• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گستاخ رسول ٖﷺ کی کوئی سزا نہیں !! ایک دعوی !

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,440
پوائنٹ
463
کیا آپ جانتے ہیں کہ دین (القرآن) میں گستاخ کی کوئی سزا نہیں ....پھر یہ سزا کہاں سے آ ئی ....؟
الله کے دین (القرآن) میں... گستاخ رسول، گستاخ قرآن، گستاخ امہات المومنین یا گستاخ صحابہ کے مرتکب شخص کے لئے (اس دنیا کی زندگی میں) کسی بھی قسم کی سزا کا اعلان نہیں کی گیا...اس بات کی کیا حکمت ہے...؟
کیا اس امّت کو اس حقیقت کا پتہ ہے....
کیسے پتہ ہو........اپنے خالق مالک رب کے قرآن کا علم جو نہیں...اور نہ قرآن کا علم حاصل ہی کرنا چاہتے ہیں-
کیا یہ جاہل اور مشرک امّت ....الله ہی کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوئی ہے....؟؟؟

کیا یہ اپنے خالق و مالک کا نازل کردہ ہدایت کی کتاب القرآن نہیں پڑھتی.....؟؟؟
یقیناً نہیں پڑھتی....اسی لئے تو مشرکانہ باتوں کو عقیدہ بناۓ بیٹھی ہے.
بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ........یہ جھوٹی اور شرک میں مبتلا امّت اپنے الله کے قرآن سے سخت نفرت کرتی ہے....
بس اب تو زوال ہی زوال ہے..........امت اب کچرا بن چکی ہے....دنیا میں بدنام ہو چکی ہے . مشرک اور کافر ہو چکی ہے.
اس کا عقیدہ قرآن کے اس قدر خلاف ہے ..سوچا بھی نہ تھا.
آپ ذرا قرآن تو پڑھئے ...تو آپ کے پیروں کے نیچے سے زمیں نکل جاۓ ...اور پتا چل جاۓ کہ آپ کس بات کو دین بناتے بیٹھے ہیں.. آپ کا عقیدہ قرآن کے کس قدر خلاف ہے، اس بات کا آپ کو اندازہ ہو جاۓ....
رسول، قرآن، صحابہ، امہات المومنین کی شان میں گستاخی پر ....قرآن میں الله نے کسی بھی سزا اعلان نہیں کیا ....
کیا آپ کو معلوم تھا اس بات کا اس سے پہلے....؟؟؟...نہیں تھا نا ............کیوں نہیں تھا.....اس لئے کہ آپ قرآن پڑھتے ہی نہیں ...بس مشرک علما کرام کو سنتے ہیں اور اسی کو دین مانتے ہیں...
ایسے لوگوں کے لئے الله نے قرآن میں سوره توبہ کی اکتیس نمبر آیت میں فرمایا کہ "ان لوگوں نے اپنے علما اور احبار کو اپنا رب بنایا ہوا ہے"....
یہ لوگ اپنے پسندیدہ عالم کو سنتے ہیں اور اس کی باتوں کو الله کے قرآن پر نہیں پرکھتے ..........اور دین بنا لیتے ہیں....یہ اپنے عالم کی عبادت کرنے والے مشرک ہیں....جو الله کے قرآن سے سخت نفرت کرتے ہیں.
ایسے لوگ اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھیں.......تو انکو قرآن کے خلاف نفرت ہی نفرت نظر آئے گی....اور وہ اپنے دل کا حال خوب جانتے ہے.......
آپ کو معلوم ہی نہیں کہ اس مشرک امّہ کا کیا حال ہو چکا ہے....
اب گستاخی کے معاملہ پر قرآن کی یہ آیات پڑھیے.
"پس اے نبی، جس چیز کا تمھیں حکم کیا جا رہا ہے، اسے ہانکے پکارے کہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو-
تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے (اسلام، قرآن، رسول کی شان میں گستاخی کرنے ) والوں کی خبر لینے کے لئے کافی ہیں جو الله کے ساتھ آوروں کو بھی الہ قرار دیتے ہیں- عنقریب انہیں معلوم ہو جاۓ گا.
ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے- اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اسکی تسبیح کرو، اسکی جناب میں سجدہ بجا لاؤ، اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہو (یعنی اپنے رب کی بات مانتے رہو) جس کا آنا یقینی ہے-"
(15: 94-99)
اب آپ ذرا غور کیجئے کہ......رسول کے ساتھ استہزا، مذاق، گستاخی کرنے والوں کے لئے اس دنیا کی زندگی میں الله نے کسی سزا کا اعلان نہیں کیا-
بلکہ اپنے رسول سے فرما رہے ہیں کہ... (تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے (اسلام، قرآن، رسول کی شان میں گستاخی کرنے ) والوں کی خبر لینے کے لئے کافی ہیں جو الله کے ساتھ آوروں کو بھی الہ قرار دیتے ہیں- عنقریب انہیں معلوم ہو جاۓ گا.
آیت پر غورر کیجئے تو اندازا ہو جاۓ گا کہ......الله نے رسول کو گستاخی کی سزا دینے کا اختیار نہیں دیا.....بلکہ یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھا اور کہا کہ تمہاری طرف سے ہم ان کی خبر لیں گے.....یعنی الله نے رسول کی اہانت کرنے والوں کو چھوڑا نہیں....لیکن انکو سزا قیامت کے دن ملے گی.....دنیا کی زندگی میں نہیں.
