• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
46- بَاب الْفَالُوذَجِ
۴۶ -باب: فالودہ کا بیان​


3340- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ السُّلَمِيُّ أَبُو الْحَارِثِ حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: أَوَّلُ مَا سَمِعْنَا بِالْفَالُوذَجِ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلام أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ تُفْتَحُ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ فَيُفَاضُ عَلَيْهِمْ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الْفَالُوذَجَ، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : " وَمَا الْفَالُوذَجُ؟" قَالَ: يَخْلِطُونَ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ جَمِيعًا فَشَهِقَ النَّبِيُّ ﷺ لِذَلِكَ شَهْقَةً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۷۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۵۴) (موضوع)
(سند منکر اور متن موضوع ہے ، عبدالوہاب سلمی کے یہاں عجائب وغرائب ہیں، نیز محمد بن طلحہ ضعیف، اور عثمان بن یحییٰ مجہول ہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں درج کیا ہے)
۳۳۴۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے فالودہ کا نام اس وقت سنا جب جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا : تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال ومتاع کا ایسا فیضان ہوگا کہ وہ لوگ فالودہ کھائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے سوال کیا :'' فالودہ کیا ہے '' ؟ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے ، یہ سن کر نبی اکرم ﷺ کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
47- بَاب الْخُبْزِ الْمُلَبَّقِ بِالسَّمْنِ
۴۷- باب: گھی میں چپڑی روٹی کا بیان​

3341- حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ: " وَدِدْتُ لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَائَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَائَ مُلَبَّقَةٍ بِسَمْنٍ نَأْكُلُهَا " قَالَ: فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَاتَّخَذَهُ، فَجَائَ بِهِ إِلَيْهِ،فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " فِي أَيِّ شَيْئٍ كَانَ هَذَا السَّمْنُ؟ " قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ۔
* تخريج: د/الأطعمۃ ۳۸ (۳۸۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۵۱) (ضعیف)
(سند میں حسین بن واقد وہم و خطا والے راوی ہیں)
۳۳۴۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ''میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا ، تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔

3342- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: صَنَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ ﷺ خُبْزَةً، وَضَعَتْ فِيهَا شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ، ثُمَّ قَالَتِ: اذْهَبْ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَادْعُهُ،قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أُمِّي تَدْعُوكَ، قَالَ: فَقَامَ، وَقَالَ لِمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ: " قُومُوا "، قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: " هَاتِي مَا صَنَعْتِ" فَقَالَتْ: إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَكَ وَحْدَكَ، فَقَالَ: " هَاتِيهِ "، فَقَالَ: " يَا أَنَسُ! أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً " قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُدْخِلُ عَلَيْهِ عَشَرَةً عَشَرَةً فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَكَانُوا ثَمَانِينَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۱)، وقد أخرجہ: خ/الأطعمۃ ۶ (۵۳۸۱)، م/الأشربۃ ۲۰ (۲۰۴۰)، ت/المناقب ۶ (۳۶۳۰)، ط/صفۃ النبی صفۃ ۱۰ (۱۹)، حم (۱/۱۵۹، ۱۹۸، ۳/۱۱، ۱۴۷، ۱۶۳، ۲۱۸) (صحیح)

۳۳۴۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (میری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے لئے روٹی تیار کی، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا، پھر کہا: جاؤ نبی اکرم ﷺ کو بلا لاؤ، میں نے آپ کے پاس آکر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ ''اٹھو، چلو''، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا، اور انہیں اس کی خبر دی (کہ نبی اکرم ﷺ بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں) اتنے میں آپ ﷺ آپہنچے، اور فرمایا: ''جو تم نے پکایا ہے، لاؤ''، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''لاؤ تو سہی''، پھر فرمایا: ''اے انس! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ''، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا، سب نے سیر ہو کر کھایا، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: سبحان اللہ! کھانا ایک آدمی کا اور اسی۸۰ آدمیوں کو کافی ہو گیا، اس حدیث میں آپ ﷺ کے ایک بڑے معجزہ کا ذکر ہے، اور اس قسم کے کئی بار اور کئی موقعوں پر آپ ﷺ سے معجزے صادر ہوئے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ایسا ہی معجزہ انجیل میں مذکور ہے، اور یہ کچھ عقل کے خلاف نہیں ہے، ایک تھوڑی سی چیز کا بہت ہو جانا ممکن ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے سامنے نہایت سہل ہے، وہ اگر چاہے تو دم بھر میں رتی کو پہاڑ کے برابر کر دے، اور پہاڑ کو رتی کے برابر، اور جن لوگوں کے عقل میں فتور ہے، وہ ایسی باتوں میں شک و شبہ کرتے ہیں، ان کو اب تک ممکن اور محال کی تمیز نہیں ہے، اور جو امور ممکن ہیں ان کو وہ نادانی سے محال سمجھتے ہیں، اور اللہ تعالی کی قدرت کا انکا کرتے ہیں، اللہ تعالی ان کے شر سے ہر مسلمان کو بچائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
48- بَاب خُبْزِ الْبُرِّ
۴۸- باب: گیہوں کی روٹی کا بیان​

