحد قوتیں اس آیت

فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ۚ

پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔(الحجرات ) کے مصداق پر الحوثیون سے لڑ رہی ہیں ۔۔

شیعہ حضرات کے پاس اس چیز کی کوئی دلیل نہیں ہو گی چاہے وہ " زیدیہ " یوں یا وہ
امامیہ " اثنا عشرہ " ہوں ۔۔۔ اس لیے اگر حوثی باغی صلح پر آمادہ نہیں ہوتے ۔۔ تو سعودیہ اور متحد عرب امارات یا پاکستان کوئی بھی اسلامی ملک اتحاد کے تحت ان پر حملہ کرنے میں حق بجانب ہیں اور ان حکماء پر کسی قسم کی کوئی شرعی حد نافذ نہیں ہو گی ۔۔

شیعہ قبائل تعصب کی بنیاد پر کسی مسلم حکمران پر کفر و ارتداد کا فتوی نہیں لگا سکتے جبکہ انکی اپنی حیثیت ، باغی ، خارجی اور تکفیری کی ہو جاتی ہے ۔۔۔

امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

باغیوں سے قتال بالاجماع جائز ہے ، اور یہ بعید نہیں کہ واجب ہو ، کیونکہ اللہ نے فرمایا
( فقاتلو التی تبغی ) ۔۔
( نیل الاوطار : 5/631)

کوئی بھی گروح ہو ، چاہے وہ طالبان کا کوئی بھی گروہ ہو ، چاہے وہ داعش کا کوئی بھی گروہ ہو ، اور چاہے وہ الحوثیون میں سے ہو ۔ اسلام میں بغاوت کا سد باب جائز ہے ۔۔۔

شیعہ حضرات کے لیے ایک تحفہ ۔۔۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اخیر زمانہ قریب ہے جب ایسے لوگ مسلمانوں میں نکلیں گے جو نو عمر بیوقوف ہوں گے ، ظاہری طور پر ساری مخلوق کے کلاموں سے جو بہتر ہو گا اسے پڑھیں گے ، لیکن درحقیقت ایمان کا نور ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے ، تم ان کو جہاں پوئو بلا تامل قتل کر دو ، کیونکہ ان کے قتل میں روز قیامت اجر ملے گا ۔۔
( بخاری :3611، مسلم : 1066 ، ابو دائود : 4767)

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے تحت ان تمام تر لشکروں میں چاہے وہ داعش ہو ، طالبان ہو ، یا پھر الحوثیون ان سب میں نو عمر نوجوان ہیں جن کی عمر 18 سے 24 سال تک ہے ۔ ان کو دوسرے ممالک کی سپورٹ حاصل ہے ،

حرمین شریفین کا تحفظ اور سعودی مملکت کی سالمیت اسی میں ہے کہ یمن میں قانون کی پاسداری کے لیے جنگ جاری رکھی جائے اور جب تک یمنی عوام کی امنگوں کے مطابق کوئی حاکم مقرر نہیں ہوتا ۔۔ تو کاروائی کرتے رہیں ۔۔۔ پاکستان کو کسی بھی امداد ، قربانی یا متحدہ کاروائی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرنا چاہیئے ۔۔ اھلحدیث کا بچہ بچہ اس حکومت اور فوج کے شانہ بشانہ ہو گا ۔۔۔ ان شاء اللہ ۔۔۔۔

عبدالسلام فیصل ۔۔۔۔

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=1426553254323028&set=a.1384982518480102.1073741828.100009051014471&type=1&theater
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,783
پوائنٹ
1,069
حوثی باغیوں کے دھماکے ، سعودی عرب کو بدنام کرنے کیلئے قتل وغارت گری شروع کردی