اور دیکھئے کہ آگے الله اپنے رسول کوگستاخی اور مذاق پر کیا رویہ اختیار کر نے کا حکم دے رہے ہیں.
ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں (یعنی انکار اسلام، گستاخی رسول، گستاخی اسلام ) ان سے تمہارے دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے- اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اسکی تسبیح کرو، اسکی جناب میں سجدہ بجا لاؤ، اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہو (یعنی اپنے رب کی بات مانتے رہو) جس کا آنا یقینی ہے (موت کا وقت )-"
دیکھا آپ نے........الله نے اپنے رسول سے انکی شان میں گستاخی اور اسلام کی شان میں گستاخی کے جواب میں............کیا فرمان جاری کیا....؟.....حکم دیا کہ اپنے رب کی حمد اور تسبیح بیان کرو.....انہیں قتل کا حکم نہیں دیا ....الله نے اس معاملے کو قیامت کے دن کے لئے اٹھا رکھا ہے.
یہاں تک تو بات واضح ہو گئی کہ..........رسول، صحابہ، امہا ت المومنین ، اسلام اور قرآن کی توہین پر، الله نے کسی بھی قسم کی سزا کا اعلان، اس دنیا کی زندگی میں نہیں کیا....اس بات کا فیصلہ قیامت کے دن الله پاک خود فرمائیں گے ...
اب ذرا غورر کیجئے کہ.........
برا کون ہے.....گستاخی کرنے والا
قیامت کے دن سزا کس کو ملے گی....گستاخی کرنے والے کو.
کس کا بگڑا....گستاخ کا بگڑا
رسول کا تو کچھ بھی نہیں گیا....انکی شان میں تو کوئی فرق نہیں پڑا ...... .
دنیا کی زندگی میں گستاخی کی سزا کیوں نہیں.............؟؟؟
اس لئے کہ ........اس سے اسلام (سلامتی کا دین ) بدنام ہو جاتا--
مخالفین اسلام کہتے کہ مسلمانوں میں تو ذرا بھی صبر، تحمل ، برداشت اور برد باری نہیں، ذرا منہ سے کوئی بات نکل گئی تو یہ رسول اور انکے ساتھی اسکو قتل کر ڈالتے ہیں....بھلا یہ اسلام (سلامتی امن) کا دین تو نہ ہوا، یہ تو دہشت گردی کا دین ہو گیا.
ہر دور میں جب بھی رسول اپنی قوم کے پاس الله کے دین کی دعوت لے کر گئے تو..... قوم نے انکی سخت توہین کی اور انکی شان میں اور الله کے دین کی شان میں سخت گستاخی کی........
لیکن الله نے ہمیشہ اپنے تمام رسولوں کو بہترین صبر کی نصیحت کی......
اگر گستاخ کو قتل کا حکم ہوتا تو پھر سوچئے کہ.........رسول اپنی شان میں گستاخی پر خود ہی ساری قوم کو قتل کر ڈالتے کیوں کہ شروع شروع میں تو ساری کی ساری قوم ہی مخالفت اور گستاخی کیا کرتی تھی ، پھر .....ساری آبادی کو مار ڈالنے کے بعد رسول دین کی طرف کسے بلاتے .....؟؟؟....اور پھررسول اور اسلام تو بدنام ہو جاتے کہ یہ تو امن اور سلامتی کا دین نہیں بلکہ قتل و غارت گری کا دین ہے
پھر کون اسلام قبول کرتا ....؟؟؟
پھر اس اہم ترین بات اور ایک ٹھوس حقیقت پر بھی غور کیجئے کہ.....
جن لوگوں نے شروع شروع میں رسول اور اسلام کی شان میں شدید ترین اور بدترین گستاخیاں کیں،..... ان ہی میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، اور وہ الله مہربان کے سچے مومنین اور گستاخی معاف کر دینے والے نیک رسول کے جانثار صحابہ بن گئے .....کیا آپ اس حقیقت کو جھٹلا سکتے ہیں.......؟؟؟
کیا آپ کو پتا چلا کہ گستاخی سے الله، رسول اور اسلام کا کچھ بھی نہیں بگڑتا ....بلکہ گستاخی سے صرف نظر کرنے اور معاف کر دینے سے اسلام کی سچائی اور اعلی اخلاق کا مظاہرہ ہوتا ہے اور اسلام لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے اور ان کے اندر تبدیلی آتی ہے اور وہ اسلام کے آگے سر نگوں ہو جاتے ہیں.
اب آپ اس بات پر غورر کیجئے کہ....جب الله نے اپنے رسول کو گستاخ کو سزا دینے نہیں دیا....
تو یہ گمراہ امّت کس کے کہنے پر کسی گستاخ کو قتل کرتی ہے اور کس کے کہنے پر الله کے ..."سلامتی، امن، صبر، شرافت، گالی کے جواب میں دعا" والے دین کو بدنام کر رہی ہے ....
ان میں اور طالبان، دولت اسلامیہ میں، کیا فرق رہ گیا ....
دونون الله کے دشمن اور اسلام کو دنیا کے غیر مسلموں کی نظروں میں بدنام کرنے والے....
آخر کون ہے وہ جس کی بات یہ گمراہ امّت ، الله کے مقابلے میں مانتی ہے.........کون ہے ان کا رب.....