3343- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْحِنْطَةِ،حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ۔
* تخريج: م/الزہد ۱ (۲۹۷۶)، ت/الزہد ۳۸ (۲۳۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۴۰)، وقد أخرجہ: خ/الأطعمۃ ۱ (۵۳۷۴)، حم (۲/۴۳۴) (صحیح)

۳۳۴۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نبی اکرم ﷺ نے مسلسل تین روز تک کبھی گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو وفات دے دی۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی برابر تین دن تک کبھی گیہوں کی روٹی آپ ﷺ کو نہیں ملی، اس طرح کہ پیٹ بھر کر کھائے ہوں، ہر روز بلکہ کبھی ایک دن گیہوں کی روٹی کھائی، تو دوسرے دن جو کی ملی، اور کبھی بیٹ بھر کر نہیں ملی، غرض ساری عمر تکلیف اور فقر و فاقہ ہی میں کٹی، سبحان اللہ! شہنشاہی میں فقیری یہی ہے۔

3344- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مُنْذُ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثَلاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، مِنْ خُبْزِ بُرٍّ، حَتَّى تُوُفِّيَ ﷺ۔
* تخريج: خ/الأطعمۃ ۲۳ (۵۴۱۶)، ۲۷ (۵۴۲۳)، الأضاحي ۱۶ (۵۵۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۸۶)، وقد أخرجہ: م/الزہد ۱ (۲۹۷۰)، ت/الأضاحي ۱۴ (۱۵۱۰)، ن/الضحایا ۳۶ (۴۴۳۷)، حم (۶/۱۰۲، ۲۰۹، ۲۷۷) (صحیح)

۳۳۴۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد ﷺ کے گھر والوں نے جب سے وہ مدینہ آئے ہیں، کبھی بھی تین دن مسلسل گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
49- بَاب خُبْزِ الشَّعِيرِ
۴۹- باب: جو کی روٹی کا بیان​

3345- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ﷺ، وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَيْئٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلا شَطْرُ شَعِيرٍ، فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ ۔
* تخريج: خ/الخمس ۳ (۳۰۹۷)، الرقاق ۱۶ (۶۴۵۴)، م/الزہد (۲۹۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۰۸، ۲۷۷) (صحیح)

۳۳۴۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وفات پا گئے، اور حال یہ تھا کہ میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا کھاتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میری الماری میں پڑے تھے، میں انہیں میں سے کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک مدت دراز تک چلتے رہے، پھر میں نے انہیں تو لا تو وہ ختم ہو گئے۔

3346- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ حَتَّى قُبِضَ۔
* تخريج: م/الزہد ۱ (۲۹۷۰)،ت/الزہد ۳۸ (۲۳۵۷)، الشمائل (۱۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۸، ۴۳۴، ۴/۴۴۲، ۶/۱۲۸، ۱۵۶، ۱۸۷، ۲۵۵، ۲۷۷) (صحیح)

۳۳۴۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد ﷺ کے اہل و عیال نے کبھی بھی جو کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔

3347- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا، وَأَهْلُهُ لا يَجِدُونَ الْعَشَائَ، وَكَانَ عَامَّةَ خُبْزِهِمْ خُبْزُ الشَّعِيرِ۔
* تخريج: ت/الزہد ۳۸ (۲۳۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۱۴)، وقد أخرجہ: م/الرقاق (۲۹۷۰) (حسن)

۳۳۴۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل کئی راتیں بھو کے گزارتے، اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہ ہوتا، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہو تی۔