02 اپریل 2015


صنعاء(قدرت نیوز )یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے سعودی عر ب اور اتحادیوں کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے مغربی شہرالحدیدہ میں ایک ڈیری فیکٹری میں گھس کر دسیوں افراد کو قتل کردیاجبکہ کم ازکم 25افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوگئی ۔ عرب میڈیا کے مطابق الحدیدہ شہر کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں واقع دودھ کی ایک فیکٹری پرحملے کے نتیجے میں دو درجن سے زائد افراد مارے گئے ہیں، فیکٹری میں داخل ہونے سے قبل حوثیوں کی جانب سے متعدد راکٹ حملے بھی کیے گئے تاکہ ہلاکتوں کا الزام اتحادی فوج پرعائد کیا جاسکے اور یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ یہ حملہ حوثی شدت پسندوں نے کیا۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب الحدیدہ شہر میں فوج کے بریگیڈ 65 کے فوجی اڈے پراتحادی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کی تھی، حوثیوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ فیکٹری پر بمباری بھی سعودی عرب کی قیادت میں ہونے والے فضائی حملوں کے دوران کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی حکام کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے فیکٹری کو زمین میں نصب بم سے اڑایا ہے تاہم اس انکشاف کے بعد حوثیوں نے دھمکی دی کہ رپورٹ کے نتائج کو افشاءکرنے والوں کو قتل کردیا جائے گا۔

http://qudrat.com.pk/world/02-Apr-2015/55678
 

محمدجان

مبتدی
شمولیت
مارچ 11، 2015
پیغامات
26
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
11
صفدر ھمدانی لندن


پاکستان کی موجودہ حکومت نے طے کر رکھا ہے کہ وہ ہر شعبے اور ہر قدم پر عوام کو بے وقوف بنائیں گے۔ عالمی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم سعودی عرب کے حالیہ دورے میں جہاں انہیں انکی اوقات سے زیادہ عزت دی گئی اور آؤبھگت کی گئی سعودی حاکموں سے یہ وعدہ کر کے ائے ہیں کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف وہ پاکستانی فوج فراہم کریں گے اور ملک میں ذرائع کہتے ہیں کہ فوجیوں کو جانے کی تیاری کا حکم بھی دے دیا گیا ہے لیکن حکومت دفتر خارجہ کی ترجمان کے بیان کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔


پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پڑوسی ملک یمن میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے رابطہ کیا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے جمعرات سعودی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ پاکستان اور مصر سمیت 5 مسلمان ملک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائی میں حصہ بننا چاہتے ہیں۔یمن میں جاری خانہ جنگی کے بعد سعودی عرب نے یمنی حکومت کو حوثی باغیوں کے خلاف مدد فراہم کرتے ہوئے فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔العربیہ کے مطابق، اس آپریشن میں متحدہ عرب امارات کے 30، بحرین 15، کویت15، قطر 10 اور اردن کے 6جنگی جہاز حصہ لے رہے ہیں۔


دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا کہ یمن میں بحران کے حوالے سے سعودی عرب نے پاکستان سے ہنگامی رابطہ کیا ہے اور'ہم اس معاملے پر ابھی غور کر رہے ہیں'۔ترجمان کے مطابق، یمن میں پاکستان مشن کو الرٹ کر دیا گیا۔


سعودی عرب نے براہ راست اس تنازعے میں شرکت کی ہوئی ہے اور اب تو اسکی فضائیہ نے خود بمباری کی ہے


بتایہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے لڑاکا طیاروں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم کے بعد یمن میں حوثی شیعوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کردی ہے۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی طیاروں کی بمباری سے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ ایک ائیربیس تباہ ہوگیا ہے اوراس کی فضائی دفاعی صلاحیت پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے الریاض کے معیاری وقت کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات بارہ بجے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا پر فضائی حملوں کا حکم دیا تھا۔العربیہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی عرب کی شاہی فضائیہ کا یمن کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول ہے۔


یہ ساری اطلاعات ہماری نہیں ہیں خود سعودی اور اسکے زیر اثر میڈیا کی ہیں۔


اس حکم کے بعد واشنگٹن میں متعیّن سعودی سفیر عادل الجبیر نے یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کہ اس کارروائی کے تحت حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کردی گئی ہے اور اس فوجی مہم کے لیے تشکیل پانے والے اتحاد میں دس ممالک شامل ہوگئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ''اس کارروائی کا مقصد یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی جائز اور قانونی حکومت کا تحفظ اور دفاع ہے۔ہم یمن میں اس جائز حکومت کو بچانے کے لیے جو بھی بن پڑا،کریں گے''۔انھوں نے کہا کہ امریکا اس مہم میں شریک نہیں ہے لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا یمن میں فوجی کارروائیوں کے لیے سعودی عرب کی معاونت کررہا ہے


