• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گائے کا پیشاب پینے کا حکم

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
294
پوائنٹ
165
میرے پاس یہ لنک اوپن نہیں ہو رہے۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ جو آپ نے فرمایا؛
اس حدیث کی وجہ سے بعض اہل علم نے ماکول اللحم جانور کا پیشاب پینا جائز قرار دیا ہے ۔
ان بعض اہلِ علم کے بارے استفسار کیا تھا کہ وہ کون اصحاب ہیں؟
ان کے اسمائے گرامی بتا کر شکریہ کا موقعہ دیں۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
’’(یہ بے دین لوگ اور کفار ) سانپ ، خنزیر اور کیڑے مکوڑوں سے تیار کی گئی ادویہ سے علاج کر لیتے ہیں ، اور اونٹ کے پیشاب سے علاج کی سنت کو رد کر دیتے ہیں ! خواہشِ نفس نے قریش کو بھی اندھا کر دیا تھا ، انھوں نے پتھر سے تراشے گئے بت کو رب بنا لیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو اس لیے ٹھکرا دیا کہ آپ بشر ہیں “
(شیخ عبد العزیز الطریفی کی ایک ٹویٹ کا اردو ترجمہ)
موھب الرحیم​
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,425
پوائنٹ
521
السلام علیکم

گائے کا پیشاب پینے کا حکم

صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ عرینہ اور عکل کے کچھ لوگوں کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا تھا۔

عن أنس أن ناسًا اجتَوَوا في المدينةِ، فأمَرهمُ النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أن يَلحَقوا براعِيْه، يعني الإبلَ، فيَشرَبوا من ألبانِها وأبوالِها، فلَحِقوا براعِيْه، فشَرِبوا من ألبانِها وأبوالِها، حتى صلَحَتْ أبدانُهم.
(صحیح بخاری: 5686 )
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مدینے کی آب وہوا موافق نہ آنے پر وہ لوگ بیمار ہو گئے۔ (ان کو استسقاء یعنی پیٹ میں یا پھیپھڑوں میں پانی بھرنے والی بیماری ہوگئی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو ملا کر پینے کی دوا تجویز فرمائی۔ یہاں تک کہ اسے پی کروہ لوگ تندرست ہو گئے۔


اس حدیث کی وجہ سے بعض اہل علم نے ماکول اللحم جانور کا پیشاب پینا جائز قرار دیا ہے۔ تائید کے لئے کچھ نصوص اور بھی پیش کئے جاتے ہیں۔


واللہ اعلم بالصواب


معذرت کے ساتھ میری رائے کے مطابق عنوان اور بعض اہل علم کی رائے ایسی ورڈنگ درست نہیں کیونکہ حدیث مبارکہ میں اونٹی کا دودھ اور پیشاب اکٹھا لکھا ہوا ہے اس لئے عنوان اگر یہ ہوتا تو بہتر تھا "اونٹنی کے دودھ اور پیشاب سے بیماری کا علاج" یا ایسا عنوان جس میں دودھ اور پیشاب دونوں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔


والسلام
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
۔

کیا حلال جانوروں کے پیشاب کو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟


ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری
سوال:

کیا حلال جانوروں کے پیشاب کو علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

جواب:

حلال جانوروں کا پیشاب نجس نہیں، لہذا اگر کوئی ماہر طبیب کسی حلال جانور کا پیشاب بطور علاج استعمال کرے، تو کوئی حرج نہیں۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قبیلہ عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ آئے، ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیت المال کی اونٹنیوں کے پاس جانے اور ان کا پیشاب اور دودھ پینے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ چلے گئے، جب وہ تندرست ہو گئے۔
(صحيح البخاري: 233، صحیح مسلم: 1671)
❀ حسن بن عبید اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سأل الحكم بن صفوان إبراهيم عن بول البعير يصيب ثوب الرجل، قال: لا بأس به، أليس يشرب ويتداوى به
حکم بن صفوان رحمہ اللہ نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اونٹ کا پیشاب کپڑوں کو لگ جائے، تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، بھلا اونٹ کا پیشاب بطور علاج پیا نہیں جاتا؟
(مصنف ابن أبي شيبة: 1/109، وسنده صحيح)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
لست أعلم مخالفا فى جواز التداوي بأبوال الإبل، كما جاءت السنة
اونٹوں کے پیشاب سے علاج کرنا جائز ہے، جیسا کہ حدیث میں ثابت ہے۔ اس بارے میں مجھے کسی مخالفت کرنے والے کا علم نہیں۔
(مجموع الفتاوى: 21/562)
❀ علامہ حطاب رعینی مالکی رحمہ اللہ (954ھ) فرماتے ہیں:
يجوز التداوي بشرب بول الأنعام بلا خلاف، وكذا بول كل ما يباح لحمه
چوپایوں کے پیشاب سے علاج بلا اختلاف جائز ہے، اسی طرح ہر حلال جانور کے پیشاب سے بھی علاج جائز ہے۔
(مواهب الجليل: 1/120)

بشکریہ: tohed .com
https://tohed.com/405687

۔
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
431
ری ایکشن اسکور
16
پوائنٹ
79
۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ".


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجس یا حرام دوا سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
[سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3870]

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطب 7 (2045)، سنن ابن ماجہ/الطب 11 (3459)، (تحفة الأشراف: 14346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/305، 446، 478) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎ : جیسے پیشاب یا شراب وغیرہ، یعنی دوا کے طور پر بھی ان کا استعمال حرام ہے، سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں صراحت ہے کہ دوائے خبیث سے مراد «سم» یعنی زہرہے، لیکن لفظ عام ہے، عام معنی مراد لینے میں کوئی مانع نہیں ہے، «سم» (زہر) کا لفظ راوی کی طرف سے ادراج (تفسیر و اضافہ) بھی ہو سکتا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مشكوة المصابيح (4539)
أخرجه ابن ماجه (3459 وسنده حسن)



حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديثسنن ابي داود 3870


ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب پاک ہے۔

اگرچہ راجح بات یہی ہے لیکن اس مسئلہ میں علما کا اختلاف بہرحال موجود ہے۔
(مالکیہ، حنابلہ) ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب پاک ہے۔ امام نخعی، امام اوزاعی، امام زہری، امام محمد، امام زفر، امام ابن خزیمہ، امام ابن منذر اور امام ابن حبان رحمہ اللہ اجمعین کا بھی یہی موقف ہے۔ [المغني 490/12] ۱؎

ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:

➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیین کو اونٹوں کا دودھ اور پیشاب (بطور دواء) پینے کا حکم دیا۔ [بخاري 233] ۲؎

➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے (درآں حالیکہ وہاں کی اکثر جگہ کا ان کے پیشاب و پاخانہ سے آلودہ ہونا لازمی امر ہے)۔ [ترمذي 348] ۳؎

➌ حرام اشیاء میں شفا نہیں ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ «إن الله لم يجعل شفائكم فيما حرم عليكم» ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان اشیاء میں نہیں رکھی جنہیں تم پر حرام کیا ہے۔ [بخاري قبل الحديث 5614] ۴؎

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل دواء خبيث» ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر خبیث دوا (کے استعمال) سے منع فرمایا: ہے۔“ [أبوداود 3870] ۵؎

عرنیین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اونٹوں کا پیشاب بطور دوا استعمال کیا اور انہیں شفا ہوئی جو کہ اس کی حلت و طہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ حرام میں شفا نہیں ہے۔

(شافعیہ، حنفیہ) پیشاب حیوان کا ہو یا انسان کا مطلق طور پر نجس و پلید ہے۔ [الدر المختار 295/1] ۶؎

(ابن حجر رحمہ اللہ) انہوں نے جمہور سے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ [فتح الباري 291/1]

ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:

➊ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔۔۔ ان میں سے ایک شخص کو اس لیے عذاب ہو رہا ہے کہ «فكان لا يستتر من البول» وہ پیشاب (کے چھینٹوں) سے اجتناب نہیں کرتا تھا۔“ [بخاري 216] ۷؎

اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ اس حدیث میں مذکور پیشاب سے مراد صرف انسان کا پیشاب ہے نہ کہ تمام حیوانات کا بھی جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب قبر کے متعلق کہا: تھا کہ ”وہ اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کے پیشاب کے علاوہ کسی چیز کا ذکر نہیں کیا۔ [بخاري قبل الحديث 217] ۸؎


(راجح) حنابلہ و مالکیہ کا موقف راجح ہے کیونکہ ہر چیز میں اصل طہارت ہے جب تک کہ شرعی دلیل کے ذریعے کسی چیز کا نجس ہونا ثابت نہ ہو جائے۔ [نيل الأوطار 100/1] ۹؎

------------------

۱؎ [المغني 490/12، القوانين الفقهية ص/33، كشاف القناع 220/1، الشرح الصغير 1 /47]

۲؎ [بخاري 233، كتاب الوضوء: باب أبوال الإبل والدواب والغنم، مسلم 1671، أبو داود 4364، نسائي 160/1، ترمذي 72، ابن ماجة 2578، ابن ابي شيبة 75/7، أحمد 107/3، ابن حبان 1386، دارقطني 131/1، بيهقي 4/10]

۳؎ [صحيح: ترمذي 348، كتاب الصلاة: باب ما جاء فى الصلاة فى مرابض الغم . . .، مسلم 817]

۴؎ [بخاري قبل الحديث 5614، كتاب الأشربة: باب شراب الحلواء والغسل]

۵؎ [صحيح: صحيح أبو داود 3278، كتاب الطب: باب الأدوية المكر وهة، أبوداود 3870، ترمذي 2045، ابن ماجة 3459، أحمد 305/2]

۶؎ [فتح القدير 146/1، الدر المختار 295/1، مراقي الفلاح ص/25، مغني المحتاج 79/1، المبسوط۔ 54/1، الهداية 36/1]

۷؎ [بخاري 216، 218 كتاب الوضوء: باب من الكبائر أن لا يستر من بوله، مسلم 292، أبو داود 20، ترمذي 70، نسائي 28/1، ابن ماجة 347، بيهقي 104/1، ابن خزيمة 56، ابن حبان 3118، ابن الجارود 130]

۸؎ [بخاري قبل الحديث 217 كتاب الوضوء: باب ما جاء فى غسل البول]

۹؎ [نيل الأوطار 100/1، الروضة الندية 73/1، فتح الباري 384/1]

* * * * * * * * * * * * * *


10۔ تمام غیر ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کو نجس قرار دینا درست نہیں

➊ کیونکہ اس کی کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔

➋ اور جو روایت اس ضمن میں پیش کی جاتی ہے: «لا بأس ببول ما أكل لحمه» ”ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ وہ ضعیف و ناقابل حجت ہے کیونکہ اس کی سند میں سوار بن مصعب راوی ضعیف ہے جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے منکر الحدیث اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ [ضعيف: دارقطني 128/1] ۱؎

امام ابن حزم رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ یہ خبر باطل موضوع ہے۔ [المحلي بالآثار 180/1]

لہٰذا راجح بات یہی ہے یقینی طور پر صرف انسان کے بول و براز کی نجاست پر ہی اکتفاکیا جائے علاوہ ازیں بقیہ حیوانات میں سے جس کے بول و براز کے متعلق طہارت یا نجاست کا حکم صریح نص سے ثابت ہو جائے اسے اسی حکم کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اور اگر ایسی کوئی دلیل نہ ملے تو اصل (طہارت) کی طرف رجوع کرنا ہی زیادہ درست اور قرین قیاس ہے۔ [نيل الأوطار 101/1] ۲؎

------------------


۱؎ [ضعيف: دارقطني 128/1، ميزان الاعتدال 246/2]

۲؎ [نيل الأوطار 101/1، السيل الجرار 311/1، الروضة الندية 74/1]


* * * * * * * * * * * * * *

[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 144]



۔
 
Top