3348- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ (وَكَانَ يُعَدُّ مِنَ الأَبْدَالِ) حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ،عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الصُّوفَ، وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ، وَقَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَشِعًا وَلَبِسَ خَشِنًا، فَقِيلَ لِلْحَسَنِ: مَا الْبَشِعُ ؟ قَالَ: غَلِيظُ الشَّعِيرِ، مَا كَانَ يُسِيغُهُ إِلا بِجُرْعَةِ مَائٍ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۵۵) (ضعیف)
(نوح بن ذکوان ضعیف راوی ہیں)
۳۳۴۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اونی لباس پہنتے، معمولی قسم کا جوتا پہنتے، موٹا جھوٹا کھاتے، اور کھردرا لباس پہنتے۔
حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا جھوٹا کیا ہے؟ جواب دیا: جو کی موٹی روٹی جسے آپ پانی کا گھونٹ لیے بغیر حلق سے نیچے نہیں اتار سکتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
50- بَاب الاقْتِصَادِ فِي الأَكْلِ وَكَرَاهَةِ الشِّبَعِ
۵۰- باب: کھانے میں میانہ روی کا بیان اور پیٹ بھر کر کھانے کی کراہت۱؎
وضاحت۱؎: یعنی کھانے میں اعتدال اور میانہ روی یہ ہے کہ آدمی اتنا کھانا کھائے کہ طبیعت سست نہ ہو، اور عبادت کی طاقت اور فرائض کی ادائیگی کی قوت باقی رہے، اور اس کا اندازہ مختلف ہے ہر شخص اپنے مزاج کے لحاظ سے اس کا اندازہ کر لے، نیک اور صالح لوگ تہائی پیٹ سے زیادہ نہیں کھاتے یعنی اگر تین پاؤ کی بھوک ہو، تو ایک پاؤ پر اکتفاء کرتے ہیں، اور ہمارے زمانہ میں یہ بھی غنیمت ہے کہ کوئی آدھے پیٹ پر قناعت کرے، یا ایک تہائی خالی رکھے، اب تو لوگ ناکوں ناک بھر لیتے ہیں کہ سانس لینے کی جگہ نہیں رہتی اور صحیح طریقہ وہی ہے جو مقدام رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آرہا ہے۔

3349- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي عَنْ أُمِّهَا أَنَّهَا سَمِعَتِ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِ يكَرِبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ حَسْبُ الآدَمِيِّ لُقَيْمَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ،فَإِنْ غَلَبَتِ الآدَمِيَّ نَفْسُهُ، فَثُلُثٌ لِلطَّعَامِ، وَثُلُثٌ لِلشَّرَابِ، وَثُلُثٌ لِلنَّفَسِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۷۸)، وقد أخرجہ: ت/الزہد ۴۷ (۲۳۸۰)، حم (۴/۱۳۲) (صحیح)

۳۳۴۹- مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آجائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لئے، ایک تہائی پینے کے لئے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے رکھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ خواہش نفس کی اتباع سے دور ہیں وہ تہائی پیٹ سے بھی کم کھاتے ہیں، اور تہائی پیٹ سے زیادہ کھانا سنت کے خلاف ہے۔

3350- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ أَبُو يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَالنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: " كُفَّ جُشَائَكَ عَنَّا، فَإِنَّ أَطْوَلَكُمْ جُوعًا، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَكْثَرُكُمْ شِبَعًا فِي دَارِ الدُّنْيَا "۔
* تخريج: ت/القیامۃ ۳۷ (۲۴۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۶۳) (حسن)
(سند میں عبد العزیز بن عبد اللہ منکر الحدیث، اور یحییٰ البکاء ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث شاہد کی وجہ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۳۴۳)
۳۳۵۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ڈکار لی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اپنی ڈکار کو ہم سے روکو، اس لئے کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھاتا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: جو آدمی کھاتا ہے اس کو اگر کھانا نہ ملے تو اس کو بڑی تکلیف ہوتی ہے، بہ نسبت اس کے جو کم کھاتا ہے جو بھوک پر صبر کر سکتا ہے، قیامت کا دن بہت لمبا ہو گا، اور دن بھر کھانا نہ ملنے سے زیادہ کھانے والے بہت پریشان ہوں گے، بعضوں نے کہا: جو لوگ بہت کھاتے ہیں ان کی آخری خواہش کھانا اور پینا ہوتی ہے، اور موت سے یہ خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں، تو ان کو بہت ناگوار ہو گا، اور جو لوگ کم کھاتے ہیں، ان کو کھانے کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ زندگی کی بقاء اور عبادت کے لئے اپنی ضروریات اور بھوک پیاس پر قابو پا لیتے ہیں، ان کی خواہش عبادت اور تصفیہ قلب کی ہوتی ہے، اور وہ موت کے بعد قائم رہے گی، اس لئے وہ راحت اور عیش میں رہیں گے۔