ان لوگوں نے اپنے علما اور احبار کو اپنا رب بنا ڈالا ہے "
31 (التوبہ )
جی ہاں....جو لوگ اپنے الله کے قرآن سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے پسندیدہ علما کی باتوں کو الله کے قرآن پر پرکھے بغیر دین مانتے ہیں، ایسے مشرکین کے لئے انکے علما ہی رب بن گئے ......الله ان کا رب نہیں.
اگر الله کواپنا رب اوراپنا الہ مانتے تو...........صرف الله کے قرآن ہی کو دین مانتے اور کسی گستاخ کو قتل تو کیا ایک تھپڑ بھی نہ مارتے.....
.جب رسول نے نے ایسا نہیں کیا تو یہ کون ہوتے ہیں ایسا کرنے والے....یہ مشرکین ہیں، یہ الله کو اپنا الہ نہیں مانتے، علما کو اپنا الہ مانتے ہیں ......!
اب آپ....اپنی آنکھیں بند کر کے........غور کیجئے اور سوچئے...............کہ یہ مشرک امّہ کہاں جا رہی ہے.
اور دوسری تلخ حقیقت یہ کہ.....جو بات جنید جمشید نے سنائی ....بلکل وہی بات امام بخاری نے اپنی احادیث کی کتاب "صحیح البخاری " میں لکھی ہے.
آپ ذرا جھوٹی احادیث کی ان کتابوں کو پڑھیں تو.....آپ کو صاف پتہ چلے گا کہ....ان بزرگ ہستیوں کے بارے میں جو اہانت آمیز باتیں احادیث نبوی کے نام پر ان فارسی اماموں نے لکھی ہیں....وہ ناقابل برداشت ہیں....اور صریح گستاخی ہیں.........
کیا یہ امّہ اب بھی ان جھوٹی احادیث کو دین مانے گی.....؟؟؟
کیا یہ شرک کرنے والی امّہ ان ایرانی شیعہ اماموں کو رسول، امہات المومنین اور صحابہ کی شان میں گستاخانہ باتیں دین کے نام پر لکھنے پر قتل کی سزا کا اعلان کرے گی.....؟
ہے نا ایک تلخ حقیقت.....گرمی نہ کھائیے ....جھوٹی احادیث کی جن کتابوں کو آپ دین مانتے ہیں....ذرا ان کا مطالعہ کر لیجئے....اور الله سے ڈریے .الله کے قرآن کے مقابلے میں ان جھوٹی احادیث کو دین مت مانئیے . ورنہ آنکھوں والے ہو کر بھی آپ نابینا کے نابینا ہی رہیں گے اور کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ الله کا دین کیا ہے
الله رحمان کے عظیم قرآن کی جن آیات کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اور جو الله واحد و قہار کی طرف سے سند ہیں اس بات کے لئے کہ ....رسول، امہات المومنین اور صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو کوئی سزا نہیں دی جا سکتی......
اب جو شخص کسی گستاخ کو قتل کرتا ہے....وہ الله کی آیات کا صریح کفر اور شرک کرتا ہے....اور اس کی وہی سزا ہے جو ایک کفر اور شرک کرنے والے کی سزا ہوتی ہے.
.ہم سب کو سچ بولنا چاہیے......اور سچ صرف الله کا قرآن ہے.........لہٰذا، ہم جب بھی بولیں، ہمیں چاہیے کہ قرآن سے الله کی سچ آیات ہی سنائیں۔

نوٹ: یہ تحریر میں ایک جگہ سے حاصل کی ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ منکرین حدیث کا جواز ہے۔پروپیگنڈا کے طور پر ایسا مواد پیش کر کے سادہ لوح طبقہ کا ایمان خراب کرنے کی کوشش ہے! اہل علم سے سدباب کے لیے توجہ کی گزارش ہے۔
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,440
پوائنٹ
463
بقایا۔۔۔

لیکن صحاح ستہ کی جھوٹی حدیثیں رسول کے بارے میں یہ کہتی ہیں کہ انہوں نے گستاخ کو قتل کا حکم دیا.........یعنی خود رسول ہی نے قرآن میں الله کے حکم کا کفر کر دیا .نعوذ و باللہ .....
صاف اور واضح بات قرآن میں الله نے حکم دیا ہے کہ..........گستاخ کی گستا خی کے جواب میں صبر کرو.....بات ختم......اس کے علاوہ کوئی بھی عمل شیطانی کام ہے، کفر ہے، شرک ہے...........گستاخ کو قتل کرنے والا الله کے حکم کا کافر ہے اور مشرک ہے...........وہ مومن ہی نہیں.
یہی حکم مرتد کے لئے ہے.-
الله نے قرآن میں، سوره النسا آیت چھیاسٹھ میں فرمایا کہ...."حقیقت جاننے کے لئے بس الله ہی کا علم کافی ہے."
آئیے قرآن میں دیکھتے ہیں کہ الله نے مرتد کے بارے میں ہمیں کیا حکم دیا ہے -
سوره المائدہ آیت چون میں الله نے فرمایا:
"اے ایمان والو....تم میں سے جو کوئی اپنے دین (اسلام ) سے مرتد ہونا چاہتا ہے تو الله تمہاری جگہ اور ایسے لوگ لے آ ئے گا جو الله کو محبوب ہونگے، اور الله انکو محبوب ہوگا."
الله نے اس آیت میں اپنے رسول اور ایمان والوں کو یہ حکم نہیں دیا کہ مرتد کو قتل کر دو...ہر گز نہیں.
