• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مصر کے مفتی اعظم کا عجیب فتوی

ہابیل

سینئر رکن
شمولیت
ستمبر 17، 2011
پیغامات
967
ری ایکشن اسکور
2,912
پوائنٹ
225
جنوری مصر کے مفتی اعظم کا فتوی
""""""داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں """"""​

اس فتوے پر آج لوگوں میں بہت زیادہ بات چیت ہوتی نضر آ ئی آپ دوست اس فتوے پر کیا کہنا پسند فرمائیں گیں خاص طور پر جو لوگ داڑھی کو اس وقت کی ثقافت کہتے ہیں وہ بہت خوش نضر آئے اللہ ہمیں سنت پر زندہ رکھے اور سنت پر ہی موت نصیب فرمائے آمین
جزاک اللہ
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
جنوری مصر کے مفتی اعظم کا فتوی
""""""داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں """"""​

اس فتوے پر آج لوگوں میں بہت زیادہ بات چیت ہوتی نضر آ ئی آپ دوست اس فتوے پر کیا کہنا پسند فرمائیں گیں خاص طور پر جو لوگ داڑھی کو اس وقت کی ثقافت کہتے ہیں وہ بہت خوش نضر آئے اللہ ہمیں سنت پر زندہ رکھے اور سنت پر ہی موت نصیب فرمائے آمین
جزاک اللہ
جب انسان کسی گناہ میں مبتلا ہو تو پھر اس کے جواز کے لیے مختلف بہانوں کی تلاش میں رہتا ہے اور جونہی کوئی ٹوٹی پھوٹی دلیل یا سہارا ملتا ہے تو اس پر قانع ہو کر بیٹھ جاتا ہے ۔
اصل میں ایسے لوگوں کے ہاں شرعی حکم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ وہ تو اپنی خواہشات نفس کے غلام ہوتے ہیں ۔ البتہ بھان متی کا کنبہ جوڑنے میں اس لیے لگے رہتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور لوگوں کو دھوکہ دے سکیں کہ ہم شریعت کی پابندی کرنے والے ہیں اس کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔
حالانکہ اگر مسئلہ شرعی حکم کا ہی ہے تو حضور کے فرمان (اعفوا اللحی و أرخوا اللحی و خالفوا المشرکین و خالفو المجوس أو کما قال علیہ السلام) داڑہی کو چھوڑ دو ۔ داڑہی بڑھاؤ اور مشرکین و مجوس کی خلاف ورزی کرو ۔ پر اس ایک مفتی کیا ہزراوں مفتیوں کے فتاوی قربان کیے جا سکتے ہیں ۔ کیا حضور کا فرمان اس کے حکم شرعی ہونے کے لیے کافی نہیں ؟
چلو بات مفتی کی بھی ہو پھر بھی اس ایک مفتی کے مقابلے میں ہزاروں ایسے مفتی ہیں جنہوں نے داڑہی کو امر شرعی قرار دیا ہے ۔ ایک کی بات کو ہزاروں پر ترجیح دینے کی وجہ ؟ اس کے سواکچھ نہیں کہ یہ خواہش نفس سے میل کھاتا ہے ۔
جب ہم قرآن وسنت کے خلاف آئمہ أربعہ تک کی بات کو نہیں مانتے تو اس ایک مفتی کی کیا حیثیت ہے کہ اس جیسے ہزاروں مفتی ان میں سے کسی ایک کے جوتے کی خاک کے ایک ذرے کے برابر نہیں ہوسکتے ۔
ذرا تصور کریں ایک طرف فرمان رسول ہے :
داڑہی چھوڑو ۔ داڑھی بڑھاؤ اور مشرکین کی مخالفت کرو ۔ مجوسیوں کی مخالفت کرو ۔
اور دوسری طرف مفتی اعظم کا فلسفہ ہے :
داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں

اب خود اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ کسے خوشی منانی چاہیے اور کسے اپنی قسمت پر ماتم کرنا چاہیے ۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,346
پوائنٹ
437
جنوری مصر کے مفتی اعظم کا فتوی
""""""داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں """"""​
جزاک اللہ
مفتی اعظم کے فتوٰٰی کا جواب تو مفتی ہی دے سکتے ہیں۔۔۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
جب انسان کسی گناہ میں مبتلا ہو تو پھر اس کے جواز کے لیے مختلف بہانوں کی تلاش میں رہتا ہے اور جونہی کوئی ٹوٹی پھوٹی دلیل یا سہارا ملتا ہے تو اس پر قانع ہو کر بیٹھ جاتا ہے ۔
اصل میں ایسے لوگوں کے ہاں شرعی حکم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ وہ تو اپنی خواہشات نفس کے غلام ہوتے ہیں ۔ البتہ بھان متی کا کنبہ جوڑنے میں اس لیے لگے رہتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور لوگوں کو دھوکہ دے سکیں کہ ہم شریعت کی پابندی کرنے والے ہیں اس کے خلاف کچھ نہیں کرتے ۔
حالانکہ اگر مسئلہ شرعی حکم کا ہی ہے تو حضور کے فرمان (اعفوا اللحی و أرخوا اللحی و خالفوا المشرکین و خالفو المجوس أو کما قال علیہ السلام) داڑہی کو چھوڑ دو ۔ داڑہی بڑھاؤ اور مشرکین و مجوس کی خلاف ورزی کرو ۔ پر اس ایک مفتی کیا ہزراوں مفتیوں کے فتاوی قربان کیے جا سکتے ہیں ۔ کیا حضور کا فرمان اس کے حکم شرعی ہونے کے لیے کافی نہیں ؟
چلو بات مفتی کی بھی ہو پھر بھی اس ایک مفتی کے مقابلے میں ہزاروں ایسے مفتی ہیں جنہوں نے داڑہی کو امر شرعی قرار دیا ہے ۔ ایک کی بات کو ہزاروں پر ترجیح دینے کی وجہ ؟ اس کے سواکچھ نہیں کہ یہ خواہش نفس سے میل کھاتا ہے ۔
جب ہم قرآن وسنت کے خلاف آئمہ أربعہ تک کی بات کو نہیں مانتے تو اس ایک مفتی کی کیا حیثیت ہے کہ اس جیسے ہزاروں مفتی ان میں سے کسی ایک کے جوتے کی خاک کے ایک ذرے کے برابر نہیں ہوسکتے ۔
ذرا تصور کریں ایک طرف فرمان رسول ہے :
داڑہی چھوڑو ۔ داڑھی بڑھاؤ اور مشرکین کی مخالفت کرو ۔ مجوسیوں کی مخالفت کرو ۔
اور دوسری طرف مفتی اعظم کا فلسفہ ہے :
داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں

اب خود اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ کسے خوشی منانی چاہیے اور کسے اپنی قسمت پر ماتم کرنا چاہیے ۔
جزاک اللہ خیرا
اگر ایک شخص داڑھی نہیں رکھتا، لیکن وہ اسے گناہ سمجھتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ میں گناہ کر رہا ہوں، اس کا معاملہ الگ ہے لیکن ایک شخص گناہ کرتا ہے اور اس پر بجائے نادم ہونے کے الٹا دلیلیں گھڑنا شروع کر دیتا ہے تو یہ سخت غلط بات ہے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والی بات ہے۔ شیطان نے بھی یہی کیا تھا، جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَالَ يَـٰٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّ ۖ أَسْتَكْبَرْ‌تَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِينَ ﴿٧٥۔۔۔سورہ ص
ترجمہ: (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے
تو شیطان نے کہا:
قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌ‌ۭ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍ‌ۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍ ﴿٧٦۔۔۔سورہ ص
ترجمہ:اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا، اور اسے مٹی سے بنایا ہے
پھر شیطان کاانجام کیا ہوا:
قَالَ فَٱخْرُ‌جْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَ‌جِيمٌ ﴿٧٧﴾ وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿٧٨۔۔۔سورہ ص
ترجمہ: ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا تو مردود ہوا (77) اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے۔(78)
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے گناہوں پر نادم ہونے اور سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
مفتی اعظم کے فتوٰٰی کا جواب تو مفتی ہی دے سکتے ہیں۔۔۔
اگر کوئی مفتی صاحب اس فتوے کا جواب نہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس فتوے کی کوئی اہمیت ہو جائے گی، بلکہ اس فتوے پر جو تبصرہ بھائی خضر حیات نے کیا ہے وہ قابل غور ہے۔
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,597
پوائنٹ
139
جنوری مصر کے مفتی اعظم کا فتوی
""""""داڑی یا شیو کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں """"""​

