- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
5- بَاب الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ
۵- باب: عفو اورعافیت کی دعا کا بیان
۵- باب: عفو اورعافیت کی دعا کا بیان
3848- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ " ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: "سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ "۔
* تخريج: ت/الدعوات ۸۵ ( ۳۵۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۷) (ضعیف) (سند میں سلمہ بن وردان ضعیف راوی ہیں)
۳۸۴۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو'' ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو''، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا : اللہ کے نبی! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اورعافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے''۱؎۔
وضاحت۱؎: بیشک عافیت میں عام بلاؤں، بیماریوں اور تکالیف سے حفاظت ہو گی، اور معافی میں گناہوں کی بخشش، اب اور کیا چاہتے ہو، یہ دو لفظ ہزاروں لفظوں کو شامل ہیں۔
3849- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبَجَلِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ، حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ ﷺ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي مَقَامِي هَذَا، عَامَ الأَوَّلِ (ثُمَّ بَكَى أَبُو بَكْرٍ) ثُمَّ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ،فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ،وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ، وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ، وَلا تَحَاسَدُوا وَلا تَبَاغَضُوا وَلا تَقَاطَعُوا، وَلا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا، عِبَادَاللَّهِ إِخْوَانًا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۸۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۴۸)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات ۱۰۶ (۳۵۵۸)، حم (۱/۳، ۵، ۷، ۸) (صحیح)
۳۸۴۹- أوسط بن إسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے لئے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ۔
3850- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، مَا أَدْعُو؟ قَالَ : " تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ! إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي "۔
* تخريج: ت/الدعوات ۸۵ (۳۵۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۷۱، ۱۸۲، ۱۸۳، ۲۰۸) (صحیح)
۳۸۵۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ دعا کرو ''اللَّهُمّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي'' (اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے)۔
3851- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا مِنْ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا الْعَبْدُ، أَفْضَلَ مِنَ اللَّهُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۴۹) (صحیح)
۳۸۵۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اِس دعا سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتی: (وہ دعا یہ ہے) ''اللَّهُمَّ ! إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ'' (اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت چاہتا ہوں)۔