ایک اور آیت :....سوره بقرہ آیت دو سو سترہ
"کفّار تم سے اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ تم کو تمہارے دین سے مرتد بنا دیں...اور جو کوئی تم میں سے مرتد بنا، اور کافر ہو کر مرا، اسکے اعمال دنیا اور آخرت، دونو میں برباد ہو جائیں گے-"
اس آیت میں بھی یہ نہیں حکم دیا کہ جو اپنے دین سے مرتد ہو جاۓ اسکو قتل کر دیا جاۓ یا ایک تھپڑ بھی مرا جاۓ ....ہر گز نہیں.
ذرا سوچئے کہ جب الله نے فرمان جاری کر دیا کہ ....
"دین میں کوئی جبر نہیں "....(.سوره بقرہ آیت دو سو چھپن )
تو کیا اس حکم سے ہمارے دل لرز نہیں جاتے....پھر ہم کس منہ سے مرتد کو قتل کرنے کا حکم لگاتے ہیں.............کیا لوگ اللہ حکم پر اپنا یا عالم کا حکم چلاتے ہیں......؟
مرتد نے اگر اپنا دین بدلا ...تو خود ہی اپنا نقصان عظیم کیا...........وہ جہنم میں جاۓ گا.....اس میں اسلام یا مومنین کا بھلا کیا نقصان، ...پھر اسکو قتل کیوں کیا جاۓ
اسی طرح سے ....جس نے رسول، صحابہ یا امہات المومنین کی شان میں شدید گستاخی کی....اسنے تو خود اپنا ہی نقصان عظیم کیا.....رسول، صحابہ یا امہات المومنین کا تو کوئی نقصان نہیں ہوا....اسلام یا مومنین کا تو کو نقصان نہیں ہوا............پھر کیوں انکو قتل کیا جاۓ.
جو لوگ....شیعہ اماموں کی لکھی ہوئی جھوٹی جادو حدیثوں کو دین مانتے ہیں اور گستاخ یا مرتد کو قتل کرتے ہیں....وہ الله کے امن اور سلامتی والے دین السلام کو دنیا کے غیر مسلموں کی نظر میں بدنام کرتے ہیں،........وہ الله کی آیات اور قرآن کے منکر ہیں،.....وہ مشرک اور کافر ہیں...وہ خود واجب القتل ہیں.۔۔۔۔
 
شمولیت
مئی 22، 2015
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
3
السلام علیکم میرا ایک سوال ہے۔۔
اس شعر میں شرکیہ پہلو تو نہیں ہے۔۔۔اگر ہے تو کیسے۔۔؟؟
بزم پیغام اخوت بزم پیغام وفا
بزم پیغام محمد بزم پیغام خدا

یہ "بزم پیغام" ایک تنظیم ہے۔۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,581
ری ایکشن اسکور
6,754
پوائنٹ
1,207
السلام علیکم میرا ایک سوال ہے۔۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم فہد بھائی!
بہتر ہے کہ اس کےلیے آپ متعلقہ زمرے کے کسی دھاگے میں یہ سوال اُٹھائیں یا نیا دھاگہ بنائیں، اور اس کا طریقہ کار یہاں پر درج ہے۔ جزاک اللہ خیرا۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
باتیں زیادہ لکھی ہیں اور کبھی کدھر اور کبھی کدھر لے گئے ہیں پھر بھی فرصت کے وقت میں اہم اہم باتوں پر لکھتا ہوں
لیکن سب سے پہلے تو بنیادی بات کرنی ہے کہ اس تحریر میں جتنے بھی دلائل دئے گئے ہیں کہ حدیث میں فلاں بات غلط ہے اور اس لئے حدیث حجت نہیں ہے تو پہلے تو ان کو اس پر بحث کرنی چاہئے اور اس میں انکی جرات نہیں ہوتی ہے اس لئے وہ دوسری باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں
پس میں پہلے تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کوئی مجھ سے اس پر بحث کر لے کہ ایک طرف قرآن رکھ لے اور دوسری طرف صحیح حدیث پھر دونوں میں دلائل سے ثابت کر دے کہ فلاں حجت ہے اور فلاں نہیں لیکن ایسا چیلنج یہ قبول نہیں کریں گے جیسا کہ میری یہاں فورم پر مسلم وغیرہ سے بحث ہوئی ہے
پھر بھی انکی اوپر باتوں میں اہم شبہات کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں

کیا آپ جانتے ہیں کہ دین (القرآن) میں گستاخ کی کوئی سزا نہیں ....پھر یہ سزا کہاں سے آ ئی ....؟
الله کے دین (القرآن) میں... گستاخ رسول، گستاخ قرآن، گستاخ امہات المومنین یا گستاخ صحابہ کے مرتکب شخص کے لئے (اس دنیا کی زندگی میں) کسی بھی قسم کی سزا کا اعلان نہیں کی گیا...اس بات کی کیا حکمت ہے...؟
آپ ذرا قرآن تو پڑھئے ...تو آپ کے پیروں کے نیچے سے زمیں نکل جاۓ ...اور پتا چل جاۓ کہ آپ کس بات کو دین بناتے بیٹھے ہیں.. آپ کا عقیدہ قرآن کے کس قدر خلاف ہے، اس بات کا آپ کو اندازہ ہو جاۓ....
رسول، قرآن، صحابہ، امہات المومنین کی شان میں گستاخی پر ....قرآن میں الله نے کسی بھی سزا اعلان نہیں کیا ....
کیا آپ کو معلوم تھا اس بات کا اس سے پہلے....؟؟؟...نہیں تھا نا ............کیوں نہیں تھا.....اس لئے کہ آپ قرآن پڑھتے ہی نہیں ...بس مشرک علما کرام کو سنتے ہیں اور اسی کو دین مانتے ہیں...