3351- حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ؛ قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ، وَأُكْرِهَ عَلَى طَعَامٍ يَأْكُلُهُ فَقَالَ: حَسْبِي أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا،أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۰۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۵۶) (حسن)
(سند میں سعید بن محمد الوراق ضعیف ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۳۴۳)
۳۳۵۱- عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا: میرے لئے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ''دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
51- بَاب مِنَ الإِسْرَافِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ
۵۱- باب: ہر اس چیز کا کھانا جس کی نفس خواہش کرے، اسراف میں سے ہے۱؎
وضاحت۱؎: یہ وہ اسراف نہیں ہے جو شریعت کی رو سے حرام ہے، بلکہ نفس کو ضرر سے روکنا اور اس کا تزکیہ مقصود ہے، نفس میں دو قوتیں ہیں: ایک بهيمية یعنی کھانے پینے اور اچھی غذا کی خواہش، دوسرے سبيعة یعنی غضب اور انتقام کی خواہش ان قوتوں کو کچل دینا، اور عقل اور شرع کے موافق ان میں چلنا پس یہی تزکیہ نفس اور تحسین اخلاق ہے۔

3352- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ،عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ مِنَ السَّرَفِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ " ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۵۷) (موضوع)
(نوح بن ذکوان باطل احادیث روایت کرتا تھا، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۴۱)
۳۳۵۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ اسراف ہے کہ تم ہر اس چیز کو کھاؤ جس کی تمہیں رغبت اور خواہش ہو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
52- بَاب النَّهْيِ عَنْ إِلْقَاءِ الطَّعَامِ
۵۲- باب: کھانا پھینکنا منع ہے​

3353- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا وَسَّاجُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ الْبَيْتَ، فَرَأَى كِسْرَةً مُلْقَاةً، فَأَخَذَهَا فَمَسَحَهَا ثُمَّ أَكَلَهَا، وَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ! أَكْرِمِي كَرِيمًا، فَإِنَّهَا مَا نَفَرَتْ عَنْ قَوْمٍ قَطُّ، فَعَادَتْ إِلَيْهِمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۵۸) (ضعیف)
(ولید بن محمد الموقری ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإواء: ۱۹۶۱)
۳۳۵۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، آپ نے اسے اٹھایا، صاف کیا پھر اسے کھا لیا، اور فر مایا: ''عائشہ! احترام کے قابل چیز (یعنی اللہ کے رزق کی) عزت کرو، اس لئے کہ جب کبھی کسی قوم سے اللہ کا رزق پھر گیا، تو ان کی طرف واپس نہیں آیا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
53- بَاب التَّعَوُّذِ مِنَ الْجُوعِ
۵۳- باب: بھوک سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان​

3354- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ"۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۹۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۵۹)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۳۶۷ (۱۵۴۷)، ن/الاستعاذۃ ۱۹ (۵۴۷۱) (حسن)
(لیث بن ابی سلیم ضعیف اور کعب مجہول راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۱۳۸۳)
۳۳۵۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ''اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ'' (اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بد ترین ساتھی ہے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ بری خفیہ خصلت ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
54- بَاب تَرْكِ الْعَشَاءِ
۵۴- باب: شام کا کھانا نہ کھانے کا بیان​

3355- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِالسَّلامِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بَابَاهُ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَدَعُوا الْعَشَاءَ وَلَوْ بِكَفٍّ مِنْ تَمْرٍ فَإِنَّ تَرْكَهُ يُهْرِمُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۵۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۰) (ضعیف جداً)
(ابراہیم بن عبد السلام ضعیف اور متہم بالوضع راوی ہے، نیز ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکرکیا ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۱۶)
۳۳۵۵- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شام کا کھانا مت ترک کرو اگرچہ اس کی مقدار ایک مشت کھجور ہو، اس لیے کہ شام کا کھانا نہ کھانے سے بڑھاپا آتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
55- بَاب الضِّيَافَةِ
۵۵-باب: ضیافت و مہمان نوازی کا بیان​

3356- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُغْشَى مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۱) (ضعیف)
(جبارہ اور کثیر دونوں ضعیف ہیں)
۳۳۵۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف تیزی سے جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں مہمان کثرت سے آتے ہیں''۔

3357- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ نَهْشَلٍ ۱؎ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُؤْكَلُ فِيهِ مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۲) (ضعیف)
(جبارہ ضعیف اور عبدالرحمن بن نہشل متروک ہے)
۳۳۵۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف چلتی ہے اس سے بھی تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں (مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے) کھانا پینا ہوتا رہتا ہے''۔

3358- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ مَعَ ضَيْفِهِ إِلَى بَابِ الدَّارِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۳) (موضوع)
(علی بن عروہ متروک راوی ہے، حدیث وضع کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۵۸)
۳۳۵۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی اپنے مہمان کے ساتھ (اسے رخصت کرتے وقت) گھر کے دروازے تک نکل کر آئے''۔
 
Top