سعودی عرب کی پراکسی وار کی تاریخ کوئی نئی بات نہیں وہ پاکستان میں بھی شیعہ کشی میں کئی سال سے شامل ہے اور اب یمن میں پاکستان کو بھی اسی کام کے لیئے استعمال کرنا چاہتا ہے


نواز شریف جلا وطنی کے زمانے کے احسان کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں اور پھر انکی سیاسی تربیت آمر مطلق ضیا الحق کی گود میں ہوئی ہے جس نے اردن میں فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی تھی۔


ایران اس صورت حال میں اگر حوثیوں کی مدد کر رہا ہے تو اصولی طور پر کیا غلط کر رہا ہے جب سعودی عرب خود اور اسکے حواری حوثیوں کے قتل عام میں شامل ہیں۔ میں نہ ایران کی مداخلت کے حق میں ہوں اور نہ ہی سعودیہ کی مداخلت کے حق میں۔ یہ یمن کا مسلہ ہے اور انکو خود حل کرنا چاہیئے۔ یمن ایک آزاد ملک ہے اور اسکی اپنی فوج ہے اور پھر کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کے معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔


مغربی ، پاکستانی اور سعودی نواز میڈیا حوثیوں کو برابر باغی لکھ رہا اور کہہ رہا ہے۔ اسی کو دوہرا معیار کہتے ہیں، یمن میں اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والے حوثی اگر باغی ہیں تو معاف کیجئے پھر امن کے اور انسانی حقوق کے عالمی ٹھیکیداروں کو حق کی تشریح اور تعریف بدلنی ہو گی


یاد رکھیں اکثریت کو کچھ عرصہ تو محکوم رکھا جا سکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیئے اقلیت اکثریت پر حکمرانی نہیں کر سکتی اور یہ ہم عراق کے معاملے میں دیکھ چکے ہیں۔ جمہوریت جمہوریت کا شور مچانے والے اکثریت کے اس حق کو یمن میں کیوں نہین تسلیم کرتے


جب سعودی فرمانروا نواز شریف کے استقبال کو خود ہوائی اڈے پر ائے تھے تو سیاسیات اور صحافت کے مجھ جیسے طالب علم نے بھی اسوقت یہ لکھا تھا کہ سعودی عرب کو پاکستان سے کوئی بہت بڑا غیر قانونی کام لینا ہے اور اب یہ عقدہ کھل گیا ہے


تھوڑے سے پٹرول اور خیرات کے ریالوں کے عوض ملکی غیرت اور حمیت کو سعودیہ کے ہاتھ رہن رکھنے والے ظالم حکمران تاریخ میں کس نام سے یاد رکھے جائیں گے۔ یہ فیصلہ آپ کیجئے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,783
پوائنٹ
1,069
سعودی اور اتحادی فوجیں یمن میں داخل، باغیوں سمیت 44 افراد ہلاک

03 اپریل 2015

ریاض / عدن(قدرت نیوز) یمن میں باغیوں اور اتحادی فوجوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور سعودی واتحادی ممالک کی بری فوجیں عدن میں داخل ہوگئی ہیں جب کہ حوثی باغیوں اور صدر منصور ہادی کی حامی فوج کے درمیان لڑائی میں 44 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور اتحادی ممالک کی فوجیں عدن کے پورٹ سے شہر میں داخل ہوگئی ہیں جس کی یمنی حکام کی جانب سے تردید کی گئی ہے جب کہ عدن کے شہریوں کے مطابق غیر ملکی فوجیوں کو سمندر کے راستے شہر میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب عرب ٹی وی نے دعوی کیا ہے کہ اتحادی فوجوں کا یمن کی سرحد کے اندر پیش قدمی کا امکان ہے۔ عدن کے جنوبی علاقوں میں حوثی باغیوں اور منصور ہادی کی حامی فوجوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے جس میں باغیوں سمیت 44 افراد ہلاک ہوگئے۔ ادھر حوثی باغیوں کی سعودی عرب کے سرحدی گارڈز پر فائرنگ سے ایک فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے جس کے بعد اس لڑائی میں باغیوں کے ہاتھوں یہ سعودی عرب پہلی فوجی ہلاکت ہے جس کی سعودی وزارت خارجہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ جنوب مغربی بارڈر آسیر کے قریب کی گئی۔

http://qudrat.com.pk/world/03-Apr-2015/55797
 
Top