ہمیں قرآن نہ پڑھنے کا طعنہ دیا جا رہا ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے عیسائی ہمیں عیسی علیہ اسلام کو نہ ماننے اور احناف ہمیں اماموں کو نہ ماننے اور بریلوی ہمیں اللہ کے ولیوں کو نہ ماننے کا طعنہ دیتے ہیں
یعنی یہ جس طرح سے ہمیں قرآن پڑھنے کا کہتے ہیں کہ ہمیشہ اپنی عقل اور خواہشات کو سامنے رکھ کر پڑھنا تو وہ تو ہم نہیں کرتے
اب انکی چال بازی کو دیکھتے ہیں
میرا انکو یہ چیلنج ہے کہ کیا جس طرح وہ ہم سے قرآن کو پڑھانا چاہتے ہیں تاکہ اختلاف ختم ہو جائیں اور کوئی مشرک نہ رہے تو کیا ان میں سے کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ احادیث کو نعوذ باللہ کوڑے میں ڈال کر جو بھی قرآن پڑھتا ہے وہ ہمیشہ قرآن کا درست مطلب ہی لے گا لیکن یہ یاد رہے کہ درست مطلب تو ایک ہی ہوتا ہے
لیکن جب ہم دیکھتے ہیں تو نماز کے بارے میں کوئی ریس کورس میں ورزش کو ہی نماز کہتا ہے کوئی تین نماز کوئی دو نماز اور کوئی لازمی پانچ نماز پڑھنے پر دلائل لکھتا رہتا ہے پس ان میں آپس میں مناظرے بھی ہوتے ہیں سکیم موڑ کے ساتھ انہیں میں سے انجینئر ملک احسان جو خوشاب کے ہیں انہوں نے اپنا درس شروع کیا ہوا ہے میں ادھر کافی جاتا رہا ہوں کیونکہ میرے ایک بہنوئی کو انہوں نے پھانسنے کی کوشش کی تھی وہاں پر انکا ایک اور حلقہ کے مدرس جنکا نام قاضی صاحب تھا انسے مناظرہ کی بات چلتی تھی اور یہ غالبا ان سے علیحدہ ہوئے تھے اور کہتے تھے کہ وہ جنوں کے بارے جو موقف رکھتے ہیں وہ قرآن سے ثابت کر دیں تو ہم انکے پاس درس میں جائیں گے اسی طرح سمن آباد میں بلوغ القرآن والے تیسرے گول چکر کے پاس ہوتے ہیں انکا نظریہ ان سے مختلف ہے اور طلوع اسلام والے جو غلط مارکیٹ کے قریب غالبا ہیں انکا بالکل ہی ماڈرن نظریہ ہے
تو پھر مجھے بتائیں کہ گستاخ رسول کی جو سزا آپ نے قرآن میں پائی اگر کوئی اور مسلمان احادیث کو ایک طرف رکھ کر قرآن کی کوئی اور تعبیر کر کے آپ کو سزا دکھا دے تو آپ اسکو رد کیسے کریں گے صرف قرآن میں مختلف باتوں میں اختلاف ہونا اور قرآن میں احادیث کو چھوڑ کر گستاخ رسول کی سزا موجود ہونا اگر ہم ثابت کر دیں تو پھر کیا کہیں گے یہ ان شاءاللہ نیچے ہو گا

ایسے لوگوں کے لئے الله نے قرآن میں سوره توبہ کی اکتیس نمبر آیت میں فرمایا کہ "ان لوگوں نے اپنے علما اور احبار کو اپنا رب بنایا ہوا ہے"....
یہ لوگ اپنے پسندیدہ عالم کو سنتے ہیں اور اس کی باتوں کو الله کے قرآن پر نہیں پرکھتے ..........اور دین بنا لیتے ہیں....یہ اپنے عالم کی عبادت کرنے والے مشرک ہیں....جو الله کے قرآن سے سخت نفرت کرتے ہیں.
اب گستاخی کے معاملہ پر قرآن کی یہ آیات پڑھیے.
تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے (اسلام، قرآن، رسول کی شان میں گستاخی کرنے ) والوں کی خبر لینے کے لئے کافی ہیں جو الله کے ساتھ آوروں کو بھی الہ قرار دیتے ہیں- عنقریب انہیں معلوم ہو جاۓ گا.
ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے- اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اسکی تسبیح کرو، اسکی جناب میں سجدہ بجا لاؤ، اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہو (یعنی اپنے رب کی بات مانتے رہو) جس کا آنا یقینی ہے-"
(15: 94-99)
اب آپ ذرا غور کیجئے کہ......رسول کے ساتھ استہزا، مذاق، گستاخی کرنے والوں کے لئے اس دنیا کی زندگی میں الله نے کسی سزا کا اعلان نہیں کیا-
آیت پر غورر کیجئے تو اندازا ہو جاۓ گا کہ......الله نے رسول کو گستاخی کی سزا دینے کا اختیار نہیں دیا.....بلکہ یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں رکھا اور کہا کہ تمہاری طرف سے ہم ان کی خبر لیں گے.....یعنی الله نے رسول کی اہانت کرنے والوں کو چھوڑا نہیں....لیکن انکو سزا قیامت کے دن ملے گی.....دنیا کی زندگی میں نہیں.