اس فتوے پر آج لوگوں میں بہت زیادہ بات چیت ہوتی نضر آ ئی آپ دوست اس فتوے پر کیا کہنا پسند فرمائیں گیں خاص طور پر جو لوگ داڑھی کو اس وقت کی ثقافت کہتے ہیں وہ بہت خوش نضر آئے اللہ ہمیں سنت پر زندہ رکھے اور سنت پر ہی موت نصیب فرمائے آمین
جزاک اللہ
السلام علیکم !

کچھ ایسی ہی سوچ کا اظہار دیوبندیوں کے امام جناب سرفراز خان صفدرصاحب کے پوتے اور مشہور کلاسیکل منکر حدیث جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے خوشہ چیں ،مفتی عمار خان ناصر صاحب نے اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے خود بھی کیا ہے۔
اور اس کا شاندار رد شیخ ابو یحیٰی نورپوری حفظہ اللہ نے کیا ہے۔دیکھئے ماہنامہ السنة شمارہ نمبر ٣٢،صفحہ نمبر٣٢-٤١
ماہنامہ السنۃ شمارہ نمبر ٣٢ ڈاونلوڈ لنک
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,149
ری ایکشن اسکور
6,346
پوائنٹ
437
اگر کوئی مفتی صاحب اس فتوے کا جواب نہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس فتوے کی کوئی اہمیت ہو جائے گی، بلکہ اس فتوے پر جو تبصرہ بھائی خضر حیات نے کیا ہے وہ قابل غور ہے۔
سب سے پہلے تو میں اس غلطی فہمی کو دور کردوں کے مجھے خضرحیات بھائی کے تبصرے پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ سمجھنے کی بات جو تھی وہ یہ اس وقت مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت ہے شاید! تو میں نے مناسب یہ سمجھا کے کوئی دوست کیس مفتی صاحب کا فتوٰی اس سلسلے میں یہاں پیش کرجائیں گے لیکن شاید میں اپنی بات کو صحیح ڈھنگ سے لکھ نہیں سکا جس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوگئی معذرت بھائی۔۔۔ میں صرف یہ ہی کہنا چاہ رہا تھا کے اگر اعتراض کسی رُکن کی طرف سے ہو تو اتنی معلومات تو ہمارے پاس بھی ہیں کے اس اعتراض کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کے پھینک دیں لیکن چونکہ دعوٰی مفتی صاحب کی طرف سے تھا تو اگر اس پر علماء یا شیوخ صاحبان آکر فتوٰے کا رد پیش کرتے تو وہ موضوع کے لئے مناسب تھا۔۔۔ بہرحال اگر کسی بھائی کو بھی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تو میں دوبارہ اس کے لئے دل سے معذرت خواہ ہوں۔۔۔ کیونکہ بھائی ہر انسان اپنے فہم کے حساب سے ہی سوچتا ہے۔۔۔ تو جیسا میں نے سوچا ویسے ہی لکھ دیا۔۔۔

والسلام علیکم۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
سب سے پہلے تو میں اس غلطی فہمی کو دور کردوں کے مجھے خضرحیات بھائی کے تبصرے پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ سمجھنے کی بات جو تھی وہ یہ اس وقت مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت ہے شاید! تو میں نے مناسب یہ سمجھا کے کوئی دوست کیس مفتی صاحب کا فتوٰی اس سلسلے میں یہاں پیش کرجائیں گے لیکن شاید میں اپنی بات کو صحیح ڈھنگ سے لکھ نہیں سکا جس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوگئی معذرت بھائی۔۔۔ میں صرف یہ ہی کہنا چاہ رہا تھا کے اگر اعتراض کسی رُکن کی طرف سے ہو تو اتنی معلومات تو ہمارے پاس بھی ہیں کے اس اعتراض کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کے پھینک دیں لیکن چونکہ دعوٰی مفتی صاحب کی طرف سے تھا تو اگر اس پر علماء یا شیوخ صاحبان آکر فتوٰے کا رد پیش کرتے تو وہ موضوع کے لئے مناسب تھا۔۔۔ بہرحال اگر کسی بھائی کو بھی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تو میں دوبارہ اس کے لئے دل سے معذرت خواہ ہوں۔۔۔ کیونکہ بھائی ہر انسان اپنے فہم کے حساب سے ہی سوچتا ہے۔۔۔ تو جیسا میں نے سوچا ویسے ہی لکھ دیا۔۔۔

