- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
4- بَاب مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ
۴- باب: شراب پینے والے کی صلاۃ قبول نہ ہونے کا بیان
۴- باب: شراب پینے والے کی صلاۃ قبول نہ ہونے کا بیان
3377- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَكِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ،فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدَغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَمَا رَدَغَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ: " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ "۔
* تخريج: ن/الأشربۃ ۴۳ (۵۶۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۴۳)، وقد أخرجہ: ت/الأشربۃ ۱ (۱۸۶۲)، حم (۲/۳۵، ۱۷۶، ۱۸۹، ۱۹۷، ۵/۱۷۱، ۶/۴۶۰) (صحیح)
۳۳۷۷- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شراب پی کر مست ہو جائے اس کی صلاۃ چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائے گا، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے، اور اسے نشہ آجائے تو چالیس روز تک اس کی صلاۃ قبول نہیں ہو گی، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی صلاۃ چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کر لے گا، اب اگر وہ (اس کے بعد بھی) پئے تو اللہ تعالی کے لیے حق ہو گا کہ اسے قیامت کے دن ''ردغۃ الخبال'' پلائے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! یہ ''ردغۃ الخبال'' کیا ہے؟ فرمایا: ''جہنمیوں کا پیپ''۔
وضاحت۱؎: معاذ اللہ، شراب پینی، اور اتنی کہ آدمی مست ہو جائے، اور ہوش کھو دے، کتنا بڑا سخت گناہ ہے، توراۃ، اور انجیل میں بھی اس کی بہت برائی آئی ہے، اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تیسری بار اگر شراب پئے تو توبہ قبول نہ ہو گی، اور ضرور عذاب ہو گا لیکن دوسری حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ اگر ستر بار ایک گناہ کرے تب بھی توبہ قبول ہو گی، پس اس حدیث میں شراب کے سوا، دوسرے گناہ مراد ہوں گے، یا یہ حدیث بطور تہدید اور تخویف کے ہو گی، تاکہ لوگ شراب پینے سے پرہیز کریں۔