اس طرح اگر آپ ایک آیت کو لے کر اپنی مرضی کا نظریہ بنا لیں اور پوری شریعت کو نہ دیکھیں اور حالات کو نہ دیکھیں تو پھر تو آپ اختلافات ہی کھڑے کرنے والے ہوں گے
مثلا ایک طرف کوئی لا اکراہ فی الدین اور لو کنت فضا ----- وغیرہ جیسی آیات کو لے کر کہے کہ مشرک کو قتل نہیں کر سکتے اور ساتھ یہ بھی آیت بتائے کہ کفوا ایدیکم واقیمو الصلوۃ--- (یعنی ہاتھ روک کے رکھو اور بس نمازیں اور روزے ہی پورے کرو)
اور دوسرا فاضربوا فوق الاعناق کی آیت کو لے کر اور فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم وغیرہ جیسے آیات کو لے کر قتل و غارت شروع کر دے تو کیا ہو گا
پس یاد رکھیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا ہے کہ انکی پروا نہ کریں تو وہاں اسکی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں مثلا یا تو پہلے مکی دور کی باتیں ہیں یا پھر معمولی باتیں ہیں جن پر بڑا اقدام نہیں اٹھایا جا سکتا یا نام نہاد مسلمان منافقوں کی باتیں کہ جنکو کسی مصلحت کی وجہ سے سزا نہیں دی گئی یا پھر تسلی کے لئے کہا گیا ہے کہ اگر آپ ان کو سزا نہیں دے سکتے تو کوئی بات نہیں انا کفیناک المستھزئین
ورنہ گستاخوں کو سزا دینے کا حکم تو قرآن میں بالکل واضح موجود ہے جب قرآن سے یہ فرما دیا کہ
وَإِن نَكَثوا أَيمـٰنَهُم مِن بَعدِ عَهدِهِم وَطَعَنوا فى دينِكُم فَقـٰتِلوا أَئِمَّةَ الكُفرِ‌ إِنَّهُم لا أَيمـٰنَ لَهُم لَعَلَّهُم يَنتَهونَ ١٢ أَلا تُقـٰتِلونَ قَومًا نَكَثوا أَيمـٰنَهُم وَهَمّوا بِإِخر‌اجِ الرَّ‌سولِ وَهُم بَدَءوكُم أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ أَتَخشَونَهُم فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشَوهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ١٣ قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُر‌كُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ‌ قَومٍ مُؤمِنينَ ١٤ وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم وَيَتوبُ اللَّهُ عَلىٰ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ١٥﴾.... التوبة
'اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرداروں سے قتال کرو۔ بے شک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ کیا تم ان لوگوں سے نہیں لڑوگے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اوررسولﷺکو نکالنے کا ارادہ کیا اور اُنہوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو تو اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔ ان سے قتال کرو، اللہ اِنہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور اُنہیں رسوا کرے گا او ران کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مؤمنوں کے سینوں کو شفا دے گا او ران کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے اور کمال حکمت والا ہے
اب اس آیت کی تشریح مفسرین نے کیسے کی وہ دیکھ لیتے ہیں
نوٹ:یہ یاد رہے کہ یہاں مفسرین نے قرآن سے جو سمجھا ہے وہ لکھا ہے احادیث کو بنیاد نہیں بنایا گیا پس قرآن سے جس طرح منرکین حدیث سمجھیں وہی حرف آخر نہیں ہوتا کیونکہ خود ان میں بھی اس سمجھنے میں اختلاف پایا جاتا ہے
. امام ابواسحٰق ابراہیم بن سری زجاج (المتوفی 311ھ) رقم طراز ہیں:
«وھذہ الأیة توجب قتل الذي اذا أظھر الطعن في الإسلام لأن العھد معقود علیه بأن لایطعن فإذا طعن فقد نکث»5
''یہ آیت ِکریمہ ذمی (یہودی، عیسائی)کے قتل کو واجب کرتی ہے، جب وہ اسلام میں طعن کا اظہار کرے۔ اس لئے کہ اس کے ساتھ اس بات پر عہد تھا کہ وہ طعن و تشنیع سے کام نہیں لے گا، جب اس نے طعن کیا تو اس کا عہد ٹوٹ گیا۔
باقی قرٓن سے دلائل آپ مندرجہ ذیل لنک سے دیکھ سکتے ہیں
لنک
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
اب ذرا غورر کیجئے کہ.........
برا کون ہے.....گستاخی کرنے والا
قیامت کے دن سزا کس کو ملے گی....گستاخی کرنے والے کو.
کس کا بگڑا....گستاخ کا بگڑا
رسول کا تو کچھ بھی نہیں گیا....انکی شان میں تو کوئی فرق نہیں پڑا ...... .
دنیا کی زندگی میں گستاخی کی سزا کیوں نہیں.............؟؟؟
اس لئے کہ ........اس سے اسلام (سلامتی کا دین ) بدنام ہو جاتا--
مخالفین اسلام کہتے کہ مسلمانوں میں تو ذرا بھی صبر، تحمل ، برداشت اور برد باری نہیں، ذرا منہ سے کوئی بات نکل گئی تو یہ رسول اور انکے ساتھی اسکو قتل کر ڈالتے ہیں....بھلا یہ اسلام (سلامتی امن) کا دین تو نہ ہوا، یہ تو دہشت گردی کا دین ہو گیا.
ہر دور میں جب بھی رسول اپنی قوم کے پاس الله کے دین کی دعوت لے کر گئے تو..... قوم نے انکی سخت توہین کی اور انکی شان میں اور الله کے دین کی شان میں سخت گستاخی کی........