والسلام علیکم۔
بھائی میں نے اپنا تبصرہ آپ کی بات کے رد میں نہیں لکھا۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
اگر احادیث مبارکہ کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں تو واقعی ہی داڑھی کا بھی شریعت وفطرت سے کوئی تعلق نہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کی متعدد احادیث مبارکہ میں داڑھی رکھنے، بڑھانے، لٹکانے اور معاف وغیرہ کرنے کا حکم موجود ہے، جیسا کہ اوپر خضر بھائی نے وضاحت فرمائی ہے، جزاہ اللہ خیرا

ارسلان بھائی نے صحیح کہا ہے کہ کچھ لوگ تو غلط کام کر کے اس پر شرمندہ ہوتے ہیں اور کچھ دھڑلّے سے غلط کام بھی کرتے ہیں پھر اس کیلئے تاویلات در حقیقت تحریفات شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہِ حق سے بھٹکا کر ان کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔ اہل کتاب کے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ لِمَ تَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّـهِ مَن ءامَنَ تَبغونَها عِوَجًا وَأَنتُم شُهَداءُ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ٩٩ ﴾ ۔۔۔ سورة آل عمران
کہو، اے اہل کتاب! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اُسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے، حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست ہونے پر) گواہ ہو تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے (99)
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
 

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
السلام علیکم
ڈاڑھی رکھنا وہ بھی مشت بھر صرف سنت ہی نہیں بلکہ شعار اسلام ہے اور یاد رہے شعار کا درجہ فرض سے زیادہ ہوتا ہے ۔اور ایسی سنت متواترہ ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر نبیناحضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ وسلم تک اور ان کے بعد جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تک اور پھر ان سے لیکر تمام سلف صالحین تک تعامل رہا ہے اور اس کے مشت بھر ہونے پر اجماع ہے اب اگرکوئی نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو اس کا کوئی علاج نہیں ویسے بھی مصری اور ترکی ڈاڑھی نہیں رکھتے مسشترقین کا ان پر زیادہ غلبہ ہے اسلامی حمیت کا غلبہ کم ہے اس لیے ان کے فتاویٰ معتبر نہیں ہیں۔ڈاڑھی کی فرضیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس کو منڈانا شرعاً حرام ہے ،اور آپ سب کو معلوم ہے کہ لفظ حرام کا اطلاق فرض کی عدم تعمیل پر ہوتا ہے سنت کے ترک پر نہیں ہوتا تو معلوم یہ ہوا ڈارھی رکھنا شعار اسلام ہے اور نہ رکھنا حرام ہے ۔
اور یہ کہنا کہ کچھ ایسی ہی سوچ کا اظہار دیوبندیوں کے امام جناب سرفراز خان صفدرصاحب کے پوتے اور مشہور کلاسیکل منکر حدیث جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے خوشہ چیں ،مفتی عمار خان ناصر صاحب نے اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے خود بھی کیا ہے۔
اور اس کا شاندار رد شیخ ابو یحیٰی نورپوری حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

تو میرے بھائی کسی کا پوتا ہو یا سکڑ پوتا اسلام تو اسلام ہے یہ کسی جاگیر تو ہے نہیں جو چاہے جیسا عمل کرلے اور جیسا چاہے بیان کردے صحیح کو صحیح کہا جائے گا اور غلط کو غلط ’’لیکن اس بارے میں امام ابو حنیفہؒ با لکل بے قصور ہیں
فقط واللہ اعلم بالصوب
احقر عابد الرحمٰن غفر لہ
 
Top