لیکن الله نے ہمیشہ اپنے تمام رسولوں کو بہترین صبر کی نصیحت کی......
اگر گستاخ کو قتل کا حکم ہوتا تو پھر سوچئے کہ.........رسول اپنی شان میں گستاخی پر خود ہی ساری قوم کو قتل کر ڈالتے کیوں کہ شروع شروع میں تو ساری کی ساری قوم ہی مخالفت اور گستاخی کیا کرتی تھی ، پھر .....ساری آبادی کو مار ڈالنے کے بعد رسول دین کی طرف کسے بلاتے .....؟؟؟....اور پھررسول اور اسلام تو بدنام ہو جاتے کہ یہ تو امن اور سلامتی کا دین نہیں بلکہ قتل و غارت گری کا دین ہے
پھر کون اسلام قبول کرتا ....؟؟؟
شروع شروع میں یہ حکم ہی کب تھا جس کا رونا رویا جا رہا ہے
اور اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ یہ حکم بعد میں بھی نہیں آیا تھا تو پھر میں ان دھوکے بازوں کو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں کہ قرآن میں لا اکراہ فی الدین کا حکم ہے تو اس کے تحت ہمیں میڈیا پر طالبان اور القائدہ کے نظریات والوں کو کھلی اجازت دینی چاہئے اور فیس بک اور فورمز پر ان کو ایسا کرنے پر سزا نہیں دینی چاہئے تو کیا آپ ایسا کرنے والوں کو بھی اسی طرح معطون کریں گے کبھی بھی نہیں ایسا کریں گے
پس جب لا اکراہ فی الدین والی آیت کو کوئی پاکستان کے خلاف کروائیوں کی دعوت دینے کے لئے ڈھال نہیں بنا سکتا تو پاکستان سے زیادہ اسلام کو بچانا ہمارا فرض ہے اور اسی اسلام کے غلبے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو اسکو بچانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو بچانا پہلے ضروری ہے جیسے پاکستان کو بچانے کے لئے آرمی چیف کی کردار کشی کا سد باب بہت ضروری ہے
دیکھیں پاکستان کے سیاستدانوں کے خلاف بات کرنے سے کوئی منع نہیں کرتا مگر اگر کوئی پاکستانی جرنلز کے خلاف بات کرتا ہے یا اس پر کوئی الزام لگاتا ہے اگرچہ وہ درست ہی کیوں نہ ہو تو قانون اور انتظامیہ وغیرہ اسکو اسکی اجازت نہیں دیتی اور اس سلسلے میں وہ بدنامی سے بھی نہیں ڈرتے کیونکہ وہ بدنامی اس نقصان کے مقابلے میں ایک ذرہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی
مثلا میڈیا کے بارے طالبان کہتے ہیں کہ اس پر فوج کا کنٹرول ہے اور وہ انکے حق میں کوئی بھی بات نشر نہیں کرتی جو آزادئ رائے کے خلاف بات ہے اور اس پر امریکہ وغیرہ اور سول سوسائیٹی بہت لے دے کرتی ہے مگر اس کے باوجود اس بدنامی کے ڈر سے طالبان یا حکومت مخالف کو میڈیا پر اپنے نظریات کا دفاع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اسکا نقصان اس بدنامی سے کہیں زیادہ ہے
غرض بہت مثالیں موجود ہیں کہ جہاں ایک چیز کو بچانے کے لئے کچھ ناگزیر اقدامات کا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے
لیکن پھر بھی میں نے اوپر قرآن سے بھی اس سزا کو واضح کیا ہے
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
پھر اس اہم ترین بات اور ایک ٹھوس حقیقت پر بھی غور کیجئے کہ.....
اب آپ اس بات پر غورر کیجئے کہ....جب الله نے اپنے رسول کو گستاخ کو سزا دینے نہیں دیا....
تو یہ گمراہ امّت کس کے کہنے پر کسی گستاخ کو قتل کرتی ہے اور کس کے کہنے پر الله کے ..."سلامتی، امن، صبر، شرافت، گالی کے جواب میں دعا" والے دین کو بدنام کر رہی ہے ....
ان میں اور طالبان، دولت اسلامیہ میں، کیا فرق رہ گیا ....
دونون الله کے دشمن اور اسلام کو دنیا کے غیر مسلموں کی نظروں میں بدنام کرنے والے....
آخر کون ہے وہ جس کی بات یہ گمراہ امّت ، الله کے مقابلے میں مانتی ہے.........کون ہے ان کا رب.....
ان لوگوں نے اپنے علما اور احبار کو اپنا رب بنا ڈالا ہے "
31 (التوبہ )
جی ہاں....جو لوگ اپنے الله کے قرآن سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے پسندیدہ علما کی باتوں کو الله کے قرآن پر پرکھے بغیر دین مانتے ہیں، ایسے مشرکین کے لئے انکے علما ہی رب بن گئے ......الله ان کا رب نہیں.
اگر الله کواپنا رب اوراپنا الہ مانتے تو...........صرف الله کے قرآن ہی کو دین مانتے اور کسی گستاخ کو قتل تو کیا ایک تھپڑ بھی نہ مارتے.....
یہی باتیں عیسائیوں نے بھی اپنی انجیل میں لکھ کر رکھ چھوڑی ہیں کہ اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو تم دوسرا بھی آگے کر دو مگر امریکہ عمل اسکے الٹ کرتا ہے کہ کوئی تھپڑ کھا لے تو اب اسکو لات اور پھر بم ہی مار دو
ہم کہتے ہیں کہ حدیث کو تو کیا قرآن کو بھی چھوڑ دو تو کیا تمھارا ضمیر یہ کہتا ہے کہ جس ملک کو تم نے بچانا ہے اسکی حفاظت کا انحصار جس آرمی چیف کی عزت پر ہے اسکی عزت کو مٹی میں ملانے کی اجازت کسی دوسرے کو دو
1۔ اگر ہاں تو پھر اس سلسلے میں ذرا طالبان کے موقف کی حمایت کر کے دیکھو اور انکو آزادی دلانے کی بات تو کر کے دیکھو تمھارے اندر کا نفاق خؤد بخود واضح ہو جائے گا کہ تمھارا ضمیر بھی اسکی اجازت نہیں دیتا
2۔اب اگر نہیں دیتا تو کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اتنا بھی نہیں
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
اور دوسری تلخ حقیقت یہ کہ.....جو بات جنید جمشید نے سنائی ....بلکل وہی بات امام بخاری نے اپنی احادیث کی کتاب "صحیح البخاری " میں لکھی ہے.
آپ ذرا جھوٹی احادیث کی ان کتابوں کو پڑھیں تو.....آپ کو صاف پتہ چلے گا کہ....ان بزرگ ہستیوں کے بارے میں جو اہانت آمیز باتیں احادیث نبوی کے نام پر ان فارسی اماموں نے لکھی ہیں....وہ ناقابل برداشت ہیں....اور صریح گستاخی ہیں.........
کیا یہ امّہ اب بھی ان جھوٹی احادیث کو دین مانے گی.....؟؟؟
کیا یہ شرک کرنے والی امّہ ان ایرانی شیعہ اماموں کو رسول، امہات المومنین اور صحابہ کی شان میں گستاخانہ باتیں دین کے نام پر لکھنے پر قتل کی سزا کا اعلان کرے گی.....؟
ہے نا ایک تلخ حقیقت.....گرمی نہ کھائیے ....جھوٹی احادیث کی جن کتابوں کو آپ دین مانتے ہیں....ذرا ان کا مطالعہ کر لیجئے....اور الله سے ڈریے .الله کے قرآن کے مقابلے میں ان جھوٹی احادیث کو دین مت مانئیے . ورنہ آنکھوں والے ہو کر بھی آپ نابینا کے نابینا ہی رہیں گے اور کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ الله کا دین کیا ہے
اب جو شخص کسی گستاخ کو قتل کرتا ہے....وہ الله کی آیات کا صریح کفر اور شرک کرتا ہے....اور اس کی وہی سزا ہے جو ایک کفر اور شرک کرنے والے کی سزا ہوتی ہے.
یہاں بھی میں دوبارہ بتاتا جاوں کہ یہ اس پر مناظرہ نہیں کر سکتے کہ قرآن اور صحیح حدیث کو آمنے سامنے رکھ کر دلائل دیئے جائیں کہ کون سی چیز حجت ہے
پھر بھی میں پوچھتا ہوں کہ کیا صحیح احادیث میں اگر کوئی اختلاف آ جاتا ہے اور اسکو ائمہ تطبیق وغیرہ دے کر حل کر لیتے ہیں تو اس پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے کیا اس طرح آپ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ چونکہ حدیث میں اختلاف آنے کے بعد ہم نے اسکو نا قابل حجت بنا دیا تو تم لوگ کل کو اسی پر قیاس کرتے ہوئے قرآن کو بھی نا قابل حجت بنا دینا کیونکہ اس میں بھی تو بہت اخٹلاف پیدا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ہم اہل قرآن یا منکرین حدیث میں آپس میں اختلاف اسی قرآن کی وجہ سے ہی ہے حدیث کی وجہ سے تو نہیں پس جب اس اختلاف کے اصول پر حدیث رد ہو گئی تو لوگوں کے لئے قرآن کو رد کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہو گا اور اس سلسلے میں اہل قرآن کو کرنے کی ضڑورت نہیں پڑے گی
ویسے تو انکا مقصد قرآن کو بھی نا قابل حجت بنا دینا ہے مگر اگر یہ معاملہ نہ بھی ہو سکے تو ان منکرین حدیث کا اصل مقصد تو پورا ہو جائے گا کہ اپنے خواہش کی پیروی کر سکیں گے کیونکہ جب قرآن کا کوئی فکس مفہوم نہ رکھا جائے ہر کوئی اس سے اپنی مرضی کا مفہوم لے سکتا ہو تو پھر خؤاہش کی پیروی کرنے میں کیا مانع ہو سکتا ہے

.ہم سب کو سچ بولنا چاہیے......اور سچ صرف الله کا قرآن ہے.........لہٰذا، ہم جب بھی بولیں، ہمیں چاہیے کہ قرآن سے الله کی سچ آیات ہی سنائیں۔
ذرا یہ تو بتائیں کہ اگر وہ لوگ جو صرف قرآن کو ہی دیکھتے ہیں حدیث کو نہیں دیکھتے صرف وہی سچ بولتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں میں جو اتنا زیادہ باتوں میں اختلاف ہے تو کیا سچ ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں
یعنی دو نمازیں کہنے والا بھی سچا اور تین نمازیں کہنے والا بھی سچا اور ریس کورس کی ورزش کو نماز سمجھنے والا بھی سچا
اگر جھوٹے تو صرف ہم گناہ گار
 
Top